السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4024. -- باب: من اجتهد، ثم رأى أن اجتهاده خالف نصا أو إجماعا أو ما في معناه، رده على نفسه، وعلى غيره
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اجتہاد کیا، پھر اس نے دیکھا کہ اس کا اجتہاد کسی نص، اجماع یا ان کے ہم معنی کسی چیز کے خلاف ہے تو وہ اپنے اور دوسروں کے حق میں اسے رد کر دے۔
حدیث نمبر: 20372
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ كِتَابًا، فَقَالَ: هَذَا كِتَابُ عُمَرَ إِلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" أَمَّا بَعْدُ، لَا يَمْنَعْكَ قَضَاءٌ قَضَيْتَهُ بِالْأَمْسِ رَاجَعْتَ الْحَقَّ، فَإِنَّ الْحَقَّ قَدِيمٌ، لَا يُبْطِلُ الْحَقَّ شَيْءٌ، وَمُرَاجَعَةُ الْحَقِّ خَيْرٌ مِنَ التَّمَادِي فِي الْبَاطِلِ" وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ عَنْ سُفْيَانَ. وَقَالُوا فِي الْحَدِيثِ:" لَا يَمْنَعْكَ قَضَاءٌ قَضَيْتَهُ بِالْأَمْسِ رَاجَعْتَ فِيهِ نَفْسَكَ وَهُدِيتَ فِيهِ لِرُشْدِكَ أَنْ تُرَاجِعَ الْحَقَّ، فَإِنَّ الْحَقَّ قَدِيمٌ، وَإِنَّ الْحَقَّ لَا يُبْطِلُهُ شَيْءٌ، وَمُرَاجَعَةُ الْحَقِّ خَيْرٌ مِنَ التَّمَادِي فِي الْبَاطِلِ".
ادریس اودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ رحمہ اللہ نے ایک خط دیا اور کہا: یہ خط سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی جانب سے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی جانب ہے، حمد و ثنا کے بعد! وہ فیصلہ آپ کو منع نہ کرے جو کل شام آپ نے کیا ہے، آپ نے حق کی جانب رجوع کیا ہے اور حق ہی قدیم ہے، حق کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی اور حق کی طرف رجوع کرنا باطل میں گزر جانے سے زیادہ بہتر ہے۔
(ب) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ وغیرہ کی سفیان سے روایت میں ہے کہ وہ فیصلہ آپ کو منع نہ کرے جو کل شام آپ نے کیا، آپ نے اپنے دل سے مشورہ کیا اور حق کی رہنمائی کی گئی، حق قدیم ہے اور حق کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی اور حق کی جانب رجوع کرنا باطل میں چلے جانے سے بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20372]
(ب) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ وغیرہ کی سفیان سے روایت میں ہے کہ وہ فیصلہ آپ کو منع نہ کرے جو کل شام آپ نے کیا، آپ نے اپنے دل سے مشورہ کیا اور حق کی رہنمائی کی گئی، حق قدیم ہے اور حق کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی اور حق کی جانب رجوع کرنا باطل میں چلے جانے سے بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20372]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 20283»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20373
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَعْقِلٍ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: كَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ:" مَا مِنْ طِينَةٍ أَهْوَنُ عَلَيَّ فَكًّا، وَمَا مِنْ كِتَابٍ أَيْسَرُ عَلَيَّ رَدًّا مِنْ كِتَابٍ قَضَيْتُ بِهِ، ثُمَّ أَبْصَرْتُ أَنَّ الْحَقَّ فِي غَيْرِهِ، فَفَسَخْتُهُ".
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گارے کا دور کرنا میرے نزدیک زیادہ آسان ہے اور جو فیصلہ کرو اس کو تبدیل کرنا زیادہ آسان ہے، جب میں اس کے خلاف حق کو دیکھتا ہوں۔
«بَابُ مَنِ اجْتَهَدَ مِنَ الْحُكَّامِ ثُمَّ تَغَيَّرَ اجْتِهَادُهُ أَوْ اجْتِهَادُ غَيْرِهِ فِيمَا يَسُوغُ فِيهِ الِاجْتِهَادُ لَمْ يُرَدَّ مَا قَضَى بِهِ»
”حاکم کا اجتہاد کرنا یا اس کے علاوہ کسی دوسرے کا اجتہاد کرنا جائز صورتوں میں پھر اپنے اجتہاد میں تبدیلی کی صورت میں فیصلہ بدلنا جائز نہیں“
«اسْتِدْلَالًا بِمَا مَضَى فِي خَطَإِ الْقِبْلَةِ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ» [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20373]
«بَابُ مَنِ اجْتَهَدَ مِنَ الْحُكَّامِ ثُمَّ تَغَيَّرَ اجْتِهَادُهُ أَوْ اجْتِهَادُ غَيْرِهِ فِيمَا يَسُوغُ فِيهِ الِاجْتِهَادُ لَمْ يُرَدَّ مَا قَضَى بِهِ»
”حاکم کا اجتہاد کرنا یا اس کے علاوہ کسی دوسرے کا اجتہاد کرنا جائز صورتوں میں پھر اپنے اجتہاد میں تبدیلی کی صورت میں فیصلہ بدلنا جائز نہیں“
«اسْتِدْلَالًا بِمَا مَضَى فِي خَطَإِ الْقِبْلَةِ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ» [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20373]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20374
وَبِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ⦗٢٠٥⦘ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مَعْمَرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ سِمَاكَ بْنَ الْفَضْلِ الْخَوْلَانِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَشْرَكَ الْإِخْوَةَ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ مَعَ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ فِي الثُّلُثِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: لَقَدْ قَضَيْتُ عَامَ أَوَّلَ بِغَيْرِ هَذَا، قَالَ:" فَكَيْفَ قَضَيْتُ؟ قَالَ: جَعَلْتَهُ لِلْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ، وَلَمْ تَجْعَلْ لِلْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ شَيْئًا، قَالَ:" تِلْكَ عَلَى مَا قَضَيْنَا، وَهَذِهِ عَلَى مَا قَضَيْنَا".
حکم بن مسعود ثقفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، انہوں نے حقیقی بھائیوں کو اخیافی (ماں شریک) بھائیوں کے ساتھ تیسرے حصے میں شریک کیا تو ایک آدمی نے کہا: اس سے پہلے سال اس کے الٹ فیصلہ فرمایا تھا۔ انہوں نے پوچھا: میں نے کیا فیصلہ کیا تھا؟ اس نے کہا: حقیقی بھائی کو حصہ دیا تھا اور اخیافی (ماں شریک) بھائیوں کو کچھ بھی نہ دیا تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ ویسے ہی ہے جیسا ہم نے فیصلہ کیا تھا اور یہ اپنی جگہ پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20374]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20375
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ:" لَوْ كَانَ عَلِيٌّ طَاعِنًا عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ لطَعَنَ عَلَيْهِ يَوْمَ أَتَاهُ أَهْلُ نَجْرَانَ وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ الْكِتَابَ بَيْنَ أَهْلِ نَجْرَانَ وَبَيْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَثُرُوا فِي عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى خَافَهُمْ عَلَى النَّاسِ، فَوَقَعَ بَيْنَهَمُ الِاخْتِلَافُ، فَأَتَوْا عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلُوهُ الْبَدَلَ فَأَبْدَلَهُمْ، قَالَ: ثُمَّ نَدِمُوا، وَوَضَعَ بَيْنَهُمْ شَيئًا فَأَبَوْهُ فَاسْتَقَالُوهُ فَأَبَى أَنْ يُقِيلَهُمْ فَلَمَّا وَلِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ شَفَاعَتُكَ بِلِسَانِكَ وَخَطُّكَ بِيَمِينِكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" وَيْحَكُمْ إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ رَشِيدَ الْأَمْرِ".
سالم بن ابی جعد فرماتے ہیں کہ اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر طعن کرتے تو اس دن کرتے جب ان کے پاس اہل نجران آئے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل نجران اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان خط و کتابت کی تھی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں (ان کی تعداد) زیادہ ہو گئی، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان سے لوگوں کے بارے میں خطرہ محسوس ہوا اور ان کے درمیان اختلاف واقع ہو گیا، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور تبدیلی کا مطالبہ کر دیا تو انہوں نے ان کے کہنے کی بنا پر تبدیلی کر دی، پھر وہ نادم ہوئے یا ان کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا، پھر انہوں نے بات کی تبدیلی چاہی لیکن انکار کر دیا گیا، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین بنے تو وہ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! آپ کی زبان سے سفارش اور آپ کے ہاتھ کا خط، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تمہاری بربادی! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ معاملہ فہم انسان تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20375]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20376
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَّامٍ - نَيْسَابُورِيٌّ -، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ صَالِحًا الْمُرَادِيَّ يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: كُنْتُ قَرِيبًا مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ جَاءَهُ أَهْلُ نَجْرَانَ قَالَ: قُلْتُ: إِنْ كَانَ رَادًّا عَلَى عُمَرَ شَيْئًا فَالْيَوْمَ، قَالَ: فَسَلَّمُوا وَاصْطَفُّوا بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ أَدْخَلَ بَعْضُهُمْ يَدَهُ فِي كُمِّهِ فَأَخْرَجَ كِتَابًا فَوَضَعَهُ فِي يَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، خَطُّكُ بِيَمِينِكَ وَإِمْلَاءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكَ، قَالَ: فَرَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ جَرَتِ الدُّمُوعُ عَلَى خَدِّهِ، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِمْ فَقَالَ:" يَا أَهْلَ نَجْرَانَ إِنَّ هَذَا لَآخِرُ كِتَابٍ كَتَبْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالُوا: فَأَعْطِنَا مَا فِيهِ، قَالَ:" سَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَاكَ، إِنَّ الَّذِي أَخَذَ مِنْكُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمْ يَأْخُذْهُ لِنَفْسِهِ، إِنَّمَا أَخَذَهُ لِجَمَاعَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَكَانَ الَّذِي أَخَذَ مِنْكُمْ خَيْرًا مِمَّا أَعْطَاكُمْ، وَاللهِ لَا أَرُدُّ شَيْئًا مِمَّا صَنَعَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ رَشِيدَ الْأَمْرِ".
عبد خیر فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریب تھا۔ جب اہل نجران آئے تو میں نے کہا: اگر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر کوئی چیز رد کرنا چاہیں تو آج کا دن ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ انہوں نے سلام کہا اور ان کے سامنے بیٹھ گئے۔ پھر اپنی آستین میں ہاتھ ڈال کر خط نکالا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر رکھ دیا اور فرمایا: آپ کے ہاتھ کا خط جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا تھا۔ راوی فرماتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ پھر ان کی طرف سر اٹھایا اور فرمایا: یہ آخری خط ہے جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تحریر کیا تھا۔ انہوں نے کہا: جو کچھ اس میں ہے ہمیں عطا کرو۔ فرمایا: عنقریب میں تمہیں اس کی خبر دوں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو کچھ لیا اپنے لیے نہیں مسلمانوں کے لیے وصول کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو تم سے مال وصول کیا، وہ اس سے بہتر تھا جو انہوں نے تمہیں عطا کیا، اللہ کی قسم! جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا میں اس میں سے کچھ بھی واپس نہیں کروں گا؛ کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ معاملہ فہم انسان تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20376]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20377
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ ⦗٢٠٦⦘ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ خَرَشَةَ الْكِلَابِيَّ، قَالَ لَهُ بَنُو عَمِّهِ، وَبَنُو عَمِّ امْرَأَتِهِ: إِنَّ امْرَأَتَكَ لَا تُحِبُّكَ، فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَعْلَمَ ذَلِكَ، فَخَيِّرْهَا، فَقَالَ: يَا بَرْزَةَ بِنْتَ الْحُرِّ اخْتَارِي، فَقَالَتْ: وَيْحَكَ اخْتَرْتُ، وَلَسْتَ بِخِيَارٍ، قَالَتْ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالُوا: حَرُمَتْ عَلَيْكَ، فَقَالَ: كَذَبْتُمْ، فَأَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" لَئِنْ قَرَبْتَهَا حَتَّى تُنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ لَأُغُيِّبَنَكَ بِالْحِجَارَةِ"، أَوْ قَالَ:" أَرْضَخُكَ بِالْحِجَارَةِ"، قَالَ: فلَمَّا اسْتُخْلِفَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَتَاهُ فَقَالَ: إِنَّ أَبَا تُرَابٍ فَرَّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: قَدْ أَجَزْنَا قَضَاءَهُ عَلَيْكَ، أَوْ قَالَ: مَا كُنَّا لَنَرُدُ قَضَاءً قَضَاهُ عَلَيْكَ.
عباس بن خرشہ کلابی سے ان کے چچاؤں کے بیٹے اور ان کی بیوی کے چچاؤں کے بیٹے نے کہا: تیری عورت تجھ سے محبت نہیں کرتی، اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو اس کو اختیار دے دو۔ اس نے اپنی بیوی برزہ بنت حر کو اختیار دے دیا۔ وہ کہنے لگی: تجھ پر افسوس! میں نے اپنا اختیار استعمال کر لیا، اور تم اچھا انتخاب نہیں ہو۔ اس نے یہ تین بار کہہ دیا۔ انہوں نے کہا: یہ تیرے اوپر حرام ہو گئی۔ وہ کہنے لگے: تم جھوٹ بولتے ہو۔ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آکر تذکرہ کیا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو اس کے پاس گیا یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے کے ساتھ نکاح کرے تو میں تجھے پتھروں سے سنگسار کر دوں گا۔ راوی فرماتے ہیں کہ پھر وہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس وجہ سے میرے اور میری بیوی کے درمیان تفریق کروا دی تھی، انہوں نے کہا: ہم نے بھی وہی فیصلہ باقی رکھا یا فرمایا: ہم ان کے فیصلے میں تبدیلی نہ کریں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20377]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4025. -- باب: من اجتهد من الحكام، ثم تغير اجتهاده، أو اجتهاد غيره فيما يسوغ فيه الاجتهاد، لم يرد ما قضى به استدلالا بما مضى في خطأ القبلة في كتاب الصلاة
-- باب: حاکموں میں سے جو اجتہاد کرے پھر اس کا یا کسی اور کا اجتہاد ان معاملات میں تبدیل ہو جائے جن میں اجتہاد کی گنجائش ہے تو وہ اپنے کیے گئے فیصلے کو رد نہیں کرے گا، اس سے استدلال کرتے ہوئے جو کتاب الصلاۃ میں قبلے کی غلطی کے حوالے سے گزر چکا ہے۔
حدیث نمبر: 20378
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ وَلَدٍ لِأَخِي شُرَيْحِ بْنِ الْحَارِثِ وَلَدَتْ لَهُ جَارِيَةً، فَزُوِّجَتْ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، ثُمَّ تُوُفِّيَتْ أُمُّ الْوَلَدِ، قَالَ: فَاخْتَصَمَ فِي مِيرَاثِهَا شُرَيْحُ بْنُ الْحَارِثِ وَابْنُ ابْنَتِهَا إِلَى شُرَيْحٍ فَجَعَلَ شُرَيْحُ بْنُ الْحَارِثِ يَقُولُ لِشُرَيْحٍ: إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ مِيرَاثٌ فِي كِتَابِ اللهِ، إِنَّمَا هُوَ ابْنُ بِنْتِهَا، فَقَضَى شُرَيْحٌ بِمِيرَاثِهَا لِابْنِ بِنْتِهَا، وَقَالَ: {وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللهِ} [الأحزاب: ٦] فَرَكِبَ مَيْسَرَةُ بْنُ يَزِيدَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ الَّذِي كَانَ مِنْ شُرَيْحٍ، فَكَتَبَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَى شُرَيْحٍ:" أَنَّ مَيْسَرَةَ بْنَ يَزِيدَ ذَكَرَ لِي كَذَا وَكَذَا، وَأَنَّكَ قُلْتَ عِنْدَ ذَلِكَ: {وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللهِ} [الأحزاب: ٦] ، إِنَّمَا كَانَتْ تِلْكَ الْآيَةُ فِي شَأْنِ الْعَصَبَةِ، كَانَ الرَّجُلُ يُعَاقِدُ الرَّجُلَ فَيَقُولُ: تَرِثُنِي وَأَرِثُكَ، فَلَمَّا نَزَلَتْ تُرِكَ ذَلِكَ"، قَالَ: فَجَاءَ مَيْسَرَةُ بْنُ يَزِيدَ بِالْكِتَابِ إِلَى شُرَيْحٍ فَلَمَّا قَرَأَهُ أَبَى أَنْ يَرُدَّ قَضَاءَهُ، وَقَالَ:" إِنَّمَا أَعْتَقَهَا حِيتَانُ بَطْنِهَا".
عیسیٰ بن حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے بھائی شریح بن حارث کی ایک ام ولد تھی۔ اس کے ہاں بچی پیدا ہوئی۔ اس کی شادی کر دی گئی۔ اس کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی اور ام ولد لونڈی فوت ہو گئی۔ راوی فرماتے ہیں کہ شریح بن حارث اور اس لونڈی کے نواسے میں میراث کا جھگڑا پیدا ہو گیا۔ وہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آئے۔ شریح بن حارث، قاضی شریح رحمہ اللہ سے کہنے لگے: اللہ کی کتاب میں اس کے لیے کوئی میراث نہیں، یہ تو صرف اس کی بیٹی کا بیٹا ہے۔ لیکن قاضی شریح رحمہ اللہ نے فیصلہ لونڈی کے نواسے کے حق میں کر دیا اور فرمایا: ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ﴾ [سورة الأنفال: 75] ”اللہ کی کتاب میں بعض رشتہ دار بعض کے زیادہ نزدیک ہوتے ہیں۔“ میسرہ بن یزید نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قاضی شریح رحمہ اللہ کے فیصلے سے آگاہ کیا تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے قاضی شریح رحمہ اللہ کو خط لکھا کہ میسرہ بن یزید نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ آپ نے یہ آیت ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ﴾ [سورة الأنفال: 75] تلاوت فرمائی۔ یہ آیت تو عصبات کے متعلق ہے کہ آدمی ایک دوسرے سے معاہدہ کر لیتے تھے کہ تو میرا وارث میں تیرا وارث۔ جب یہ آیت اتری تو یہ سلسلہ چھوڑ دیا گیا تو میسرہ بن یزید، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا خط لے کر قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آئے۔ انہوں نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا اور فرمایا: اس کو اس کے پیٹ کی مچھلی نے آزاد کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20378]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20379
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَعْقِلٍ، ثنا حَرْمَلَةُ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ، حِينَ وَلِيَ الْمَدِينَةَ فِي خِلَافَةِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ فَأَرَادَ أَنْ يَنْقُضَ مَا كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ قَضَى فِيهِ، فَكَتَبَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ فِي ذَلِكَ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ:" إِنَّا لَمْ نَنْقِمْ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ مَا كَانَ يَقْضِي بِهِ، وَلَكِنْ نَقَمْنَا عَلَيْهِ مَا كَانَ أَرَادَ مِنَ الْإِمَارَةِ فَإِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَأَمْضِ مَا كَانَ قَضَى بِهِ ابْنُ الزُّبَيْرِ وَلَا تَرُدَّهُ، فَإِنَّ نَقَضْنَا الْقَضَاءَ عَنَاءٌ مُعَنًّى".
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب ابان بن عثمان، عبدالملک بن مروان کے دورِ حکومت میں مدینہ کے امیر بنے تو انہوں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کا وہ فیصلہ توڑنا چاہا جو انہوں نے کیا تھا۔ عبدالملک بن مروان نے ابان بن عثمان کو خط لکھا کہ ہمیں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے فیصلوں پر اعتراض نہیں تھا بلکہ ہمیں تو ان کے امارت کے ارادے پر اعتراض تھا۔ جب میرا خط ملے تو وہی کر گزرنا جو ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے فیصلہ کیا ہے، اور اسے رد نہ کریں؛ کیونکہ فیصلوں کو کاٹنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20379]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
4026. -- باب: وعظ القاضي الشهود، وتخويفهم وتعريفهم عند الريبة، بما في شهادة الزور من كبير الإثم، وعظيم الوزر
-- باب: قاضی کا گواہوں کو نصیحت کرنے، انہیں ڈرانے اور شک کی صورت میں انہیں جھوٹی گواہی کے بڑے گناہ اور عظیم بوجھ سے آگاہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20380
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْجُرَيْرِيُّ ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، ح، وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟" ثَلَاثًا، قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ"، قَالَ: وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا" أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ"، فَمَا زَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَرِّرُهَا، حَتَّى قُلْنَا: لَيْتَهُ سَكَتَ". لَفْظُ حَدِيثِ بِشْرٍ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَلَا أُنَبِّئُكُمْ" وَقَالَ:" شَهَادَةُ الزُّورِ" ثَلَاثًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ.
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بكرة رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں «أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ» ”سب سے بڑے گناہوں“ کی خبر نہ دوں؟“ تین بار فرمایا، انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا: ”1 اللہ کے ساتھ شرک کرنا 2 والدین کی نافرمانی۔“ راوی فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکیہ لگائے ہوئے تھے، پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”خبردار! جھوٹی گواہی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار اس کو دہراتے رہے، یہاں تک کہ ہم نے کہا: کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جائیں۔
(ب) ابن علیہ کی روایت میں ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں خبر نہ دوں؟“ اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی“ تین بار فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20380]
(ب) ابن علیہ کی روایت میں ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں خبر نہ دوں؟“ اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی“ تین بار فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20380]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20381
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابَجِرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ عِنْدَهُ الْكَبَائِرَ، فَقَالَ:" الشِّرْكُ بِاللهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ،" أَوْ:" قَوْلُ الزُّورِ"..
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کبیرہ گناہوں کا تذکرہ کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جان کا قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، جھوٹی گواہی یا جھوٹی بات۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20381]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح