السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3930. -- باب: كراهية خصاء البهائم
-- باب: جانوروں کو خصی کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 19795
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ عُمَرَ الصَّحَّافُ، ثنا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِخْصَاءِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ وَالْخَيْلِ"، وَقَالَ:" إِنَّمَا النَّمَاءُ فِي الْحَبَلِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ غَيْرُ جُبَارَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ جُبَارَةُ أَيْضًا، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُ جُبَارَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَهَذَا الْمَتْنُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَشْبَهُ، فَعَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ فِيهِ ضَعْفٌ يَلِيقُ بِهِ رَفْعُ الْمَوقُوفَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَرُوِيَ عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا، وَالصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ.
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں، بیل، بکرے اور گھوڑے کو خصی کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”نسل کا بڑھنا تو صرف حمل سے ہوتا ہے۔“
(ب) ابن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو خصی کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”کیا نسل مذکروں کی وجہ سے نہیں بڑھتی؟“
(ج) ابراہیم بن مہاجر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ گھوڑوں کو خصی نہ کیا جائے اور گھوڑے کو دو سو کے درمیان نہ بھگایا جائے۔
یہ متن عبداللہ بن نافع والی سند کے زیادہ مناسب ہے، کیونکہ عبداللہ بن نافع میں ایسا ضعف ہے جس کی وجہ سے موقوف روایات کو مرفوع بیان کر دینا ان سے بعید نہیں۔ اور یہ موسیٰ بن یسار عن نافع عن ابن عمر کی سند سے مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19795]
(ب) ابن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو خصی کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”کیا نسل مذکروں کی وجہ سے نہیں بڑھتی؟“
(ج) ابراہیم بن مہاجر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ گھوڑوں کو خصی نہ کیا جائے اور گھوڑے کو دو سو کے درمیان نہ بھگایا جائے۔
یہ متن عبداللہ بن نافع والی سند کے زیادہ مناسب ہے، کیونکہ عبداللہ بن نافع میں ایسا ضعف ہے جس کی وجہ سے موقوف روایات کو مرفوع بیان کر دینا ان سے بعید نہیں۔ اور یہ موسیٰ بن یسار عن نافع عن ابن عمر کی سند سے مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19795]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19796
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا،" فِي قَوْلِهِ {وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللهِ} [النساء: ١١٩] قَالَ: يَعْنِي إِخْصَاءَ الْبَهَائِمِ".
ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ﴾ [سورة النساء: 119] ”البتہ میں ضرور ان کو حکم دوں گا وہ اللہ کی مخلوق میں تبدیلی کر دیں گے“ کے متعلق فرماتے ہیں: ”اس سے مراد جانوروں کو خصی کرنا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19796]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19797
قَالَ: وَحَدَّثَنَا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ:" يَعْنِي الْفِطْرَةَ: الدِّينَ".
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یعنی دین کی فطرت میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19797]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19798
قَالَ: وَقَالَ: حَدَّثَنَا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ:" يَعْنِي: دِينَ اللهِ". وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ، وَسَعَيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَقَتَادَةَ مِثْلَ قَوْلِ إِبْرَاهِيمَ، وَعَنْ بَشِيرٍ قَالَ:" أَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْصِي بَغْلًا لَهُ فِي خِلَافَتِهِ"، وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْخِصَاءِ، فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهِ"، وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ أَخْصَى بَغْلًا لَهُ، وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ قَالَ: لَا بَأْسَ بِإِخْصَاءِ الْخَيْلِ، لَوْ تُرِكَتِ الْفُحُولُ لَأَكَلَ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَعَنْ عَطَاءٍ: مَا خِيفَ عِضَاضُهُ وَسُوءَ خُلُقِهِ، فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَمُتَابَعَةُ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَعَ مَا فِيهِ مِنَ السُّنَّةِ الْمَرْوِيَّةِ أَوْلَى، وَبِاللهِ التَّوْفِيقِ، وَيُحْتَمَلُ جَوَازُ ذَلِكَ إِذَا اتِّصَلَ بِهِ غَرَضٌ صَحِيحٌ، كَمَا حَكَيْنَا عَنِ التَّابِعِينَ، وَرَوَيْنَا فِي كِتَابِ الضَّحَايَا تَضْحِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ وَذَلِكَ لِمَا فِيهِ مِنْ تَطْيِيبِ اللَّحْمِ.
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے دین میں۔
حسن، سعید بن جبیر اور قتادہ رحمہم اللہ سے بھی ابراہیم کے قول کی مثل منقول ہے۔
بشیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنی خلافت کے دوران مجھے حکم دیا کہ میں ان کے خچر کو خصی کر دوں۔ حسن رحمہ اللہ سے خصی کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے اپنے خچر کو خصی کیا تھا۔
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گھوڑے کو خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگر سانڈ چھوڑ دیے جائیں تو یہ ایک دوسرے کو کھا جائیں۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس کے کاٹنے اور بری عادات کا ڈر ہو اس کے خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے قول کی پیروی، اس سنت کے ساتھ جو اس بارے میں مروی ہے، زیادہ بہتر ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اور جب اس کے ساتھ کوئی صحیح غرض وابستہ ہو تو اس کے جائز ہونے کا احتمال ہے، جیسا کہ ہم نے تابعین سے نقل کیا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خصی مینڈھے قربان کیے“ اور ان کا گوشت بھی لذیذ ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19798]
حسن، سعید بن جبیر اور قتادہ رحمہم اللہ سے بھی ابراہیم کے قول کی مثل منقول ہے۔
بشیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنی خلافت کے دوران مجھے حکم دیا کہ میں ان کے خچر کو خصی کر دوں۔ حسن رحمہ اللہ سے خصی کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے اپنے خچر کو خصی کیا تھا۔
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گھوڑے کو خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگر سانڈ چھوڑ دیے جائیں تو یہ ایک دوسرے کو کھا جائیں۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس کے کاٹنے اور بری عادات کا ڈر ہو اس کے خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے قول کی پیروی، اس سنت کے ساتھ جو اس بارے میں مروی ہے، زیادہ بہتر ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اور جب اس کے ساتھ کوئی صحیح غرض وابستہ ہو تو اس کے جائز ہونے کا احتمال ہے، جیسا کہ ہم نے تابعین سے نقل کیا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خصی مینڈھے قربان کیے“ اور ان کا گوشت بھی لذیذ ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19798]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3931. -- باب: ما جاء في تسمية البهائم والدواب
-- باب: مویشیوں اور چوپایوں کے نام رکھنے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19799
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ وَكَانَتْ لَا تُسْبَقُ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ، فَسَبَقَهَا، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وُجُوهِهِمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، سُبِقَتِ الْعَضْبَاءُ، فَقَالَ:" إِنَّ حَقًّا عَلَى اللهِ، أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ"، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ حُمَيْدٍ وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْحَجِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ، فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ إِلَى الصَّخْرَاتِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا نام عضباء تھا اور یہ کبھی ہاری نہ تھی، ایک مرتبہ ایک دیہاتی کا اونٹ اس سے جیت گیا تو مسلمانوں کو ناگوار گزرا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہروں پر ناراضگی کے اثرات دیکھے اور انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! عضباء ہار گئی!“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا قانون ہے کہ جس کو دنیا میں عروج ملتا ہے ایک دن اس پر زوال بھی آتا ہے۔“
(ب) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما حجۃ الوداع کے قصہ کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قصواء اونٹنی پر سوار ہوئے تو آپ کی اونٹنی قصواء کا پیٹ چٹانوں سے مس کر رہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19799]
(ب) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما حجۃ الوداع کے قصہ کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قصواء اونٹنی پر سوار ہوئے تو آپ کی اونٹنی قصواء کا پیٹ چٹانوں سے مس کر رہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19799]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2871۔ 2872۔ 6501»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19800
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سَعِيدٌ الْجَرْمِيُّ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَا: ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، ثنا أُبِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسٌ فِي حَائِطِنَا يُقَالُ لَهُ اللُّحَيْفُ". لَفْظُ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ، وَفِي رِوَايَةِ الْجَرْمِيِّ" اللُّخَيْفَ" بِالْخَاءِ، ⦗٤٤⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مَعْنٍ بِالْحَاءِ، ثُمَّ قَالَ: وَقَالَ: بَعْضُهُمْ: اللُّخَيْفَ بِالْخَاءِ.
ابی بن عباس بن سہل بن سعد اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گھوڑا ہمارے باغ میں تھا، اس کا نام «لُحَيْفٌ» ”لحیف“ یا «لَخَيْفٌ» ”لخیف“ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19800]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه البخاري 2855»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19801
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سَعِيدٌ الْجَرْمِيُّ، ثنا مَعْنٌ، حَدَّثَنِي أُبِيُّ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ أَخِيهِ مُصَدِّقِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، هَكَذَا قَالَ:" إِنَّهُ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُمْ فَرَسٌ يُقَالُ لَهَا الضَّرْبُ، وَآخَرُ يُقَالُ لَهُ اللِّرَازُ".
مصدق بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے والد سے اس طرح نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک گھوڑا تھا، اس کا نام ظرب اور دوسرے کا نام لزار تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19801]
حدیث نمبر: 19802
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ سَعْدٍ أَبِي سَهْلٍ ثَلَاثَةُ أَفْرَاسٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْلِفُهُنَّ، وَأسْمَاؤُهُنَّ: اللِّزَازُ، وَاللَّحِيفُ، وَالظَّرِبُ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ سہل کے والد سعد رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تین گھوڑے تھے، وہ ان کو چارہ دیتے تھے اور ان کے نام یہ تھے: لزاز، لحیف، ظرب۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19802]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19803
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ، فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا مِنْ أَبِي طَلْحَةَ، يُقَالُ لَهُ الْمَنْدُوبُ، فَرَكِبَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ، قَالَ:" مَا رَأَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ شُعْبَةَ.
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مدینہ میں گھبراہٹ ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا گھوڑا عاریتاً لیا، اس کا نام مندوب تھا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے۔ جب واپس پلٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے کچھ نہیں دیکھا اور اس کو ہم نے سمندر پایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19803]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19804
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ عُفَيْرٌ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں گدھے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، اس کا نام عفیر تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19804]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف