🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3997. -- باب: نذر العمرة في شهر مسمى فيه، عن جابر من قوله
-- باب: کسی متعین مہینے میں عمرہ کرنے کی نذر ماننے کا بیان، اس بارے میں حضرت جابر (رضی اللہ عنہ) کا قول مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20145
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَيْمُونِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَجْعَلُ عَلَيْهَا عُمْرَةً فِي شَهْرٍ ⦗١٤٥⦘ مُسَمًّى، ثُمَّ يَخْلُو إِلَّا لَيْلَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ تَحِيضُ قَالَ:" لِتَخْرُجْ، ثُمَّ لِتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ لِتَنْتَظِرْ حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ لِتَطُفْ بِالْكَعْبَةِ، ثُمَّ لِتُصَلِّ".
ابوزبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ایک عورت کے بارے میں سنا جس کے ذمے ایک مخصوص مہینے کا عمرہ تھا، وہ مہینہ ایک رات کے سوا گزر گیا، پھر اس کو حیض آ گیا، انہوں نے فرمایا: وہ نکلے اور عمرہ کا تلبیہ کہے، پھر پاک ہونے کا انتظار کرے، پاک ہونے کے بعد بیت اللہ کا طواف کرے، پھر نماز پڑھ لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: 20145]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3998. -- باب: من نذر ضرب عنق مشرك إن ظفر به، فأسلم
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے یہ نذر مانی کہ اگر وہ کسی مشرک پر قابو پا گیا تو اس کی گردن اڑا دے گا، پھر وہ (مشرک) مسلمان ہو گیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20146
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ نَافِعٍ أَبِي غَالِبٍ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ، قَالَ: فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، غَزَوْتُ مَعَهُ حُنَيْنًا فَخَرَجَ الْمُشْرِكُونَ فَحَمَلُوا عَلَيْنَا، حَتَّى رَأَيْنَا خَيْلَنَا وَرَاءَ ظُهُورِنَا، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ يَحْمِلُ عَلَيْنَا فَيَدُقُّنَا وَيَحْطِمُنَا، فَهَزَمَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ جَمِيعًا، وَجَعَلَ يُجَاءُ بِهِمْ، فَيُبَايِعُونَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عَلَيَّ نَذْرًا إِنْ جَاءَ اللهُ بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ مُنْذُ الْيَوْمِ يَحْطِمُنَا، لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجِيءَ بِالرَّجُلِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، تُبْتُ إِلَى اللهِ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَايِعُهُ لِيَفِيَ الرَّجُلُ بِنَذْرِهِ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَتَصَدَّى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَأْمُرَهُ بِقَتْلِهِ، وَجَعَلَ يَهَابُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتُلَهُ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَصْنَعُ شَيْئًا، بَايَعَهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَذْرِي، قَالَ:" إِنِّي لَمْ أُمْسِكْ عَنْهُ مُنْذُ الْيَوْمِ إِلَّا لِتُوفِيَ بِنَذْرِكَ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا أَوْمَضْتَ إِلِيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يُومِضَ".
ابو غالب نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نمازِ جنازہ کے بارے میں ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ علاء بن زیاد نے کہا: اے ابو حمزہ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر غزوہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، میں نے حنین کا غزوہ کیا۔ مشرکین نے ہمارے اوپر حملہ کر دیا، ہم نے اپنے شہسواروں کو اپنے پیچھے دیکھا، مشرکین کا ایک آدمی ہمیں قتل کر رہا تھا۔ اللہ نے ان کو شکست دی، وہ آ کر اسلام پر بیعت کر رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک نے کہا: میں نے نذر مانی ہے کہ آج جو آدمی ہمیں قتل کر رہا تھا، اگر اس کو اللہ ہمارے پاس لے آیا میں ضرور اس کی گردن اڑا دوں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، وہ آدمی لایا گیا۔ جب اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں نے اللہ سے توبہ کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت نہ لی تاکہ وہ (صحابی) اپنی نذر پوری کر لے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ رہا تھا کہ آپ اس کے قتل کا حکم دیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت کی وجہ سے اسے قتل کرنے سے ڈر رہا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ کچھ نہیں کر رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لے لی۔ اس آدمی (صحابی) نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری نذر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں آج اس سے صرف اس لیے رکا رہا تاکہ تو اپنی نذر پوری کر لے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اشارہ فرما دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نبی کے لیے لائق نہیں کہ وہ اشارہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: 20146]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3999. -- باب: من مات وعليه نذر
-- باب: اس شخص کا بیان جو فوت ہو جائے اور اس پر کوئی نذر باقی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20147
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي الْيَمَانِ أَنَّ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي حَمْزَةَ أَخْبَرَهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ، وَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْضِيَهُ عَنْهَا، فَكَانَتْ سُنَّةً بَعْدُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی والدہ کے بارے میں پوچھا جس پر نذر تھی اور وہ نذر پوری کرنے سے پہلے فوت ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نذر پوری کرنے“ کا حکم دیا، یہ بعد والوں کے لیے سنت بن گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: 20147]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20148
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" أَنَّ امْرَأَةً رَكِبَتِ الْبَحْرَ، فَنَذَرَتْ إِنْ نَجَّاهَا اللهُ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا، فَنَجَّاهَا اللهُ، ⦗١٤٦⦘ فَلَمْ تَصُمْ، حَتَّى مَاتَتْ، فَجَاءَتْ بِنْتُهَا، أَوْ أُخْتُهَا، إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا" سَائِرُ الرِّوَايَاتِ فِيهِ قَدْ مَضَتْ فِي كِتَابِ الصِّيَامِ وَكِتَابِ الْحَجِّ وَبِاللهِ التَّوْفِيقِ.
سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے سمندری سفر شروع کیا، اس نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ ایک مہینے کے روزے رکھے گی، اللہ نے اس کو نجات دے دی لیکن وہ روزے رکھنے سے پہلے فوت ہوگئی، اس کی بیٹی یا بہن آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جانب سے ”روزے رکھنے کے بارے میں حکم دیا“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: 20148]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4000. -- باب
-- باب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q20149
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ} [النساء: 58] ، وَقَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ} [المائدة: 49] ، وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعُمَّالَ وَالْقُضَاةَ، وَكَذَلِكَ الْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ، وَبِهِمُ الْقُدْوَةُ فِي الشَّرِيعَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَالْعِصْمَةُ.
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ﴾ ”بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔“ [سورة النساء: 58]
اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ﴾ ”اور یہ کہ آپ ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔“ [سورة المائدة: 49]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمال (حکام) اور قاضی بھیجے، اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء نے بھی (بھیجے)، اور شریعت میں انہی کی اقتدا کی جاتی ہے، اور توفیق اور حفاظت اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: Q20149]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں