السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3968. -- باب: من حلف: لا يأكل خبزا بأدم، فأكله بما يعد أدما في العادة، بما يصطبغ به، أو لا يصطبغ
-- باب: جس شخص نے قسم کھائی کہ وہ سالن کے ساتھ روٹی نہیں کھائے گا، پھر اس نے اسے کسی ایسی چیز کے ساتھ کھا لیا جو عام طور پر سالن سمجھی جاتی ہے، خواہ وہ ڈبو کر کھانے والی ہو یا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 20026
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْأَعْوَرِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗١٠٨⦘ سَلَّامٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ، فَوَضَعَ عَلَيْهَا تَمْرَةً، وَقَالَ:" هَذِهِ إِدَامُ هَذِهِ"، فَأَكَلَهَا.
یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کی روٹی کا ٹکڑا پکڑا ہوا تھا اور اس کے اوپر کھجور رکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کا سالن ہے“ اور اسے کھا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20026]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3969. -- باب: من حلف: لا يكلم رجلا، فأرسل إليه رسولا، أو كتب إليه كتابا
-- باب: جس شخص نے قسم کھائی کہ وہ کسی آدمی سے کلام نہیں کرے گا، پھر اس نے اس کی طرف کوئی قاصد بھیج دیا یا اسے کوئی خط لکھ دیا۔
حدیث نمبر: Q20027
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ} [الشورى: 51] وَقَالَ لِلْمُؤْمِنِينَ فِي الْمُنَافِقِينَ {قُلْ لَا تَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ} [التوبة: 94] وَإِنَّمَا نَبَّأَهُمْ مِنْ أَخْبَارِهِمْ بِالْوَحْيِ الَّذِي يَنْزِلُ بِهِ جِبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُخْبِرُهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَحْيٍ إِلَيْهِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" مَنْ قَالَ لَا يَحْنَثُ، قَالَ: إِنَّ كَلَامَ الْآدَمِيِّينَ لَا يُشْبِهُ كَلَامَ اللهِ، كَلَامُ الْآدَمِيَّينَ بِالْمُوَاجَهَةِ، أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَوْ هَجَرَ رَجُلٌ رَجُلًا، كَانَتِ الْهِجْرَةُ مُحَرَّمَةً عَلَيْهِ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ، أَوْ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولًا، وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى كَلَامِهِ، لَمْ يُخْرِجْهُ هَذَا مِنْ هِجْرَتِهِ الَّتِي يَأْثَمُ بِهَا؟".
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ﴾ ”اور کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے، یا پردے کے پیچھے سے، یا وہ کوئی فرشتہ بھیجے جو اس کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کرے۔“ [سورة الشورى: 51]
اور اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں مومنوں (کی زبانی) فرمایا: ﴿قُلْ لَا تَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ﴾ ”کہہ دیجیے: بہانے مت بناؤ، ہم ہرگز تمہاری بات کا یقین نہیں کریں گے، اللہ نے ہمیں تمہارے حالات بتا دیے ہیں۔“ [سورة التوبة: 94]
اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ان (منافقین) کے حالات صرف اس وحی کے ذریعے بتائے جسے جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر لے کر نازل ہوتے تھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف آنے والی وحی کے ذریعے انہیں (ان کے حالات کی) خبر دیتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو یہ کہتا ہے کہ (خط لکھنے یا قاصد بھیجنے سے) وہ حانث نہیں ہو گا (یعنی قسم نہیں ٹوٹے گی)، وہ کہتا ہے کہ انسانوں کا کلام اللہ کے کلام کے مشابہ نہیں ہے، انسانوں کا کلام آمنے سامنے ہوتا ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی آدمی کسی آدمی سے قطع تعلق کر لے، جبکہ تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق اس پر حرام ہے، پھر وہ اسے خط لکھ دے یا اس کی طرف کوئی قاصد بھیج دے، حالانکہ وہ اس سے بات کرنے پر قادر ہو، تو یہ عمل اسے اس قطع تعلق سے نہیں نکالے گا جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوتا ہے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: Q20027]
اور اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں مومنوں (کی زبانی) فرمایا: ﴿قُلْ لَا تَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ﴾ ”کہہ دیجیے: بہانے مت بناؤ، ہم ہرگز تمہاری بات کا یقین نہیں کریں گے، اللہ نے ہمیں تمہارے حالات بتا دیے ہیں۔“ [سورة التوبة: 94]
اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ان (منافقین) کے حالات صرف اس وحی کے ذریعے بتائے جسے جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر لے کر نازل ہوتے تھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف آنے والی وحی کے ذریعے انہیں (ان کے حالات کی) خبر دیتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو یہ کہتا ہے کہ (خط لکھنے یا قاصد بھیجنے سے) وہ حانث نہیں ہو گا (یعنی قسم نہیں ٹوٹے گی)، وہ کہتا ہے کہ انسانوں کا کلام اللہ کے کلام کے مشابہ نہیں ہے، انسانوں کا کلام آمنے سامنے ہوتا ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی آدمی کسی آدمی سے قطع تعلق کر لے، جبکہ تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق اس پر حرام ہے، پھر وہ اسے خط لکھ دے یا اس کی طرف کوئی قاصد بھیج دے، حالانکہ وہ اس سے بات کرنے پر قادر ہو، تو یہ عمل اسے اس قطع تعلق سے نہیں نکالے گا جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوتا ہے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: Q20027]
حدیث نمبر: 20027
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَرْوِيهِ:" لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زائد قطع تعلق جائز نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں لیکن اپنی جگہ رکے رہتے ہیں، اور ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں ابتدا کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20027]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20028
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَإِذَا مَرَّ ثَلَاثٌ، لَقِيَهُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَإِنْ رَدَّهُ، فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الْأَجْرِ، وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَقَدْ بَرِأَ الْمُسْلِمُ مِنَ الْهِجْرَةِ، وَصَارَتْ عَلَى صَاحِبِهِ".
محمد بن ہلال اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مومن بھائی کو تین دن سے زائد چھوڑے، لیکن تین دن گزرنے کے بعد وہ ایک دوسرے کو سلام کہے، اگر وہ جواب دیتا ہے تو وہ دونوں اجر میں شریک ہوں گے، اور اگر وہ جواب نہیں دیتا تو یہ (جواب نہ دینے والا) مجرم ہوگا اور دوسرا قطع تعلقی سے بری ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20028]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3970. -- باب: من حلف: ما له مال، وله عرض، أو عقار أو حيوان
-- باب: جس شخص نے قسم کھائی کہ اس کے پاس کوئی مال نہیں، حالانکہ اس کے پاس سامان، جائیداد یا جانور موجود ہو۔
حدیث نمبر: 20029
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي قَالَا: ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ بُدَيْلٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ هُبَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَيْرُ مَالِ الْمَرْءِ مُهْرَةٌ مَأْمُورَةٌ، أَوْ سِكَّةٌ مَأْبُورَةٌ". وَفِي رِوَايَةِ الدُّورِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: سِكَّةٌ، يَقُولُ هِيَ الْمُصْطَفَّةُ مِنَ النَّخْلِ، وَأَمَّا الْمَأْبُورَةُ، فَإِنَّهَا الَّتِي قَدْ لَقِحَتْ، وَأَمَّا الْمُهْرَةُ الْمَأْمُورَةُ، فَإِنَّهَا الْكَثِيرَةُ النِّتَاجِ".
سوید بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا بہترین مال ایسے جانور ہیں جو زیادہ بچے دیں یا زیادہ پھل دینے والی کھجوریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20029]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3971. -- باب: من حلف: ليضربن عبده مائة سوط، فجمعها فضربه بها، لم يحنث استدلالا بقوله عز وجل وخذ بيدك ضغثا فاضرب به ولا تحنث
-- باب: جس شخص نے قسم کھائی کہ وہ اپنے غلام کو سو کوڑے مارے گا، پھر اس نے ان (کوڑوں) کو جمع کیا اور ایک ہی بار مار دیا تو اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی، اللہ عزوجل کے اس فرمان سے استدلال کرتے ہوئے: ”اور اپنے ہاتھ میں سینکوں کی ایک مٹھی لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو“۔
حدیث نمبر: Q20030
بِقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ} [ص: 44] .
(اس سے استدلال کیا گیا ہے) اللہ عزوجل کے اس فرمان سے: ﴿وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ﴾ ”اور اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔“ [سورة ص: 44] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: Q20030]
حدیث نمبر: 20030
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ اشْتَكَى رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى أُضْنِيَ، فَعَادَ جِلْدُهُ عَلَى عَظْمٍ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ جَارِيَةٌ لِبَعْضِهِمْ فَهَشَّ لَهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّتَهُ قَالَ:" فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذُوا لَهُ مِائَةَ شِمْرَاخٍ، فَيَضْرِبُوهُ بِهَا ضَرْبَةً وَاحِدَةً".
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم سے نقل کیا کہ ایک آدمی بیماری کی وجہ سے تڑپ رہا تھا، اس کی جلد اس کی ہڈی پر چڑ چکی تھی، اس کے پاس ایک لونڈی آئی تو وہ اس پر خوش ہو گیا اور اس پر واقع ہو گیا، پھر اس نے اپنا واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے سو شاخیں جمع کر کے ان سے اسے ایک ہی مرتبہ مارو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20030]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه السجستاني 4472»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20031
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ:" جَاءَهُ رَجُلٌ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ:" إِنِّي حَلَفْتُ أَنْ لَا أَكْسُوَ أَهْلِي حَتَّى أَقِفَ بِعَرَفَةَ وَذَاكَ فِي غَيْرِ أَيَّامِ الْحَجِّ فَقَالَ عَطَاءٌ:" اذْهَبْ فَقِفْ، وَاكْسُ أَهْلَكَ"، فَقِيلَ لِعَطَاءٍ:" إِنَّمَا نَوَى الْحَجَّ"، فَقَالَ عَطَاءٌ: أَرَأَيْتَ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِينَ حَلَفَ لَيَضْرِبَنَّ أَهْلَهُ، حَلَفَ لَيَضْرِبَنَّهَا بِضِغْثٍ؟ إِنَّمَا الْقُرْآنُ أَمْثَالٌ وَعِبَرٌ".
اسماعیل بن عبدالملک رحمہ اللہ حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور میں بھی موجود تھا، اس نے کہا: میں نے اپنے گھر والوں کو وقوفِ عرفہ تک کپڑے نہ پہنانے کی قسم اٹھائی ہے لیکن یہ حج کے دن نہ تھے، تو عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جاؤ (عرفہ میں) وقوف کرو اور اپنے گھر والوں کو کپڑے پہناؤ۔ عطاء رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ اس نے حج کی نیت کی تھی، تو عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ ایوب علیہ السلام نے جب اپنے گھر والوں کو مارنے کی قسم اٹھائی تھی تو یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ ایک مٹھے سے ماریں گے؟ قرآن تو مثالیں اور عبرتیں ہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20031]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3972. -- باب: ما يستدل به على أنه يحلل يمينه بأدنى ضرب
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ وہ معمولی سی مار کے ذریعے بھی اپنی قسم سے بری ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 20032
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ نَرَى قَوْلَهُ:" تَحِلَّةَ الْقَسَمِ: يَعْنِي قَوْلَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا} [مريم: ٧١] ، يَقُولُ: فَلَا يَرِدُهَا إِلَّا بِقَدْرِ مَا يَبَرُّ اللهُ قَسَمَهُ فِيهِ"، وَفِيهِ أَنَّهُ أَصْلٌ لِلرَّجُلِ يَحْلِفُ: لَيَفْعَلَنَّ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ يَفْعَلُ مِنْهُ شَيْئًا دُونَ شَيْءٍ يَبَرُّ فِي يَمِينِهِ. قَالَ الشَّيْخُ: يَعْنِي: يَفْعَلُ مَا يَقَعُ عَلَيْهِ الِاسْمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے تین بچے فوت ہو گئے، صرف قسم کو پورا کرنے کے لیے اس کو آگ چھوئے گی۔“
ابو عبید فرماتے ہیں: «تَحِلَّةَ الْقَسَمِ»، یعنی اللہ کا فرمان: ﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا﴾ [سورة مريم: 71] ”جہنم سے گزر صرف اس لیے ہے کہ یہ تیرے رب کا حتمی فیصلہ ہے۔“ فرماتے ہیں: صرف قسم کو پورا کرنے کی خاطر جہنم سے گزارا جائے گا۔ اگر انسان قسم اٹھائے کہ فلاں کام کرے گا لیکن پھر کچھ کرتا ہے کچھ نہیں تو قسم مکمل ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ کام کر لے جس پر وہ نام صادق آتا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20032]
ابو عبید فرماتے ہیں: «تَحِلَّةَ الْقَسَمِ»، یعنی اللہ کا فرمان: ﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا﴾ [سورة مريم: 71] ”جہنم سے گزر صرف اس لیے ہے کہ یہ تیرے رب کا حتمی فیصلہ ہے۔“ فرماتے ہیں: صرف قسم کو پورا کرنے کی خاطر جہنم سے گزارا جائے گا۔ اگر انسان قسم اٹھائے کہ فلاں کام کرے گا لیکن پھر کچھ کرتا ہے کچھ نہیں تو قسم مکمل ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ کام کر لے جس پر وہ نام صادق آتا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20032]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3973. -- باب: الحلف على التأويل فيما بينه وبين الله تعالى
-- باب: ان معاملات میں تاویل (کسی اور معنی کی نیت) کر کے قسم کھانے کا بیان جو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہوں۔
حدیث نمبر: 20033
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ أَظُنُّهُ قَالَ: ثنا إِسْرَائِيلُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ أَبِيهَا سُوَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَنَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ فَلَقِيَهُ قَوْمٌ هُمْ لَهُ عَدُوٌّ فَأَبَى الْقَوْمُ أَنْ يَحْلِفُوا، وَتَقَدَّمْتُ فَحَلَفْتُ أَنَّهُ أَخِي، فَلَمَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الْقَوْمَ أَبَوْا أَنْ يَحْلِفُوا، وَتَقَدَّمْتُ فَحَلَفْتُ أَنَّهُ أَخِي، قَالَ:" صَدَقْتَ، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ". لَفْظُ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ وَحَدِيثِ الزُّبَيْرِيِّ بِمَعْنَاهُ مُخْتَصَرٌ.
سیدنا سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ہمارے ساتھ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان کا ایسی قوم سے ٹکراؤ ہوا جو ان کی دشمن تھی۔ لوگوں نے قسم اٹھانے سے انکار کر دیا، تو میں نے آگے بڑھ کر قسم کھائی کہ وہ میرا بھائی ہے۔ جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگوں نے قسم اٹھانے سے انکار کر دیا ہے، لیکن میں نے قسم کھائی کہ وہ میرے بھائی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے سچ کہا؛ کیونکہ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20033]