السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3849. -- باب: لا يمس الصبي بشيء من دمها
-- باب: بچے کو عقیقے کے خون میں سے کچھ نہ لگایا جائے۔
حدیث نمبر: 19288
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، ثناعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا وُلِدَ لِأَحَدِنَا غُلَامٌ ذَبَحَ شَاةً وَلَطَّخَ رَأْسَهُ بِدَمِهَا، فَلَمَّا جَاءَ اللهُ بِالْإِسْلَامِ كُنَّا نَذْبَحُ شَاةً وَنَحْلِقُ رَأْسَهُ وَنُلَطِّخُهُ بِزَعْفَرَانٍ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَفِي حَدِيثِ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي الْإِبِلِ فَرَعٌ، وَفِي الْغَنَمِ فَرَعٌ، وَيُعَقُّ عَنِ الْغُلَامِ، وَلَا يُمَسُّ رَأْسُهُ بِدَمٍ".
عبداللہ بن بریدہ نے اپنے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جاہلیت میں جب بچہ پیدا ہوتا تو عقیقہ کی بکری کا خون بچے کے سر پر مل دیا جاتا، جب اللہ تعالیٰ نے اسلام پہنچا دیا، پھر ہم بکری ذبح کرتے، بچے کا سر مونڈتے اور اس کے سر پر زعفران لگا دیتے۔
(ب) یزید بن عبداللہ مزنی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں میں «الْفَرَعُ» (پہلوٹھی کے بچے کی قربانی) ہے اور بکریوں میں بھی «الْفَرَعُ» ہے، اور بچے کی جانب سے عقیقہ کیا جائے لیکن اس کے سر کو خون نہ لگایا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19288]
(ب) یزید بن عبداللہ مزنی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں میں «الْفَرَعُ» (پہلوٹھی کے بچے کی قربانی) ہے اور بکریوں میں بھی «الْفَرَعُ» ہے، اور بچے کی جانب سے عقیقہ کیا جائے لیکن اس کے سر کو خون نہ لگایا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19288]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19289
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَبُو حُمَةَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدِيثًا ذَكَرَهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رُسْتَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي حَدِيثِ الْعَقِيقَةِ قَالَتْ: وَكَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَجْعَلُونَ قُطْنَةً فِي دَمِ الْعَقِيقَةِ وَيَجْعَلُونَهُ عَلَى رَأْسِ الصَّبِيِّ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْعَلَ مَكَانَ الدَّمِ خَلُوقٌ. قَالَ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَوْلُهُ فِي حَدِيثِ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ: أَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى، يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ حَلْقَ الرَّأْسِ، وَالنَّهْيَ عَنْ أَنْ يُمَسَّ رَأْسُهُ بِدَمِهَا.
عمرہ رحمہا اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عقیقہ کی حدیث میں بیان فرماتی ہیں کہ زمانۂ جاہلیت میں لوگ عقیقہ کے جانور کے خون میں روئی تر کر کے بچے کے سر پر خون لگا دیتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”خون کی جگہ خلوق لگانے کا حکم دے دیا۔“
فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ ”بچے کے سر سے پلیدی دور کی جائے۔“ اس سے مراد یہ ہو سکتی ہے کہ سر مونڈا جائے اور بچے کے سر پر خون لگانے سے منع کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19289]
فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ ”بچے کے سر سے پلیدی دور کی جائے۔“ اس سے مراد یہ ہو سکتی ہے کہ سر مونڈا جائے اور بچے کے سر پر خون لگانے سے منع کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19289]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19290
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ، ثنا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ صَاحِبُ ⦗٥١٠⦘ الْحَوْضِ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ، يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ، وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُدَمَّى". زَادَ الْحَوْضِيُّ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ: وَكَانَ قَتَادَةُ إِذَا سُئِلَ عَنِ الدَّمِ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: إِذَا ذَبَحْتَ الْعَقِيقَةَ أَخَذْتَ صُوفَةً مِنْهَا فَاسْتَقْبِلْ بِهَا أَوْدَاجَهَا، ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى يَافُوخِ الصَّبِيِّ حَتَّى تَسِيلَ مِثْلَ الْخَيْطِ، ثُمَّ يُغْسَلُ رَأْسُهُ وَيُحْلَقُ بَعْدُ..
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”ہر بچہ عقیقہ کے عوض گروی رکھا جاتا ہے تو ساتویں دن اس کی جانب سے ذبح کیا جائے، اور اس کا سر مونڈ کر خون لگا دیا جائے۔“ حوضی کی روایت میں زیادتی ہے کہ قتادہ رحمہ اللہ سے خون لگانے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ عقیقہ کے جانور کو ذبح کر کے اس کی رگوں سے خون لے کر بچے کے سر کی چوٹی پر خون لگائیں کہ دھاگے کی لکیر کی مانند خون بہہ جائے۔ پھر سر دھو کر مونڈ دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19290]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دون قوله يذمٰي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19291
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا وَهْمٌ مِنْ هَمَّامٍ: يُدَمَّى. أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُثَنَّى، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ: يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ وَيُسَمَّى. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَيُسَمَّى أَصَحُّ، كَذَا قَالَ سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، يَعْنِي عَنْ قَتَادَةَ، وَإِيَاسِ بْنِ دَغْفَلٍ، وَأَشْعَثَ عَنِ الْحَسَنِ.
سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللہ، قتادہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ساتویں دن بچے کا سر مونڈ کر نام رکھ دیا جائے۔
ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «يُدَمَّى» (خون لگایا جائے) کا لفظ ہمام کا وہم ہے، اور «يُسَمَّى» (نام رکھا جائے) زیادہ صحیح ہے، سلام بن ابی مطیع نے قتادہ سے، اور ایاس بن دغفل اور اشعث نے حسن سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19291]
ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «يُدَمَّى» (خون لگایا جائے) کا لفظ ہمام کا وہم ہے، اور «يُسَمَّى» (نام رکھا جائے) زیادہ صحیح ہے، سلام بن ابی مطیع نے قتادہ سے، اور ایاس بن دغفل اور اشعث نے حسن سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19291]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3850. -- باب: ما جاء في وقت العقيقة وحلق الرأس والتسمية
-- باب: عقیقے کے وقت، سر مونڈنے اور نام رکھنے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19292
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَفَعَهُ قَالَ:" الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ، يُمَاطُ عَنْهُ الْأَذَى، وَيُرَاقُ عَنْهُ الدَّمُ فِي الْيَوْمِ السَّابِعِ". وَقَدْ مَضَى فِي هَذَا حَدِيثُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ.
سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ عقیقہ کے عوض گروی رکھا جاتا ہے، اس سے پلیدی کو دور کیا جائے گا اور ساتویں دن بچے کی جانب سے خون بہایا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19292]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19293
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْعَقِيقَةُ تُذْبَحُ لِسَبْعٍ، وَلِأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَلِإِحْدَى وَعِشْرِينَ".
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقیقہ ساتویں، چودہویں اور اکیسویں دن کیا جا سکتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19293]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19294
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَبُو حُمَةَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدِيثًا ذَكَرَهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رُسْتَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ ⦗٥١١⦘ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُعَقُّ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ". وَقَالَ: وَعَقَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ شَاتَيْنِ يَوْمَ السَّابِعِ، وَأَمَرَ أَنْ يُمَاطَ عَنْ رَأْسِهِ الْأَذَى، وَقَالَ:" اذْبَحُوا عَلَى اسْمِهِ وَقُولُوا: بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُمَّ لَكَ وَإِلَيْكَ، هَذِهِ عَقِيقَةُ فُلَانٍ". لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَجِيدِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي قُرَّةَ عَنِ الْحَسَنِ شَاتَيْنِ، وَعَنْ حُسَيْنٍ شَاتَيْنِ ذَبَحَهُمَا يَوْمَ السَّابِعِ وَسَمَّاهُمَا.
عمرہ رحمہا اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے کی جانب سے ایک جیسی دو بکریاں جبکہ بچی کی جانب سے ایک بکری عقیقہ میں ذبح کی جائے گی۔“ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے عقیقہ میں ساتویں دن دو بکریاں ذبح کیں، ان کے سر مونڈنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”اس کے نام پر ذبح کرو اور کہو: «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، هٰذِهِ عَقِيقَةُ فُلَانٍ» ”بسم اللہ واللہ اکبر، اے اللہ! تیرے ہی لیے اور تیری ہی طرف، یہ فلاں کا عقیقہ ہے۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19294]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19295
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمَّى الْحَسَنَ يَوْمَ سَابِعِهِ، وَأَنَّهُ اشْتَقَّ مِنْ حَسَنٍ حُسَيْنًا، وَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلَّا الْحَمْلُ.
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ساتویں دن نام رکھا اور حسین رضی اللہ عنہ کا نام بھی حسن سے مشتق ہے، صرف دونوں رضی اللہ عنہما کے درمیان حمل کا فرق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19295]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3851. -- باب: ما جاء في التصدق بزنة شعره فضة وما تعطى القابلة
-- باب: بچے کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرنے اور دایہ کو دیے جانے والے حصے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19296
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: وَزَنَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرَ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ وَزَيْنَبَ وَأُمِّ كُلْثُومٍ، فَتَصَدَّقَتْ بِزِنَةِ ذَلِكَ فِضَّةً. وَرُوِّينَاهُ عَنْ رَبِيعَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ فِي حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ.
جعفر بن محمد بن علی رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما، سیدہ زینب اور سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہما کے بالوں کا وزن کر کے اس کے برابر چاندی صدقہ کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19296]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19297
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَتْ عَنْ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ حِينَ وَلَدَتْهُمَا شَاةً، وَحَلَقَتْ شُعُورَهُمَا ثم تَصَدَّقَتْ بِوَزْنِهِ فِضَّةً.
جعفر بن محمد اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی ولادت پر ایک بکری ذبح کی، پھر بال اتار کر ان کے وزن کے مطابق چاندی صدقہ کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19297]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف