السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3067. -- باب: ما جاء في كراهية الطلاق
-- باب: طلاق کی کراہت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14895
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ نا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، نا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، نا مُعَرَّفٌ، عَنْ مُحَارِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَحَلَّ اللهُ شَيْئًا أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلَاقِ" هَذَا حَدِيثُ أَبِي دَاوُدَ وَهُوَ مُرْسَلٌ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ مَوْصُولًا وَلَا أَرَاهُ حَفِظَهُ.
محارب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز اللہ رب العزت نے حلال کی ہے اس میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز اللہ کو طلاق ہے۔“
یہ ابوداود کی حدیث ہے اور یہ مرسل ہے۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے موصولاً ہے، لیکن میرا خیال نہیں کہ انہوں نے اسے صحیح طور پر یاد رکھا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14895]
یہ ابوداود کی حدیث ہے اور یہ مرسل ہے۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے موصولاً ہے، لیکن میرا خیال نہیں کہ انہوں نے اسے صحیح طور پر یاد رکھا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14895]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14896
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا مُعَرَّفُ بْنُ وَاصِلٍ، حَدَّثَنِي مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ قَالَ: تَزَوَّجَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً فَطَلَّقَهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَزَوَّجْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ قَالَ:" ثُمَّ مَاذَا؟" قَالَ: ثُمَّ طَلَّقْتُ قَالَ:" أَمِنْ رِيبَةٍ؟" قَالَ: لَا قَالَ:" قَدْ يَفْعَلُ ذَلِكَ الرَّجُلُ" قَالَ: ثُمَّ تَزَوَّجَ امْرَأَةً أُخْرَى فَطَلَّقَهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ مُعَرَّفٌ: فَمَا أَدْرِي أَعِنْدَ هَذَا أَوْ عِنْدَ الثَّالِثَةِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ مِنَ الْحَلَالِ أَبْغَضَ إِلَى اللهِ مِنَ الطَّلَاقِ" ⦗٥٢٨⦘ وَرَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ عَنْ مُحَارِبٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْصُولًا مُخْتَصَرًا.
محارب بن دثار فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک شخص نے شادی کے بعد بیوی کو طلاق دے دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تو نے شادی کی ہے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”پھر کیا ہوا؟“ اس نے کہا: پھر میں نے طلاق دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا شک کی وجہ سے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی کبھی انسان ایسا کرلیتا ہے۔“ اس نے پھر کسی دوسری عورت سے شادی کرنے کے بعد طلاق دے دی۔ معرف کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دوسری یا تیسری شادی کے موقع پر یہ الفاظ کہے کہ: ”حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ مبغوض ترین چیز اللہ کے ہاں طلاق ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14896]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14897
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَقُولُ: قَدْ طَلَّقْتُكِ قَدْ رَاجَعْتُكِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا بَالُ رِجَالٍ يَلْعَبُونَ بِحُدُودِ اللهِ؟" هَذَا مُرْسَلٌ.
ابواسحاق، ابوبردہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے کہتا: ”میں نے تجھے طلاق دی“، تو کبھی کہتا: ”میں نے رجوع کر لیا“۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو فرمایا: ”مردوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ اللہ کی حدود کے ساتھ کھیلتے ہیں؟“
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14897]
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14897]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14898
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ نا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَلْعَبُونَ بِحُدُودِ اللهِ طَلَّقْتُكِ رَاجَعْتُكِ طَلَّقْتُكِ رَاجَعْتُكِ".
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ اللہ کی حدود کے ساتھ کھیلتے ہیں: میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھ سے رجوع کیا، میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھ سے رجوع کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14898]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14899
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، نا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ مَوْصُولًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" مَا بَالُ رِجَالٍ؟" وَقَالَ يَقُولُ: أَحَدُكُمْ قَدْ طَلَّقْتُكِ قَدْ رَاجَعْتُكِ، وَكَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْتِكْثَارَ مِنْهُ أَوْ كَرِهَ إِيقَاعَهُ فِي كُلِّ وَقْتٍ مِنْ غَيْرِ مُرَاعَاةٍ لِوَقْتِهِ الْمَسْنُونِ.
سفیان رحمہ اللہ موصولاً ذکر کرتے ہیں کہ مردوں کی کیا حالت ہے؟ اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تم سے رجوع کیا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زیادتی کو ناپسند فرمایا یا بغیر مسنون وقت کی رعایت رکھے طلاق دینے کو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14899]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14900
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لِمَ يَقُولُ أَحَدُكُمْ لِامْرَأَتِهِ قَدْ طَلَّقْتُكِ، قَدْ رَاجَعْتُكِ لَيْسَ هَذَا بِطَلَاقِ الْمُسْلِمِينَ طَلِّقُوا الْمَرْأَةَ فِي قُبُلِ طُهْرِهَا".
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”تم میں سے کوئی ایک اپنی بیوی سے یہ کیوں کہتا ہے کہ میں نے تجھے طلاق دی اور میں نے تم سے رجوع کر لیا؟ یہ مسلمانوں کے طلاق دینے کا طریقہ نہیں ہے، تم عورتوں کو ان کے طہر کے آغاز میں طلاق دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14900]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14901
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّحْوِيُّ نا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، نا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، نا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ بَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ وَأُمِّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَلَامٌ فَأَرَادَ أَبُو طَلْحَةَ أَنْ يُطَلِّقَ أُمَّ سُلَيْمٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّ طَلَاقَ أُمِّ سُلَيْمٍ لَحَوْبٌ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو طلحہ اور ام سلیم رضی اللہ عنہما کے درمیان کچھ اختلاف تھا تو ابو طلحہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا کو طلاق دینے کا ارادہ کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلیم کی طلاق نافرمانی اور گناہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14901]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3068. -- باب: ما جاء في طلاق السنة وطلاق البدعة
-- باب: طلاقِ سنت اور طلاقِ بدعت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: Q14902
قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: 1] ، وَقُرِئَتْ لِقُبُلِ عِدَّتِهِنَّ وَهُمَا لَا يَخْتَلِفَانِ فِي مَعْنًى.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ ”جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت (کے آغاز) کے وقت طلاق دو۔“ [سورة الطلاق: 1]
اور اسے «لِقُبُلِ عِدَّتِهِنَّ» (ان کی عدت کے سامنے آنے پر) بھی پڑھا گیا ہے، اور یہ دونوں (قراءتیں) معنی میں ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: Q14902]
اور اسے «لِقُبُلِ عِدَّتِهِنَّ» (ان کی عدت کے سامنے آنے پر) بھی پڑھا گیا ہے، اور یہ دونوں (قراءتیں) معنی میں ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: Q14902]
حدیث نمبر: 14902
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي ⦗٥٢٩⦘ عَمْرٍو قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَى عَزَّةَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ، قَالَ: كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا قَالَ: طَلَّقَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيُرَاجِعْهَا" فَرَدَّهَا عَلَيَّ وَقَالَ:" إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ". قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ} [الطلاق: ١] " فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
عبدالرحمن بن ایمن نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا، اور ابو زبیر سن رہے تھے، کہ جو شخص اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دے اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حالتِ حیض میں طلاق دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ رجوع کرے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بیوی کو واپس کر دیا اور فرمایا: ”جب وہ پاک ہو جائے تو طلاق دے دینا یا روک لینا۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ﴾ «فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ» (ان کی عدت کے آغاز میں) [سورة الطلاق: 1] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14902]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1471»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14903
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرَأَ: (يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِقُبُلِ عِدَّتِهِنَّ) ".
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کو یہ الفاظ پڑھتے سنا: ﴿یَا أَیُّهَا النَّبِیُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ﴾ «لِقُبُلِ عِدَّتِهِنَّ» (ان کی عدت کے آغاز میں) [سورة الطلاق: 1] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14903]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح