السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3841. -- باب: من قال: الأضحى جائز يوم النحر وأيام منى كلها لأنها أيام النسك
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کہا: ”قربانی یوم النحر اور منیٰ کے تمام ایام میں جائز ہے کیونکہ یہ سب قربانی (نسک) کے دن ہیں“۔
حدیث نمبر: 19248
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ رَوْحٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ مَطَرٍ، أَنَّ الْحَسَنَ، وَعَطَاءً، قَالَا: يُضَحَّى إِلَى آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ.
حضرت حسن اور عطاء رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ایامِ تشریق کے آخری دن تک قربانی ہو سکتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19248]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19249
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ هُوَ الصَّغَانِيُّ، ثنا رَوْحٌ قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: يُذْبَحُ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ.
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء رحمہ اللہ نے کہا: ایامِ تشریق میں قربانی کی جا سکتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19249]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19250
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ هُوَ الصَّغَانِيُّ، ثنا رَوْحٌ، قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: يُذْبَحُ فِي أَيَّامِ مِنًى كُلِّهَا وَفِي يَوْمِ النَّفْرِ الْآخِرِ.
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء رحمہ اللہ نے کہا: منیٰ کے تمام دنوں میں اور آخری کوچ کے دن قربانی کی جا سکتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19250]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19251
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: الْأَضْحَى يَوْمُ النَّحْرِ وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ بَعْدَهُ.
عمرو بن مہاجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: عید الاضحی کے دن کے بعد تین دن تک قربانی کی جا سکتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19251]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19252
قَالَ: وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، أَنَّهُ قَالَ: النَّحْرُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَقَالَ مَكْحُولٌ: صَدَقَ.
نعمان رحمہ اللہ، سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ قربانی کے تین دن ہیں۔ مکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ نے سچ کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19252]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3842. -- باب: من قال الأضحى يوم النحر ويومين بعده
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا: ”قربانی یوم النحر اور اس کے بعد دو دن تک ہے“۔
حدیث نمبر: 19253
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ، قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: سَأَلَ أَبُو سَلَمَةَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَعْدَ النَّحْرِ بِيَوْمٍ فَقَالَ: إِنِّي بَدَا لِي أَنْ أُضَحِّيَ. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: مَنْ شَاءَ فَلْيُضَحِّ الْيَوْمَ ثُمَّ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ.
نافع کہتے ہیں کہ ابوسلمہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے قربانی کے ایک دن بعد پوچھا کہ میں قربانی کرنا چاہتا ہوں، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: جو آج اور کل کے دن بھی قربانی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19253]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19254
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُولُ: الْأَضْحَى يَوْمَانِ بَعْدَ يَوْمِ الْأَضْحَى. قَالَ: وَثَنَا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: الْأَضْحَى يَوْمَانِ بَعْدَ يَوْمِ الْأَضْحَى.
نافع، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ عید الاضحی کے دن کے بعد دو دن قربانی کے لیے مزید ہیں۔ (ب) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عید الاضحی کے دن کے بعد دو دن قربانی کے مزید ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19254]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19255
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: الذَّبْحُ بَعْدَ النَّحْرِ يَوْمَانِ.
قتادہ رحمہ اللہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”عید الاضحیٰ کے دن کے بعد دو دن مزید قربانی کے لیے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19255]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3843. -- باب: من قال الضحايا إلى آخر الشهر لمن أراد أن يستأني ذلك
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا: ”جو تاخیر کرنا چاہے اس کے لیے قربانی مہینے کے آخر تک جائز ہے“۔
حدیث نمبر: 19256
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الضَّحَايَا إِلَى آخِرِ الشَّهْرِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْتَأْنِيَ ذَلِكَ". لَفْظُ حَدِيثِ الْأَصْبَهَانِيِّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي حَامِدٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الضَّحَايَا إِلَى هِلَالِ الْمُحَرَّمِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْتَأْنِي ذَلِكَ" رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبَانَ.
ابو سلمہ اور سلیمان بن یسار رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قربانی کو تاخیر سے کرنا چاہے تو وہ ذوالحجہ کے آخر تک بھی کر سکتا ہے۔“
(ب) ابو حامد کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانیوں کو محرم کا چاند دیکھنے تک بھی مؤخر کیا جا سکتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19256]
(ب) ابو حامد کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانیوں کو محرم کا چاند دیکھنے تک بھی مؤخر کیا جا سکتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19256]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19257
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ يَقُولُ: إِنْ كَانَ الْمُسْلِمُونَ لَيَشْتَرِي أَحَدُهُمُ الْأُضْحِيَّةَ فَيُسَمِّنُهَا فَيَذْبَحُهَا بَعْدَ الْأَضْحَى آخِرَ ذِي الْحِجَّةِ. حَدِيثُ أَبِي سَلَمَةَ وَسُلَيْمَانَ مُرْسَلٌ وَحَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حِكَايَةٌ عَمَّنْ لَمْ يُسَمَّ. وَقَدْ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الشَّرْحِ: رُوِيَ فِي بَعْضِ الْأَخْبَارِ: الْأُضْحِيَّةُ إِلَى رَأْسِ الْمُحَرَّمِ، فَإِنْ صَحَّ ذَلِكَ فَالْأَمْرُ يَتَّسِعُ فِيهِ إِلَى غُرَّةِ الْمُحَرَّمِ، وَإِنْ لَمْ يَصِحَّ فَالَّخَبَرُ الصَّحِيحُ أَيَّامُ مِنًى أَيَّامُ نَحْرٍ، وَعَلَى هَذَا بَنَى الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فِي كِلَيْهِمَا نَظَرٌ، هَذَا لِإِرْسَالِهِ وَمَا مَضَى لِاخْتِلَافِ الرُّوَاةِ فِيهِ عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، وَحَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى أَوْلَاهُمَا أَنْ يُقَالَ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مسلمانوں میں سے کوئی شخص جب قربانی کا جانور خریدتا تو اسے موٹا تازہ کرتا، پھر عید الاضحی کے بعد ذی الحجہ کے آخر میں اسے ذبح کرتا۔
نوٹ: بعض احادیث میں محرم کی ابتداء تک قربانی کرنے کے بارے میں آیا ہے۔ اگر یہ احادیث صحیح ہوں تو یہ ایک وسعت ہے وگرنہ صحیح احادیث میں منیٰ کے دنوں کو قربانی کے دن شمار کیا گیا ہے۔
ابو سلمہ اور سلیمان کی حدیث مرسل ہے، اور ابو امامہ کی حدیث ایسے لوگوں سے حکایت ہے جن کا نام نہیں لیا گیا۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان دونوں میں نظر ہے، یہ اس کے مرسل ہونے کی وجہ سے اور پہلی روایت سلیمان بن موسیٰ پر راویوں کے اختلاف کی وجہ سے، اور سلیمان بن موسیٰ کی حدیث ان دونوں میں سے زیادہ اس لائق ہے کہ اسے اختیار کیا جائے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19257]
نوٹ: بعض احادیث میں محرم کی ابتداء تک قربانی کرنے کے بارے میں آیا ہے۔ اگر یہ احادیث صحیح ہوں تو یہ ایک وسعت ہے وگرنہ صحیح احادیث میں منیٰ کے دنوں کو قربانی کے دن شمار کیا گیا ہے۔
ابو سلمہ اور سلیمان کی حدیث مرسل ہے، اور ابو امامہ کی حدیث ایسے لوگوں سے حکایت ہے جن کا نام نہیں لیا گیا۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان دونوں میں نظر ہے، یہ اس کے مرسل ہونے کی وجہ سے اور پہلی روایت سلیمان بن موسیٰ پر راویوں کے اختلاف کی وجہ سے، اور سلیمان بن موسیٰ کی حدیث ان دونوں میں سے زیادہ اس لائق ہے کہ اسے اختیار کیا جائے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19257]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح