🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3143. -- باب: الولد للفراش بالوطء بملك اليمين، والنكاح
-- باب: اس بیان میں کہ حقِ ملکیت (لونڈی) اور نکاح کے ذریعے ہم بستری کرنے کی صورت میں بچہ بستر والے (مالک یا شوہر) ہی کا ہوگا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15369
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15369]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15370
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15370]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15371
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ، وَسَعْدًا، اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْظُرُ إِلَى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبِضُهُ فَإِنَّهُ ابْنِي، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ:" هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ" ⦗٦٧٧⦘ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ، مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
عروہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ عبد بن زمعہ اور سعد رضی اللہ عنہما، زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کے بارے میں جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے بھائی نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب میں مکہ آؤں تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو دیکھوں تو اس کو قبضے میں لے لینا؛ کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے“، عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میرا بھائی، میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا، میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ کے ساتھ واضح مشابہت بھی دیکھی، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبد بن زمعہ! یہ تیرا بھائی ہے، بچہ صاحبِ فراش کا ہے اور اے سودہ رضی اللہ عنہا! تو اس سے پردہ کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15371]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15372
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا الْأَسْفَاطِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ فَقَالَ: ابْنُ أَخِي قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلِيَّ فِيهِ فَقَامَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ: أَخِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي فَتَسَاوَقَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَخِي كَانَ عَهِدَ إِلِيَّ فِيهِ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ"، ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" احْتَجِبِي مِنْهُ" لَمَّا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَتِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
عروہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد رضی اللہ عنہ سے وعدہ لیا تھا کہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا مجھ سے ہے اس کو اپنے ساتھ ملا لینا۔ فتحِ مکہ کے سال سعد رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ لیا اور کہا: میرے بھائی کا بیٹا ہے اس کے بارے میں اس نے مجھ سے وعدہ لیا تھا۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: میرا بھائی ہے، میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے، دونوں جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے بھائی نے مجھ سے اس کے بارے میں عہد لیا تھا، عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا بھائی اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبد بن زمعہ! یہ تیرا بھائی ہے“، نیز فرمایا: «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» ”بچہ صاحبِ فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں“، پھر سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”آپ اس سے پردہ کریں“ عتبہ کے ساتھ مشابہت کی بنا پر، تو اس نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو وفات تک نہیں دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15372]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15373
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ، نا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَعُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّهُ لَمَّا وُلِدَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَارِيَةَ جَارِيَتِهِ كَادَ يَقَعُ فِي نَفْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ حَتَّى أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا إِبْرَاهِيمَ" وَفِي هَذَا إِنْ ثَبَتَ دَلَالَةٌ عَلَى ثُبُوتِ النَّسَبِ لِفِرَاشِ الْأَمَةِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی ماریہ رضی اللہ عنہا سے آپ کا بیٹا ابراہیم پیدا ہوا تو آپ کے دل میں اس کے بارے میں شک گزرا، یہاں تک کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے آکر کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا إِبْرَاهِيمَ» ”اے ابراہیم کے باپ! آپ پر سلامتی ہو“، اگر یہ روایت ثابت ہو تو اس میں لونڈی کے فراش سے نسب کے ثبوت پر دلالت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15373]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15374
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" مَا بَالُ رِجَالٍ يَطُوفُونَ وَلَائِدَهُمْ ثُمَّ يَعْزِلُونَهُنَّ، لَا تَأْتِينِي وَلِيدَةٌ يَعْتَرِفُ سَيِّدُهَا أَنْ قَدْ أَلَمَّ بِهَا إِلَّا أَلْحَقْتُ بِهِ وَلَدَهَا وَاعْزِلُوا بَعْدُ أَوِ اتْرُكُوا" قَالَ: وَأنا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي إِرْسَالِ الْوَلَائِدِ يُوطَيْنَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ.
سالم بن عبداللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مردوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ اپنی لونڈیوں سے صحبت کرتے ہیں اور عزل کرتے ہیں؟ پھر کوئی لونڈی آتی ہے تو اس کا آقا اس سے جماع کا اعتراف کرتا ہے تو میں بچہ اس کے ساتھ ملا دوں گا، اس کے بعد عزل کرو یا چھوڑ دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15374]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15375
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" مَا بَالُ رِجَالٍ يَطَئُونَ وَلَائِدَهُمْ ثُمَّ يَدَعُونَهُنَّ يَخْرُجْنَ، لَا تَأْتِينِي وَلِيدَةٌ يَعْتَرِفُ سَيِّدُهَا أَنْ قَدْ أَلَمَّ بِهَا إِلَّا أَلْحَقْتُ بِهِ وَلَدَهَا فَأَرْسِلُوهُنَّ بَعْدُ أَوْ أَمْسِكُوهُنَّ".
صفیہ بنت ابی عبید رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مردوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ اپنی لونڈیوں سے تعلقات قائم کرتے ہیں، پھر ان کو چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ چلی جائیں، پھر میرے پاس کوئی لونڈی آتی ہے جس کا آقا اس سے تعلقات کا اعتراف کرتا ہے، میں بچہ اس کے ساتھ ملا دوں گا، تم لونڈیوں کو اس کے بعد چھوڑ دو یا روکے رکھو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15375]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15376
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنَا الرَّبِيعُ قَالَ: قُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَهَلْ خَالَفَكَ فِي هَذَا غَيْرُنَا؟ قَالَ: نَعَمْ بَعْضُ الْمَشْرِقِيِّينَ، قُلْتُ: فَمَا كَانَتْ حُجَّتُهُمْ؟ قَالَ: كَانَتْ حُجَّتُهُمْ أَنْ قَالُوا: انْتَفَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ وَلَدِ جَارِيَةٍ لَهُ، وَانْتَفَى زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ وَلَدِ جَارِيَةٍ لَهُ، وَانْتَفَى ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنْ وَلَدِ جَارِيَةٍ قُلْتُ: فَمَا كَانَتْ حُجَّتُكَ عَلَيْهِمْ؟ يَعْنِي: جَوَابُكَ قَالَ: أَمَّا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ أَنْكَرَ حَمْلَ جَارِيَةٍ لَهُ أَقَرَّتْ بِالْمَكْرُوهِ، وَأَمَّا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَإِنَّهُمَا أَنْكَرَا إِنْ كَانَا فِعْلًا وَلَدَ جَارِيَتَيْنِ عُرْفًا أَنْ لَيْسَ مِنْهُمَا فَحَلَالٌ لَهُمَا وَكَذَلِكَ لِزَوْجِ الْحُرَّةِ إِذَا عَلِمَ أَنَّهَا حَبِلَتْ مِنَ الزِّنَا أَنْ يَدْفَعَ وَلَدَهَا وَلَا يَلْحَقْ بِنَسَبِهِ مَنْ لَيْسَ مِنْهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَكَلَّمَ عَلَيْهِ بِمَا يَطُولُ ذِكْرُهُ هَاهُنَا.
ربیع کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا: کیا آپ کی مخالفت اس مسئلہ میں ہمارے علاوہ کوئی اور بھی کرتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، بعض مشرقی لوگ۔ میں نے پوچھا: ان کے دلائل کیا ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ان کے دلائل یہ ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک لونڈی کے بچے کا انکار کیا، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک لونڈی کے بچے کا انکار کیا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک لونڈی کے بچے کا انکار کیا۔ میں نے کہا: ان کے خلاف آپ کی دلیل یعنی آپ کا جواب کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: رہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تو ان سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی اس لونڈی کے حمل کا انکار کیا جس نے برے کام (زنا) کا اعتراف کر لیا تھا، اور رہے سیدنا زید بن ثابت اور ابن عباس رضی اللہ عنہم تو اگر انہوں نے ایسا کیا تو انہوں نے ان دو لونڈیوں کے بچوں کا انکار کیا جن کے بارے میں وہ جانتے تھے کہ وہ ان سے نہیں ہیں، تو یہ ان کے لیے جائز ہے۔ اسی طرح آزاد عورت کا خاوند جب یہ جان لے کہ وہ زنا سے حاملہ ہوئی ہے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کے بچے کو اپنے سے دور کرے اور جو اس سے نہیں ہے اسے اپنے نسب میں شامل نہ کرے، یہ اس کے اور اللہ عزوجل کے درمیان معاملہ ہے، اور انہوں نے اس پر ایسی گفتگو کی جس کا ذکر یہاں طویل ہو جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15376]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3144. -- باب: المرأة تأتي بولد على فراش رجل من شبهة لا يمكن أن يكون من الأول ويمكن أن يكون من الثاني
-- باب: اس عورت کا بیان جو کسی شبہے کے تحت کسی (دوسرے) مرد کے بستر پر (اس سے ہم بستری کے نتیجے میں) بچہ جنے درآں حالیکہ وہ بچہ پہلے (شوہر) کا ہونا ممکن نہ ہو اور دوسرے کا ہونا ممکن ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15377
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ كَثِيرٍ النَّخَعِيُّ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ الْحُرِّ، تَزَوَّجَ جَارِيَةً مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهَا الدَّرْدَاءُ زَوَّجَهَا إِيَّاهُ أَبُوهَا فَانْطَلَقَ عُبَيْدُ اللهِ فَلَحِقَ بِمُعَاوِيَةَ فَأَطَالَ الْغَيْبَةَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَمَاتَ أَبُو الْجَارِيَةِ فَزَوَّجَهَا أَهْلُهَا مِنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ عِكْرِمَةُ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُبَيْدَ اللهِ فَقَدِمَ فَخَاصَمَهُمْ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" فَرَدَّ عَلَيْهِ الْمَرْأَةَ وَكَانَتْ حَامِلًا مِنْ عِكْرِمَةَ فَوَضَعَهَا عَلَى يَدَيْ عَدْلٍ"، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَا أَحَقُّ بِمَالِي أَوْ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْحُرِّ؟ فَقَالَ:" بَلْ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ"، قَالَتْ: فَأُشْهِدُكَ أَنَّ كُلَّ مَا كَانَ لِي عَلَى عِكْرِمَةَ مِنْ شَيْءٍ مِنْ صَدَاقٍ فَهُوَ لَهُ، فَلَمَّا وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا رَدَّهَا إِلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْحُرِّ وَأَلْحَقَ الْوَلِيدَ بِأَبِيهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عمران بن کثیر نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبیداللہ بن حر نے اپنی قوم کی ایک لڑکی سے شادی کی جس کا نام درداء تھا، اس کی شادی اس کے باپ نے کی تھی تو عبیداللہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا ملے اور اپنی بیوی سے زیادہ دیر غائب رہے، لڑکی کا باپ فوت ہو گیا تو اس کے گھر والوں نے اپنے ایک شخص عکرمہ سے اس کی شادی کر دی، جب عبیداللہ کو پتا چلا تو وہ آ کر جھگڑے اور معاملہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عورت کو ان کی طرف واپس کر دیا اور یہ عکرمہ سے حاملہ تھی تو انہوں نے اسے ایک عادل شخص کی نگرانی میں رکھ دیا۔ عورت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہنے لگی: ”میں اپنے مال کی زیادہ حق دار ہوں، یا عبیداللہ بن حر؟“ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تو اس کی زیادہ حق دار ہے“، وہ کہتی ہے: ”میں آپ کو گواہ بناتی ہوں کہ جو میرا حق مہر عکرمہ کے ذمے تھا وہ اس کا ہے“، جب اس نے وضع حمل کر دیا تو اسے عبیداللہ بن حر کی جانب لوٹا دیا اور بچے کو اس کے باپ کے ساتھ ملا دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15377]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں