السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3797. -- باب: ما لفظ البحر وطفا من ميتة
-- باب: اس مردار کا بیان جسے سمندر باہر پھینک دے یا جو پانی پر تیرنے لگے۔
حدیث نمبر: 18986
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَمَّا لَفَظَ الْبَحْرُ فَنَهَاهُ عَنْ أَكْلِهِ. قَالَ نَافِعٌ: ثُمَّ انْقَلَبَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فَدَعَا بِالْمُصْحَفِ فَقَرَأَ: {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ} [المائدة: ٩٦] . قَالَ نَافِعٌ: فَأَرْسَلَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ فَكُلْهُ.
عبدالرحمن بن ابوہریرہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سمندر کے باہر پھینکے ہوئے شکار کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: اسے نہ کھایا جائے۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قرآن لے کر آئے اور یہ آیت تلاوت کی ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ﴾ [سورة المائدة: 96] نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے عبدالرحمن بن ابوہریرہ کو بلانے بھیجا کہ اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18986]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18987
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ سَعْدٍ الْحَارِثِيِّ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ الْحِيتَانِ يَقْتُلُ بَعْضُهَا بَعْضًا أَوْ تَمُوتُ صَرَدًا، فَقَالَ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ. قَالَ سَعْدٌ: ثُمَّ سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ.
سعد حارثی، مولیٰ عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: وہ مچھلیاں جو ایک دوسری کو مار دیتی ہیں یا سردی کی وجہ سے مر جاتی ہیں؟ فرمایا: ان میں کوئی حرج نہیں ہے۔ سعد کہتے ہیں: پھر میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بھی اسی کے مثل فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18987]
3798. -- باب: من كره أكل الطافي
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے پانی پر تیرنے والی (مردہ مچھلی) کھانے کو ناپسند کیا ہے۔
حدیث نمبر: 18988
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فَيْرُوزَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: مَا ضَرَبَ بِهِ الْبَحْرُ أَوْ جَزَرَ عَنْهُ أَوْ صِيدَ فِيهِ فَكُلْ، وَمَا مَاتَ فِيهِ ثُمَّ طَفَا فَلَا تَأْكُلْ. ⦗٤٢٩⦘ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَغَيْرُهُمْ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، وَأَبُو عَاصِمٍ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَغَيْرُهُمْ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَخَالَفَهُمْ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرُ فَرَوَاهُ عَنِ الثَّوْرِيِّ مَرْفُوعًا وَهُوَ وَاهِمٌ فِيهِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: جس کو سمندر باہر پھینک دے، یا جس سے پانی ہٹ جائے، یا جو اس میں شکار کیا جائے اسے کھا لو، اور جو اس میں مر جائے پھر تیر آئے اسے نہ کھاؤ۔
کئی راویوں نے اسے ابو زبیر کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کیا ہے، جبکہ ابو احمد زبیری نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ثوری سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس میں انہیں وہم ہوا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18988]
کئی راویوں نے اسے ابو زبیر کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کیا ہے، جبکہ ابو احمد زبیری نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ثوری سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس میں انہیں وہم ہوا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18988]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18989
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا طَفَا السَّمَكُ عَلَى الْمَاءِ فَلَا تَأْكُلْهُ، وَإِذَا جَزَرَ عَنْهُ الْبَحْرُ فَكُلْهُ، وَمَا كَانَ عَلَى حَافَتِهِ فَكُلْهُ". قَالَ سُلَيْمَانُ: لَمْ يَرْفَعْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا أَبُو أَحْمَدَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مچھلی پانی پر تیر آئے تو اسے نہ کھاؤ، اور جب سمندر اس سے ہٹ جائے تو اسے کھا لو، اور جو اس کے کنارے پر ہو اسے کھا لو۔“
سلیمان (طبرانی) کہتے ہیں: اس حدیث کو سفیان سے ابو احمد کے سوا کسی نے مرفوعاً روایت نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18989]
سلیمان (طبرانی) کہتے ہیں: اس حدیث کو سفیان سے ابو احمد کے سوا کسی نے مرفوعاً روایت نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18989]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18990
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَلْقَى الْبَحْرُ أَوْ جَزَرَ عَنْهُ فَكُلُوهُ، وَمَا مَاتَ فِيهِ وَطَفَا فَلَا تَأْكُلُوهُ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَيُّوبُ وَحَمَّادٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَقَفُوهُ عَلَى جَابِرٍ. قَالَ: وَقَدْ أُسْنِدَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا مِنْ وَجْهٍ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ كَثِيرُ الْوَهْمِ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ مَوْقُوفًا، ⦗٤٣٠⦘ وَرَوَاهُ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ يَزِيدَ الْكُوفِيِّ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا اصْطَدْتُمُوهُ وَهُوَ حَيٌّ فَكُلُوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ مَيِّتًا طَافِيًا فَلَا تَأْكُلُوهُ". قَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: لَيْسَ هَذَا بِمَحْفُوظٍ، وَيُرْوَى عَنْ جَابِرٍ خِلَافُ هَذَا، وَلَا أَعْرِفُ لِابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ شَيْئًا. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا يَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مَرْفُوعًا، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ مَتْرُوكٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرَوَاه عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوعًا، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرَوَاهُ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوعًا، وَلَا يُحْتَجُّ بِمَا يَنْفَرِدُ بِهِ بَقِيَّةُ، فَكَيْفَ بِمَا يُخَالَفُ فِيهِ، وَقَوْلُ الْجَمَاعَةِ مِنَ الصَّحَابَةِ عَلَى خِلَافِ قَوْلِ جَابِرٍ مَعَ مَا رُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْبَحْرِ:" هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ". وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو سمندر باہر پھینک دے یا جس سے سمندر ہٹ جائے اسے کھا لو، اور جو اس میں مر جائے اور تیر آئے اسے نہ کھاؤ۔“
امام ابوداؤد فرماتے ہیں: اس حدیث کو سفیان ثوری، ایوب اور حماد نے ابو زبیر سے روایت کیا اور اسے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ پر موقوف کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: یہ حدیث ایک ضعیف سند سے ابن ابی ذئب عن ابی الزبیر عن جابر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مرفوعاً بھی مروی ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یحییٰ بن سلیم طائفی بہت وہم کرنے والے اور کمزور حافظے والے ہیں، اور دوسروں نے اسے اسماعیل بن امیہ سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی نے اسے ابن ابی ذئب کی حدیث سے، حسین بن یزید کوفی عن حفص بن غیاث عن ابن ابی ذئب عن ابی الزبیر عن جابر رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے تم زندہ حالت میں شکار کرو اسے کھا لو، اور جسے مردہ تیرتا ہوا پاؤ اسے نہ کھاؤ۔“ امام ابو عیسیٰ فرماتے ہیں: میں نے محمد یعنی امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ محفوظ نہیں ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف مروی ہے، اور میں ابن ابی ذئب کی ابو زبیر سے کوئی روایت نہیں جانتا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے یحییٰ بن ابی انیسہ نے بھی ابو زبیر سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور یحییٰ بن ابی انیسہ متروک ہیں، ان سے دلیل نہیں لی جاتی۔ اور عبدالعزیز بن عبیداللہ نے وہب بن کیسان عن جابر سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور عبدالعزیز ضعیف ہیں، ان سے دلیل نہیں لی جاتی۔ اور بقیہ بن ولید نے اوزاعی عن ابی الزبیر عن جابر سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور بقیہ جس روایت میں منفرد ہوں اس سے دلیل نہیں لی جاتی، تو جس میں ان کی مخالفت کی گئی ہو اس سے کیسے لی جائے گی؟ نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت کا قول سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے قول کے خلاف ہے، اس کے ساتھ وہ بھی جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے بارے میں فرمایا: ”اس کا پانی پاک اور اس کا مردار حلال ہے۔“ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18990]
امام ابوداؤد فرماتے ہیں: اس حدیث کو سفیان ثوری، ایوب اور حماد نے ابو زبیر سے روایت کیا اور اسے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ پر موقوف کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: یہ حدیث ایک ضعیف سند سے ابن ابی ذئب عن ابی الزبیر عن جابر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مرفوعاً بھی مروی ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یحییٰ بن سلیم طائفی بہت وہم کرنے والے اور کمزور حافظے والے ہیں، اور دوسروں نے اسے اسماعیل بن امیہ سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی نے اسے ابن ابی ذئب کی حدیث سے، حسین بن یزید کوفی عن حفص بن غیاث عن ابن ابی ذئب عن ابی الزبیر عن جابر رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے تم زندہ حالت میں شکار کرو اسے کھا لو، اور جسے مردہ تیرتا ہوا پاؤ اسے نہ کھاؤ۔“ امام ابو عیسیٰ فرماتے ہیں: میں نے محمد یعنی امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ محفوظ نہیں ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف مروی ہے، اور میں ابن ابی ذئب کی ابو زبیر سے کوئی روایت نہیں جانتا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے یحییٰ بن ابی انیسہ نے بھی ابو زبیر سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور یحییٰ بن ابی انیسہ متروک ہیں، ان سے دلیل نہیں لی جاتی۔ اور عبدالعزیز بن عبیداللہ نے وہب بن کیسان عن جابر سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور عبدالعزیز ضعیف ہیں، ان سے دلیل نہیں لی جاتی۔ اور بقیہ بن ولید نے اوزاعی عن ابی الزبیر عن جابر سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور بقیہ جس روایت میں منفرد ہوں اس سے دلیل نہیں لی جاتی، تو جس میں ان کی مخالفت کی گئی ہو اس سے کیسے لی جائے گی؟ نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت کا قول سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے قول کے خلاف ہے، اس کے ساتھ وہ بھی جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے بارے میں فرمایا: ”اس کا پانی پاک اور اس کا مردار حلال ہے۔“ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18990]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
3799. -- باب: ما جاء في أكل الجراد
-- باب: ٹڈی کھانے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18991
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَالْحَوْضِيُّ، قَالُوا: ثنا ⦗٤٣١⦘ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورَ، سَمِعَ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ مَعَهُ الْجَرَادُ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْبِسْطَامِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنِ الْجَرَادِ فَقَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ كُنَّا نَأْكُلُهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَقَالَ: سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَوْ سِتًّا.
سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوے کیے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹڈی کھاتے تھے۔
(ب) ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ میں نے سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا تو سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات غزوے کیے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹڈی کھاتے تھے۔
(ج) ابو ولید سے منقول ہے: سات غزوے یا چھ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18991]
(ب) ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ میں نے سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا تو سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات غزوے کیے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹڈی کھاتے تھے۔
(ج) ابو ولید سے منقول ہے: سات غزوے یا چھ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18991]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18992
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ سَلَمَةَ الْجَارُودِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ، ثنا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، قَالَ: سَأَلْتُ شَرِيكِي عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَنَا مَعَهُ عَنِ الْجَرَادِ، قَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ وَقَدْ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ فَكُنَّا نَأْكُلُهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
ابو یعفور کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھی عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں، ہم سات غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ٹڈی کھاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18992]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18993
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَوْ سِتًّا فَكُنَّا نَأْكُلُ الْجَرَادَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ وَغَيْرِهِ عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات غزوات لڑے اور ہم ٹڈی کھا لیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18993]
حدیث نمبر: 18994
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ إِمْلَاءً، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَبِي مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا ابْنُ الزِّبْرِقَانِ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرَادِ فَقَالَ:" أَكْثَرُ جُنُودِ اللهِ لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَذْكُرْ سَلْمَانَ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: كَذَلِكَ رَوَاهُ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ.
سلمان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کا بہت بڑا لشکر ہے، نہ تو میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18994]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 18995
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْثَرُ جُنُودِ اللهِ فِي الْأَرْضِ الْجَرَادُ لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ".
سیدنا ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین پر اللہ کا سب سے بڑا لشکر ٹڈی ہے، نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18995]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف