السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3787. -- باب: ما يذكى به
-- باب: جس چیز کے ذریعے ذبح کیا جا سکتا ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18936
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ بَحْرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ ⦗٤١٥⦘ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا ولَيْسَ مَعَنْا مُدًى أَفَنُذَكِّي بِاللِّيطِ؟ فَقَالَ:" مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ فَكُلُوا إِلَّا مَا كَانَ مِنْ ظُفُرٍ أَوْ سِنٍّ فَإِنَّ السِّنَّ عَظْمٌ مِنَ الْإِنْسَانِ وَالظُّفُرَ مُدَى الْحَبَشِ". قَالَ: وَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا فَكُنَّا نَعْدِلُ الْبَعِيرَ بِعَشْرٍ مِنَ الْغَنَمِ، فَنَدَّ عَلَيْنَا بَعِيرٌ مِنْهَا فَرَمَيْنَاهُ بِالنَّبْلِ حَتَّى وَهَضْنَاهُ. قَالَ: فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَإِذَا نَدَّ مِنْهَا شَيْءٌ فَاصْنَعُوا بِهِ ذَلِكَ وَكُلُوا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
عبایہ بن رفاعہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کل دشمن سے ملاقات کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، کیا ہم کسی لکڑی سے ذبح کرلیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو کھالو، لیکن جو ناخن، دانت سے ذبح کیا گیا ہو نہ کھاؤ، کیونکہ دانت انسانی ہڈی ہے جبکہ ناخن حبشہ کی چھری ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہمیں اونٹ اور بکریاں ملیں اور ایک اونٹ دس بکریوں کے برابر تھا۔ ایک اونٹ بھاگ گیا جسے تیر مار کر روکا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض اونٹ جنگلی جانوروں کی طرح ہوتے ہیں۔ جب کوئی اونٹ بھاگ جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرو اور کھالو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18936]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18937
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنْا مُدًى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرِنْ أَوْ أَعْجِلْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ فَكُلُوا مَا لَمْ يَكُنْ سِنٌّ أَوْ ظُفُرٌ وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ". وَتَقَدَّمَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَتَعَجَّلُوا فَأَصَابُوا مِنَ الْمَغَانِمِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ النَّاسِ فَنَصَبُوا قُدُورًا فَمَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ، وَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ خَيْلٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ وَإِذَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوا بِهِ مِثْلَ هَذِهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، كَذَا قَالَ أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَسَائِرُ الرُّوَاةِ عَنْ سَعِيدٍ قَالُوا: عَنْ عَبَايَةَ، عَنْ جَدِّهِ، وَقَدْ وَافَقَ حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرْمَانِيُّ أَبَا الْأَحْوَصِ عَلَى رِوَايَتِهِ..
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کل ہم دشمن سے ملنے والے ہیں، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جلدی کرو، جو چیز خون بہا دے اور اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے کھاؤ، لیکن دانت اور ناخن سے ذبح نہ کیا گیا ہو، میں تمہیں بتاتا ہوں دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشہ کی چھری ہے۔“ جلد باز لوگوں نے بکریاں ذبح کر دیں اور ہنڈیاں پکانے کے لیے رکھ دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آخر میں تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہنڈیوں کے پاس سے ہوا تو انہیں انڈیلنے کا حکم دے دیا اور ان کے درمیان تقسیم کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا۔ لوگوں کا اونٹ بھاگ گیا۔ ان کے پاس گھوڑا بھی نہیں تھا۔ ایک شخص نے تیر مارا تو اللہ نے اس کو روک دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اونٹ بھاگ جاتے ہیں جس طرح جنگلی جانور ہوتے ہیں۔ جب کوئی اونٹ بھاگ جائے تو اس کے ساتھ یہی سلوک کر کے کھا لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18937]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18938
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ الْخُزَاعِيُّ، أنبأ أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرْمَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
سابقہ حدیث کی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18938]
3788. -- باب: الصيد يرمى فيقع على الأرض
-- باب: اس شکار کا بیان جسے تیر مارا جائے اور وہ زمین پر گر پڑے۔
حدیث نمبر: 18939
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللهِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ:" وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ بِأَرْضِ الصَّيْدِ فَمَا أَصَبْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ ثُمَّ كُلْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَنَّادِ بْنِ السَّرِيِّ. وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نے بتایا کہ آپ شکار کے علاقہ میں رہتے ہیں، جس کو آپ کی قوس لگے اس پر اللہ کا نام لو، پھر کھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18939]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18940
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: إِذَا رَمَى أَحَدُكُمْ صَيْدًا فَتَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَمَاتَ فَلَا تَأْكُلُوا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ التَّرَدِّي قَتَلَهُ أَوْ وَقَعَ فِي مَاءٍ فَمَاتَ فَلَا تَأْكُلْهُ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ الْمَاءُ قَتَلَهُ.
مسروق سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جب تم شکار کرو اور وہ پہاڑ سے گر کر مر جائے تو مت کھاؤ، ممکن ہے وہ گرنے کی وجہ سے مرا ہو یا پانی میں گر کر مرے تب بھی نہ کھاؤ کیونکہ ممکن ہے پانی کی وجہ سے ہلاک ہوا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18940]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3789. -- باب: الصيد يرمى فيقع على جبل ثم يتردى منه أو يقع في الماء
-- باب: اس شکار کا بیان جسے تیر مارا جائے اور وہ پہاڑ پر گرے، پھر وہاں سے لڑھک جائے، یا پانی میں جا گرے۔
حدیث نمبر: 18941
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا شُرَيْحٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ قَالَ:" إِذَا رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قَتَلَ فَكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ وَقَعَ فِي الْمَاءِ فَمَاتَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي الْمَاءُ قَتَلَهُ أَوْ سَهْمُكَ فَلَا تَأْكُلْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے شکار کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اللہ کا نام لے کر شکار کو تیر مار کر ہلاک کر دے تو کھا لے، اگر شکار پانی میں گر کر ہلاک ہو جائے تو نہ کھاؤ؛ کیونکہ معلوم نہیں کہ تیر یا پانی میں گرنے کی وجہ سے ہلاک ہوا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18941]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18942
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: إِذَا رَمَى أَحَدُكُمْ صَيْدًا فَتَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَمَاتَ فَلَا تَأْكُلُوا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ التَّرَدِّي قَتَلَهُ أَوْ وَقَعَ فِي مَاءٍ، فَمَاتَ فَلَا تَأْكُلْهُ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ الْمَاءُ قَتَلَهُ.
مسروق رحمہ اللہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب تم شکار کرو اور وہ پہاڑ سے گر کر ہلاک ہو جائے تو نہ کھاؤ، ممکن ہے وہ پہاڑ سے گرنے کی وجہ سے ہلاک ہوا ہو، اگر پانی میں گر کر ہلاک ہو جائے تب بھی نہ کھاؤ، کیونکہ اس میں احتمال ہے کہ پانی کی وجہ سے قتل ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18942]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبل واحد»
الحكم على الحديث: صحيح
3790. -- باب: الصيد يرمى بحجر أو بندقة
-- باب: اس شکار کا بیان جسے پتھر یا غلیل (کی گولی) سے مارا جائے۔
حدیث نمبر: 18943
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا كَهْمَسٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو ⦗٤١٧⦘ عَبْدِ اللهِ أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا كَهْمَسٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: رَأَى عَبْدُ اللهِ بْنُ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ يَخْذِفُ فَقَالَ: لَا تَخْذِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ أَوْ قَالَ: يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ فَإِنَّهُ لَا يُصْطَادُ بِهِ الصَّيْدُ وَلَا يُنْكَأُ بِهِ الْعَدُوُّ وَلَكِنَّهُ يَكْسِرُ السِّنَّ وَيَفْقَأُ الْعَيْنَ. ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: أُخْبِرُكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ أَوْ يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ ثُمَّ أَرَاكَ تَخْذِفُ؟ لَا أُكَلِّمُكَ كَلِمَةً كَذَا وَكَذَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ، وَعَنْ أَبِي دَاوُدَ سُلَيْمَانَ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ كَهْمَسٍ.
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے ایک ساتھی کو کنکری پھینکتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”کنکری نہ پھینکو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ناپسند فرمایا تھا یا منع کیا تھا، کیونکہ ”نہ تو اس سے شکار کیا جاسکتا ہے اور نہ دشمن کو ہلاک کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ دانت کو توڑ اور آنکھ کو پھوڑ سکتی ہے۔““ اس کے بعد بھی وہ کنکری پھینکتا رہا تو انہوں نے اس سے کہا: ”میں تجھے بتا رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا یا منع کیا تو تب بھی کنکری پھینک رہا ہے، میں تجھ سے اتنی مدت تک کلام نہ کروں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18943]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18944
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ صُهْبَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْخَذْفَةِ وَقَالَ:" لَا يُصَادُ بِهَا صَيْدٌ وَلَا يُنْكَأُ بِهَا عَدُوٌّ، وَإِنَّ الْخَذْفَةَ تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ بِمَعْنَاهُ، وَهَذَا اللَّفْظُ أَبْيَنُ فِيمَا قَصَدْنَاهُ.
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”اس سے نہ تو شکار کیا جا سکتا ہے نہ ہی دشمن کا نقصان کیا جا سکتا ہے، لیکن کنکری پھینکنا آنکھ کو پھوڑے گا یا دانت توڑے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18944]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18945
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَخَرَجْتُ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَإِذَا رَجُلٌ مُتَلَبِّبٌ أَعْسَرُ أَيْسَرُ يَمْشِي مَعَ النَّاسِ كَأَنَّهُ رَاكِبٌ وَهُوَ يَقُولُ: هَاجِرُوا وَلَا تَهَجَّرُوا، وَاتَّقُوا الْأَرْنَبَ أَنْ يَخْذِفَهَا أَحَدُكُمْ بِالْعَصَا، وَلَكِنْ لِيُذَكِّ لَكُمُ الْأَسَلُ وَالرِّمَاحُ وَالنَّبْلُ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَوْلُهُ هَاجِرُوا وَلَا تَهَجَّرُوا، يَقُولُ: أَخْلِصُوا النِّيَّةَ فِي الْهِجْرَةِ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْمُهَاجِرِينَ عَلَى غَيْرِ نِيَّةٍ مِنْكُمْ فَهَذَا هُوَ التَّهَجُّرُ. قَالَ: وَكَلَامُ الْعَرَبِ أَعْسَرُ أَيْسَرُ وَهُوَ الَّذِي يَعْمَلُ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا سَوَاءً.
زر بن حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا اور عید کے دن نکلا، اچانک ایک شخص جو چادر لپیٹے ہوئے تھا اور دونوں ہاتھوں سے یکساں کام کرنے والا تھا لوگوں کے ساتھ یوں چل رہا تھا جیسے سوار ہو اور کہہ رہا تھا: خلوصِ نیت سے ہجرت کرو، صرف مہاجرین کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے بغیر نیت کے ہجرت نہ کرو اور خرگوش کو لاٹھی سے مارنے سے بچو، لیکن تم اسے نیزہ اور کانٹے سے ذبح کر سکتے ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18945]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن