السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3868. -- باب: ما جاء في الضبع والثعلب
-- باب: بجو اور لومڑی کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19387
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْقِلٍ السُّلَمِيِّ صَاحِبِ الدَّثَنِيَّةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا تَقُولُ فِي الضَّبُعِ؟ فَقَالَ:" لَا آكُلُهُ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ". قَالَ: قُلْتُ: مَا لَمْ تَنْهَ عَنْهُ فَأَنَا آكُلُهُ. قَالَ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا تَقُولُ فِي الضَّبِّ؟ قَالَ:" لَا آكُلُهُ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ". قَالَ: قُلْتُ: مَا لَمْ تَنْهَ عَنْهُ فَإِنِّي آكُلُهُ. قَالَ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا تَقُولُ فِي الْأَرْنَبِ؟ قَالَ:" لَا آكُلُهَا وَلَا أُحَرِّمُهَا". قَالَ: قُلْتُ: مَا لَمْ تُحَرِّمْهُ فَإِنَّى آكُلُهُ. قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا تَقُولُ فِي الذِّئْبِ؟ قَالَ:" أَوَيَأْكُلُ ذَلِكَ أَحَدٌ؟" فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهُ مَا تَقُولُ فِي الثَّعْلَبِ؟ قَالَ أَوَيَأْكُلُ ذَلِكَ أَحَدٌ"؟. وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ عَنْ حَبَّانَ بْنِ جَزْءٍ عَنْ أَخِيهِ خُزَيْمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ يُوَافِقُ السُّلَمِيَّ فِي بَعْضِ حَدِيثِهِ وَيُخَالِفُهُ فِي بَعْضِهِ، وَفِي كِلَا الْإِسْنَادَيْنِ ضَعْفٌ. وَرُوِّينَا فِي كِتَابِ الْحَجِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمْ جَعَلُوا فِي الضَّبُعِ كَبْشًا إِذَا أَصَابَهُ الْمُحْرِمُ.
سیدنا عبدالرحمن بن معقل سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بجو کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کھاتا نہیں اور منع بھی نہیں کرتا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو منع نہیں کرتے تو میں کھالوں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: گوہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کھاتا بھی نہیں اور منع بھی نہیں کرتا۔“ راوی کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منع نہیں کرتے تو میں کھاؤں گا۔ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! خرگوش کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے؟ فرمایا: ”میں اس کو کھاتا نہیں اور حرام بھی نہیں کہتا۔“ راوی کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو حرام نہیں کہتے تو میں کھاؤں گا۔ کہتے ہیں میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! بھیڑیے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اسے کوئی کھاتا ہے؟“ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! لومڑی کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا لومڑی کو بھی کوئی کھاتا ہے؟“
(ب) سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ جب محرم آدمی بجو کا شکار کرے تو اس کے عوض ایک مینڈھا ادا کرے گا۔
یہ حدیث سیدنا خزیمہ بن جزء رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے جو بعض باتوں میں سلمی کی حدیث کے موافق اور بعض میں مخالف ہے، اور دونوں سندوں میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19387]
(ب) سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ جب محرم آدمی بجو کا شکار کرے تو اس کے عوض ایک مینڈھا ادا کرے گا۔
یہ حدیث سیدنا خزیمہ بن جزء رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے جو بعض باتوں میں سلمی کی حدیث کے موافق اور بعض میں مخالف ہے، اور دونوں سندوں میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19387]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19388
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو الْمِنْهَالِ نَصْرُ بْنُ أَوْسٍ الطَّائِيُّ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ وَلَدِ الضَّبُعِ، فَقَالَ: ذَاكَ الْفُرْعُلُ نَعْجَةٌ مِنَ الْغَنَمِ.
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بجو کے بچے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ بجو کا بچہ بکری کے بچے کے مانند ہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19388]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 19389
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ ⦗٥٣٧⦘ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرُّوَاسِيُّ، عَنْ نَصْرِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الضَّبُعِ، فَقَالَ: الْفُرْعُلُ تِلْكَ نَعْجَةٌ مِنَ الْغَنَمِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْفُرْعُلُ عِنْدَ الْعَرَبِ وَلَدُ الضَّبُعِ، وَالَّذِي يُرَادُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَوْلُهُ:" نَعْجَةٌ مِنَ الْغَنَمِ"، يَقُولُ: إِنَّهَا حَلَالٌ بِمَنْزِلَةِ الْغَنَمِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بجو کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: بجو کا بچہ بکری کی مانند حلال ہے۔ ابو عبید کہتے ہیں: بجو کا بچہ عرب کے نزدیک بکری کے قائم مقام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19389]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 19390
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْبُوبٍ، ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَتَاهُمْ كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُمْ فِي بَعْضِ الْمَغَازِي، بَلَغَنِي أَنَّكُمْ فِي أَرْضٍ تَأْكُلُونَ طَعَامًا يُقَالُ لَهُ الْجُبْنُ، فَانْظُرُوا مَا حَلَالُهُ مِنْ حَرَامِهِ، وَتَلْبَسُونَ الْفِرَاءَ فَانْظُرُوا ذَكِيَّهُ مِنْ مَيِّتِهِ.
زید بن وہب فرماتے ہیں کہ ان کے پاس عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خط آیا، وہ کسی غزوہ میں مصروف تھے کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم پنیر کھاتے ہو، دیکھ لینا کیا چیز حلال ہے اور کیا حرام اور تم پوستین (کھالیں) پہنتے ہو تو ان میں ذبح شدہ کو مردار سے الگ دیکھ لیا کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19390]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 19391
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ الدَّشْتَكِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْجُبْنِ وَالسَّمْنِ وَالْفِرَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَلَالُ مَا أَحَلَّ اللهُ فِي الْقُرْآنِ، وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللهُ فِي الْقُرْآنِ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَقَدْ عَفَا عَنْهُ". وَرَوَاهُ سَيْفُ بْنُ هَارُونَ عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ مَرْفُوعًا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي كِتَابِهِ: وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ.
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پنیر، گھی اور گورخر کے بارے میں سوال کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز قرآن میں حلال بیان کی گئی ہے، وہ حلال ہے اور جس کو اللہ نے قرآن میں حرام قرار دیا ہے وہ حرام ہے اور جس سے خاموشی اختیار کی اس سے درگزر کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19391]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
3869. -- باب: ما جاء في الأرنب
-- باب: خرگوش کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19392
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَى الْقَوْمُ فَلَغَبُوا، فَأَدْرَكْتُهَا فَأَخَذْتُهَا، فَذَهَبْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا وَبَعَثَ مِنْهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَرِكِهَا وَفَخِذِهَا - قَالَ: فَخِذِهَا لَا أَشُكُّ فِيهِ - فَقَبِلَهُ. قُلْتُ: وَأَكَلَ مِنْهُ؟ قَالَ: وَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: قَبِلَهُ. ⦗٥٣٨⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے مرّالظہران نامی جگہ پر خرگوش کو بھگایا، لوگوں نے کوشش کی اور تھک کر بیٹھ گئے، میں خرگوش کو پکڑ کر سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے خرگوش ذبح کر کے اس کے پٹھے اور ران کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، راوی کہتے ہیں کہ اس کی ران تھی، مجھے اس میں شک نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کر لی، میں نے پوچھا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا بھی تھا؟ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کھایا بھی تھا، پھر بعد میں کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کر لی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19392]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19393
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا وَنَحْنُ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَى الْقَوْمُ فَلَغَبُوا فَأَخَذْتُهَا، فَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا وَبَعَثَ بِوَرِكَيْهَا وَفَخِذَيْهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ شُعْبَةَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ عَفَّانُ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ فِيهِ: قُلْتُ: أَكَلَهَا؟ قَالَ: قَبِلَهَا.
ہشام بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہم نے مرّ الظہران نامی جگہ سے بھگایا تو لوگ دوڑتے ہوئے تھک گئے۔ میں اسے لے کر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جنہوں نے ذبح کر کے اس کے پٹھے اور رانیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیج دیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمائیں۔ (ب) عفان، شعبہ سے نقل فرماتے ہیں، جس میں ہے کہ میں نے پوچھا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا تھا؟ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19393]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19394
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ أَوْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَادَ أَرْنَبَيْنِ فَلَمْ يَجِدْ حَدِيدَةً يُذَكِّيهِمَا بِهَا، فَذَكَّاهُمَا بِمَرْوَةٍ فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهِمَا.
شعبی رحمہ اللہ، صفوان بن محمد یا محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے دو خرگوش شکار کیے، ذبح کرنے کے لیے لوہے کی چیز نہ ملی تو اس نے پتھر سے ذبح کر دیے۔ پھر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”خرگوش کھانے کی اجازت دے دی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19394]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19395
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَادَ أَرْنَبًا وَذَبَحَهَا بِمَرْوَةٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا. تَابَعَهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ.
شعبی رحمہ اللہ، سیدنا محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے خرگوش شکار کر کے پتھر سے ذبح کر دیے۔ پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے کھانے کی اجازت دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19395]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19396
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبَيْنِ فَعَلَّقَهُمَا وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اصْطَدْتُ هَذَيْنِ الْأَرْنَبَيْنِ فَلَمْ أَجِدْ حَدِيدَةً أُذَكِّيهِمَا بِهَا فَذَبَحْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ فَآكُلُ؟ قَالَ:" كُلْ". وَقِيلَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَحَدِيثُ ابْنِ صَفْوَانَ أَصَحُّ. قَالَهُ الْبُخَارِيُّ.
شعبی رحمہ اللہ، محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ دو خرگوش لٹکائے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے دو خرگوش شکار کیے اور ذبح کرنے کے لیے لوہے کی کوئی چیز نہ پائی تو پتھر سے ذبح کر ڈالے، کیا میں کھا لوں؟ فرمایا: ”کھا لے۔“
اسے شعبی سے جابر بن عبداللہ کے واسطے سے بھی بیان کیا گیا ہے، لیکن ابن صفوان کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ نے کہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19396]
اسے شعبی سے جابر بن عبداللہ کے واسطے سے بھی بیان کیا گیا ہے، لیکن ابن صفوان کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ نے کہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19396]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح