🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3408. -- باب: من قال: يحبس ثلاثة أيام
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک (مرتد کو) تین دن قید رکھا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16887
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلٌ مِنْ قِبَلِ أَبِي مُوسَى، فَسَأَلَهُ عَنِ النَّاسِ فَأَخْبَرَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ كَانَ فِيكُمْ مِنْ مُغَرِّبَةِ خَبَرٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، قَالَ: فَمَا فَعَلْتُمْ بِهِ؟ قَالَ: قَرَّبْنَاهُ فَضَرَبْنَا عُنُقَهُ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" فَهَلَّا حَبَسْتُمُوهُ ثَلَاثًا، وَأَطْعَمْتُمُوهُ كُلَّ يَوْمٍ رَغِيفًا، وَاسْتَتَبْتُمُوهُ، لَعَلَّهُ أَنْ يَتُوبَ أَوْ يُرَاجِعَ أَمْرَ اللهِ، اللهُمَّ إِنِّي لَمْ أَحْضُرْ وَلَمْ آمُرْ وَلَمْ أَرْضَ إِذْ بَلَغَنِي" قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْكِتَابِ: مَنْ قَالَ: لَا يُتَأَنَّى بِهِ زَعَمَ أَنَّ الْحَدِيثَ الَّذِي رُوِيَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوْ حَبَسْتُمُوهُ ثَلَاثًا، لَيْسَ بِثَابِتٍ؛ لِأَنَّهُ لَا يُعْلَمُ مُتَّصِلًا، وَإِنْ كَانَ ثَابِتًا كَانَ لَمْ يُجْعَلْ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ قَبْلَ ثَلَاثٍ شَيْئًا قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ رُوِيَ فِي التَّأَنِّي بِهِ حَدِيثٌ آخَرُ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِإِسْنَادٍ مُتَّصِلٍ.
محمد بن عبد القاری کہتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے اس سے کچھ لوگوں کے بارے میں سوال کیا، پھر فرمایا: کیا تم میں سے کسی کے پاس کوئی عجیب خبر ہے؟ اس نے کہا: ہاں، ایک شخص نے اسلام لانے کے بعد کفر کر لیا۔ پوچھا: پھر تم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ اس نے کہا: ہم نے اسے قتل کر دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے اسے تین دن قید کیوں نہ کیا، اسے کھلاتے پلاتے اور اس پر اسلام پیش کرتے شاید وہ اللہ کے امر کی طرف لوٹ آتا۔ اے اللہ! نہ میں حاضر تھا، نہ میں نے اس کا حکم دیا اور نہ میں اس پر راضی ہوں۔
امام شافعی رحمہ اللہ کتاب میں فرماتے ہیں: جو یہ کہتا ہے کہ اسے مہلت نہ دی جائے، وہ کہتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث: ”تم نے اسے تین دن قید کیوں نہ کیا“ ثابت نہیں، کیونکہ اس کا متصل ہونا معلوم نہیں، اور اگر ثابت بھی ہو تو انہوں نے تین دن سے پہلے قتل کرنے والے پر کوئی چیز لازم نہیں کی۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مہلت دینے کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک اور حدیث متصل سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16887]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16888
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلْنَا عَلَى تُسْتَرَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْفَتْحِ، وَفِي قُدُومِهِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ عُمَرُ:" يَا أَنَسُ مَا فَعَلَ الرَّهْطُ السِّتَّةُ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ⦗٣٦٠⦘ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ فَلَحِقُوا بِالْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ: فَأَخَذْتُ بِهِ فِي حَدِيثٍ آخَرَ لِيَشْغَلَهُ عَنْهُمْ، قَالَ: مَا فَعَلَ الرَّهْطُ السِّتَّةُ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ فَلَحِقُوا بِالْمُشْرِكِينَ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ؟ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قُتِلُوا فِي الْمَعْرَكَةِ، قَالَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَهَلْ كَانَ سَبِيلُهُمْ إِلَّا الْقَتْلَ؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنْتُ أَعْرِضُ عَلَيْهِمْ أَنْ يَدْخُلُوا فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَبَوَا اسْتَوْدَعْتُهُمُ السِّجْنَ" وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ أَيْضًا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم تستر پر اترے۔۔۔ پھر انہوں نے فتح کے بارے میں لمبی حدیث ذکر فرمائی اور بتایا کہ ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے دریافت فرمایا: اے انس! ان بکر بن وائل کے چھ لوگوں کا کیا بنا جو مرتد ہوئے تھے؟ وہ کہتے ہیں: میں نے انہیں دوسری بات میں مشغول کرنا چاہا لیکن انہوں نے پھر یہی سوال کر لیا تو میں نے کہا: وہ معرکہ میں مارے گئے۔ انہوں نے کہا: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! کیا ان کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، میں ان پر اسلام پیش کرتا کہ وہ اسے قبول کر لیں، اگر وہ انکار کرتے تو میں انہیں قید میں ڈال دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16888]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3409. -- باب: من قال: يستتاب ثلاث مرات، فإن عاد قتل
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک (مرتد سے) تین مرتبہ توبہ کروائی جائے گی، پس اگر وہ دوبارہ مرتد ہو جائے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16889
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" يُسْتَتَابُ الْمُرْتَدُّ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا} [النساء: ١٣٧] .
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مرتد کو تین مرتبہ توبہ کا موقع دیا جائے، پھر یہ آیت پڑھی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا﴾ [سورة النساء: 137] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16889]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16890
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" يُسْتَتَابُ الْمُرْتَدُّ ثَلَاثًا، فَإِنْ عَادَ قُتِلَ.
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مرتد کو تین مرتبہ توبہ کا موقع دیا جائے، اگر وہ پھر (کفر کی طرف) لوٹے تو اسے قتل کر دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16890]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16891
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ:" يُسْتَتَابُ الْمُرْتَدُّ ثَلَاثًا.
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مرتد کو تین مرتبہ توبہ کا موقع دیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16891]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16892
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّهُمْ" كَانُوا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْبَحْرِ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ فَرَّ إِلَى الْعَدُوِّ فَأَقَالَهُ الْإِسْلَامَ فَأَسْلَمَ، ثُمَّ فَرَّ الثَّانِيَةَ فَأُتِيَ بِهِ فَأَقَالَهُ الْإِسْلَامَ فَأَسْلَمَ، ثُمَّ فَرَّ الثَّالِثَةَ فَأُتِيَ بِهِ فَنَزَعَ بِهَذِهِ الْآيَةِ {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَمْ يَكُنِ اللهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا} [النساء: ١٣٧] ، فَضَرَبَ عُنُقَهُ فِي إِسْنَادِ هَذِهِ الْآثَارِ ضَعْفٌ، وَالْآيَةُ وَارِدَةٌ فِيمَنْ ثَبَتَ عَلَى الْكُفْرِ وَقَدْ رُوِّينَا بِإِسْنَادٍ مُرْسَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَتَابَ نَبْهَانَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَلْحَقُ ⦗٣٦١⦘ بِالْمُشْرِكِينَ، وَظَاهِرُ الْأَخْبَارِ الصَّحِيحَةِ فِيمَا يُحْقَنُ بِهِ الدَّمُ، يَشْهَدُ لِهَذَا الْمُرْسَلُ وَيُوَافِقُهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابوعلی ہمدانی کہتے ہیں کہ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جو مرتد ہو گیا تھا۔ اسے اسلام کی دعوت دی، وہ مسلمان ہو گیا، لیکن پھر مرتد ہو گیا۔ جب تین بار ایسا ہوا تو اس آیت سے دلیل لیتے ہوئے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا﴾ [سورة النساء: 137] اسے قتل کر دیا۔
ان آثار کی سند میں ضعف ہے، اور یہ آیت اس شخص کے بارے میں ہے جو کفر پر قائم رہے۔ اور ہم نے مرسل سند سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبہان سے چار مرتبہ توبہ کروائی، ہر بار وہ مشرکین سے جا ملتا تھا، اور خون کو محفوظ کرنے والی چیزوں کے بارے میں صحیح احادیث کا ظاہر اس مرسل کی تائید اور موافقت کرتا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16892]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3410. -- باب: مال المرتد إذا مات أو قتل على الردة
-- باب: مرتد کے مال کا بیان جب وہ حالتِ ارتداد میں طبعی موت مر جائے یا قتل کر دیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16893
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا عُبَيْدٌ هُوَ ابْنُ جَنِّادٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقِيَنِي عَمِّي، وَقَدِ اعْتَقَدَ رَايَةً، فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ، وَآخُذَ مَالَهُ".
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے چچا ملے، انہوں نے جھنڈا باندھ رکھا تھا، میں نے پوچھا: ”کہاں جا رہے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے والد کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے کہ میں اسے قتل کر دوں اور اس کا مال قبضے میں لے لوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16893]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16894
أَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو سَعِيدٍ الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَسْتِيُّ، قَدِمَ عَلَيْنَا حَاجًّا سَنَةَ أَرْبَعِمِائَةٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ الْبَكْرِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مَنَازِلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا خَالِدُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَعَثَ أَبَاهُ، جَدَّ مُعَاوِيَةَ، إِلَى رَجُلٍ عَرَّسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ، فَأَمَرَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ وَخَمَّسَ مَالَهُ" قَالَ أَصْحَابُنَا: ضَرْبُ الرَّقَبَةِ وَتَخْمِيسُ الْمَالِ لَا يَكُونُ إِلَّا عَلَى الْمُرْتَدِّ، فَكَأَنَّهُ اسْتَحَلَّهُ مَعَ عِلْمِهِ بِتَحْرِيمِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُمَا عَنْ مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ، فَقَالَا: لِبَيْتِ الْمَالِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِيَانِ أَنَّهُ فَيْءٌ.
معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد (یعنی معاویہ کے دادا) کو ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا جس نے اپنے والد کی بیوی سے شب زفاف منائی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا، چنانچہ انہوں نے اس کی گردن مار دی اور اس کے مال کا خمس نکالا۔
ہمارے اصحاب کہتے ہیں: گردن مارنا اور مال کا خمس نکالنا صرف مرتد کے ساتھ ہوتا ہے، گویا اس نے اس کی حرمت جانتے ہوئے اسے حلال سمجھا، واللہ اعلم۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے مرتد کی میراث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: بیت المال کے لیے ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کی مراد یہ ہے کہ وہ فے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16894]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3411. -- باب: ما جاء في سبي ذرية المرتدين
-- باب: مرتدین کی اولاد کو قیدی بنانے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16895
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى بَنِي نَاجِيَةَ، قَالَ: فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ فَوَجَدْنَاهُمْ عَلَى ثَلَاثِ فِرَقٍ، قَالَ: فَقَالَ أَمِيرُنَا لِفِرْقَةٍ مِنْهُمْ: مَا أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ ⦗٣٦٢⦘ قَوْمٌ كُنَّا نَصَارَى فَأَسْلَمْنَا فَثَبَتْنَا عَلَى إِسْلَامِنَا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِلثَّانِيَةِ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ قَوْمٌ كُنَّا نَصَارَى، يَعْنِي فَثَبَتْنَا عَلَى نَصْرَانِيَّتِنَا، قَالَ لِلثَّالِثَةِ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ قَوْمٌ كُنَّا نَصَارَى فَأَسْلَمْنَا فَرَجَعْنَا فَلَمْ نَرَ دِينًا أَفْضَلَ مِنْ دِينِنَا فَتَنَصَّرْنَا، فَقَالَ لَهُمْ: أَسْلِمُوا، فَأَبَوْا، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: إِذَا مَسَحْتُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَشُدُّوا عَلَيْهِمْ، فَفَعَلُوا فَقَتَلُوا الْمُقَاتِلَةَ، وَسَبَوَا الذَّرَارِيَّ، فَجِيءَ بِالذَّرَارِيِّ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَجَاءَ مَسْقَلَةُ بْنُ هُبَيْرَةَ فَاشْتَرَاهُمْ بِمِائَتَيْ أَلْفٍ، فَجَاءَ بِمِائَةِ أَلْفٍ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ، فَانْطَلَقَ مَسْقَلَةُ بِدَرَاهِمِهِ، وَعَمَدَ مَسْقَلَةُ إِلَيْهِمْ فَأَعْتَقَهُمْ، وَلَحِقَ بِمُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقِيلَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَلَا تَأْخُذُ الذُّرِّيَّةَ؟ قَالَ: لَا، فَلَمْ يَعْرِضْ لَهُمْ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ قَاتَلَ مَنْ لَمْ يَزَلْ عَلَى النَّصْرَانِيَّةِ وَمَنِ ارْتَدَّ، فَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَبَى مِنْ بَنِي نَاجِيَةَ مَنْ لَمْ يَكُنِ ارْتَدَّ، وَقَدْ كَانَتِ الرِّدَّةُ فِي عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَمَّسَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، يَعْنِي الذَّرَارِيَّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابو طفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس لشکر میں شامل تھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بنو ناجیہ کی طرف بھیجا تھا۔ وہ کہتے ہیں: ہم ان کے پاس پہنچے تو ہم نے ان کو تین گروہوں میں پایا، تو ہمارے امیر نے ایک گروہ سے پوچھا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: ہم عیسائی تھے پھر ہم مسلمان ہو گئے اور اسی پر ثابت قدم ہیں۔ دوسرے گروہ سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: ہم عیسائی تھے اور ابھی تک ہیں۔ تیسرے گروہ سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: ہم عیسائی تھے، پھر مسلمان ہو گئے اور پھر دوبارہ عیسائیت، جو کہ ہمارا افضل دین ہے، کی طرف لوٹ آئے۔ تو ان کو کہا گیا کہ مسلمان ہو جاؤ۔ انہوں نے انکار کیا تو امیر نے اپنی فوج سے کہا: جب میں تین مرتبہ اپنے سر کو چھو لوں تو تم ان پر حملہ کر دینا، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ان کو قتل کر دیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا۔ وہ انہیں لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے تو مسقلہ بن ہبیرہ آئے اور ان سب کو دو لاکھ درہم کے بدلے خرید لیا اور وہ ایک لاکھ لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لینے سے انکار کر دیا، تو مسقلہ اپنے درہم لے کر چلا گیا اور اس نے ان کو آزاد کر دیا اور خود معاویہ رضی اللہ عنہ سے جا ملا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: کیا آپ ان کی اولاد کو نہیں پکڑیں گے؟ فرمایا: نہیں، پھر وہ ان کے درپے نہ ہوئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو عیسائی تھے اور جو مرتد تھے ان سے قتال کیا اور ممکن ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے بنو ناجیہ کی اس اولاد کو بھی قیدی بنایا ہو جو مرتد نہیں تھی۔ ارتداد تو عہدِ صدیقی میں تھا لیکن ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے ان سے کوئی چیز لی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: 16895]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3412. -- باب: المكره على الردة
-- باب: اس شخص کا بیان جسے ارتداد پر مجبور کیا گیا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q16896
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {مَنْ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ، وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا} [النحل: 106] الْآيَةَ.
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿مَنْ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ، وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا﴾ ”جو شخص اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے، سوائے اس کے جسے مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو، لیکن جو شخص کھلے دل سے کفر اختیار کرے۔“ (الآیۃ) [سورة النحل: 106] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المرتد/حدیث: Q16896]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں