السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3489. -- باب: ما جاء في تحريم الخمر
-- باب: شراب کی حرمت کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17334
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ لَهُ عَمٌّ يَبِيعُ الْخَمْرَ وَكَانَ يَتَصَدَّقُ، فَنَهَيْتُهُ عَنْهَا فَلَمْ يَنْتَهِ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْخَمْرِ وَثَمَنِهَا، فَقَالَ: هِيَ حَرَامٌ، وَثَمَنُهَا حَرَامٌ، ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّهُ لَوْ كَانَ كِتَابٌ بَعْدَ كِتَابِكُمْ، وَنَبِيٌّ بَعْدَ نَبِيِّكُمْ لَأَنْزَلَ فِيكُمْ كَمَا أَنْزَلَ في مِنْ قَبْلِكُمْ، وَلَا أَخَّرَ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَلَعَمْرِي لَهُوَ أَشَدُّ عَلَيْكُمْ قَالَ ثَابِتٌ: ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ، فَقَالَ: سَأُخْبِرُكَ عَنِ الْخَمْرِ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَبَيْنَا هُوَ مُحْتَبٍ حَلَّ حَبْوَتَهُ ثُمَّ قَالَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ هَذِهِ الْخَمْرِ شَيْءٌ فَلْيَأْتِ بِهَا" فَجَعَلُوا يَأْتُونَهُ فَيَقُولُ أَحَدُهُمْ: عِنْدِي رَاوِيَةٌ، وَيَقُولُ الْآخَرُ: عِنْدِي زِقٌّ، أَوْ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْمَعُوا بِبَقِيعِ كَذَا وكَذَا، ثُمَّ آذِنُونِي" فَفَعَلُوا ثُمَّ أَتَوْهُ، فَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ فَمَشَيْتُ عَنْ يَمِينِهِ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيَّ، فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخَّرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَنِي عَنْ شِمَالِهِ، وَجَعَلَ أَبَا ⦗٤٩٩⦘ بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَكَانِي، ثُمَّ لَحِقَنَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخَّرَنِي وَجَعَلَهُ عَنْ يَسَارِهِ، فَمَشَى بَيْنَهُمَا حَتَّى إِذَا وَقَفَ عَلَى الْخَمْرِ فَقَالَ لِلنَّاسِ:" أَتَعْرِفُونَ هَذِهِ؟"، قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ الْخَمْرُ، فَقَالَ:" صَدَقْتُمْ"، قَالَ:" فَإِنَّ اللهَ لَعَنَ الْخَمْرَ، وَعَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَشَارِبَهَا، وَسَاقِيَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ، وَبَائِعَهَا، وَمُشْتَرِيَهَا، وَآكِلَ ثَمَنِهَا"، ثُمَّ دَعَا بِسِكِّينٍ فَقَالَ:" اشْخِدُوهَا" فَفَعَلُوا، ثُمَّ أَخَذَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرِقُ بِهَا الزِّقَاقَ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّ فِي هَذِهِ الزِّقَاقِ مَنْفَعَةً، فَقَالَ:" أَجَلْ، وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَفْعَلُ ذَلِكَ غَضَبًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِمَا فِيهَا مِنْ سَخَطِهِ"، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا أَكْفِيكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" لَا" قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ فِي قِصَّةِ الْحَدِيثِ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، أَنَّ أَبَا طُعْمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ بِهَذَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ثابت بن یزید خولانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان کے ایک چچا شراب بیچتے تھے اور وہ اس (کی قیمت) سے صدقہ کیا کرتے تھے۔ میں ان کو منع کرتا تھا مگر وہ اس سے باز نہیں آتے تھے۔ میں مدینے کی طرف گیا، وہاں میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ملا اور میں نے آپ رضی اللہ عنہما سے شراب اور اس کی قیمت کے متعلق پوچھا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اے امتِ محمدیہ کے معاشرے کے لوگو! اگر تمہاری کتاب کے بعد کوئی اور کتاب ہوتی اور تمہارے نبی کے بعد کوئی اور نبی ہوتا تو البتہ وہ تم میں اسی طرح نازل ہوتا جس طرح تم سے پہلے والوں میں نازل ہوئے تھے، اور تمہارے معاملے کو قیامت کے دن تک مؤخر نہیں کیا جائے گا، البتہ میری عمر کی قسم! یہ بات تم پر زیادہ سخت ہے۔
حضرت ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملا اور میں نے ان سے شراب کی قیمت کے بارے میں پوچھا، تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عنقریب میں تمہیں شراب کے متعلق بتاؤں گا۔ میں مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اِحْتِبَاء» ”پیٹھ اور پنڈلیوں کو کپڑے سے ملا کر باندھنا“ کیا ہوا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھول دیا اور فرمایا: ”جس کے پاس بھی شراب میں سے کوئی چیز ہے وہ اسے لے آئے۔“ لوگ شراب لے آئے، ان میں سے ایک نے کہا: میرے پاس «رَاوِيَةٌ» ”بڑا مشکیزہ“ ہے، دوسرے نے کہا: میرے پاس «زِقٌّ» ”چمڑے کا تھیلا“ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں بقیع میں جمع کر دو اور پھر مجھے اطلاع کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دائیں طرف کھڑا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دائیں طرف کر لیا اور مجھے بائیں طرف۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی اپنے بائیں طرف کر لیا۔ پھر ان دونوں کے درمیان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم شراب کے پاس آئے اور پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، یہ شراب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سچ کہتے ہو، اللہ تعالیٰ نے شراب پر، اسے نچوڑنے والے پر، جس کے لیے نچوڑی جائے اس پر، اس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، اٹھانے والے پر، جس کی طرف اٹھا کر لے جائی جائے اس پر، بیچنے والے پر، خریدنے والے پر اور اس کی قیمت کھانے والے پر، ان تمام پر لعنت فرمائی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھری منگوائی اور فرمایا: ”اسے تیز کرو۔“ انہوں نے ویسے ہی کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان شراب کے مشکیزوں کو پھاڑنے لگے تو لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو عام استعمال کی اشیاء (برتن) ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! لیکن میں یہ اس لیے کر رہا ہوں کہ اس میں اللہ کی ناراضگی ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کی جگہ یہ کام کر دیتا ہوں (آپ کے لیے کافی ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17334]
حضرت ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملا اور میں نے ان سے شراب کی قیمت کے بارے میں پوچھا، تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عنقریب میں تمہیں شراب کے متعلق بتاؤں گا۔ میں مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اِحْتِبَاء» ”پیٹھ اور پنڈلیوں کو کپڑے سے ملا کر باندھنا“ کیا ہوا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھول دیا اور فرمایا: ”جس کے پاس بھی شراب میں سے کوئی چیز ہے وہ اسے لے آئے۔“ لوگ شراب لے آئے، ان میں سے ایک نے کہا: میرے پاس «رَاوِيَةٌ» ”بڑا مشکیزہ“ ہے، دوسرے نے کہا: میرے پاس «زِقٌّ» ”چمڑے کا تھیلا“ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں بقیع میں جمع کر دو اور پھر مجھے اطلاع کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دائیں طرف کھڑا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دائیں طرف کر لیا اور مجھے بائیں طرف۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی اپنے بائیں طرف کر لیا۔ پھر ان دونوں کے درمیان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم شراب کے پاس آئے اور پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، یہ شراب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سچ کہتے ہو، اللہ تعالیٰ نے شراب پر، اسے نچوڑنے والے پر، جس کے لیے نچوڑی جائے اس پر، اس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، اٹھانے والے پر، جس کی طرف اٹھا کر لے جائی جائے اس پر، بیچنے والے پر، خریدنے والے پر اور اس کی قیمت کھانے والے پر، ان تمام پر لعنت فرمائی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھری منگوائی اور فرمایا: ”اسے تیز کرو۔“ انہوں نے ویسے ہی کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان شراب کے مشکیزوں کو پھاڑنے لگے تو لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو عام استعمال کی اشیاء (برتن) ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! لیکن میں یہ اس لیے کر رہا ہوں کہ اس میں اللہ کی ناراضگی ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کی جگہ یہ کام کر دیتا ہوں (آپ کے لیے کافی ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17334]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17335
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ أَبِي طُعْمَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لُعِنَتِ الْخَمْرُ، وَشَارِبُهَا وَسَاقِيهَا، وَعَاصِرُهَا، وَمُعْتَصِرُهَا، وَحَامِلُهَا، وَالْمَحْمُولَةُ إِلَيْهِ، وَمُبْتَاعُهَا، وَآكِلُ ثَمَنِهَا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شراب پر، پینے والے پر، پلانے والے پر، اس کے نچوڑنے والے پر، جس کے لیے نچوڑا جا رہا ہے، اٹھانے والے پر، جس کے لیے اٹھایا جا رہا ہے، جو اس کو خرید رہا ہے اور شراب کی قیمت کھانے والے پر لعنت کی گئی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17335]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 17336
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا حُرِمَهَا فِي الْآخِرَةِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں شراب کو پیا، پھر وہ اس سے توبہ نہیں کرتا تو آخرت میں اس کے لیے شراب حرام ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17336]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17337
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ: فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ التَّوْبَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حضرت یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اس حدیث کو مالک رحمہ اللہ پر پڑھا تو انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا مگر توبہ کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17337]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17338
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، إِمْلَاءً، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قِرَاءَةً، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَرَكَ ⦗٥٠٠⦘ الصَّلَاةَ سَكِرًا مَرَّةً وَاحِدَةً فَكَأَنَّمَا كَانَتْ لَهُ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا فَسُلِبَهَا، وَمَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ سَكِرًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ"، قِيلَ: وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ:" عُصَارَةُ أَهْلِ جَهَنَّمَ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نشے کی وجہ سے ایک مرتبہ نماز چھوڑ دی تو گویا دنیا اور جو کچھ اس پر ہے سب اس کا تھا اور اس سے چھین لیا گیا اور جس نے چار مرتبہ نشے کی حالت میں نماز چھوڑی، اس کے لیے اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس کو پیپ پلائے۔“ کہا گیا: «طِينَةُ الْخَبَالِ» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جہنم والوں کی پیپ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17338]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17339
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ، فَإِنَّهَا أُمُّ الْخَبَائِثِ، إِنَّهُ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ خَلَا قَبْلَكُمْ يَتَعَبَّدُ وَيَعْتَزِلُ النَّاسَ، فَعَلِقَتْهُ امْرَأَةٌ غَوِيَّةٌ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ جَارِيَتَهَا فَقَالَتْ: إِنَّا نَدْعُوكَ لِشَهَادَةٍ، فَدَخَلَ مَعَهَا فَطَفِقَتْ كُلَّمَا دَخَلَ بَابًا أَغْلَقَتْهُ دُونَهُ، حَتَّى أَفْضَى إِلَى امْرَأَةٍ وَضِيئَةٍ عِنْدَهَا غُلَامٌ وَبَاطِيَةُ خَمْرٍ، فَقَالَتْ: إِنِّي وَاللهِ مَا دَعَوْتُكَ لِشَهَادَةٍ، وَلَكِنْ دَعَوْتُكَ لِتَقَعَ عَلَيَّ، أَوْ تَقْتُلَ هَذَا الْغُلَامَ، أَوْ تَشْرَبَ الْخَمْرَ، فَسَقَتْهُ كَأْسًا، فَقَالَ: زِيدُونِي، فَلَمْ يَرُمْ حَتَّى وَقَعَ عَلَيْهَا وَقَتَلَ النَّفْسَ، فَاجْتَنِبُوا الْخَمْرَ، فَإِنَّهَا لَا تَجْتَمِعُ هِيَ وَالْإِيمَانُ أَبَدًا إِلَّا أَوْشَكَ أَحَدُهُمَا أَنْ يُخْرِجَ صَاحِبَهُ".
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم شراب سے بچو، یہ شراب خبیث چیزوں کی ماں ہے۔ تم سے پہلے ایک آدمی عبادت کرتا تھا اور لوگوں سے الگ تھلگ رہتا تھا، اسے ایک بدکار عورت نے پسند کر لیا اور اس کی طرف اپنی لونڈی کو بھیجا کہ ہم آپ کو شہادت (گواہی) کے لیے بلا رہے ہیں۔ وہ آ گیا تو جب وہ دروازوں میں داخل ہوا تو وہ تمام دروازے بند کرتی گئی اور اس نے کہا: میں نے تمہیں شہادت کے لیے نہیں بلایا بلکہ اس لیے بلایا ہے کہ ان تین کاموں میں سے ایک کام کر لو؛ یا میرے ساتھ زنا یا اس بچے کو قتل یا شراب پی لو۔ تو اس نے شراب پی لی اور جب بہت زیادہ پی لی تو زنا بھی کر بیٹھا اور بچے کو بھی قتل کر دیا؛ لہٰذا شراب سے بچو کیونکہ ایمان اور شراب اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17339]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17340
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِيَّاكُمْ وَالْخَمْرَ، فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ، أُتِيَ رَجُلٌ فَقِيلَ لَهُ: إِمَّا أَنْ تَخْرِقَ هَذَا الْكِتَابَ، وَإِمَّا أَنْ تَقْتُلَ هَذَا الصَّبِيَّ، وَإِمَّا أَنْ تَقَعَ عَلَى هَذِهِ الْمَرْأَةِ، وَإِمَّا أَنْ تَشْرَبَ هَذَا الْكَاسَ، وَإِمَّا أَنْ تَسْجُدَ لِلصَّلِيبِ، فَلَمْ يَرَ فِيهَا شَيْئًا أَهْوَنَ مِنْ شُرْبِ الْكَاسِ، فَلَمَّا شَرِبَهَا سَجَدَ لِلصَّلِيبِ، وَقَتَلَ النَّفْسَ، وَوَقَعَ عَلَى الْمَرْأَةِ، وَخَرَقَ الْكِتَابَ".
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شراب سے بچو کیونکہ یہ ہر برائی کی چابی ہے۔ ایک شخص لایا گیا، اسے کہا گیا: یا تو یہ قرآن پھاڑ دے یا شراب پی لے یا اس بچے کو قتل کر دے یا صلیب کو سجدہ کر، تو وہ ان میں شراب کو سب سے ہلکا سمجھتا ہے، شراب پی لیتا ہے تو زنا بھی، بچے کا قتل بھی، صلیب کو سجدہ بھی اور قرآن کو بھی پھاڑ دیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17340]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3490. -- باب: التشديد على مدمن الخمر
-- باب: شراب کے عادی شخص پر سخت وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 17341
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ مِنْهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ حرام ہے، اور جو دنیا میں شراب پیتا ہو اور اس کی عادت کی لت میں ہی دنیا سے چلا جائے تو یہ آخرت میں اسے نہیں ملے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17341]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17342
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا ⦗٥٠١⦘ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: الْعَاقُّ وَالِدَيْهِ، وَمُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَالْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى".
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگوں کی طرف اللہ قیامت کے دن نظرِ رحمت سے نہیں دیکھیں گے: والدین کا نافرمان، شراب کا عادی اور اپنے دیے پر احسان جتلانے والا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17342]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17343
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ، وَلَا عَاقٌّ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ".
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان جتلانے والا، والدین کا نافرمان اور شراب کا عادی جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17343]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف