السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4136. -- باب: شهادة الشعراء
-- باب: شاعروں کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 21111
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَهْ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" {وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ} [الشعراء: ٢٢٤] فَنَسَخَ مِنْ ذَلِكَ وَاسْتَثْنَى فَقَالَ: {إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللهَ كَثِيرًا} [الشعراء: ٢٢٧] ".
عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾ [سورة الشعراء: 224] اس سے منسوخ ہوگئی ﴿إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا﴾ [سورة الشعراء: 227] ”مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21111]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21112
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ قَالَا: ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَهُوَ يَقُصُّ وَهُوَ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ، وَهُوَ يَذْكُرُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخًا لَكُمْ لَا يَقُولُ الرَّفَثَ - يَعْنِي بِذَلِكَ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ - قَالَ:.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے قصے بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے کہ ”تمہارا بھائی ہے، وہ بےہودہ بات نہیں کرتا“ یعنی عبداللہ بن رواحہ۔ شعر:
1 ہمارے اندر اللہ کے رسول ہیں، جو اس کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں جب بھلائی والی فجر طلوع ہوتی ہے۔
2 اس نے اندھے پن کے بعد ہمیں ہدایت دی اور ہمارے دل اس کا یقین کرنے والے ہیں، جو اس نے کہہ دیا واقع ہونے والا ہے۔
3 وہ رات گزارتا ہے کہ اس کے پہلو بستر سے جدا رہتے ہیں، جس وقت کفار کے پہلو اپنے بستروں پر بھاری ہوتے ہیں، یعنی چمٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21112]
1 ہمارے اندر اللہ کے رسول ہیں، جو اس کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں جب بھلائی والی فجر طلوع ہوتی ہے۔
2 اس نے اندھے پن کے بعد ہمیں ہدایت دی اور ہمارے دل اس کا یقین کرنے والے ہیں، جو اس نے کہہ دیا واقع ہونے والا ہے۔
3 وہ رات گزارتا ہے کہ اس کے پہلو بستر سے جدا رہتے ہیں، جس وقت کفار کے پہلو اپنے بستروں پر بھاری ہوتے ہیں، یعنی چمٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21112]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1155۔ 6151»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21113
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّعْرِ فَقَالَ:" هُوَ كَلَامٌ، فَحَسَنُهُ حَسَنٌ، وَقَبِيحُهُ قَبِيحٌ". وَصَلَهُ جَمَاعَةٌ، وَالصَّحِيحُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شعر کے متعلق سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کلام ہے، اچھے اشعار اچھا کلام اور برے اشعار برا کلام ہیں۔“
ایک جماعت نے اسے موصول بیان کیا ہے، لیکن ان سے صحیح یہ ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21113]
ایک جماعت نے اسے موصول بیان کیا ہے، لیکن ان سے صحیح یہ ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21113]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21114
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سُئِلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ بِشَيْءٍ مِنَ الشِّعْرِ؟ ⦗٤٠٦⦘ قَالَتْ: رُبَّمَا دَخَلَ وَهُوَ يَقُولُ:" سَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ".
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی مثال اشعار میں سے ہے؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی اس طرح کہہ لیا کرتے تھے: ”عنقریب تیرے پاس وہ شخص خبریں لائے گا، جس کو تو نے زادِ سفر بھی نہیں دیا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21114]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21115
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكَرَابِيسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ قَدِمَا عَلَيْنَا بَيْهَقَ وَهُمَا صَحِيحٌ سَمَاعُهُمَا قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَصْرِيُّ - يَعْنِي: الْبَرَاءَ حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ طَيْسَلَةَ، أَخْبَرَنِي مَعْنُ بْنُ ثَعْلَبَةَ الْمَازِنِيُّ، حَدَّثَنِي الْأَعْشَى الْمَازِنِيُّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْشَدْتُهُ:.
اعشیٰ مازنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اشعار پڑھے:
اے لوگوں کے رب اور عرب کے فیصلہ کرنے والے!
میری ملاقات ایک زبان دراز آدمی سے ہوئی
میں تو گھبراہٹ اور پریشانی کی حالت میں رزق تلاش کر رہا تھا۔
کراسی کی روایت: میں تو رزق کی تلاش میں نکلا، اس نے میرا پیچھا نیزوں کے ساتھ کیا، اس نے وعدہ کی خلاف ورزی کی اور گناہ میں لت پت ہو گیا۔ وہ جس پر غالب آ جاتی ہیں ان کے لیے بدترین شر ہوتی ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مثال دیتے ہوئے فرمایا تھا: «وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبَ» ”وہ جس پر غالب آ جاتی ہیں ان کے لیے بدترین شر ہوتی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21115]
اے لوگوں کے رب اور عرب کے فیصلہ کرنے والے!
میری ملاقات ایک زبان دراز آدمی سے ہوئی
میں تو گھبراہٹ اور پریشانی کی حالت میں رزق تلاش کر رہا تھا۔
کراسی کی روایت: میں تو رزق کی تلاش میں نکلا، اس نے میرا پیچھا نیزوں کے ساتھ کیا، اس نے وعدہ کی خلاف ورزی کی اور گناہ میں لت پت ہو گیا۔ وہ جس پر غالب آ جاتی ہیں ان کے لیے بدترین شر ہوتی ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مثال دیتے ہوئے فرمایا تھا: «وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبَ» ”وہ جس پر غالب آ جاتی ہیں ان کے لیے بدترین شر ہوتی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21115]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21116
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَرْعَرَةَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ، أنبأ طَيْسَلَةُ بْنُ نُبَاتَةَ الْمَازِنِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَالْحِيُّ عَنْ أَعْشَى بْنِ مَاعِزٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْشَدْتُهُ، فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: تَزَوَّجْتُ ذِرْبَةً، وَقَالَ: ذَهَبْتُ أَبْغِيهَا، وَقَالَ: فَخَالَفَتْنِي بِنِزَاعٍ وَهَرَبْ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْبَيْتَ الْخَامِسَ، وَقَالَ غَيْرُهُ: عَنْ إِبْرَاهِيمَ: طَيْسَلَةُ بْنُ صَدَقَةَ.
سیدنا عشی بن ماعز رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اشعار پڑھتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، انہوں نے ذکر کیا کہ میں نے ایک زبان دراز عورت سے شادی کی ہے، میں اس کی تلاش میں نکلا تو اس نے جھگڑے اور فرار کے ساتھ میری مخالفت کی، لیکن پانچواں شعر ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21116]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21117
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَكَانَ طَوِيلَ الصَّمْتِ، وَكَانَ أَصْحَابُهُ يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ عِنْدَهُ، وَيَذْكُرُونَ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَيَضْحَكُونَ، فَيَتَبَسَّمُ مَعَهُمْ إِذَا ضَحِكُوا.
سماک رحمہ اللہ، جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟ کہنے لگے: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ خاموش رہتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آپ کے پاس اشعار اور جاہلیت کا تذکرہ کرتے اور ہنستے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکراتے تھے، جب وہ ہنستے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21117]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21118
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَكَانَ طَوِيلَ الصَّمْتِ، قَلِيلَ الضَّحِكِ، وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ.
سماک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے؟ فرمانے لگے: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ خاموش رہتے تھے، ہنستے کم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اشعار پڑھتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21118]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21119
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي الْبِلَادِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ:" رَأَيْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ عِنْدَ الْبَيْتِ، أَوْ حَوْلَ الْبَيْتِ، لَا أَعْلَمُ إِلَّا قَالَ: مُحْرِمِينَ" شَكَّ إِبْرَاهِيمُ.
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بیت اللہ کے قریب اشعار پڑھتے دیکھا جب وہ بیت اللہ کے پاس ارد گرد احرام کی حالت میں تھے، (ابراہیم راوی کو شک ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21119]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21120
قَالَ: وَحَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، قَالَ:" إِنَّ آخِرَ مَجْلِسٍ جَالَسْنَا فِيهِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ مَجْلِسٌ تَنَاشَدْنَا فِيهِ الشِّعْرَ".
محمد بن کثیر بن افلح فرماتے ہیں کہ جب ہماری آخری مجلس حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوئی تو ہم اس میں اشعار پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21120]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف