السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3544. -- باب: الرخصة في الإقامة بدار الشرك لمن لا يخاف الفتنة
-- باب: اس شخص کے لیے دارالشرک میں قیام کی اجازت کے بیان میں جسے اپنے دین کے حوالے سے فتنے کا کوئی خوف نہ ہو۔
حدیث نمبر: 17777
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: زُرْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْهِجْرَةِ، قَالَتْ: لَا هِجْرَةَ الْيَوْمَ إِنَّمَا كَانَتِ الْهِجْرَةُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَكَانَ الْمُؤْمِنُونَ يَفِرُّونَ بِدِينِهِمْ ⦗٣٠⦘ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنْ يُفْتَنُوا فَقَدْ أَفْشَى اللهُ الْإِسْلَامَ، فَحَيْثُ مَا شَاءَ رَجُلٌ عَبَدَ رَبَّهُ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ وَابْنِ جُرَيْجٍ. وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَعْنَى هَذَا، وَكُلُّ ذَلِكَ يَرْجِعُ إِلَى انْقِطَاعِ الْهِجْرَةِ وُجُوبًا عَنْ أَهْلِ مَكَّةَ وَغَيْرِهَا مِنَ الْبِلَادِ بَعْدَ مَا صَارَتْ دَارَ أَمْنٍ وَإِسْلَامٍ، فَأَمَّا دَارُ حَرْبٍ أَسْلَمَ فِيهَا مَنْ يَخَافُ الْفِتْنَةَ عَلَى دِينِهِ وَلَهُ مَا يُبَلِّغُهُ إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ فَعَلَيْهِ أَنْ يُهَاجِرَ.
سیدنا عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیر کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی تو انہوں نے ان سے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: آج کوئی ہجرت نہیں، ہجرت تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف کی جاتی تھی۔ جب مؤمنین کو ان کے دین کے حوالے سے فتنے میں ڈالا جاتا تھا تو وہ اپنے دین کو بچانے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے۔ اب تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو اتنا پھیلا دیا ہے کہ آدمی جہاں چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے۔ اب تو ”جہاد اور نیت باقی ہے“۔
یہ تمام احادیث اہل مکہ سے ہجرت کے انقطاع کے وجوب کی طرف لوٹتی ہیں یا ان کے علاوہ ایسے شہر کی طرف لوٹتی ہیں جو دار الاسلام یا دار الامن بن گئے ہیں اور اگر کوئی آدمی دار الحرب میں ہے اور اس کو وہاں پر اسلام پر چلنا مشکل ہے تو اس کے لیے ہجرت باقی ہے کہ وہ وہاں سے ہجرت کر کے دار الاسلام میں آجائے اور اپنے دین کو بچا لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17777]
یہ تمام احادیث اہل مکہ سے ہجرت کے انقطاع کے وجوب کی طرف لوٹتی ہیں یا ان کے علاوہ ایسے شہر کی طرف لوٹتی ہیں جو دار الاسلام یا دار الامن بن گئے ہیں اور اگر کوئی آدمی دار الحرب میں ہے اور اس کو وہاں پر اسلام پر چلنا مشکل ہے تو اس کے لیے ہجرت باقی ہے کہ وہ وہاں سے ہجرت کر کے دار الاسلام میں آجائے اور اپنے دین کو بچا لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17777]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٣٠٩٠»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17778
وَفِي مِثْلِ ذَلِكَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أنبأ عِيسَى، عَنْ حَرِيزٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ، وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا".
ابو ہند سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جب تک توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوگا اس وقت تک ہجرت کا دروازہ بھی بند نہیں ہوگا اور توبہ کا دروازہ اس وقت بند ہوگا جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17778]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17779
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ قَاضِي دِمَشْقَ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّعْدِيِّ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَسَلٍ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا نَزَلُوا قَالُوا: احْفَظْ لَنَا رِكَابَنَا حَتَّى نَقْضِيَ حَاجَتَنَا ثُمَّ تَدْخُلَ. وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقَضَى لَهُمْ حَاجَتَهُمْ، ثُمَّ قَالُوا لَهُ: ادْخُلْ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" حَاجَتُكَ؟". قَالَ: حَاجَتِي أَنْ تُخْبِرَنِي أَنْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ؟ قَالَ:" حَاجَتُكَ مِنْ خَيْرِ حَوَائِجِهِمْ، لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ".
سیدنا عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ (جو مالک بن حسل قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں) فرماتے ہیں کہ میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ جب وہ اپنی سواریوں سے اترے تو انہوں نے کہا کہ آپ سواریوں کی حفاظت کریں۔ جب ہم اپنی حاجت پوری کریں گے تو تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے جانا اور اپنی ضرورت پوری کر لینا، اور میں سب سے چھوٹا تھا۔ جب وہ اپنی حاجت پوری کر کے آ گئے تو انہوں نے مجھے کہا کہ اب تم چلے جاؤ۔ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری کیا حاجت ہے؟“ میں نے کہا: میری حاجت اور سوال یہ ہے کہ آپ مجھے ہجرت کے متعلق بتائیے، کیا ہجرت منقطع ہو گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری حاجت ان کی حاجتوں میں سب سے بہتر ہے، جب تک دشمن سے قتال کیا جائے گا ہجرت منقطع نہیں ہوگی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17779]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
3545. -- باب: من كره أن يموت بالأرض التي هاجر منها
-- باب: اس شخص کے بیان میں جس نے اس سرزمين پر مرنا ناپسند کیا جہاں سے اس نے ہجرت کی تھی۔
حدیث نمبر: 17780
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا ابْنُ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ:" لَا". قُلْتُ: فَالشَّطْرِ؟. قَالَ:" لَا". قُلْتُ فَالثُّلُثِ؟. قَالَ:" الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ إِنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ ⦗٣١⦘ النَّاسَ بِأَيْدِيهِمْ، وَإِنَّكَ مَهْمَا أَنْفَقْتَ مِنْ نَفَقَةٍ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ، وَلَعَلَّ اللهَ أَنْ يَرْفَعَكَ فَيَنْتَفِعَ بِكَ أُنَاسٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ"..
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے میرے پاس آئے اور میں اس بات کو ناپسند کرتا تھا کہ مجھے اسی زمین میں موت آئے جہاں سے میں نے ہجرت کی ہے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں سارے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: آدھے مال کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: ایک تہائی مال کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک تہائی (کی وصیت کر دو)، اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے وارثوں کو مال داری کی حالت میں چھوڑ جاؤ، یہ بہتر ہے اس سے کہ تم ان کو فقیری کی حالت میں چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور آپ جب کبھی بھی اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کریں گے تو وہ آپ کے حق میں صدقہ بن جائے گا حتیٰ کہ وہ نوالہ جو تم اپنی بیوی کے منہ کی طرف اٹھاتے ہو (اس پر بھی اجر ملتا ہے) اور شاید کہ رفعت عطا فرمائے اور تیری وجہ سے بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچائے اور دوسروں (یعنی کافروں، مشرکوں) کو نقصان۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17780]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17781
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ بِمَكَّةَ، وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا، فَقَالَ: يَرْحَمُكَ اللهُ ابْنَ عَفْرَاءَ" ثُمَّ ذَكَرَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ سُفْيَانَ.
مذکورہ حدیث کو اسی سند اور اسی معنیٰ کے ساتھ بیان کیا سوائے ان الفاظ کی زیادتی کے ساتھ کہ میں مکہ میں مریض تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور وہ ناپسند کرتے تھے کہ ان کی وفات اسی زمین پر ہو جس سے انہوں نے ہجرت کی ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن عفراء! اللہ تجھ پر رحم کرے۔“ پھر پوری حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17781]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري و مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17782
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَسَدٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ مَرِضَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَى مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَهُوَ بِمَكَّةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي. قَالَ:" إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللهِ إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً، وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ". يَرْثِي لَهُ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ"..
عامر بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو ان کے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے خبر دی کہ وہ فتح مکہ کے سال مکہ میں بیمار ہوئے اور اس بیماری میں ان کو اپنی موت کا اندیشہ ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کرنے کے لیے آئے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی ہجرت سے پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میرے بعد ہرگز پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا، پس تم نیک اعمال کرتے رہو اور جو بھی تم اللہ کی رضا کے لیے کام کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے تمہارے مقام و مرتبے کو بڑھاتے جائیں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تجھے پیچھے چھوڑ دیا جائے اور تیری وجہ سے اللہ بعض لوگوں کو نفع پہنچائیں اور بعضوں کو نقصان۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ» ”اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت کو پورا فرما اور ان کو ایڑیوں کے بل نہ لوٹا دینا۔“ لیکن فقیر سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ، ان کے لیے مرثیہ پڑھتے کہ وہ مکہ میں ہی فوت ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17782]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17783
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ، قَالَ سُفْيَانُ: وَسَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ سُفْيَانَ.
اسی سند اور انہی معنی کے ساتھ مذکورہ بالا روایت منقول ہے، سوائے ان الفاظ کے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے مرثیہ پڑھتے کہ وہ مکہ میں فوت ہوئے اور سفیان رحمہ اللہ نے کہا کہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ بنو عامر بن لؤی قبیلہ کے ایک آدمی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17783]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري، تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17784
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ ثَلَاثَةٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ كُلُّهُمْ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى سَعْدٍ يَعُودُهُ بِمَكَّةَ فَبَكَى، فَقَالَ:" مَا يُبْكِيكَ؟". قَالَ: قَدْ خَشِيتُ أَنْ أَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرْتُ مِنْهَا كَمَا مَاتَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، اللهُمَّ اشْفِ سَعْدًا" ثَلَاثَ مِرَارٍ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے تین بیٹے سب کے سب اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ان کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس تشریف لائے تو وہ رونے لگ گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کون سی چیز رلا رہی ہے؟“ انہوں نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ میری موت اس زمین میں واقع ہو جس سے میں نے ہجرت کی ہے، جیسا کہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کی وفات اسی شہر میں ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللّٰهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، اللّٰهُمَّ اشْفِ سَعْدًا» ”اے اللہ! سعد کو شفا دے، اے اللہ! سعد کو شفا دے۔“ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17784]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17785
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا عَفَّانُ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْقَارِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَمْرٍو الْقَارِي، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ فَخَلَّفَ سَعْدًا مَرِيضًا حَيْثُ خَرَجَ إِلَى حُنَيْنٍ، فَلَمَّا قَدِمَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ مُعْتَمِرًا دَخَلَ عَلَيْهِ وَهُوَ وَجِعٌ مَغْلُوبٌ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِي مَالًا وَإِنِّي أُورَثُ كَلَالَةً فَأُوصِي بِمَالِي أَوْ أَتَصَدَّقُ بِهِ؟ قَالَ:" لَا". قَالَ: فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ؟ قَالَ:" لَا". قَالَ: فَأُوصِي بِشَطْرِهِ؟. قَالَ:" لَا". قَالَ: فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَذَاكَ كَثِيرٌ". قَالَ: أَيْ رَسُولَ اللهِ، أُصِيبُ بِالدَّارِ الَّتِي خَرَجْتُ مِنْهَا مُهَاجِرًا؟ قَالَ:" إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَرْفَعَكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْ يُكَادَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيَنْتَفِعَ بِكَ آخَرُونَ، يَا عَمْرُو بْنَ الْقَارِي إِنْ مَاتَ سَعْدٌ بَعْدِي فَهَهُنَا ادْفِنْهُ نَحْوَ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ". وَأَشَارَ بِيَدِهِ هَكَذَا. هَذِهِ الرِّوَايَةُ تُوَافِقُ رِوَايَةَ سُفْيَانَ فِي أَنَّ ذَلِكَ كَانَ عَامَ الْفَتْحِ، وَسَائِرُ الرُّوَاةِ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالُوا فِيهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَاخْتُلِفَ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَلَى ابْنِ خُثَيْمٍ فِي اسْمِ حَفَدَةِ عَمْرِو بْنِ الْقَارِي.
سیدنا عمرو قاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حنین جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو پیچھے چھوڑ دیا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے عمرہ کرنے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور وہ تکلیف سے نڈھال غشی کی حالت میں تھے۔ (افاقہ کے بعد) سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں مال دار آدمی ہوں اور میرا وارث بھی کوئی نہیں ہے (یعنی کلالہ)، کیا میں سارے مال کی وصیت کر جاؤں یا صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے عرض کیا: کیا دو تہائی مال کا صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا آدھے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے پھر عرض کیا: کیا ایک تہائی مال کو صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور یہ بھی زیادہ ہے۔“ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایسی جگہ پر بیماری میں مبتلا ہوں جہاں سے میں نے ہجرت کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے درجات کو بلند کرے گا اور تیرے ذریعے سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچائے گا اور بعض کو فائدہ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمرو بن قاری! اگر میرے بعد سعد فوت ہو جائے تو اسے یہاں دفن کرنا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے راستے کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا۔ یہ روایت بھی سفیان کی روایت کے موافق ہے جس میں ہے کہ یہ واقعہ عام الفتح میں پیش آیا، جبکہ باقی رواۃ زہری کے طریق سے کہتے ہیں کہ یہ واقعہ حجۃ الوداع کے سال میں پیش آیا، اور اسی طرح اس روایت میں ابن خثیم پر (ان کے شاگردوں کی طرف سے) عمرو بن قاری کے پوتوں کے نام میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17785]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17786
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، قَالَ: خَلَّفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَعْدٍ رَجُلًا، فَقَالَ:" إِنْ مَاتَ فَلَا تَدْفِنُوهُ بِهَا".
حضرت عبدالرحمن اعرج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ پر ایک آدمی مقرر کیا اور فرمایا: ”اگر وہ یہاں فوت ہو جائیں تو انہیں اس جگہ دفن نہ کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17786]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مرسل»
الحكم على الحديث: ضعيف