السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3318. -- باب: ما جاء في الحاجبين واللحية والرأس
-- باب: دونوں بھنووں، داڑھی اور سر کے بالوں کے نقصان کی دیت کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16330
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: فِي الشَّعْرِ إِذَا لَمْ يَنْبُتِ الدِّيَةُ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ قَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ: وَرُوِّينَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ: فِي الْحَاجِبِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، قَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ: فِي الشَّعْرِ يُجْنَى عَلَيْهِ فَلَا يَنْبُتُ رُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا قَالَا: فِيهِ الدِّيَةُ، قَالَ: وَلَا يَثْبُتُ عَنْ عَلِيٍّ وَزَيْدٍ مَا رُوِيَ عَنْهُمَا.
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بال جب تک اگ نہ آئے، اس میں دیت ہے۔ یہ منقطع ہے اور زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابرو میں ثلث دیت ہے اور زید اور علی رضی اللہ عنہما سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس میں دیت ہے۔
حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں، اور علی اور زید رضی اللہ عنہما سے جو منقول ہے وہ ثابت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16330]
حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں، اور علی اور زید رضی اللہ عنہما سے جو منقول ہے وہ ثابت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16330]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16331
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَطَاءً، عَنِ الْحَاجِبِ يُشَانُ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ فِيهِ، بِشَيْءٍ ⦗١٧٣⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فِيهِ حُكُومَةٌ بِقَدْرِ الشَّيْنِ وَالْأَلَمِ.
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے اس ابرو کے بارے میں پوچھا جسے عیب دار کر دیا جائے تو انہوں نے فرمایا: میں نے اس میں کچھ نہیں سنا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں عیب اور تکلیف کے اعتبار سے فیصلہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16331]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16332
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: حَلْقُ الرَّأْسِ لَهُ نَذْرٌ؟ فَقَالَ: لَمْ أَعْلَمْ قَالَ الرَّبِيعُ: النَّذْرُ وَالْقَدْرُ وَاحِدٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فِيهِ حُكُومَةٌ.
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ سر کے مونڈنے میں کچھ ہے؟ کہا: مجھے نہیں معلوم۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس میں قاضی کا فیصلہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16332]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3319. -- باب: ما جاء في الترقوة والضلع
-- باب: ہنسلی کی ہڈی اور پسلی کی دیت کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16333
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنْ أَسْلَمَ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَضَى فِي الضِّرْسِ بِجَمَلٍ، وَفِي التَّرْقُوَةِ بِجَمَلٍ، وَفِي الضِّلَعِ بِجَمَلٍ لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ، زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: فِي الْأَضْرَاسِ خَمْسٌ خَمْسٌ لِمَا جَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي السِّنِّ خَمْسٌ وَكَانَتِ الضِّرْسُ سِنًّا، وَأَنَا أَقُولُ بِقَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي التَّرْقُوَةِ وَالضِّلَعِ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يُخَالِفْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا عَلِمْتُهُ، فَلَمْ أَرَ أَنْ أَذْهَبَ إِلَى رَأْيِي فَأُخَالِفَهُ بِهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَإِلَى هَذَا ذَهَبَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِ الْجِرَاحِ: يُشْبِهُ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يَكُونَ مَا حُكِيَ عَنْ عُمَرَ فِيمَا وَصَفْتُ حُكُومَةً لَا تَوْقِيتَ عَقْلٍ، فَفِي كُلِّ عَظْمٍ كُسِرَ مِنْ إِنْسَانٍ غَيْرَ السِّنِّ حُكُومَةٌ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنْهَا أَرْشٌ مَعْلُومٌ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے داڑھ، ہنسلی کی ہڈی اور پسلی میں ایک اونٹ دیت کا فیصلہ فرمایا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ داڑھ میں پانچ اونٹ ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ”دانت میں پانچ اونٹ ہیں“ اور داڑھ بھی دانت ہے اور ہنسلی کی ہڈی اور پسلی میں میرا موقف سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والا ہی ہے کیونکہ کسی صحابی نے اس کی کوئی مخالفت نہیں کی اور میں بھی کوئی وجہ اختلاف نہیں پاتا، اور فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے جو داڑھ میں ایک اونٹ کا ذکر ہے، یہ شاید اس وجہ سے ہے کہ یہ حکومتی فیصلے پر ہے کہ اس میں کوئی مقررہ دیت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16333]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ داڑھ میں پانچ اونٹ ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ”دانت میں پانچ اونٹ ہیں“ اور داڑھ بھی دانت ہے اور ہنسلی کی ہڈی اور پسلی میں میرا موقف سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والا ہی ہے کیونکہ کسی صحابی نے اس کی کوئی مخالفت نہیں کی اور میں بھی کوئی وجہ اختلاف نہیں پاتا، اور فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے جو داڑھ میں ایک اونٹ کا ذکر ہے، یہ شاید اس وجہ سے ہے کہ یہ حکومتی فیصلے پر ہے کہ اس میں کوئی مقررہ دیت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16333]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3320. -- باب: ما جاء في كسر الذراع والساق
-- باب: بازو اور پنڈلی ٹوٹنے کی دیت کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16334
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ الْقُرَشِيِّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فِي الذِّرَاعِ إِذَا كُسِرَ مِائَتَا دِرْهَمٍ ⦗١٧٤⦘ وَرُوِيَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا كُسِرَتِ السَّاقُ أَوِ الذِّرَاعُ فَفِيهَا عِشْرُونَ دِينَارًا أَوْ حِقَّتَانِ، يَعْنِي إِذَا بَرِئَتْ عَلَى غَيْرِ عَثْمٍ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بازو جب توڑا جائے تو اس میں 200 درہم ہیں اور ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کرتا ہے کہ جب پنڈلی یا بازو توڑا جائے تو اس میں 20 دینار یا دو حقے ہیں، یعنی جب وہ بغیر ٹیڑھے پن کے ٹھیک ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16334]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16335
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا ابْنُ أَبِي غُنَيَّةََ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ الْمُحْتَفِزِ الْأَعْرَابِيِّ عَنِ الْكَاسِرِ، أَنَّهُ كُسِرَ سَاقُ رَجُلٍ، فَقَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِثَمَانٍ مِنَ الْإِبِلِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: اخْتِلَافُ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ قَضَى فِيهِ بحُكُومَةٍ بَلَغَتْ هَذَا الْمِقْدَارَ.
اسحاق بن محتفز دیہاتی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کی پنڈلی توڑ دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں آٹھ اونٹ دیت کا فیصلہ فرمایا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس میں روایات مختلف ہیں اور انہوں نے یہ فیصلہ اپنی رائے سے کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16335]
شیخ فرماتے ہیں کہ اس میں روایات مختلف ہیں اور انہوں نے یہ فیصلہ اپنی رائے سے کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16335]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16336
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَرَبِيعَةَ، وَابْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ كِتَابِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَكِتَابِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَيَقُولُونَ: لَمْ يَجْعَلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي كَسْرِ الْيَدِ فِي الْخَطَأِ إِلَّا جُعْلَ الْجَابِرِ، وَإِنْ هِيَ اسْتَوَتْ وَفِيهَا عَثْمٌ أَوْ شَيْءٌ أُقِيمَتْ قِيَمُهُ، ثُمَّ غَرِمَهَا الَّذِي كَسَرَهَا.
ابن شہاب رحمہ اللہ، ربیعہ رحمہ اللہ اور ابن ابی فروہ رحمہ اللہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی کتاب سے نقل فرماتے ہیں کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غلطی سے ہاتھ کے ٹوٹنے میں ہڈی جوڑنے والے کی اجرت کے سوا کچھ مقرر نہیں کیا۔“ اگر وہ سیدھا تو ہو جائے لیکن اس میں ٹیڑھا پن یا کوئی عیب رہ جائے تو اس کی قیمت لگائی جائے گی، پھر توڑنے والا اس کی چٹی ادا کرے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16336]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16337
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَا، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: كَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ يَقُولُونَ: كُلُّ عَظْمٍ كُسِرَ خَطَأٌ ثُمَّ جُبِرَ مُسْتَوِيًا غَيْرَ مَنْقُوصٍ وَلَا مَعِيبٍ، فَلَيْسَ فِي ذَلِكَ إِلَّا عَطَاءُ الْمُدَاوِي وَشِبْهُ ذَلِكَ، فَإِنْ جُبِرَ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ وَبِهِ عَيْبٌ أَوْ نَقْصٌ فَإِنَّهُ يُقَدَّرُ شَيْنُ ذَلِكَ وَعَيْبُهُ، يُقَيِّمُ ذَلِكَ أَهْلُ الْبَصَرِ وَالْعَقْلِ، ثُمَّ يُعْقَلُ عَلَى قَدْرِ مَا يَرَوْنَ، وَكَذَلِكَ قَالُوا: فِي الشَّجَّةِ الْمَلْطَاءِ وَفِي كُلِّ جُرْحٍ فِي الْجَسَدِ إِذَا بَرَأَ وَلَيْسَ بِهِ عَيْبٌ لَا يَرَوْنَ فِي ذَلِكَ إِلَّا عَطَاءَ الْمُدَاوِي وَشِبْهَ ذَلِكَ.
ابوزناد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے وقت کے کبار فقہاء کرام سے سنا کہ ہر وہ ہڈی جو غلطی سے ٹوٹ جائے تو اسے جوڑا جائے، اگر وہ سیدھی ہوجائے اور کوئی عیب نہ ہو تو مجرم پر صرف علاج کا خرچہ ہے۔ اگر جوڑنے کے بعد اس میں کوئی عیب یا نقص ہوجائے تو اس عیب کے مطابق اس پر دیت ہے، جو اہل عقل و بصیرت مقرر کریں گے۔ ایسے ہی ان کا اس زخم میں جو گہرا ہو اور جسم کے تمام زخموں کے بارے میں ہے کہ اگر وہ ٹھیک ہوجائیں اور کوئی عیب نہ ہو تو صرف علاج کے اخراجات اس کے ذمہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16337]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3321. -- باب: دية أهل الذمة
-- باب: ذمیوں (اسلامی ریاست کی پناہ میں رہنے والے غیر مسلموں) کی دیت کا بیان۔
حدیث نمبر: Q16338
فِي رِوَايَةِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ جَدِّهِمَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْكِتَابِ الَّذِي كَتَبَهُ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ: وَفِي النَّفْسِ الْمُؤْمِنَةِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ.
ابو اویس کی روایت میں، جو عبداللہ اور محمد، جو ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم کے بیٹے ہیں، سے، وہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس تحریر کے بارے میں ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے لکھوائی تھی کہ: ”اور مومن جان (کے قتل) میں سو اونٹ (دیت) ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: Q16338]
حدیث نمبر: 16338
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ ثَابِتٍ الْحَدَّادِ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَضَى فِي دِيَةِ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ بِأَرْبَعَةِ آلَافٍ، وَفِي دِيَةِ الْمَجُوسِيِّ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی اور عیسائی کی دیت کے بارے میں ۴۰۰۰ درہم اور مجوسی کے بارے میں ۸۰۰ درہم کا فیصلہ فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16338]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح