السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4132. -- باب:: لا بأس باستماع الحداء، ونشيد الأعراب، كثر أو قل
-- باب: حدی خوانی اور دیہاتیوں کے اشعار سننے میں کوئی حرج نہیں، خواہ وہ کم ہوں یا زیادہ۔
حدیث نمبر: 21034
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، قَالَ: فَسِرْنَا لَيْلًا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ: أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا، فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ:.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف گئے۔ ہم ایک رات چلتے رہے تو ایک آدمی نے سیدنا عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم ہمیں اپنے اشعار نہیں سناؤ گے؟ اور عامر ایک شاعر آدمی تھے۔ وہ (اپنی سواری سے) نیچے اترے اور سواریوں کو ہانکتے ہوئے یہ اشعار پڑھنے لگے:
”اے اللہ! اگر تو ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم صدقہ اور نماز ہی ادا نہ کرتے۔
ہمارے اوپر سکینت کو نازل فرما، جب ہمارے اوپر آزمائش آئے۔
اور ہماری پریشانی کو تبدیل فرما دینا۔“
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”سواریوں کو ہانکنے والا کون ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عامر بن اکوع ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان پر رحم فرمائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تھا کہ قوم میں تحریک پیدا کرو، تو انہوں نے رجزیہ اشعار کہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21034]
”اے اللہ! اگر تو ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم صدقہ اور نماز ہی ادا نہ کرتے۔
ہمارے اوپر سکینت کو نازل فرما، جب ہمارے اوپر آزمائش آئے۔
اور ہماری پریشانی کو تبدیل فرما دینا۔“
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”سواریوں کو ہانکنے والا کون ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عامر بن اکوع ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان پر رحم فرمائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تھا کہ قوم میں تحریک پیدا کرو، تو انہوں نے رجزیہ اشعار کہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21034]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21035
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْوَرَّاقُ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ ⦗٣٨٥⦘ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ، فَقَالَ لَهُ:" يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، انْزِلْ فَحَرِّكِ الرِّكَابَ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ تَرَكْتُ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اسْمَعْ وَأَطِعْ، قَالَ: فَرَمَى بِنَفْسِهِ وَقَالَ:.
سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن رواحہ! نیچے اترو اور سواری کو حرکت دو۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے یہ کام چھوڑ دیا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سنو اور اطاعت کرو۔ کہتے ہیں: انہوں نے خود کو (سواری سے) نیچے گرا دیا اور کہنے لگے:
«اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا» ”اے اللہ! اگر تو ہمیں ہدایت نہ فرماتا، نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ ہی نمازیں ادا کرتے۔“
«فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا» ”تو ہمارے اوپر سکینت کو نازل فرما اور دشمن کے مقابلہ میں ہمارے قدموں کو ثابت رکھنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21035]
«اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا» ”اے اللہ! اگر تو ہمیں ہدایت نہ فرماتا، نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ ہی نمازیں ادا کرتے۔“
«فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا» ”تو ہمارے اوپر سکینت کو نازل فرما اور دشمن کے مقابلہ میں ہمارے قدموں کو ثابت رکھنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21035]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 21036
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ السَّلِيطِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، وَابْنُ رَوَاحَةَ آخِذٌ بِغَرْزِهِ وَهُوَ يَقُولُ:.
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی مہار پکڑے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے: اے کفار! آج ان کا راستہ خالی کر دو، مقابلہ میں اترنے والے کی آج گردنیں اتار دی جائیں گی، جو ان کی گردنیں تن سے جدا کریں گے اور دوست کو دوست سے جدا کر دیا جائے گا، «يَا رَبِّ إِنِّي مُؤْمِنٌ بِقَوْلِهِ» ”اے میرے رب! میں ان کی بات پر ایمان لایا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21036]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21037
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ أَبُو الْقَاسِمِ اللَّخْمِيُّ، بأَصْبَهَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي سُوَيْدٍ الشِّبَامِيُّ، سَنَةَ ثَمَانٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ بِمَدِينَةِ شِبَامٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ مَشَى عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ:.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ القضا کو ادا کرنے کے لیے مکہ میں داخل ہوئے تو ابن رواحہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے: اے کفار! اس کے راستے کو چھوڑ دو۔
اللہ نے اس کی مہمانی فرمائی ہے، بہترین مقتول وہ ہے جو اس کے راستے میں قتل ہو۔ اس تاویل پر ہم نے جہاد کیا۔ جبکہ ہم نے تمہارے ساتھ لڑائی کی اس کے مہمان کے ساتھ مل کر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21037]
اللہ نے اس کی مہمانی فرمائی ہے، بہترین مقتول وہ ہے جو اس کے راستے میں قتل ہو۔ اس تاویل پر ہم نے جہاد کیا۔ جبکہ ہم نے تمہارے ساتھ لڑائی کی اس کے مہمان کے ساتھ مل کر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21037]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21038
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ثَابِتٌ، قَالَ قَطَنٌ: أَحْسِبُهُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَقَامَ أَهْلُهَا سِمَاطَيْنِ يَنْظُرُونَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِلَى أَصْحَابِهِ، قَالَ: وَابْنُ رَوَاحَةَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ:.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے، اس کے رہنے والے دو قطاروں میں کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھ رہے تھے اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے:
اے کفار! آج اس کا راستہ چھوڑ دو۔
آج اس کے مقابلے میں آنے والے کی ہم گردن اتار دیں گے۔
جو کھوپڑیاں تن سے جدا کر دیں گے اور دوست کو دوست سے دور کر دیں۔
اے میرے رب! میں اس کی بات پر ایمان لانے والا ہوں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اے ابن رواحہ! حرم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اشعار کہہ رہے ہو؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! رک جا۔ اللہ کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ کلام ان پر تیروں سے بھی زیادہ سخت واقع ہو رہا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنو تمیم کے ایک سوار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیا اور ان کے ساتھ ایک حدی خواں تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21038]
اے کفار! آج اس کا راستہ چھوڑ دو۔
آج اس کے مقابلے میں آنے والے کی ہم گردن اتار دیں گے۔
جو کھوپڑیاں تن سے جدا کر دیں گے اور دوست کو دوست سے دور کر دیں۔
اے میرے رب! میں اس کی بات پر ایمان لانے والا ہوں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اے ابن رواحہ! حرم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اشعار کہہ رہے ہو؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! رک جا۔ اللہ کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ کلام ان پر تیروں سے بھی زیادہ سخت واقع ہو رہا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنو تمیم کے ایک سوار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیا اور ان کے ساتھ ایک حدی خواں تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21038]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21039
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ إِلَى الشَّامِ، فَسَمِعَ حَادِيًا مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ:" أَسْرِعُوا بِنَا إِلَى هَذَا الْحَادِي"، قَالَ: فَأَسْرَعُوا حَتَّى أَدْرَكُوهُ فَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَنِ الْقَوْمُ"، قَالُوا: مُضَرُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَنَحْنُ مِنْ مُضَرَ"، قَالَ: فَبَلَغَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ بِالنِّسْبَةِ إِلَى مُضَرَ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَا الْإِبِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ:" فَكَيْفَ ذَاكَ"؟ قَالَ: أَغَارَ رَجُلٌ مِنَّا عَلَى إِبِلٍ فَاسْتَاقَهَا، فَجَعَلَ يَقُولُ لِغُلَامِهِ أَوْ لِأَجِيرِهِ: اجْمَعْهَا، فَيَأْبَى، فَجَعَلْتِ الْإِبِلُ تَفَرَّقُ، فَضَرَبَهُ وَكَسَرَ يَدَهُ، فَجَعَلَ الْغُلَامُ يَقُولُ: وَايَدَاهْ وَايَدَاهْ فَجَعَلْتِ الْإِبِلُ تَجْتَمِعُ وَهُوَ يَقُولُ: قُلْ كَذَا، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ. قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ فِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ حَادِيَنَا وَنَى".
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شام کی طرف جا رہے تھے۔ راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت سواریوں کے چلانے والے کی آواز سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جلدی اس حدی خواں کے پاس لے چلو۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے جلدی کی اور وہاں تک جا پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون سی قوم ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: مضر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا تعلق بھی مضر سے ہے۔“ راوی فرماتے ہیں کہ اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نسبت مضر کی طرف کی۔ ایک آدمی نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! دورِ جاہلیت میں سب سے پہلے میں نے اونٹوں کے لیے حدی خوانی کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیسے؟“ اس نے کہا: ہمارے ایک آدمی نے کچھ اونٹوں پر دھاوا بولا اور انہیں ہانک لایا۔ وہ اپنے غلام یا مزدور سے کہہ رہا تھا: ان کو جمع کرو۔ اس نے انکار کر دیا اور اونٹ بکھرنے لگے، تو اس نے اسے مارا اور اس کا ہاتھ توڑ دیا۔ غلام کہنے لگا: ہائے میرا ہاتھ، ہائے میرا ہاتھ۔ تو اونٹ جمع ہونے لگے، اور وہ کہہ رہا تھا: اسی طرح کہو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے۔
(ب) مجاہد رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ہماری سواریوں کو چلانے والے سست چلاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21039]
(ب) مجاہد رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ہماری سواریوں کو چلانے والے سست چلاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21039]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4133. -- باب:: تحسين الصوت بالقرآن والذكر
-- باب: قرآن اور ذکر کے ساتھ آواز کو خوبصورت بنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q21040
قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَا أَذِنَ اللهُ لِشَيْءٍ إِذْنَهُ لِنَبِيٍّ حَسَنِ التَّرَنُّمِ بِالْقُرْآنِ".
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے اس نبی کو سنتا ہے جو خوش الحانی کے ساتھ قرآن پڑھتا ہے۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q21040]
حدیث نمبر: 21040
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ، يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا أَذِنَ اللهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے اس اچھی آواز والے نبی کو سنتا ہے جو بلند آواز سے قرآن پڑھتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21040]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21041
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَذِنَ اللهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ". وَقَالَ صَاحِبٌ لَهُ، زَادَ:" يَجْهَرُ بِهِ" ⦗٣٨٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَقَالَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ فِي رِوَايَتِهِ:.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے اس نبی کو سنتا ہے جو قرآن کو ترنم سے پڑھتا ہے۔“ ایک شاگرد نے یہ اضافہ کیا: ”وہ اسے بلند آواز سے پڑھتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21041]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21042
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ:" مَا أَذِنَ اللهُ لِشَيْءٍ كَإِذْنِهِ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ": أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، فَذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ حَرْمَلَةَ وَالْمَحْفُوظُ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ:" كَأَذَنِهِ"، وَبَعْضُهُمْ يَقُولُ:" كَإِذْنِهِ"، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فِي قَوْلِهِ" كَأَذَنِهِ" يَعْنِي: مَا اسْتَمَعَ اللهُ لِشَيْءٍ كَاسْتِمَاعِهِ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ، وَلَمْ يَرْضَ، وَمِنْ رِوَايَةِ مِنْ رَوَى" كَإِذْنِهِ" قَالَ: وَقَوْلُهُ:" يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ"، إِنَّمَا مَذْهَبُهُ عِنْدَنَا تَحْزِينُ الْقِرَاءَةِ، قَالَ: وَمِنْ ذَلِكَ حَدِيثُهُ الْآخَرُ، يَعْنِي:.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے اس نبی کو سنتا ہے جو قرآن کو ترنم سے پڑھتا ہے۔“
(ب) اس روایت میں محفوظ الفاظ «كَأَذَنِهِ» (جیسے وہ سنتا ہے) ہیں، اور بعض «كَإِذْنِهِ» (جیسے وہ اجازت دیتا ہے) کہتے ہیں۔ ابوعبید فرماتے ہیں: «كَأَذَنِهِ» کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے اس نبی کو سنتا ہے جو قرآن کو ترنم سے پڑھتا ہے، اور وہ «كَإِذْنِهِ» روایت کرنے والوں کی روایت سے راضی نہیں ہوئے۔ فرمایا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ» کا مطلب ہمارے نزدیک قراءت کو غمگین (پُرسوز) انداز میں پڑھنا ہے۔ فرمایا: اور اسی قبیل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری حدیث ہے، یعنی: [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21042]
(ب) اس روایت میں محفوظ الفاظ «كَأَذَنِهِ» (جیسے وہ سنتا ہے) ہیں، اور بعض «كَإِذْنِهِ» (جیسے وہ اجازت دیتا ہے) کہتے ہیں۔ ابوعبید فرماتے ہیں: «كَأَذَنِهِ» کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے اس نبی کو سنتا ہے جو قرآن کو ترنم سے پڑھتا ہے، اور وہ «كَإِذْنِهِ» روایت کرنے والوں کی روایت سے راضی نہیں ہوئے۔ فرمایا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ» کا مطلب ہمارے نزدیک قراءت کو غمگین (پُرسوز) انداز میں پڑھنا ہے۔ فرمایا: اور اسی قبیل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری حدیث ہے، یعنی: [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21042]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح