🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3137. -- باب: اللعان على الحمل
-- باب: حمل پر لعان کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15349
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ مَالِي عَهْدٌ بِأَهْلِي مُنْذُ عَفَارِ النَّخْلِ قَالَ: وَعَفَارُهَا أَنَّهَا إِذَا كَانَتْ تُؤَبَّرُ تُعْفَرُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا لَا تُسْقَى بَعْدَ الْإِبَّارِ قَالَ: فَوَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا قَالَ: وَكَانَ زَوْجُهَا مُصْفَرًّا حَمْشَ السَّاقَيْنِ سَبِطَ الشَّعْرِ وَالَّذِي رُمِيَتْ بِهِ خَدْلًا إِلَى ⦗٦٦٩⦘ السَّوَادِ جَعْدًا قَطَطًا مُسْتَهًا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ بَيِّنْ" ثُمَّ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا فَجَاءَ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ" رَوَاهُ أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ وَكَانَتْ حَامِلًا وَكَانَ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ ابْنَ السَّحْمَاءِ.
قاسم بن محمد، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میرا اپنی بیوی سے کوئی ملاپ نہیں ہوا، جب سے کھجور کو پہلی مرتبہ سیراب کیا گیا تھا،“ (راوی) فرماتے ہیں کہ «عَفَار» ”عفار“ یہ ہے کہ جب کھجوروں کی تابیر (گابھا لگانا) کی جاتی ہے تو چالیس دن تک انہیں پانی نہیں دیا جاتا، تابیر کے بعد انہیں سیراب نہیں کیا جاتا۔ اس شخص نے کہا: ”میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک شخص کو پایا،“ اور اس کا خاوند زرد رنگ، باریک پنڈلیوں اور سیدھے بالوں والا تھا، جبکہ وہ شخص جس کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی، وہ گہرے سیاہ رنگ اور گھنگھریالے بالوں والا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ» ”اے اللہ! معاملے کو واضح فرما۔“ پھر ان دونوں کے درمیان لعان کروایا گیا، تو اس عورت نے اس شخص کے مشابہ بچہ جنم دیا جس کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی۔ ابوالزناد، قاسم بن محمد سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کروایا جبکہ وہ عورت حاملہ تھی اور جس شخص کے ساتھ اسے متہم کیا گیا تھا وہ ابن سحماء تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15349]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15350
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ إِجَازَةً أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ السَّمْدِيُّ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نا بُنْدَارٌ، نا أَبُو عَامِرٍ، نا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ وَكَانَتْ حَامِلًا"، فَقَالَ زَوْجُهَا: وَاللهِ مَا قَرَبْتُهَا مُنْذُ عَفَرْنَا قَالَ: وَالْعَفْرُ أَنْ يُسْقَى النَّخْلُ بَعْدَ أَنْ يُتْرَكَ مِنَ السَّقْيِ بَعْدَ الْإِبَّارِ شَهْرَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ بَيِّنْ" فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوْجَ الْمَرْأَةِ حَمْشَ الذِّرَاعَيْنِ وَالسَّاقَيْنِ أَصْهَبَ الشَّعْرِ وَكَانَ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ ابْنَ السَّحْمَاءِ فَجَاءَتْ بِغُلَامٍ أَسْوَدَ أَكْحَلَ جَعْدًا عَبْلَ الذِّرَاعَيْنِ خَدْلَ السَّاقَيْنِ قَالَ الْقَاسِمُ: قَالَ ابْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَهِيَ الْمَرْأَةُ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا"؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتِ السُّوءَ فِي الْإِسْلَامِ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ بِإِسْنَادِهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ وَكَانَتْ حُبْلَى، وَقَالَ زَوْجُهَا: وَاللهِ مَا قَرَبْتُهَا مُنْذُ عَفَرْنَا النَّخْلَ وَذَكَرَ تَفْسِيرَ الْعَفْرِ وَقَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ بَيِّنْ" وَزَعَمُوا أَنَّ زَوْجَ الْمَرْأَةِ كَانَ حَمْشَ الذِّرَاعَيْنِ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَجْلَى بَدَلَ أَكْحَلَ وَزَادَ قَطَطًا قَالَ ابْنُ خُزَيْمَةَ: نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ أنا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَذَكَرَهُ.
قاسم بن محمد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جب عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان (لعان) کروایا گیا تو اس کی بیوی حاملہ تھی۔ اس کے خاوند نے کہا: میں اس کے قریب نہیں گیا جب سے ہم کھجور پر گابھا لگا کر فارغ ہوئے ہیں؛ اور عفر کہتے ہیں کہ کھجور کو قلم لگانے کے دو مہینہ کے بعد تک پانی نہ دیا جائے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ» ”اے اللہ! معاملہ واضح فرما۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاوند کو بلایا، وہ باریک بازو اور پنڈلیوں اور بھورے بالوں والا تھا اور وہ شخص جس کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی وہ شریک بن سحماء تھا، اس عورت نے سیاہ سرمیلی آنکھوں، گھنگھریالے بال، موٹے موٹے بازو اور بھری ہوئی پنڈلیوں والا بچہ جنم دیا۔ قاسم کہتے ہیں کہ ابن شداد بن الہاد نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا یہی عورت ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”اگر میں کسی کو بغیر دلیل کے رجم کرتا تو اس عورت کو رجم کر دیتا“؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس نے اسلام میں اعلانیہ برائی کی تھی۔
(ب) ابن ابی الزناد اپنے والد سے اسی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کروایا جبکہ وہ حاملہ تھی، اور اس کے خاوند نے کہا تھا: میں کھجوروں کو قلم لگانے کے بعد اس کے قریب نہیں گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ» ”اے اللہ! اس معاملے کو واضح فرما“ اور ان کا گمان تھا کہ اس کا خاوند باریک بازو والا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15350]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3138. -- فصل في سؤال المرمي بالمرأة
-- یہ فصل اس شخص سے سوال کرنے کے بیان میں ہے جس پر عورت کے ساتھ (زنا کی) تہمت لگائی گئی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15351
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، نا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ فِي قَوْلِهِ: {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً} [النور: ٤] الْآيَةَ قَالَ: فَقَامَ ⦗٦٧٠⦘ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فَذَكَرَ قِصَّةَ سُؤَالِهِ فِي رَجُلٍ يَرَى رَجُلًا عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِهِ يَزْنِي بِهَا وَنُزُولَ آيَةِ اللِّعَانِ وَرَمْيَ ابْنِ عَمِّهِ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ امْرَأَتَهُ بِابْنِ عَمِّهِ شَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ وَأَنَّهَا حُبْلَى قَالَ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَلِيلِ وَالْمَرْأَةِ وَالزَّوْجِ فَاجْتَمَعُوا عِنْدَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَوْجِهَا هِلَالٍ:" وَيْحَكَ مَا تَقُولُ فِي بِنْتِ عَمِّكَ وَابْنِ عَمِّكَ وَخَلِيلِكَ أَنْ تَقْذِفَهَا بِبُهْتَانٍ" فَقَالَ الزَّوْجُ: أُقْسِمُ بِاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ مَعَهَا عَلَى بَطْنِهَا وَإِنَّهَا لَحُبْلَى وَمَا قَرَبْتُهَا مُنْذُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَرْأَةِ:" وَيْحَكِ مَا يَقُولُ زَوْجُكِ؟" قَالَتْ: أَحْلِفُ بِاللهِ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ وَمَا رَأَى مِنَّا شَيْئًا يُرِيبُهُ، وَذَكَرَ كَلَامًا طَوِيلًا فِي الْإِنْكَارِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْخَلِيلِ:" وَيْحَكَ مَا يَقُولُ ابْنُ عَمِّكَ؟" فَقَالَ: أُقْسِمُ بِاللهِ مَا رَأَى مَا يَقُولُ وَإِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ، وَذَكَرَ كَلَامًا طَوِيلًا فِي الْإِنْكَارِ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَرْأَةِ وَالزَّوْجِ:" قُومَا فَاحْلِفَا بِاللهِ" فَقَامَا عِنْدَ الْمِنْبَرِ فِي دُبُرِ صَلَاةِ الْعَصْرِ فَحَلَفَ زَوْجُهَا هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ فَقَالَ: أَشْهَدُ بِاللهِ إِنِّي لَمِنَ الصَّادِقِينَ فَذَكَرَ لِعَانَهُ وَصِفَةَ لِعَانِهَا وَذَكَرَ فِي لِعَانِ الزَّوْجِ أَنَّهَا لَحُبْلَى مِنْ غَيْرِي وَإِنِّي لَمِنَ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ لَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ أَحْلَفَ شَرِيكًا وَإِنَّمَا ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَلَدَتْ فَأْتُونِي بِهِ" فَوَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ جَعْدًا كَأَنَّهُ مِنَ الْحَبَشَةِ، فَلَمَّا أَنْ نَظَرَ إِلَيْهِ فَرَأَى شَبَهَهُ بِشَرِيكٍ وَكَانَ ابْنَ حَبَشِيَّةٍ قَالَ:" لَوْلَا مَا مَضَى مِنَ الْأَيْمَانِ لَكَانَ لِي فِيهَا أَمْرٌ" يَعْنِي الرَّجْمَ فَقَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ: وَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِيكًا فَأَنْكَرَ فَلَمْ يُحَلِّفْهُ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَخَذَهُ عَنْ أَهْلِ التَّفْسِيرِ فَإِنَّهُ كَانَ مَسْمُوعًا لَهُ وَلَمْ أَجِدْهُ فِي الرِّوَايَاتِ الْمَوْصُولَةِ، وَالَّذِي قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ وَلَمْ يُحْضِرْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْمِيَّ بِالْمَرْأَةِ، إِنَّمَا قَالَهُ فِي قِصَّةِ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلَانِيِّ، وَالْمَرْمِيُّ بِالْمَرْأَةِ لَمْ يُسَمَّ فِي قِصَّةِ الْعَجْلَانِيِّ فِي الرِّوَايَاتِ الَّتِي عِنْدَنَا إِلَّا أَنَّ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ جَاءَتْ بِهِ بِنَعْتِ كَذَا وَكَذَا فِي تِلْكَ الْقِصَّةِ أَيْضًا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ رَمَاهَا بِرَجُلٍ بِعَيْنِهِ وَلَمْ يُنْقَلْ فِيهَا أَنَّهُ أَحْضَرَهُ، فَقَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْإِمْلَاءِ: أَظُنُّهُ وَقَدْ قَذَفَ الرَّجُلُ الْعَجْلَانِيُّ امْرَأَتَهُ بِابْنِ عَمِّهِ، وَابْنُ عَمِّهِ شَرِيكُ بْنُ السَّحْمَاءِ ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: وَالْتَعَنَ الْعَجْلَانِيُّ فَلَمْ يُحِدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِيكًا بِالْتِعَانِهِ، وَالَّذِي فِي مَا رَوَيْنَا مِنَ الْأَحَادِيثِ أَنَّ الَّذِيَ رَمَى زَوْجَتَهُ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيُّ مِنْ بَنِي الْوَاقِفِ وَلَا أَعْلَمُ أَحَدًا سَمَّى فِي قِصَّةِ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلَانِيِّ رَمْيَهُ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ إِلَّا مِنْ جِهَةِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ الْوَاقِدِيِّ بِإِسْنَادٍ لَهُ قَدْ ذَكَرْنَاهُ فِيمَا مَضَى وَهُوَ أَيْضًا فِي رِوَايَةِ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَمَا مَضَى فِي الرِّوَايَاتِ الْمَشْهُورَةِ وَإِنَّمَا سُمِّيَ فِي قِصَّةِ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَيُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ الْقِصَّتَانِ وَاحِدَةً، فَقَدْ ذُكِرَ فِي⦗٦٧١⦘ الرِّوَايَاتِ الْمَوْصُولَةِ فِي قِصَّةِ الْعَجْلَانِيِّ أَنَّهُ أَمَرَ عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ لِلسُّؤَالِ عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ نَزَلَتِ الْآيَةُ وَجَاءَ عُوَيْمِرٌ الْعَجْلَانِيُّ فَلَاعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ قَالَ:" إِنْ جَاءَتْ بِهِ كَذَا وَكَذَا" وَذُكِرَ فِي قِصَّةِ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ أَيْضًا نُزُولُ الْآيَةِ فِيهِ وَأَنَّهُ لَاعَنَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ فَقَالَ:" إِنْ جَاءَتْ بِهِ كَذَا وَكَذَا" وَذَكَرَ مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ فِي قِصَّةِ هِلَالٍ سُؤَالَ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ فَإِمَّا أَنْ تَكُونَا قِصَّةً وَاحِدَةً، وَاخْتَلَفَ الرُّوَاةُ فِي اسْمِ الرَّامِي، فَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُسَمِّيَانِهِ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ يُسَمِّيهِ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْهُ يَقُولُ: لَاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ، وَابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: فَرَّقَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ، وَابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَيَكُونُ قَوْلُهُ فِي الْإِمْلَاءِ خَارِجًا عَنْ بَعْضِ مَا رُوِيَ مِنَ الِاخْتِلَافِ فِي اسْمِ الرَّجُلِ، وَإِمَّا أَنْ تَكُونَا قِصَّتَيْنِ وَكَانَ عَاصِمٌ حِينَ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ إِنمَّا سَأَلَ لِعُوَيْمِرٍ الْعَجْلَانِيِّ فَابْتُلِيَ بِهِ أَيْضًا هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ فَنَزَلَتِ الْآيَةُ فحِينَ حَضَرَ كُلٌّ واحد مِنْهُمَا لَاعَنَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، وَأُضِيفَ نُزُولُ الْآيَةِ فِيهِ إِلَيْهِ فَعَلَى هَذَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ مَا وَقَعَ فِي الْإِمْلَاءِ خَطَأٌ مِنَ الْكَاتِبِ أَوْ تَقْلِيدًا لِمَا رُوِيَ فِي حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ وَحَدِيثِ الْوَاقِدِيِّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
بکیر بن معروف حضرت مقاتل بن حیان رحمہ اللہ سے اللہ کے اس قول ﴿وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمَانِيْنَ جَلْدَةً﴾ [سورة النور: 4] ”وہ لوگ جو پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں پھر چار گواہ بھی نہیں لاتے انھیں 80 کوڑے مارو۔“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اس شخص کا قصہ بیان کر دیا جس نے اپنی بیوی کے پیٹ پر دوسرے آدمی کو دیکھا کہ زنا کر رہا ہے اور لعان کی آیات کا نزول ہوا۔ اس کے چچا زاد ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا زاد شریک بن سحماء کے ساتھ اپنی بیوی کو تہمت لگائی کہ وہ اس سے حاملہ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلیل، عورت اور خاوند کو بلایا وہ سارے آپ کے پاس جمع ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خاوند ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تجھ پر افسوس! اپنے چچا کی بیٹی اور بیٹے اور اپنے دوست کے بارے میں کیا کہہ رہا ہے، تو ان پر تہمت لگا رہا ہے؟“ تو خاوند نے کہہ دیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں قسم اٹھاتا ہوں، میں نے اسے اس کے پیٹ پر دیکھا ہے، یہ اس سے حاملہ ہے، میں تو چار ماہ سے اس کے قریب تک نہیں گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی سے پوچھا: ”تیرا خاوند کیا کہہ رہا ہے؟“ اس نے کہا: میں اللہ کی قسم اٹھاتی ہوں یہ جھوٹا ہے اور اس نے کوئی چیز اس طرح کی نہیں دیکھی جو شک پیدا کرے تو انکار میں اس نے لمبی بات کی تو خلیل سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنے چچا زاد کے بارے میں کیا کہتا ہے؟“ اس نے کہا: میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں، اس نے نہیں دیکھا جو کہہ رہا ہے وہ جھوٹ ہے۔ اس نے بھی لمبی بات چیت کی انکار میں۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میاں، بیوی سے کہا: ”تم کھڑے ہو کر قسمیں اٹھاؤ۔“ وہ عصر کی نماز کے بعد منبر کے پاس کھڑے ہو گئے تو اس کے خاوند ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے قسمیں اٹھائیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں سچا ہوں، اس نے لعان اور لعان کا طریقہ واضح کیا اور خاوند کے لعان میں ذکر کیا کہ وہ میرے غیر سے حاملہ ہے، میں سچا ہوں۔ پھر اس نے شریک کے قسم اٹھانے کا تذکرہ نہیں کیا۔ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ذکر کیا ہے کہ ”جب وہ بچے کو جنم دے تو میرے پاس لانا۔“ اس نے سیاہ گھنگھریالے بالوں والا بچہ جنم دیا گویا کہ وہ حبشہ سے ہے، جب آپ نے دیکھا تو مشابہت شریک کے ساتھ دیکھی۔ وہ ایک حبشی عورت کا بیٹا تھا۔ فرمایا: ”اگر لعان نہ ہو چکا ہوتا تو پھر میں اس عورت سے نپٹتا یعنی رجم کر دیتا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ قول کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شریک سے پوچھا تو اس نے انکار کر دیا، لیکن آپ نے اس سے قسم نہیں لی، تو ممکن ہے یہ قول انہوں نے اہل تفسیر سے لیا ہو، کیونکہ یہ انہوں نے سنا ہوا تھا، اور میں نے اسے موصول روایات میں نہیں پایا۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب احکام القرآن میں جو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو نہیں بلایا جس کے ساتھ عورت پر تہمت لگائی گئی تھی، تو یہ انہوں نے صرف عویمر عجلانی کے قصے میں کہا ہے، اور ہمارے پاس موجود روایات میں عجلانی کے قصے میں اس شخص کا نام نہیں لیا گیا جس کے ساتھ عورت پر تہمت لگائی گئی، البتہ اس قصے میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”اگر اس نے ایسے ایسے اوصاف والا بچہ جنم دیا“ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس نے ایک معین شخص کے ساتھ تہمت لگائی تھی، اور اس میں یہ منقول نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا ہو۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے الاملاء میں فرمایا: میرا گمان ہے کہ عجلانی نے اپنی بیوی پر اپنے چچا زاد کے ساتھ تہمت لگائی، اور اس کا چچا زاد شریک بن سحماء تھا، پھر بات آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا: عجلانی نے لعان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لعان کی وجہ سے شریک پر حد نہیں لگائی۔ جبکہ ہماری روایت کردہ احادیث میں یہ ہے کہ جس نے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ تہمت لگائی وہ بنو واقف کے ہلال بن امیہ واقفی تھے، اور میں کسی کو نہیں جانتا جس نے عویمر عجلانی کے قصے میں اس کی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ تہمت کا ذکر کیا ہو، سوائے محمد بن عمر واقدی کی سند کے جسے ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، اور یہ ابوالزناد عن القاسم عن ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں بھی ہے جیسا کہ گزر چکا۔ مشہور روایات میں اس کا نام صرف ہلال بن امیہ کے قصے میں لیا گیا ہے۔ اور ممکن ہے کہ دونوں قصے ایک ہی ہوں، کیونکہ عجلانی کے قصے کی موصول روایات میں ذکر ہے کہ انہوں نے عاصم بن عدی سے اس بارے میں سوال کروایا، پھر آیت نازل ہوئی اور عویمر عجلانی آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کروایا اور فرمایا: ”اگر اس نے ایسا ایسا بچہ جنم دیا“، اور ہلال بن امیہ کے قصے میں بھی ذکر ہے کہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کروایا اور فرمایا: ”اگر اس نے ایسا ایسا بچہ جنم دیا“، اور مقاتل بن حیان نے ہلال کے قصے میں عاصم بن عدی کے سوال کا ذکر کیا ہے۔ تو یا تو یہ ایک ہی قصہ ہے اور راویوں نے تہمت لگانے والے کے نام میں اختلاف کیا ہے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک روایت میں اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس کا نام ہلال بن امیہ بتاتے ہیں، سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ اس کا نام عویمر عجلانی بتاتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ابن ابی الزناد عن القاسم بن محمد کی روایت میں کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کروایا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان کے دو افراد کے درمیان تفریق کروائی، اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انصار کا ایک آدمی؛ تو اس صورت میں الاملاء میں ان کا قول آدمی کے نام کے بارے میں مروی اختلاف کے بعض حصے پر مبنی ہوگا۔ یا یہ دو الگ قصے ہیں، اور عاصم نے جب اس بارے میں سوال کیا تو عویمر عجلانی کے لیے سوال کیا تھا، پھر ہلال بن امیہ بھی اس میں مبتلا ہو گئے، پھر آیت نازل ہوئی، تو جب ان میں سے ہر ایک حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کروایا، اور آیت کے نزول کی نسبت ہر ایک کی طرف کر دی گئی۔ اس صورت میں الاملاء میں جو آیا ہے وہ کاتب کی غلطی ہوگی یا ابوالزناد کی حدیث اور واقدی کی حدیث میں مروی بات کی پیروی۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15351]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3139. -- باب: ما يكون بعد التعان الزوج من الفرقة ونفي الولد وحد المرأة إن لم تلتعن
-- باب: شوہر کے لعان کر لینے کے بعد جدائی واقع ہونے، بچے کی نفی ہونے، اور اگر عورت لعان نہ کرے تو اس پر حد لگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15352
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا" فَفَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ".
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لعان کیا اور اپنے بچے کی نفی کر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان تفریق کر دی اور بچے کو ماں کے ساتھ ملا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15352]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15353
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكٍ: حَدَّثَكَ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَفَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ؟" قَالَ: نَعَمْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اپنی بیوی سے لعان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان تفریق ڈال دی اور بچہ ماں کو دے دیا؟ فرماتے ہیں: ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15353]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15354
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ:" حِسَابُكُمَا عَلَى اللهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَالِي مَالِي قَالَ:" إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهُ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ كَمَا مَضَى وَرُوِّينَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُتَلَاعِنَانِ إِذَا تَفَرَّقَا لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لعان کرنے والوں کے متعلق فرمایا: ”تمہارا حساب اللہ کے سپرد، تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ تجھے بیوی پر کوئی اختیار نہیں۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا مال میرا مال۔ فرمایا: ”اگر تو سچا ہے تو مال شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض گیا۔ اگر تو نے جھوٹ بولا ہے تو یہ اس سے بھی دور کی بات ہے۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو لعان کرنے والے تفریق کے بعد کبھی جمع نہ ہو سکیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15354]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15355
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قِصَّةِ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ وَامْرَأَتِهِ وأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا وَأَنَّهَا شَهِدَتْ بَعْدَ الْتِعَانِ الزَّوْجِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللهِ أَنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ، فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قِيلَ لَهَا: اتَّقِي اللهَ فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ وإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكِ الْعَذَابَ، فَسَكَتَتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ: وَاللهِ لَا ⦗٦٧٣⦘ أَفْضَحُ قَوْمِي فَشَهِدَتْ فِي الْخَامِسَةِ أَنَّ غَضَبَ اللهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ" فَفَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَقَضَى أَنْ لَا يُدْعَى وَلَدُهَا لِأَبٍ وَلَا تُرْمَى وَلَا يُرْمَى وَلَدُهَا، وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا فَعَلَيْهِ الْحَدُّ، وَقَضَى أَنْ لَا بَيْتَ لَهَا عَلَيْهِ وَلَا قُوتَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفَّى عَنْهَا".
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہلال بن امیہ اور ان کی بیوی کے قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان لعان کروایا۔ اس عورت نے خاوند کے لعان کے بعد چار گواہیاں اللہ کی قسم اٹھا کر دیں کہ وہ جھوٹا ہے، جب پانچویں گواہی کی باری آئی تو اس سے کہا گیا: اللہ سے ڈر، دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ترین ہے اور یہ اللہ کے عذاب کو واجب کر دینے والی ہے۔ وہ تھوڑی دیر خاموش رہی، اس کے بعد کہنے لگی: میں اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی۔ اس نے پانچویں گواہی بھی دے دی کہ اس پر اللہ کا غضب ہو اگر وہ سچا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں تفریق کروا دی۔ اور فرمایا: ”بچے کو باپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے گا، لیکن بچے اور والدہ پر تہمت بھی نہ لگائی جائے۔ جس نے والدہ یا بچے پر تہمت لگائی اسے حد لگائی جائے گی۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ: ”خاوند کے ذمہ نہ رہائش اور نہ ہی خوراک ہے کیونکہ دونوں میں تفریق بغیر طلاق و وفات کے ہوئی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15355]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15356
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ فِي حَدِيثِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ قَالَ:" فَمَضَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا".
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث لعان کرنے والوں کے بارے میں ہے کہ: ”لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کردی جائے گی اور بعد میں کبھی جمع نہ ہوں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15356]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15357
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، نا ابْنُ أَبِي حَسَّانَ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا الْوَلِيدُ، وَعَمْرٌو قَالَا: نا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ فِي قِصَّةِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ قَالَ: فَتَلَاعَنَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَفَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ: لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا".
زہری رحمہ اللہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے لعان کرنے والوں کے قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لعان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان تفریق پیدا کر دی اور فرمایا: ”یہ کبھی جمع نہ ہو سکیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15357]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15358
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، نا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، نا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَقَيْسٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" مَضَتِ السُّنَّةُ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ لَا يَجْتَمِعَا أَبَدًا".
سیدنا عبداللہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لعان کرنے والوں میں سنت طریقہ یہی ہے کہ ”وہ کبھی جمع نہ ہو سکیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15358]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں