🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3905. -- باب:: صاحب المال لا يمنع المضطر فضلا، إن كان عنده
-- باب: صاحبِ مال ضرورت مند مجبور شخص کو اپنی ضرورت سے زائد مال دینے سے باز نہ رہے، بشرطیکہ وہ اس کے پاس موجود ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19672
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، بِمَعْنَى هَذَا. قَالَ إِسْمَاعِيلُ، وَكَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ: إِنْ أَبَوْا أَنْ يُطْعِمُوهُ، وَخَشِيَ عَلَى نَفْسِهِ، قَاتَلَهُمْ.
سیدنا حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ کھانا دینے سے انکار کر دیں اور اس کو اپنی جان کا خطرہ ہو تو وہ ان سے لڑائی کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19672]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3906. -- باب: ما يحل من الأدوية النجسة بالضرورة
-- باب: مجبوری کی حالت میں ناپاک ادویات میں سے کتنی مقدار حلال ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19673
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ" أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الْعُرَنِيِّينَ، أَنْ يَشْرَبُوا أَلْبَانَ الْإِبِلِ، وَأَبْوَالَهَا".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرنیین کو حکم فرمایا تھا کہ وہ ”اونٹوں کے پیشاب اور دودھ پیا کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19673]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ومسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19674
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُرَيْنَةَ أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّا قَدِ اجْتَوَيْنَا الْمَدِينَةَ، وَعَظُمَتْ بُطُونُنَا، وَارْتَهَسَتْ أَعْضَادُنَا،" فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْحَقُوا بِرَاعِي الْإِبِلِ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا"، فَلَحِقُوا بِرَاعِي الْإِبِلِ، فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا، وَأَلْبَانِهَا، حَتَّى صَلُحَتْ بُطُونُهُمْ وَأَبْدَانُهُمْ، ثُمَّ قَتَلُوا الرَّاعِيَ، وَسَاقُوا الْإِبِلَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ، فَجِيءَ بِهِمْ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، قَالَ قَتَادَةُ: ⦗٧⦘ فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ أَنَّ:" ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ هَمَّامٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عرینہ قبیلہ کے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہنے لگے ہمیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہیں (یعنی موافق نہیں آئی) ہمارے پیٹ بڑھ گئے ہیں اور ہمارے بازو زخمی ہو گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ: ”وہ اونٹوں کے چرواہوں کے پاس جا کر اونٹوں کا دودھ اور پیشاب استعمال کریں۔“ تو انہوں نے چرواہوں کے پاس جا کر اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا تو ان کے بدن اور پیٹ درست ہو گئے۔ پھر انہوں نے چرواہوں کو قتل کر دیا اور اونٹ لے گئے۔
یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پکڑنے کے لیے آدمی روانہ کیے جو ان کو لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19674]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19675
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُقْرِئُ، وَطَرِيفُ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنِي إِسْرَائِيلُ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ قُبَاءَ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ شُرْبِ أَلْبَانِ الْأُتُنِ، فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهَا"، قَالَ الشَّيْخُ: لَيْسَ هَذَا بِالْقَوِيِّ.
ثویر اہل قباء کے ایک شیخ سے نقل فرماتے ہیں اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، جو صحابیِ رسول رضی اللہ عنہ ہیں، کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھی کے دودھ پینے کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
یہ روایت قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19675]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3907. -- باب: النهي عن التداوي بالمسكر
-- باب: نشہ آور اشیاء سے علاج کرنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19676
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ، أَوْ سُوَيْدَ بْنَ طَارِقٍ رَجُلًا مِنْ جُعْفِيٍّ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ، فَنَهَى عَنْ صَنْعَتِهَا، فَقَالَ: إِنَّهَا دَوَاءٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِدَوَاءٍ، وَلَكِنَّهَا دَاءٌ"، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ: إِنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ سَأَلَ.
طارق بن سوید یا سوید بن طارق جعفی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بنانے سے منع فرمایا۔ وہ کہنے لگا: یہ دوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دوا نہیں بلکہ یہ بیماری ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19676]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٩٨٤»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19677
أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا أَهْبَطَهُ اللهُ إِلَى الْأَرْضِ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: أَيْ رَبِّ: {أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ} [البقرة: ٣٠] ، قَالُوا: رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ، قَالَ اللهُ لِلْمَلَائِكَةِ:" هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ حَتَّى نُهْبِطَهُمَا إِلَى الْأَرْضِ، فَنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ"، قَالُوا: رَبَّنَا هَارُوتُ وَمَارُوتُ، فَأُهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ، وَمُثِّلَتْ لَهُمَا الزَّهْرَةُ امْرَأَةً مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ، فَجَاءَتْهُمَا، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللهِ حَتَّى تَكَلَّمَا بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنَ الْإِشْرَاكِ، قَالَا: لَا وَاللهِ، لَا نُشْرِكُ ⦗٨⦘ بِاللهِ أَبَدًا، فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا، ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِيٍّ تَحْمِلُهُ، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللهِ، حَتَّى تَقْتُلَا هَذَا الصَّبِيَّ، فَقَالَا: لَا وَاللهِ لَا نَقْتُلُهُ أَبَدًا، فَذَهَبَتْ، ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحِ خَمْرٍ تَحْمِلُهُ، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ، فَشَرِبَا فَسَكِرَا، فَوَقَعَا عَلَيْهَا، وَقَتَلَا الصَّبِيَّ، فَلَمَّا أَفَاقَا، قَالَتِ الْمَرْأَةُ: وَاللهِ مَا تَرَكْتُمَا مِمَّا أَبَيْتُمَا عَلَيَّ إِلَّا قَدْ فَعَلْتُمَاهُ حِينَ سَكِرْتُمَا، فَخُيِّرَا عِنْدَ ذَلِكَ بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا، وَعَذَابِ الْآخِرَةِ، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا تَفَرَّدَ بِهِ زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ كَعْبٍ قَالَ:" ذَكَرَتِ الْمَلَائِكَةُ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ" فَذَكَرَ بَعْضَ هَذِهِ الْقِصَّةِ، وَهَذَا أَشْبَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جب اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارا تو فرشتے کہنے لگے: ﴿أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ [سورة البقرة: 30] ”اے اللہ! کیا تو اس کو (زمین میں) بھیجے گا جو فساد کرے اور خون بہائے زمین میں اور ہم تیری حمد و تقدیس بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔“ اے ہمارے رب! ہم بنو آدم سے زیادہ فرمانبردار ہیں، تو اللہ نے فرمایا: ”دو فرشتے لاؤ، ہم انہیں زمین پر اتارتے ہیں، ہم دیکھتے ہیں وہ کیسے عمل کرتے ہیں۔“ انھوں نے کہا: یہ ہاروت اور ماروت ہیں۔ وہ دونوں زمین پر اتار دیے گئے تو ایک خوبصورت عورت ان کے سامنے ظاہر ہوئی تو ان دونوں نے اس کے نفس کے بارے میں سوال شروع کر دیا، وہ کہنے لگی: نہیں، جتنی دیر تم یہ شرکیہ بات نہ کہو گے۔ وہ کہنے لگے: ہم اللہ کی قسم! ہرگز شرک نہ کریں گے۔ پس وہ ان دونوں کے پاس سے چلی گئی اور پھر ایک بچہ اٹھا کر واپس پلٹی۔ پھر ان دونوں نے اس کے نفس کے بارے میں سوال کیا تو وہ کہنے لگی: اللہ کی قسم! یہ نہ ہوگا جب تک تم دونوں اس بچے کو قتل نہ کر دو۔ وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہم اسے ہرگز قتل نہ کریں گے۔ پھر وہ عورت ایک شراب کا پیالہ لے کر آئی۔ پھر ان دونوں نے اس کے نفس کا مطالبہ کیا، وہ کہنے لگی: اللہ کی قسم! پہلے شراب پیو۔ ان دونوں نے شراب کو پی لیا اور نشے میں دھت ہو گئے تو عورت سے بدکاری اور بچے کا قتل دونوں جرم کر لیے۔ جب دونوں نشے سے فارغ ہوئے تو عورت کہنے لگی: اللہ کی قسم! تم نے نشے کی حالت میں وہ جرم کر لیا جس سے میں نے انکار کر دیا تھا، تو اس وقت ان کو دنیا اور آخرت کے عذاب کے بارے میں اختیار دیا گیا تو انھوں نے دنیا کے عذاب کو اختیار کر لیا۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت کعب سے نقل فرماتے ہیں کہ فرشتوں نے بنو آدم کے اعمال کا تذکرہ کیا۔ پھر اس کے مثل بیان کیا۔
اس روایت کو موسیٰ بن جبیر سے، وہ نافع سے بیان کرنے میں زہیر بن محمد منفرد ہیں، اور (کعب والی) یہ روایت زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19677]
تخریج الحدیث: «منكر۔ العلل الدار قطني ٢٧٩٢»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19678
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو - وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ،" إِيَّاكُمْ وَالْخَمْرَ، فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ"، أَتَى رَجُلٌ فَقِيلَ لَهُ: إِمَّا أَنْ تَحْرِقَ هَذَا الْكِتَابَ، وَإِمَّا أَنْ تَقْتُلَ هَذَا الصَّبِيَّ، وَإِمَّا أَنْ تَقَعَ عَلَى هَذِهِ الْمَرْأَةِ، وَإِمَّا أَنْ تَشْرَبَ هَذَا الْكَأسَ، وَإِمَّا أَنْ تَسْجُدَ لِهَذَا الصَّلِيبِ، قَالَ:" فَلَمْ يَرَ فِيهَا شَيْئًا أَهْوَنَ مِنْ شُرْبِ الْكَأسِ، فَلَمَّا شَرِبَهَا سَجَدَ لِلصَّلِيبِ، وَقَتَلَ الصَّبِيَّ وَوَقَعَ عَلَى الْمَرْأَةِ، وَحَرَّقَ الْكِتَابَ". وَقَدْ رَوَيْنَاهُ فِي كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
یحییٰ بن جعدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم شراب سے بچو، کیونکہ یہ ہر برائی کی چابی ہے، ایک آدمی کو لایا گیا، اس سے کہا گیا: اس کتاب کو جلاؤ یا یہ بچہ قتل کرو یا اس عورت پر واقع ہو یا پھر شراب کا پیالہ پیو یا اس صلیب کو سجدہ کرو، فرماتے ہیں: اس نے ان سب میں سے سب سے چھوٹا کام شراب کا پی لینا سمجھا، جب اس نے شراب پی لی تو صلیب کو سجدہ، بچے کا قتل، عورت سے بدکاری اور کتاب کا جلانا، یہ سب جرم کر لیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19678]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم ٨/ ١٧٣٣٩/١٧٣٤٠»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19679
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا حَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: نَبَذْتُ نَبِيذًا فِي كُوزٍ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَغْلِي، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟"، قُلْتُ: اشْتَكَتِ ابْنَةٌ لِي، فَنُعِتَ لَهَا هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِيمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ". وَرَوَاهُ خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ حَسَّانَ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کوزے میں نبیذ بنایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے، وہ جوش مار رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: میری بیٹی بیمار ہوگئی، میں نے اس کے لیے تیار کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے حرام کردہ چیز میں تمہارے لیے شفا نہیں رکھی۔“
(ب) حضرت حسان، ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے۔ پھر اس کے مثل ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19679]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19680
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: اشْتَكَى رَجُلٌ مِنَّا بَطْنَهُ، فَوَجَدَ فِيهِ الصُّفْرَ يَعْنِي الْمَاءَ الْأَصْفَرَ، فَأَتَى عَبْدَ اللهِ فَقَالَ: أَنِّي اشْتَكَيْتُ بَطْنِي فَنُعِتَ لِيَ السُّكْرُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ:" إِنَّ اللهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِيمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ".
شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کا پیٹ خراب ہو گیا، زرد پانی پایا گیا تو اسے عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا، وہ کہنے لگا: میرا پیٹ خراب ہو گیا ہے، میرے لیے شراب یا نشہ آور چیز بنائی گئی ہے، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”جو اللہ نے تمہارے اوپر حرام کر دیا، اس میں تمہارے لیے شفا نہیں رکھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19680]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3908. -- باب: النهي عن التداوي بما يكون حراما في غير حال الضرورة
-- باب: ان اشیاء سے علاج کرنے کی ممانعت کا بیان جو مجبوری کے علاوہ دیگر حالات میں حرام ہوں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19681
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ الدَّاءَ وَالدَّوَاءَ، وَجَعَلَ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءً فَتَدَاوَوْا، وَلَا تَدَاوَوْا بِحَرَامٍ".
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے دوا اور بیماری دونوں نازل کی ہیں اور ہر بیماری کے لیے دوا ہے، تم دوا کرو، لیکن حرام سے علاج کرنے سے بچو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19681]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں