السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3903. -- باب: ما جاء فيمن مر بحائط إنسان أو ماشيته
-- باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جو کسی کے باغ یا اس کے مویشیوں کے پاس سے گزرے۔
حدیث نمبر: 19652
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ، قَالَ: وَذُكِرَ لِأَبِي زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، فِي الرَّجُلِ يَمُرُّ بِالْحَائِطِ فَيَأْكُلُ مِنْهُ، قَالَ: هَذَا غَلَطٌ. وَقَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ يَرْوِي أَحَادِيثَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ يَهِمُ فِيهَا. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ لَيْسَتْ بِقَوِيَّةٍ.
ابو زکریا یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کے سامنے یحییٰ بن سلیم طائفی کی وہ حدیث ذکر کی گئی جو وہ عبیداللہ سے ایسے شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو باغ کے پاس سے گزرتا ہے اور اس میں سے کھا لیتا ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”یہ غلط ہے۔“ امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل (بخاری) رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یحییٰ بن سلیم، عبیداللہ سے ایسی احادیث روایت کرتے ہیں جن میں انہیں وہم ہو جاتا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے جو قوی نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19652]
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے جو قوی نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19652]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لابن معين»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19653
فَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الضَّالَّةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: ثُمَّ سَأَلَهُ عَنِ الثِّمَارِ يُصِيبُهُ الرَّجُلُ، قَالَ:" مَا أَخَذَ فِي أَكْمَامِهِ - يَعْنِي رُءُوسَ النَّخْلِ - فَاحْتَمَلَهُ فَثَمَنُهُ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَضَرْبٌ نَكَالٌ، وَمَا كَانَ فِي أَجْرَانِهِ فَأَخَذَ فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ، وَإِنْ أَكَلَ بِفِيهِ وَلَمْ يَأْخُذْ فَيَتَّخِذْ خُبْنَةً فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ". وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَمَحْمُولٌ عَلَى أَنْ لَيْسَ عَلَيْهِ فِيهِ قَطْعٌ حِينَ لَمْ يُخْرِجْهُ مِنَ الْحِرْزِ.
مزینہ قبیلے کے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جو باغ کے پھل توڑ لیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کھجور سے توڑ کر ساتھ لے لیا تو اس کی قیمت اور اتنی ہی مزید ادا کرنا ہوگی اور عبرت ناک سزا دینا ہوگی۔ جس نے ڈھیر سے اٹھا لیا، اگر وہ ڈھال کی قیمت جتنا ہوا تو ہاتھ کاٹا جائے گا، لیکن اگر اس نے صرف کھایا، ساتھ نہیں لیا اس پر کوئی حد نہیں۔“
شیخ فرماتے ہیں: اگر یہ حدیث صحیح ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں، کیونکہ اس نے پھل کو محفوظ جگہ سے نہیں نکالا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19653]
شیخ فرماتے ہیں: اگر یہ حدیث صحیح ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں، کیونکہ اس نے پھل کو محفوظ جگہ سے نہیں نکالا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19653]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 19654
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ، فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا فَلْيُصَوِّتْ ثَلَاثًا، فَإِنْ أَجَابَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ، وَإِلَّا فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلْ. قَالَ الشَّيْخُ: أَحَادِيثُ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ لَا يُثْبِتُهَا بَعْضُ الْحُفَّاظِ، وَيَزْعُمُ أَنَّهَا مِنْ ⦗٦٠٤⦘ كِتَابٍ غَيْرَ حَدِيثِ الْعَقِيقَةِ الَّذِي قَدْ ذُكِرَ فِيهِ السَّمَاعُ، وَإِنْ صَحَّ فَهُوَ مَحْمُولٌ عَلَى حَالِ الضَّرُورَةِ.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جانور کے پاس آؤ، وہاں ان کا مالک ہو تو اجازت لے کر دودھ دوہ کر پی لو۔ اگر مالک نہ ہو تو تین آوازیں لگاؤ۔ اگر مالک آجائے تو اجازت لے لو، وگرنہ دودھ دوہ کر پی لو، ساتھ نہ لے جاؤ۔“
شیخ فرماتے ہیں: حسن کی سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ احادیث کو بعض حفاظ ثابت نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ یہ ایک کتاب سے لی گئی ہیں، سوائے عقیقہ والی حدیث کے جس میں سماع کا ذکر ہے۔ اگر یہ حدیث صحیح ہو تب یہ بوقتِ ضرورت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19654]
شیخ فرماتے ہیں: حسن کی سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ احادیث کو بعض حفاظ ثابت نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ یہ ایک کتاب سے لی گئی ہیں، سوائے عقیقہ والی حدیث کے جس میں سماع کا ذکر ہے۔ اگر یہ حدیث صحیح ہو تب یہ بوقتِ ضرورت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19654]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19655
وَمِنْهَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى رَاعٍ فَلْيُنَادِ: يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا، فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَحْلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلَنَّ، وَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى حَائِطٍ فَلْيُنَادِ ثَلَاثًا: يَا صَاحِبَ الْحَائِطِ، فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَحْمِلَنَّ". تَفَرَّدَ بِهِ سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ إِلَّا أَنَّهُ اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ، وَسَمَاعُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنْهُ بَعْدَ اخْتِلَاطِهِ. وَرَوَاهُ أَيْضًا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخِلَافِ ذَلِكَ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اونٹوں کے چرواہوں کے پاس آؤ تو تین آوازیں دو، اگر کوئی جواب ملے تو درست، وگرنہ دوہ لو، پی لو اور ساتھ نہ لے جاؤ؛ اور جب تم کسی کے باغ میں آؤ تو تین آوازیں لگا لیا کرو، اگر جواب مل جائے تو درست ہے، وگرنہ باغ کا پھل کھا لینے کی اجازت ہے، لیکن ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں سعید بن ایاس جریری منفرد ہیں، وہ ثقہ راویوں میں سے ہیں مگر آخری عمر میں ان کا حافظہ خلط ملط ہو گیا تھا اور یزید بن ہارون نے ان سے اختلاط کے بعد سنا ہے۔ اسے حماد بن سلمہ نے بھی جریری سے روایت کیا ہے اور یہ قوی نہیں ہے، اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کے خلاف روایت بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19655]
اس روایت کو بیان کرنے میں سعید بن ایاس جریری منفرد ہیں، وہ ثقہ راویوں میں سے ہیں مگر آخری عمر میں ان کا حافظہ خلط ملط ہو گیا تھا اور یزید بن ہارون نے ان سے اختلاط کے بعد سنا ہے۔ اسے حماد بن سلمہ نے بھی جریری سے روایت کیا ہے اور یہ قوی نہیں ہے، اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کے خلاف روایت بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19655]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19656
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَحُلَّ صِرَارَ نَاقَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ أَهْلِهَا، فَإِنَّ خَاتَمَ أَهْلِهَا عَلَيْهَا. فَقِيلَ لِشَرِيكٍ: أَرَفَعَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا يوَافِقُ الْحَدِيثَ الثَّابِتَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ، وَقَدْ مَضَى فِي الْبَابِ قَبْلَهُ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ گھر والوں کی اجازت کے بغیر اونٹنی کے دودھ دوہنے کے لیے تھن کھولے؛ کیونکہ اس کے گھر والوں نے اس پر مہر ثبت کر رکھی ہوئی ہے۔“ جب شریک سے کہا گیا: ”کیا آپ اس کو مرفوع بیان کرتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، مرفوع بیان کرتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19656]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19657
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَإِنَّمَا يُوَجَّهُ هَذَا الْحَدِيثُ يَعْنِي حَدِيثَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فِي الرُّخْصَةِ أَنَّهُ رَخَّصَ فِيهِ لِلْجَائِعِ الْمُضْطَرِّ الَّذِي لَا شَيْءَ مَعَهُ يَشْتَرِي بِهِ، وَهُوَ مُفَسَّرٌ فِي حَدِيثٍ آخَرَ حَدَّثَنَاهُ الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْجَائِعِ الْمُضْطَرِّ إِذَا مَرَّ بِالْحَائِطِ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، وَلَا يَتَّخِذَ خُبْنَةً. ⦗٦٠٥⦘ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَمِمَّا يبَيِّنُ ذَلِكَ حَدِيثُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْأَنْصَارِ الَّذِينَ مَرُّوا بِحَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ فَسَأَلُوهُمُ الْقِرَى فَأَبَوْا، فَسَأَلُوهُمُ الشِّرَى فَأَبَوْا، فَضَبَطُوهُمْ فَأَصَابُوا مِنْهُمْ، فَأَتَوْا عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَهَمَّ بِالْأَعْرَابِ، وَقَالَ: ابْنُ السَّبِيلِ أَحَقُّ بِالْمَاءِ مِنَ التَّانِئِ عَلَيْهِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنَاهُ حَجَّاجٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فَهَذَا مُفَسَّرٌ إِنَّمَا هُوَ لِمَنْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى قِرًى وَلَا شِرًى. وَكَذَلِكَ قَالَ فِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ: لِيُصَوِّتْ، يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا؛ لِيَكُونَ طَلَبُ الْقِرَى قَبْلُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي مِثْلِ هَذَا مَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الْإِبِلُ نَلْقَاهَا وَنَحْنُ مُحْتَاجُونَ وَهِيَ مُصَرَّاةٌ. قَالَ:" تُنَادِي يَا صَاحِبَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا، فَإِنْ أَجَابَكَ، وَإِلَّا فَاحْلُبْ ثُمَّ دَعْ لِلَّبَنِ دَوَاعِيَهُ". زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ: وَاحْلُبْ ثُمَّ صُرَّ وَبَقِّ لِلَّبَنِ دَوَاعِيَهُ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عمرو بن شعیب کی احادیث میں رخصت ہے، ایسا انسان جو کچھ خرید نہیں سکتا اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب باغ کے پاس سے گزرے تو کھا لے لیکن جھولی بھر کر نہ لے جائے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ انصار ایک عرب قبیلہ کے پاس سے گزرے، جب ان سے مہمانی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے ان سے کچھ مال لے لیا۔ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے دیہاتی لوگوں کا قصد کیا اور فرمایا: مسافر لوگ جس پانی کے چشمہ پر واقع ہوں اس کے زیادہ حق دار ہوتے ہیں۔ ابو عبید رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر یہ بیان کی، جو مہمان نوازی اور کچھ خریدنے کی طاقت نہ رکھے۔ وہ چرواہے کو تین آوازیں لگائے تاکہ وہ اس سے مہمانی کا مطالبہ کر سکے۔
شیخ فرماتے ہیں: قاسم بن مخول اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہم اونٹوں سے ملتے ہیں ہمیں دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ انہوں نے دودھ روکا ہوتا ہے تو ”چرواہے کو تین آوازیں دو۔ اگر جواب ملے تو درست وگرنہ دودھ دوہ لیا کرو۔ پھر دوہنے والوں کے لیے چھوڑ دیا کرو۔ پھر دودھ اور دودھ روک دے تاکہ چرواہے دودھ دوہ سکیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19657]
شیخ فرماتے ہیں: قاسم بن مخول اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہم اونٹوں سے ملتے ہیں ہمیں دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ انہوں نے دودھ روکا ہوتا ہے تو ”چرواہے کو تین آوازیں دو۔ اگر جواب ملے تو درست وگرنہ دودھ دوہ لیا کرو۔ پھر دوہنے والوں کے لیے چھوڑ دیا کرو۔ پھر دودھ اور دودھ روک دے تاکہ چرواہے دودھ دوہ سکیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19657]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19658
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ سَلِيطِ بْنِ عَبْدِ اللهِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ ذُهَيْلِ بْنِ عَوْفِ بْنِ شَمَّاخٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا إِبِلٌ مُصَرَّرَةٌ بِعِضَاهِ الشَّجَرِ فَانْطَلَقَ نَاسٌ لِيَحْتَلِبُوا، فَدَعَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَاسًا عَمَدُوا إِلَى مَزَاوِدِكُمْ فِيهَا أَزْوِدَتُكُمْ فَأَخَذُوا مَا فِيهَا لَكَانُوا غَدَرُوكُمْ؟" قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" هَذِهِ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، إِنَّ مَا فِي ضُرُوعِهَا مِثْلُ مَا فِي أَزْوِدَتِكُمْ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنْ مَالِ أَخِيهِ؟ قَالَ:" أَنْ يَأْكُلَ وَلَا يَحْمِلَ، وَيَشْرَبَ وَلَا يَحْمِلَ". هَذَا إِسْنَادٌ مَجْهُولٌ لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ الْحُجَّةُ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْحَجَّاجِ مَا دَلَّ أَنَّهُ فِي الْمُضْطَرِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ کچھ اونٹ کانٹے دار درختوں کے پاس تھے جن کے تھن باندھے ہوئے تھے۔ لوگ ان کا دودھ دوہنے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا لیا اور فرمایا: ”اگر لوگ تمہارے مشکیزے میں موجود چیز کا قصد کریں اور تمہاری کھانے کی اشیاء لے جائیں تو انہوں نے تمہارے ساتھ غدر کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ہاں! فرمایا: ”یہ بھی مسلمان گھروں کی مانند ہیں جو ان کے تھنوں میں موجود ہے۔ وہ تمہارے مشکیزوں میں موجود اشیاء کی مانند ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے بھائی کے مال سے حلال چیز کے متعلق پوچھا تو فرمایا: ”کھائے پیے لیکن ساتھ نہ لے کر جائے۔“
یہ سند مجہول ہے، اس جیسی سند سے دلیل قائم نہیں ہوتی، اور حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں ہیں۔ حجاج سے ایک دوسری سند سے بھی روایت کی گئی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ مجبور (مضطر) شخص کے بارے میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19658]
یہ سند مجہول ہے، اس جیسی سند سے دلیل قائم نہیں ہوتی، اور حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں ہیں۔ حجاج سے ایک دوسری سند سے بھی روایت کی گئی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ مجبور (مضطر) شخص کے بارے میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19658]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19659
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْحَجَّاجِ، ⦗٦٠٦⦘ عَنْ سَلِيطِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ ذُهَيْلِ بْنِ عَوْفِ بْنِ شَمَّاخٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ رَأَيْنَا إِبِلًا مَصْرُورَةً بِعِضَاهِ الشَّجَرِ. قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَقُلْنَا: أَفَرَأَيْتَ إِنِ احْتَجْنَا إِلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ؟ فَقَالَ:" كُلْ وَلَا تَحْمِلْ، وَاشْرَبْ وَلَا تَحْمِلْ". وَرَوَاهُ شَرِيكٌ الْقَاضِي عَنِ الْحَجَّاجِ، فَخَالَفَ فِي إِسْنَادِهِ مَنْ مَضَى.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ہوتے ہوئے) کچھ اونٹ کانٹے دار درختوں کے پاس دیکھے جن کے تھن باندھے ہوئے تھے، ہم نے عرض کیا: جب ہم کھانے پینے کی ضرورت محسوس کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ، پیو لیکن ساتھ اٹھا کر نہ لے جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19659]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19660
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحَجْرِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ سَلِيطٍ التَّمِيمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنْ مَالِ أَخِيهِ، قَالَ:" يَأْكُلُ حَتَّى يَشْبَعَ إِذَا كَانَ جَائِعًا، وَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ انسان کے لیے اپنے بھائی کے مال سے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بھوکا ہو یا پیاسا ہو پیٹ بھر کر کھا پی لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19660]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3904. -- باب: ما يحل للمضطر من مال الغير
-- باب: مجبور شخص کے لیے دوسرے کے مال میں سے کیا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 19661
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الزَّكِيُّ أَبُو الْقَاسِمِ مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الْمُنْعِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْفَرَاوِيُّ قَالَ: أَخْبَرنَا أَبُو الْمَعَالِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ الْحَافِظُ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَيْهقِيُّ، وَأَنْبَأَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَشْيَاخِنَا عَنْ زَاهِرِ بْنِ طَاهِرٍ الشَّحَّامِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ:.
عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا اور مجھے سخت بھوک لگی ہوئی تھی، میں ایک باغ میں داخل ہوا اور پھل دار شاخ کو پکڑ کر اس سے کھالیا اور کچھ اپنے کپڑے میں ڈال لیا، باغ والا آگیا، اس نے مجھے مارا بھی اور مجھ سے توڑا ہوا پھل بھی چھین لیا، راوی فرماتے ہیں کہ پھر ہم دونوں (باغ والا اور عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے واقعے کا تذکرہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ نہیں جانتا تھا تو آپ اس کو سکھا دیتے اور آپ نے اس کو بھوک کی وجہ سے کھلایا بھی نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک وسق جو کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19661]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطيالسي»
الحكم على الحديث: صحيح