السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4090. -- باب:: القضاء باليمين مع الشاهد
-- باب: ایک گواہ اور قسم کے ساتھ فیصلہ صادر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20689
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا كُلْثُومُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ:" أَدْرَكْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ حَبِيبٍ، وَالزُّهْرِيَّ يَقْضِيَانِ بِذَلِكَ"، يَعْنِي: بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ، قَالَ كُلْثُومٌ:" وَكَانَ أَبُو ثَابِتٍ سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ قَاضِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ ثَلَاثِينَ سَنَةً، يَقْضِي بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ".
کلثوم بن زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سلیمان بن حبیب رحمہ اللہ اور زہری رحمہ اللہ دونوں کو دیکھا کہ وہ ایک قسم اور گواہ کے ذریعے فیصلہ فرماتے تھے۔ کلثوم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلیمان بن حبیب رحمہ اللہ تیس سال مدینہ کے قاضی رہے، وہ قسم اور گواہ کے ساتھ فیصلہ کرتے رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20689]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20690
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: الزَّنْجِيُّ بْنُ خَالِدٍ، أنبأ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا رَجْعَةَ إِلَّا بِشَاهِدَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ عُذْرٌ، فَيَأْتِيَ بِشَاهِدٍ، وَيَحْلِفَ مَعَ شَاهِدِهِ". ⦗٢٩٥⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" فَعَطَاءٌ يُفْتِي بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ فِيمَا لَا يَقُولُ بِهِ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِنَا"، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَالْيَمِينُ مَعَ الشَّاهِدِ لَا يُخَالِفُ مِنْ ظَاهِرِ الْقُرْآنِ شَيْئًا، لِأَنَّا نَحْكُمُ بِشَاهِدَيْنِ، وَبِشَاهِدٍ وَامْرَأَتَيْنِ، وَلَا يَمِينَ، فَإِذَا كَانَ شَاهِدٌ حَكَمْنَا بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ، وَلَيْسَ هَذَا بِخِلَافِ ظَاهِرِ الْقُرْآنِ، لِأَنَّهُ لَمْ يُحَرِّمْ أَنْ يَجُوزَ أَقَلُّ مِمَّا نَصَّ عَلَيْهِ فِي كِتَابِهِ"، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ بِمَعْنَى مَا أَرَادَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَدْ أَمَرَنَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ نَأْخُذَ مَا آتَانَا، وَنَنْتَهِيَ عَمَّا نَهَانَا، وَنَسْأَلُ اللهَ الْعِصْمَةَ وَالتَّوْفِيقَ".
ابن جریج حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رجوع میں دو گواہ ضروری ہیں؛ اگر عذر ہو تو ایک گواہ اور ایک قسم۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء رحمہ اللہ نے قسم اور گواہ کے ذریعہ ایسے فیصلہ دیا حالانکہ ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا، اور فرمایا:
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قسم اور گواہ یہ قرآن کے ظاہر کے خلاف نہیں؛ کیونکہ ہم دو گواہوں کے ذریعے، اور ایک گواہ اور دو عورتوں کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں اور (اس میں) قسم نہیں ہوتی؛ جب ایک گواہ ہو تو گواہ اور قسم سے فیصلہ کر دیتے ہیں، اور یہ قرآن کے ظاہر کے خلاف نہیں ہے، کیونکہ قرآن نے اس بات کو حرام نہیں کیا کہ جو اس نے اپنی کتاب میں صراحت سے بیان کیا ہے اس سے کم بھی جائز ہو۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کی مراد کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں، اور اللہ عزوجل نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دیں وہ لے لیں اور جس سے روکیں اس سے رک جائیں، اور ہم اللہ سے حفاظت اور توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20690]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء رحمہ اللہ نے قسم اور گواہ کے ذریعہ ایسے فیصلہ دیا حالانکہ ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا، اور فرمایا:
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قسم اور گواہ یہ قرآن کے ظاہر کے خلاف نہیں؛ کیونکہ ہم دو گواہوں کے ذریعے، اور ایک گواہ اور دو عورتوں کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں اور (اس میں) قسم نہیں ہوتی؛ جب ایک گواہ ہو تو گواہ اور قسم سے فیصلہ کر دیتے ہیں، اور یہ قرآن کے ظاہر کے خلاف نہیں ہے، کیونکہ قرآن نے اس بات کو حرام نہیں کیا کہ جو اس نے اپنی کتاب میں صراحت سے بیان کیا ہے اس سے کم بھی جائز ہو۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کی مراد کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں، اور اللہ عزوجل نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دیں وہ لے لیں اور جس سے روکیں اس سے رک جائیں، اور ہم اللہ سے حفاظت اور توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20690]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 20691
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَا، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ:" لَا تَكُونُ الْيَمِينُ مَعَ الشَّاهِدِ فِي الطَّلَاقِ وَلَا الْعِتَاقِ وَلَا الْفُرْقَةِ"، وَلَمْ يَكُونُوا يُجِيزُونَ شَهَادَةَ النِّسَاءِ لَا رَجُلَ مَعَهُنَّ، إِلَّا فِيمَا لَا يَرَاهُ إِلَّا النِّسَاءُ، وَكَانُوا يَقُولُونَ:" مَنْ شَهِدَ لَهُ شَاهِدٌ عَلَى قَتْلِ عَبْدِهِ حَلَفَ مَعَ شَاهِدِهِ يَمِينًا وَاحِدَةً، وَاسْتَوْجَبَ قِيمَةَ عَبْدِهِ".
عبدالرحمن بن ابی زناد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے اور وہ فقہاء سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاق، «عِتَاق» یعنی آزادی اور جدائی میں قسم اور گواہ کے ساتھ فیصلہ نہ کیا جائے گا۔ وہ عورتوں کی گواہی کو، جبکہ ان کے ساتھ کوئی مرد نہ ہو، جائز نہیں خیال کرتے تھے، سوائے ان معاملات کے جنہیں صرف عورتیں ہی دیکھتی ہیں، اور کہتے تھے: جس کے حق میں اس کے غلام کے قتل پر ایک گواہ گواہی دے دے تو وہ اپنے گواہ کے ساتھ ایک قسم اٹھائے، تو اس کے غلام کی قیمت واجب ہوجائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20691]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
4091. -- باب:: تأكيد اليمين بالمكان
-- باب: کسی (مقدس) مقام کے ذریعے قسم کو مؤکد (پختہ) کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20692
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ، قَرَأْتُ عَلَيْهِ مِنْ أَصْلِهِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا أَبُو بَدْرٍ، ثنا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ نِسْطَاسٍ مَوْلَى كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، أَنَّ ⦗٢٩٦⦘ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَحْلِفْ أَحَدٌ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا، وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ، إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"، أَوْ:" وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ". وَكَذَلِكَ قَالَهُ أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ:" عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے اس منبر کے قریب کوئی جھوٹی قسم نہ اٹھائے، اگرچہ وہ سبز مسواک پر ہی کیوں نہ ہو، وگرنہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے یا اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20692]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 20693
وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ كَمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى مِنْبَرِي هَذَا بِيَمِينٍ آثِمَةٍ تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میرے اس منبر کے قریب جھوٹی قسم اٹھا لی وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20693]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 20694
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: أُخْبِرْنَا، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ الْعَامِرِيِّ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَنِ ابْعَثْ إِلِيَّ بَقِيسِ بْنِ مَكْشُوحٍ فِي وَثَاقٍ، فَأَحْلِفْهُ خَمْسِينَ يَمِينًا عِنْدَ مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَتَلَ دَادَوَيْهِ". وَرَوَاهُ فِي الْقَدِيمِ فَقَالَ: أَخْبَرَنَا مَنْ نَثِقُ بِهِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَأَتَمَّ مِنْهُ.
مہاجر بن ابی امیہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے خط لکھا کہ قیس بن مکشوح کو میرے پاس قیدی بنا کر روانہ کرو، تاکہ میں اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس 50 قسمیں لوں کہ اس نے داذویہ کو قتل نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20694]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20695
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ:" قُتِلَ رَجُلٌ، فَأَدْخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْحِجْرَ مِنَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ رَجُلًا، فَأَقْسَمُوا: مَا قَتَلْنَا، وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا". وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِامْرَأَتِهِ: حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ، مِرَارًا، فَأَتَى ⦗٢٩٧⦘ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاسْتَحْلَفَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ:" مَا الَّذِي أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ؟". وَهُمَا مُرْسَلَانِ أَحَدُهُمَا يُؤَكِّدُ صَاحِبَهُ فِيمَا اجْتَمَعَا فِيهِ مِنْ نَقْلِ الْيَمِينِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ..
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی قتل کیا گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مدعی علیہم میں سے پچاس آدمیوں کو حجر (حطیم) میں لے گئے، انہوں نے قسمیں کھائیں کہ نہ تو ہم نے قتل کیا ہے اور نہ ہی ہمیں قاتل کا علم ہے۔
(ب) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی عورت سے کہا: جہاں چاہے تو جا اور اسے کئی مرتبہ کہا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے رکن اور مقامِ ابراہیم کے درمیان قسم لی: بتا تیرا کیا ارادہ تھا؟
یہ دونوں روایات مرسل ہیں، اور قسم کو مسجد حرام کی طرف منتقل کرنے میں دونوں ایک دوسری کی تائید کرتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20695]
(ب) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی عورت سے کہا: جہاں چاہے تو جا اور اسے کئی مرتبہ کہا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے رکن اور مقامِ ابراہیم کے درمیان قسم لی: بتا تیرا کیا ارادہ تھا؟
یہ دونوں روایات مرسل ہیں، اور قسم کو مسجد حرام کی طرف منتقل کرنے میں دونوں ایک دوسری کی تائید کرتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20695]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20696
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: وَهَذَا قَوْلُ حُكَّامِ الْمَكِّيِّينَ وَمُفْتِيهِمْ، وَمِنْ حُجَّتِهِمْ فِيهِ، مَعَ إِجْمَاعِهِمْ أَنَّ مُسْلِمًا، وَالْقَدَّاحَ أَخْبَرَانِي، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأَى قَوْمًا يَحْلِفُونَ بَيْنَ الْمَقَامِ وَالْبَيْتِ فَقَالَ:" أَعْلَى دَمٍ؟"، فَقَالُوا: لَا، قَالَ:" فَعَلَى عَظِيمٍ مِنَ الْأَمْوَالِ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَبْهَى النَّاسُ هَذَا الْمَقَامَ". قَالَ: الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَذَهَبُوا إِلَى أَنَّ الْعَظِيمَ مِنَ الْأَمْوَالِ مَا وُصِفَتْ: مِنْ عِشْرِينَ دِينَارًا فَصَاعِدًا، قَالَ: وَقَالَ مَالِكٌ:" يَحْلِفُ عَلَى الْمِنْبَرِ عَلَى رُبْعِ دِينَارٍ" قَالَ: الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" قَوْلُهُ: يَبْهَى النَّاسَ: يَعْنِي: يَأْنَسُوا بِهِ، فَتَذْهَبَ هَيْبَتُهُ مِنْ قُلُوبِهِمْ". قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: يُقَالُ: بَهَأْتُ بِالشَّيْءِ إِذَا أَنِسْتُ بِهِ".
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ مقامِ ابراہیم اور بیت اللہ کے درمیان قسمیں اٹھا رہے تھے۔ پوچھا: کیا خون (قتل) کے معاملے میں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے دوبارہ کہا: تو کیا کسی بڑے مال کے معاملے میں؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ کہتے ہیں: میں ڈرا کہ کہیں لوگ اس جگہ سے مانوس نہ ہو جائیں۔
«قَالَ الشَّيْخُ»: کہ لوگ کہیں مانوس نہ ہو جائیں اور ان کے دلوں سے ڈر جاتا رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20696]
«قَالَ الشَّيْخُ»: کہ لوگ کہیں مانوس نہ ہو جائیں اور ان کے دلوں سے ڈر جاتا رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20696]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20697
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمَرِيَ، قَالَ: اخْتَصَمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَابْنُ مُطِيعٍ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فِي دَارٍ، فَقَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ زَيْدٌ: أَحْلِفُ لَهُ مَكَانِي، قَالَ مَرْوَانُ: لَا وَاللهِ، إِلَّا عِنْدَ مَقَاطِعِ الْحُقُوقِ، فَجَعَلَ زَيْدٌ يَحْلِفُ أَنَّ حَقَّهُ لَحَقٌّ، وَيَأْبَى أَنْ يَحْلِفَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَجَعَلَ مَرْوَانُ يَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ". قَالَ مَالِكٌ:" كَرِهَ زَيْدٌ صَبْرَ الْيَمِينِ".
ابو غطفان بن طریف مری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زید بن ثابت اور ابن مطیع رضی اللہ عنہما ایک گھر کے بارے میں اپنا جھگڑا لے کر مروان کے پاس آئے تو مروان نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ پر قسم ڈال دی کہ وہ منبر کے پاس قسم اٹھائیں۔ زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں اس جگہ قسم اٹھاؤں گا۔ مروان نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! صرف حقوق کے فیصلے کی جگہ پر، تو زید رضی اللہ عنہ قسم اٹھانے لگے کہ ان کا حق یقیناً حق ہے، اور منبر کے پاس قسم اٹھانے سے انکار کرتے رہے، تو مروان اس سے تعجب کر رہا تھا۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زید رضی اللہ عنہ نے (منبر پر) پابند کی جانے والی قسم کو ناپسند کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20697]
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زید رضی اللہ عنہ نے (منبر پر) پابند کی جانے والی قسم کو ناپسند کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20697]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20698
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: وَبَلَغَنِي أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: حَلَفَ عَلَى الْمِنْبَرِ فِي خُصُومَةٍ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَجُلٍ، وَأَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، رُدَّتْ عَلَيْهِ الْيَمِينُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَاتَّقَاهَا وَافْتَدَى مِنْهَا، وَقَالَ:"" أَخَافُ أَنْ يُوَافِقَ قَدَرَ بَلَاءٍ فَيُقَالَ: بِيَمِينِهِ".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک جھگڑے میں، جو ان کے اور ایک آدمی کے درمیان تھا، منبر پر قسم اٹھائی، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر منبر کے پاس قسم لوٹائی گئی تو انہوں نے انکار کر دیا، اس سے بچے اور فدیہ دے دیا، کہنے لگے: میں ڈرتا ہوں کہ کہیں تقدیر کی کوئی مصیبت اس کے موافق آ جائے تو کہا جائے: یہ ان کی قسم کی وجہ سے ہوا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20698]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف