السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3930. -- باب: كراهية خصاء البهائم
-- باب: جانوروں کو خصی کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 19798
قَالَ: وَقَالَ: حَدَّثَنَا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ:" يَعْنِي: دِينَ اللهِ". وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ، وَسَعَيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَقَتَادَةَ مِثْلَ قَوْلِ إِبْرَاهِيمَ، وَعَنْ بَشِيرٍ قَالَ:" أَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْصِي بَغْلًا لَهُ فِي خِلَافَتِهِ"، وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْخِصَاءِ، فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهِ"، وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ أَخْصَى بَغْلًا لَهُ، وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ قَالَ: لَا بَأْسَ بِإِخْصَاءِ الْخَيْلِ، لَوْ تُرِكَتِ الْفُحُولُ لَأَكَلَ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَعَنْ عَطَاءٍ: مَا خِيفَ عِضَاضُهُ وَسُوءَ خُلُقِهِ، فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَمُتَابَعَةُ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَعَ مَا فِيهِ مِنَ السُّنَّةِ الْمَرْوِيَّةِ أَوْلَى، وَبِاللهِ التَّوْفِيقِ، وَيُحْتَمَلُ جَوَازُ ذَلِكَ إِذَا اتِّصَلَ بِهِ غَرَضٌ صَحِيحٌ، كَمَا حَكَيْنَا عَنِ التَّابِعِينَ، وَرَوَيْنَا فِي كِتَابِ الضَّحَايَا تَضْحِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ وَذَلِكَ لِمَا فِيهِ مِنْ تَطْيِيبِ اللَّحْمِ.
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے دین میں۔
حسن، سعید بن جبیر اور قتادہ رحمہم اللہ سے بھی ابراہیم کے قول کی مثل منقول ہے۔
بشیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنی خلافت کے دوران مجھے حکم دیا کہ میں ان کے خچر کو خصی کر دوں۔ حسن رحمہ اللہ سے خصی کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے اپنے خچر کو خصی کیا تھا۔
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گھوڑے کو خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگر سانڈ چھوڑ دیے جائیں تو یہ ایک دوسرے کو کھا جائیں۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس کے کاٹنے اور بری عادات کا ڈر ہو اس کے خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے قول کی پیروی، اس سنت کے ساتھ جو اس بارے میں مروی ہے، زیادہ بہتر ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اور جب اس کے ساتھ کوئی صحیح غرض وابستہ ہو تو اس کے جائز ہونے کا احتمال ہے، جیسا کہ ہم نے تابعین سے نقل کیا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خصی مینڈھے قربان کیے“ اور ان کا گوشت بھی لذیذ ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19798]
حسن، سعید بن جبیر اور قتادہ رحمہم اللہ سے بھی ابراہیم کے قول کی مثل منقول ہے۔
بشیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنی خلافت کے دوران مجھے حکم دیا کہ میں ان کے خچر کو خصی کر دوں۔ حسن رحمہ اللہ سے خصی کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے اپنے خچر کو خصی کیا تھا۔
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گھوڑے کو خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگر سانڈ چھوڑ دیے جائیں تو یہ ایک دوسرے کو کھا جائیں۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس کے کاٹنے اور بری عادات کا ڈر ہو اس کے خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے قول کی پیروی، اس سنت کے ساتھ جو اس بارے میں مروی ہے، زیادہ بہتر ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اور جب اس کے ساتھ کوئی صحیح غرض وابستہ ہو تو اس کے جائز ہونے کا احتمال ہے، جیسا کہ ہم نے تابعین سے نقل کیا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خصی مینڈھے قربان کیے“ اور ان کا گوشت بھی لذیذ ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19798]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19798 in Urdu