السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3335. -- باب: ما جاء في الكفارة في الجنين وغير ذلك
-- باب: جنین (پیٹ کے بچے) اور دیگر اموات میں کفارہ کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16426
أنبأني أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، صَاحَ بِامْرَأَةٍ فَأَسْقَطَتْ، فَأَعْتَقَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غُرَّةً إِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.
شہر بن حوشب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو بہت زور سے ڈانٹا تو اس عورت کا بچہ ساقط ہو گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا جرمانہ ادا کیا۔
اس کی سند منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16426]
اس کی سند منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16426]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3336. -- باب: ما جاء في تقدير الغرة عن بعض الفقهاء
-- باب: بعض فقہاء سے غرہ (جنین کی دیت) کی مقدار مقرر کرنے کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16427
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ رَبِيعَةَ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْغُرَّةَ، تُقَوَّمُ خَمْسِينَ دِينَارًا، أَوْ سِتَّمِائَةِ دِرْهَمٍ، وَدِيَةُ الْمَرْأَةِ خَمْسُمِائَةِ دِينَارٍ، أَوْ سِتَّةُ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَدِيَةُ جَنِينِهَا عُشْرُ دِيَتِهَا قَالَ مَالِكٌ: فَنَرَى أَنَّ جَنِينَ الْأَمَةِ عُشْرُ قِيمَةِ أُمِّهِ وَرُوِي عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ أَنَّهُ قَوَّمَ الْغُرَّةَ خَمْسِينَ دِينَارًا.
ربیعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ جرمانہ کا اندازہ 50 دینار یا 600 درہم ہے اور عورت کی دیت 500 دینار یا 6000 درہم ہے اور جنین کی دیت اس کی دیت کا عشر ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارا خیال یہ ہے کہ لونڈی کے جنین (کی دیت) اس کی ماں کی قیمت کا عشر ہے۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے منقطع سند کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے جرمانہ (غرہ) کا اندازہ 50 دینار لگایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16427]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے منقطع سند کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے جرمانہ (غرہ) کا اندازہ 50 دینار لگایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16427]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16428
أَنْبَأَنِيهِ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَوَّمَ الْغُرَّةَ خَمْسِينَ دِينَارًا.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے «غُرَّہ» کا اندازہ ۵۰ دینار لگایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16428]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3337. -- باب: جنين الأمة فيه عشر قيمة أمه، لا فرق بين أن يكون ذكرا أو أنثى
-- باب: لونڈی کے جنین کی دیت اس کی ماں کی قیمت کا دسواں حصہ ہے، اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ جنین مذکر ہو یا مونث۔
حدیث نمبر: 16429
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ الْحُرَّةِ بِغُرَّةٍ، وَلَمْ يُذْكَرْ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ عَنِ الْجَنِينِ أَذَكَرٌ هُوَ أَو أُنْثَى؟ وَكَانَ الْجَنِينُ هُوَ الْحَمْلَ، فَمَا كَانَ الْحَمْلُ وَاحِدًا فَسَوَاءٌ كَانَ ذَكَرًا أَوْ أُنْثَى، يَعْنِي فَهَكَذَا جَنِينُ الْأَمَةِ: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: أنبأ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، فَذَكَرَهُ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد عورت کے جنین کے بارے میں جرمانہ کا فیصلہ فرمایا اور ان سے منقول نہیں کہ انہوں نے پوچھا کہ وہ مذکر ہے یا مؤنث، اور جنین ہی حمل ہے، تو جب تک حمل ایک ہو، وہ مذکر ہو یا مؤنث، برابر ہے، تو اسی طرح لونڈی کے جنین کا حکم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الديات/حدیث: 16429]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ للشافعي»
الحكم على الحديث: صحيح