السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3233. -- باب: بيان ضعف الخبر الذي روي في قتل المؤمن بالكافر، وما جاء عن الصحابة في ذلك
-- باب: کافر کے بدلے مومن کو قتل کرنے کے متعلق مروی روایت کے ضعف، اور اس بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی آثار کا بیان۔
حدیث نمبر: 15918
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَحَقُّ مَنْ وَفَى بِذِمَّتِهِ"، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ. هَذَا هُوَ الْأَصْلُ فِي هَذَا الْبَابِ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ وَرَاوِيهِ غَيْرُ ثِقَةٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُرْسَلًا.
عبدالرحمن بن بیلمانی رحمہ اللہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ ایک مسلمان نے ذمی کو قتل کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ذمہ کو زیادہ پورا کرنے والا ہوں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسلمان کو قتل کر دیا۔ یہ روایت منقطع ہے اور اس کا راوی ثقہ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15918]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15919
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" ⦗٥٧⦘ إِنَّا عَاهَدْنَاكَ وَبَايَعْنَاكَ عَلَى كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ خُتِرَ بِرَجُلٍ مِنَّا فَقُتِلَ، فَقَالَ:" أَنَا أَحَقُّ مَنْ أَوْفَى بِذِمَّتِهِ"، فَأَمْكَنَهُ مِنْهُ فَضُرِبَتْ عُنُقُهُ.
عبدالرحمٰن بن بیلمانی کہتے ہیں کہ ذمیوں میں سے ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ سے ہمارا یہ یہ معاہدہ ہوا تھا۔ آپ کے ایک شخص نے ہمارا ایک آدمی قتل کردیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے ذمہ کو پورا کرنے کا سب سے زیادہ حق رکھتا ہوں“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسلمان کو بھی قتل کروا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15919]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مرسل»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15920
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا الرَّمَادِيُّ، ح قَالَ: وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، يَرْفَعُهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَقَادَ مُسْلِمًا قَتَلَ يَهُودِيًّا. وَقَالَ الرَّمَادِيُّ: أَقَادَ مُسْلِمًا بِذِمِّيٍّ وَقَالَ:" أَنَا أَحَقُّ مَنْ وَفَى بِذِمَّتِي" وَيُقَالُ: إِنَّ رَبِيعَةَ إِنَّمَا أَخَذَهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى. وَالْحَدِيثُ يَدُورُ عَلَيْهِ..
ابن بیلمانی رحمہ اللہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ ایک مسلمان نے ایک یہودی کو قتل کر دیا اور رمادی کی روایت میں ہے کہ ذمی کو، تو بدلے میں اس مسلمان کو قتل کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَنَا أَحَقُّ مَنْ وَفَى بِذِمَّتِهِ» ”میں زیادہ حق دار ہوں کہ اپنا ذمہ پورا کروں۔“
کہا جاتا ہے کہ ربیعہ نے یہ روایت ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ ہی سے لی ہے، اور اس حدیث کا دارومدار انہی پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15920]
کہا جاتا ہے کہ ربیعہ نے یہ روایت ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ ہی سے لی ہے، اور اس حدیث کا دارومدار انہی پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15920]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مرسل»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15921
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي يَحْيَى، يُحَدِّثُهُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَسَمِعْتُ أَبَا يُوسُفَ، يُحَدِّثُهُ عَنْ رَبِيعَةَ الرَّأْيِ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، ثُمَّ بَلَغَنِي عَنِ ابْنِ أَبِي يَحْيَى، أَنَّهُ قَالَ: أَنَا حَدَّثْتُ رَبِيعَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَإِنَّمَا دَارَ الْحَدِيثُ عَلَى ابْنِ أَبِي يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَادَ مُسْلِمًا بِمُعَاهِدٍ، وَقَالَ:" أَنَا أَحَقُّ مَنْ وَفَى بِذِمَّتِهِ". قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَهَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ بِمُسْنَدٍ، وَلَا يُجْعَلُ مِثْلُهُ أمِا مَّا يُسْفَكُ بِهِ دِمَاءُ الْمُسْلِمِينَ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَقَدْ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: قُلْتُ لِزُفَرَ: إِنَّكُمْ تَقُولُونَ: إِنَّا نَدْرَأُ الْحَدَّ بِالشُّبُهَاتِ، وَإِنَّكُمْ جِئْتُمْ إِلَى أَعْظَمِ الشُّبُهَاتِ فَأَقْدَمْتُمْ عَلَيْهَا. قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: قُلْتُ: الْمُسْلِمُ يُقْتَلُ بِالْكَافِرِ. قَالَ: فَاشْهَدْ أَنْتَ عَلَى رُجُوعِي عَنْ هَذَا. قَالَ: وَكَذَلِكَ قَوْلُ أَهْلِ الْحِجَازِ، لَا يُقِيدُونَهُ بِهِ، وَأَمَّا قَوْلُهُ:" وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ" فَإِنَّ ذَا الْعَهْدِ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ دَارِ الْحَرْبِ يَدْخُلُ إِلَيْنَا بِأَمَانٍ فَقَتْلُهُ مُحَرَّمٌ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَأْمَنِهِ. وَأَصْلُ هَذَا مِنْ قَوْلِهِ: {وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللهِ، ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ} [التوبة: ٦] .
ابن بیلمانی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کو ذمی کے بدلے قتل کیا اور فرمایا: ”میں اپنے ذمہ کو پورا کرنے کا سب سے زیادہ حق دار ہوں۔“
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پھر مجھے ابن ابی یحییٰ سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: یہ حدیث میں نے ہی ربیعہ کو بیان کی تھی، لہٰذا اس حدیث کا دارومدار ابن ابی یحییٰ ہی پر ہے۔ یہ حدیث مسند نہیں ہے اور ایسی روایت کو دلیل نہیں بنانا چاہیے جس کی بنا پر مسلمانوں کا خون بہایا جائے۔ ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے جو عبدالواحد بن زیاد رحمہ اللہ کے واسطے سے بیان کیا کہ میں نے زفر رحمہ اللہ کو کہا کہ تم یہ کہتے ہو کہ ہم شبہات کی بنا پر حد کو ساقط کرتے ہیں حالانکہ سب سے بڑا شبہ تو تم خود لے کر آتے ہو۔ کہنے لگے: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل کیا جائے گا۔ تو امام زفر رحمہ اللہ فرمانے لگے: آپ گواہ بن جاؤ میں اس سے رجوع کرتا ہوں۔ ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل حجاز کا بھی یہی موقف ہے کہ مسلم کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ ”اور نہ عہد والا عہد میں“ یہ جو آپ کا قول ہے کہ دارِ حرب کا کوئی شخص جب مسلمانوں کے پاس آجائے تو جب تک وہ واپس نہ لوٹ جائے، اس وقت تک اسے بھی قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ﴾ [سورة التوبة: 6] یعنی: ”اگر کوئی مشرک آپ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دو کہ وہ کلام اللہ کو سنے، پھر اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15921]
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پھر مجھے ابن ابی یحییٰ سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: یہ حدیث میں نے ہی ربیعہ کو بیان کی تھی، لہٰذا اس حدیث کا دارومدار ابن ابی یحییٰ ہی پر ہے۔ یہ حدیث مسند نہیں ہے اور ایسی روایت کو دلیل نہیں بنانا چاہیے جس کی بنا پر مسلمانوں کا خون بہایا جائے۔ ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے جو عبدالواحد بن زیاد رحمہ اللہ کے واسطے سے بیان کیا کہ میں نے زفر رحمہ اللہ کو کہا کہ تم یہ کہتے ہو کہ ہم شبہات کی بنا پر حد کو ساقط کرتے ہیں حالانکہ سب سے بڑا شبہ تو تم خود لے کر آتے ہو۔ کہنے لگے: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل کیا جائے گا۔ تو امام زفر رحمہ اللہ فرمانے لگے: آپ گواہ بن جاؤ میں اس سے رجوع کرتا ہوں۔ ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل حجاز کا بھی یہی موقف ہے کہ مسلم کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ ”اور نہ عہد والا عہد میں“ یہ جو آپ کا قول ہے کہ دارِ حرب کا کوئی شخص جب مسلمانوں کے پاس آجائے تو جب تک وہ واپس نہ لوٹ جائے، اس وقت تک اسے بھی قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ﴾ [سورة التوبة: 6] یعنی: ”اگر کوئی مشرک آپ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دو کہ وہ کلام اللہ کو سنے، پھر اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15921]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15922
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو قُدَامَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: ⦗٥٨⦘ لَقِيتُ زُفَرَ فَقُلْتُ لَهُ: صِرْتُمْ حَدِيثًا فِي النَّاسِ وَضُحْكَةً. قَالَ: وَمَا ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: تَقُولُونَ فِي الْأَشْيَاءِ كُلِّهَا: ادْرَءُوا الْحُدُودَ بِالشُّبُهَاتِ، وَجِئْتُمْ إِلَى أَعْظَمِ الْحُدُودِ، فَقُلْتُمْ: تُقَامُ بِالشُّبُهَاتِ، قَالَ: وَمَا ذَلِكَ؟ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ"، فَقُلْتُمْ: يُقْتَلُ بِهِ، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ السَّاعَةَ أَنِّي قَدْ رَجَعْتُ عَنْهُ..
عبدالواحد بن زیاد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام زفر رحمہ اللہ سے کہا: تم لوگوں میں باتوں کا موضوع اور مذاق بن گئے ہو۔ انہوں نے پوچھا: کیسے؟ میں نے کہا: تم یہ کہتے ہو کہ شک ہو تو حد کو ساقط کر دو اور خود بہت بڑی حد شبہ میں قائم کرتے ہو۔ انہوں نے پوچھا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو فرمان ہے: ”مومن کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا“ اور تم کہتے ہو کہ قتل کیا جائے گا۔ تو امام زفر رحمہ اللہ کہنے لگے: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس سے رجوع کر لیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15922]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لعبدالواحد بن زياد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15923
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: حَدِيثُ ابْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَتَلَ مُسْلِمًا بِمُعَاهِدٍ"، هَذَا إِنَّمَا يَدُورُ عَلَى ابْنِ أَبِي يَحْيَى، لَيْسَ لَهُ وَجْهٌ حَجَّاجٌ، إِنَّمَا أَخَذَهُ عَنْهُ..
علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن بیلمانی کی جو مرفوعاً روایت ہے کہ ”ایک مسلمان کو ذمی کے بدلے قتل کیا گیا“ اس کا دارومدار ابن ابی یحییٰ پر ہے اس کی کوئی ایسی سند نہیں جو قابلِ حجت ہو، (ربیعہ نے) اسے انہی سے لیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15923]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لإبن المديني»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15924
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الْبُخَارِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، قَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْبَيْلَمَانِيِّ حَدِيثُهُ مُنْكَرٌ، وَرَوَى عَنْهُ رَبِيعَةُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَتَلَ مُسْلِمًا بِمُعَاهِدٍ، وَهُوَ مُرْسَلٌ مُنْكَرٌ.
صالح بن محمد الحافظ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبد الرحمن بن بیلمانی کی حدیث منکر ہے، جو ربیعہ رحمہ اللہ نے روایت کی ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذمی کے بدلے مسلمان کو قتل کیا۔“ وہ بھی مرسل اور منکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15924]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لصالح بن محمد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15925
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ ابْنُ الْبَيْلَمَانِيِّ ضَعِيفٌ، لَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ إِذَا وَصَلَ الْحَدِيثَ، فَكَيْفَ بِمَا يُرْسِلُهُ؟ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابوالحسن علی بن عمر دارقطنی حافظ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن البیلمانی ضعیف ہے، جب وہ حدیث کو موصول بیان کرے تب بھی اس سے دلیل نہیں پکڑی جاسکتی، تو جسے وہ مرسل بیان کرے اس کا کیا حال ہوگا؟ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15925]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ للدار قطني»
الحكم على الحديث: صحيح
3234. -- الروايات فيه عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه
-- اس سلسلے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی روایات۔
حدیث نمبر: 15926
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ ⦗٥٩⦘ مَكْحُولٍ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَعَا نَبَطِيًّا يُمْسِكُ لَهُ دَابَّتَهُ عِنْدَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأَبَى فَضَرَبَهُ فَشَجَّهُ، فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ:" مَا دَعَاكَ إِلَى مَا صَنَعْتَ بِهَذَا؟ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَرْتُهُ أَنْ يُمْسِكَ دَابَّتِي فَأَبَى، وَأَنَا رَجُلٌ فِيَّ حَدَّةٌ فَضَرَبْتُهُ، فَقَالَ: اجْلِسْ لِلْقَصَاصِ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: أَتُقِيدُ عَبْدَكَ مِنْ أَخِيكَ؟ فَتَرَكَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْقَوَدَ وَقَضَى عَلَيْهِ بِالدِّيَةِ.
مکحول کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ایک نبطی کو بلایا کہ وہ آپ کے جانور کو بیت المقدس کے پاس روک لے۔ اس نے انکار کیا تو آپ نے اسے مارا اور اس کا سر پھاڑ دیا۔ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ نے پوچھا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو عبادہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں نے اسے کہا کہ میرے جانور کو پکڑ لے، اس نے انکار کیا۔ میں غصے والا شخص ہوں، غصہ آیا، میں نے اسے مار دیا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: بیٹھو، قصاص دو۔ تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کیا اپنے غلام کو اپنے بھائی سے قصاص لے کر دو گے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے قصاص کو چھوڑ دیا اور دیت کے ساتھ فیصلہ فرمایا۔ مکحول کی عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15926]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15927
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَدْ جَرَحَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَأَرَادَ أَنْ يُقِيدَهُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ:" مَا يَنْبَغِي هَذَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِذًا نُضَعِّفُ عَلَيْهِ الْعَقْلَ"، فَأَضْعَفَهُ. وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يُحَدِّثُ النَّاسَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ قُتِلَ بِالشَّامِ عَمْدًا، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذْ ذَاكَ بِالشَّامِ، فَلَمَّا بَلَغَهُ ذَلِكَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَدْ وَقَعْتُمْ بِأَهْلِ الذِّمَّةِ لَأَقْتُلَنَّهُ بِهِ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ. فَصَلَّى ثُمَّ دَعَا أَبَا عُبَيْدَةَ فَقَالَ: لِمَ زَعَمْتَ لَا أَقْتُلُهُ بِهِ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَرَأَيْتَ لَوْ قَتَلَ عَبْدًا لَهُ أَكُنْتَ قَاتِلَهُ بِهِ؟ فَصَمَتَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ قَضَى عَلَيْهِ بِأَلْفِ دِينَارٍ مُغَلِّظًا عَلَيْهِ.
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص لایا گیا، جس نے ایک ذمی کو زخمی کر دیا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے قصاص لینا چاہا تو مسلمان کہنے لگے: ایسا نہیں ہو سکتا تو عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: پھر ہم اس پر دیت دگنی کرتے ہیں، تو دیت دگنی کر دی گئی اور اسماعیل بن ابی حکیم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے سنا، آپ لوگوں کو بیان کر رہے تھے کہ ایک آدمی اہل ذمہ میں سے شام میں جان بوجھ کر قتل کر دیا گیا، عمر رضی اللہ عنہ بھی اس وقت شام میں تھے۔ آپ کو یہ بات پہنچی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب اسے بھی بدلے میں قتل کیا جائے گا تو ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ایسا نہیں ہو سکتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور پھر ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور پوچھا کہ میں اس کو کیوں قتل نہ کروں؟ تو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ اگر مقتول غلام ہوتا تو کیا آپ پھر بھی اسے قتل کرتے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے اور اس پر سختی کرتے ہوئے ہزار دینار کا فیصلہ کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15927]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مرسل عن عمر»
الحكم على الحديث: ضعيف