السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3869. -- باب: ما جاء في الأرنب
-- باب: خرگوش کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19397
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قِرَاءَةً، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ لَفْظًا قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ غُلَامًا مِنْ قَوْمِهِ صَادَ أَرْنَبًا فَذَبَحَهَا بِمَرْوَةٍ فَتَعَلَّقَهَا فَسَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِهَا، فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا. وَيُرْوَى عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ قَتَادَةَ بِنَحْوِهِ، وَأَرْسَلَهُ هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ.
شعبی رحمہ اللہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی قوم کے ایک غلام نے خرگوش شکار کر کے پتھر سے ذبح کر کے لٹکا دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھانے کی اجازت دے دی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19397]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19398
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ غُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ بِأَرْنَبٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِلُّهَا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي دَخَلْتُ أُحُدًا فَاصْطَدْتُ هَذِهِ الْأَرْنَبَ فَلَمْ أَجِدْ مَا أَذْبَحُهَا بِهِ فَذَكَّيْتُهَا بِمَرْوَةٍ. قَالَ:" كُلْهَا".
شعبی رحمہ اللہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو ہاشم کے غلام نے خرگوش لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے احد پہاڑ سے اس خرگوش کو شکار کیا تھا۔ میں نے ذبح کرنے کے لیے کوئی چیز نہ پائی تو پتھر سے ذبح کر ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس خرگوش کو کھا لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19398]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19399
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، قَالَ: سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْأَرْنَبِ، فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَزِيدَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَوْ أَنْقُصَ مِنْهُ لَحَدَّثْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ سَأُرْسِلُ إِلَى مَنْ شَهِدَ ذَلِكَ. فَأَرْسَلَ إِلَى عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ: حَدِّثْ هَؤُلَاءِ حَدِيثَ الْأَرْنَبِ. فَقَالَ عَمَّارٌ: أَهْدَى أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْنَبًا مَشْوِيَّةً فَأَمَرَنَا بِأَكْلِهَا وَلَمْ يَأْكُلْ، وَاعْتَزَلَ رَجُلٌ فَلَمْ يَأْكُلْ، فَقَالُوا لَهُ: مَا لَكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ: صَوْمُ مَاذَا؟ فَقَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفَلَا جَعَلْتَهُنَّ الْبِيضَ"؟ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ بِشَيْءٍ"..
ابن حوتکیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے خرگوش کے بارے میں پوچھا گیا تو کہنے لگے: اگر مجھے یہ ناپسند نہ ہوتا کہ میں اس حدیث میں کمی یا زیادتی کر بیٹھوں تو میں تمہیں یہ حدیث سنا دیتا، لیکن میں اس شخص کو بلا بھیجتا ہوں جو اس موقع پر موجود تھا۔ تو انہوں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی جانب (پیغام) بھیجا کہ انہیں خرگوش والی حدیث سناؤ۔ عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھنا ہوا خرگوش تحفہ میں دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کھانے کا حکم دیا اور خود نہ کھایا اور ایک آدمی نے بھی نہ کھایا، جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا: میں روزے دار ہوں۔ پوچھا گیا: کون سا روزہ رکھا ہوا ہے؟ اس نے کہا: ہر مہینے کے تین روزے رکھتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو ایامِ بیض کے روزے نہیں رکھتا؟“ ایک دیہاتی نے کہا: میں نے خرگوش کے ساتھ خون دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19399]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19400
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَفَلَا جَعَلْتَهُنَّ الْبِيضَ؟ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ"..
طلحہ بن یحییٰ رحمہ اللہ، موسیٰ رحمہ اللہ سے اسی کی مثل نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہ تین روزے تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو رکھا کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19400]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19401
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَرْنَبٍ، فَذَكَرَ مَعْنَى هَذِهِ الْقِصَّةِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَسْأَلَةَ عَنْ غَيْرِ عَمَّارٍ..
ابن حوتکیہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس خرگوش لایا گیا، انہوں نے اس قصے کے ہم معنی بات ذکر کی، لیکن عمار کے علاوہ مسئلے میں سے کوئی مسئلہ ذکر نہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19401]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19402
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِأَبِي ذَرٍّ وَعَمَّارٍ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ: أَتَذْكُرُونَ يَوْمَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا فأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِأَرْنَبٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا، فَأَمَرَنَا بِأَكْلِهَا وَلَمْ يَأْكُلْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" ادْنُهُ اطْعَمْ". قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ الْحَوْتَكِيَّةِ فِي إِسْنَادِهِ.
موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابوذر، عمار اور ابودرداء رضی اللہ عنہم سے کہا: کیا تمہیں یاد ہے جس وقت فلاں جگہ پر ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش لے کر آیا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس پر خون کو دیکھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کھانے کا حکم دیا اور خود نہ کھایا؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتی سے کہا: ”قریب ہو کر کھاؤ“ تو اس نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19402]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19403
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي خَالِدَ بْنَ ⦗٥٤٠⦘ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ بِالصِّفَاحِ، مَكَانٌ بِمَكَّةَ، وَأَنَّ رَجُلًا جَاءَنَا بِأَرْنَبٍ قَدْ صَادَهَا فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو مَا تَقُولُ؟ قَالَ: قَدْ جِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسٌ فَلَمْ يَأْكُلْهَا وَلَمْ يَنْهَ عَنْ أَكْلِهَا. وَزَعَمَ أَنَّهَا تَحِيضُ.
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما مکہ میں صفا نامی جگہ پر تھے، ایک شخص خرگوش کا شکار کر کے لایا، اس نے کہا: ”اے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟“ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش لایا گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا نہیں اور کھانے سے منع بھی نہیں کیا اور انہوں نے کہا کہ اسے حیض آتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19403]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3870. -- باب: ما جاء في حمار الوحش وما أكلته العرب في غير ضرورة
-- باب: جنگلی گدھے کے متعلق کیا مروی ہے، اور ان جانوروں کا بیان جنہیں اہلِ عرب بغیر کسی مجبوری کے کھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 19404
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي قَوْمٍ مُحْرِمِينَ فَعَرَضَ لَهُمْ حِمَارُ وَحْشٍ فَلَمْ يُؤْذِنُوهُ حَتَّى أَبْصَرَهُ هُوَ فَاخْتَلَسَ مِنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ سَوْطًا فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَصَرَعَهُ وَأَتَاهُمْ بِهِ فَأَكَلُوهُ، فَلَقُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ:" هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ بِشَيْءٍ؟" فَقَالُوا: لَا. فَقَالَ:" كُلُوا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ. وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ.
عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ محرم لوگوں کے ساتھ تھے کہ جنگلی گدھا سامنے آیا۔ کسی نے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کو اطلاع نہ دی یہاں تک کہ انہوں نے خود دیکھ لیا۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کسی سے کوڑا چھین کر جنگلی گدھے کا شکار کر کے ان کے پاس لے آئے تو انہوں نے کھا لیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم میں سے کسی نے اس کی جانب اشارہ کیا تھا؟“ تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب کھالو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19404]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19405
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ، أَنَّهُ أُخْبِرَ عَنِ الْبَهْزِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يُرِيدُ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ إِذَا حِمَارٌ وَحْشِيٌّ عَقِيرٌ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" دَعُوهُ فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ صَاحِبُهُ". فَجَاءَ الْبَهْزِيُّ وَهُوَ صَاحِبُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ شَأْنُكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ. فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ.
بہزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں مکہ کی جانب نکلے۔ جب روحاء نامی جگہ پہنچے تو ایک زخمی وحشی گدھا دیکھا تو فرمایا: ”اس کو چھوڑ دو۔ قریب ہے کہ اس کا شکار کرنے والا آپہنچے۔“ بہزی رضی اللہ عنہ، جنہوں نے اس گدھے کو شکار کیا تھا، وہ آگئے۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جس طرح آپ اس گدھے کو استعمال کرنا چاہتے ہیں کر لیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، تو انہوں نے اسے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19405]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19406
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَكَلْنَا زَمَنَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَحُمُرَ الْوَحْشِ، وَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نے خیبر کے موقع پر گھوڑے اور جنگلی گدھوں کا گوشت کھایا، اور گھریلو گدھے کا گوشت کھانے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19406]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح