السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3108. -- باب: من قال: يوقف المولي بعد تربص أربعة أشهر فإن فاء وإلا طلق
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ایلاء کرنے والے کو چار ماہ کے انتظار کے بعد روکا جائے گا، پس یا تو وہ رجوع کر لے ورنہ طلاق دے دے۔
حدیث نمبر: 15217
وَأَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْفَتْحِ، أنا الشُّرَيْحِيُّ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا هُشَيْمٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ⦗٦٢٠⦘ أَبِي لَيْلَى قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَوْقَفَ رَجُلًا عِنْدَ الْأَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ قَالَ: فَوَقَفَهُ فِي الرَّحْبَةِ إِمَّا أَنْ يُفِيءَ وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ" هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ مَوْصُولٌ وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِذَا آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ وَقَفَ عِنْدَ تَمَامِ الْأَرْبَعَةِ فَقِيلَ لَهُ: إِمَّا أَنْ تُفِيءَ وَإِمَّا أَنْ تَعْزِمَ الطَّلَاقَ قَالَ: وَيُجْبَرُ عَلَى ذَلِكَ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، انہوں نے ایلا کرنے والے شخص کو چار ماہ کے بعد کھڑا کیا، فرماتے ہیں: اونچی جگہ کھڑا کر کے فرمایا: یا تو بیوی سے رجوع کر لے یا طلاق دے دے۔
یہ سند صحیح اور متصل ہے۔
(ب) ابو البختری رحمہ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کے بارے میں قسم اٹھا لیتا ہے تو وہ چار ماہ کی تکمیل پر کھڑا ہو۔ اس سے کہا جائے گا کہ رجوع کرو یا طلاق دو، اس پر زبردستی کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإيلاء/حدیث: 15217]
یہ سند صحیح اور متصل ہے۔
(ب) ابو البختری رحمہ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کے بارے میں قسم اٹھا لیتا ہے تو وہ چار ماہ کی تکمیل پر کھڑا ہو۔ اس سے کہا جائے گا کہ رجوع کرو یا طلاق دو، اس پر زبردستی کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإيلاء/حدیث: 15217]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15218
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ح، وَأنا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي قَالَا: نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ فَإِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وُقِفَ حَتَّى يُطَلِّقَ أَوْ يُفِيءَ وَلَا يَقَعُ عَلَيْهَا الطَّلَاقُ إِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ حَتَّى يُوقَفَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ مَالِكٍ.
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی بیوی کے متعلق قسم اٹھائی، جب چار ماہ گزر جائیں تو اسے کھڑا کیا جائے، یا تو طلاق دے یا رجوع کرے اور چار ماہ گزر جانے کے باوجود طلاق نہ ہو گی، جب تک اس کو کھڑا نہ کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإيلاء/حدیث: 15218]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15219
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِذَا ذُكِرَ مَا الرَّجُلُ يَحْلِفُ أَنْ لَا يَأْتِيَ امْرَأَتَهُ فَيَدَعَهَا خَمْسَةَ أَشْهُرٍ" لَا تَرَى ذَلِكَ شَيْئًا حَتَّى يُوقَفَ" وَتَقُولُ: كَيْفَ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ}.
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جب ایسے شخص کا تذکرہ ہوا جس نے اپنی بیوی کے پاس نہ آنے کی قسم کھائی، اس کو پانچ ماہ چھوڑے رکھا تو وہ اس کے بارے میں کچھ بھی خیال نہ فرماتی تھیں، یہاں تک کہ اس کو کھڑا کیا جائے اور وہ فرماتی تھیں کہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] ”اچھائی سے روکنا یا احسان کر کے چھوڑ دینا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإيلاء/حدیث: 15219]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15220
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ فِي الْإِيلَاءِ:" لَا شَيْءَ وَإِنْ مَضَتْ سَنَةٌ فَإِمَّا أَنْ يُفِيءَ وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ".
عبدالرحمن بن قاسم بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایلا کرنے والے کے بارے میں فرماتی تھیں: اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں اگرچہ سال بھی گزر جائے، یا تو وہ رجوع کرے یا طلاق دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإيلاء/حدیث: 15220]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15221
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ، وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا:" يُوقَفُ الْمُؤْلِي بَعْدَ انْقِضَاءِ الْمُدَّةِ، فَإِمَّا أَنْ يُفِيءَ وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ".
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوذر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مدت گزرنے کے بعد قسم اٹھانے والے کو کھڑا کیا جائے گا، یا تو رجوع کرے یا طلاق دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإيلاء/حدیث: 15221]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15222
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ أنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، نا أَبُو ⦗٦٢١⦘ بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا السُّلَمِيُّ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ يُوسُفَ، نا حَجَّاجٌ، نا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ قَالَ فِي الْإِيلَاءِ:" يُوقَفُ عِنْدَ انْقِضَاءِ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ وَإِمَّا أَنْ يُفِيءَ وَاللهُ أَعْلَمُ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایلاء کے بارے میں فرماتے ہیں کہ چار ماہ گزر جانے کے بعد اس کو کھڑا کیا جائے گا یا تو طلاق دے یا رجوع کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإيلاء/حدیث: 15222]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3109. -- باب: من قال: عزم الطلاق انقضاء الأربعة الأشهر
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ چار ماہ کا گزر جانا ہی طلاق کا عزم ہے۔
حدیث نمبر: 15223
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَبُو الْأَزْهَرِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ:" إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَهُوَ أَمْلَكُ بِرَدِّهَا مَا دَامَتْ فِي عِدَّتِهَا" هَكَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَخَالَفَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللهُ، فَرَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي بَكْرٍ مِنْ قَوْلِهِمَا غَيْرَ مَرْفُوعٍ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سعید بن مسیب اور ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب چار ماہ گزر جائیں گے تو یہ ایک طلاق ہے، لیکن خاوند بیوی کو واپس کرنے کا زیادہ حقدار ہے، جب تک وہ عدت میں ہو۔
محمد بن اسحاق بن یسار نے زہری سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے ان کی مخالفت کی اور اسے زہری سے سعید اور ابوبکر کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک مرفوع نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإيلاء/حدیث: 15223]
محمد بن اسحاق بن یسار نے زہری سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے ان کی مخالفت کی اور اسے زہری سے سعید اور ابوبکر کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک مرفوع نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإيلاء/حدیث: 15223]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15224
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَا يَقُولَانِ فِي الرَّجُلِ يُؤْلِي مِنِ امْرَأَتِهِ" أَنَّهَا إِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرُ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَلِزَوْجِهَا عَلَيْهَا رَجْعَةٌ مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ"، قَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ: وَعَلَى ذَلِكَ كَانَ رَأْيُ ابْنِ شِهَابٍ هَذَا أَصَحُّ مِنَ الرِّوَايَةِ الْأُولَى.
سعید بن مسیب اور ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہما اللہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنی بیوی سے ایلا کرتا ہے کہ جب چار ماہ گزر جائیں تو یہ ایک طلاق ہوگی، لیکن خاوند کو عدت کے ایام میں رجوع کا اختیار ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے ہے۔
یہ پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإيلاء/حدیث: 15224]
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے ہے۔
یہ پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإيلاء/حدیث: 15224]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15225
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الْإِيلَاءِ، فَمَرَرْتُ بِأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ: عَمَّا سَأَلْتَهُ؟ فَقُلْتُ: عَنِ الْإِيلَاءِ قَالَ: أَفَلَا أُخْبِرُكَ مَا كَانَ عُثْمَانُ وَزَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ؟ كَانَا يَقُولَانِ:" إِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرُ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ وَلَيْسَ ذَلِكَ بِمَحْفُوظٍ وَعَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِهِ.
عطاء خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ایلا کے بارے میں سوال کیا، پھر میں ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا: آپ نے کس کے بارے میں پوچھا ہے؟ میں نے کہا: ایلا کے متعلق، تو ابوسلمہ رحمہ اللہ کہنے لگے: کیا میں آپ کو وہ بات نہ بتاؤں جو سیدنا عثمان اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما اس کے بارے میں فرماتے تھے! وہ فرماتے تھے: جب چار ماہ گزر جائیں تو یہ ایک طلاق ہے۔
یہ روایت محفوظ نہیں ہے، عطاء خراسانی قوی نہیں ہیں، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مشہور اس کے برخلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإيلاء/حدیث: 15225]
یہ روایت محفوظ نہیں ہے، عطاء خراسانی قوی نہیں ہیں، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مشہور اس کے برخلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإيلاء/حدیث: 15225]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15226
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، َنَا أَبُو بَكْرٍ ⦗٦٢٢⦘ النَّيْسَابُورِيُّ، نا الْمَيْمُونِيُّ قَالَ: ذَكَرْتُ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللهُ حَدِيثَ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عُثْمَانَ، فَقَالَ لَا أَدْرِي مَا هُوَ رُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خِلَافُهُ قِيلَ لَهُ: مَنْ رَوَاهُ؟ قَالَ: حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ عُثْمَانَ يُوقَفُ.
میمونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے سامنے عطاء خراسانی کی وہ حدیث ذکر کی جو ابوسلمہ کے واسطے سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، تو انہوں نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے تو اس کے برخلاف منقول ہے۔ ان سے کہا گیا: اسے کس نے روایت کیا ہے؟ فرمایا: حبیب بن ابی ثابت عن طاؤس عن عثمان کہ اسے کھڑا کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإيلاء/حدیث: 15226]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح