🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4140. -- باب:: الشاعر يشبب بامرأة بعينها ليست مما يحل له وطؤها فيكثر فيها ويبتهرها
-- باب: وہ شاعر جو کسی ایسی مخصوص عورت کے بارے میں عشقیہ اشعار کہے جس سے قربت اس کے لیے حلال نہ ہو، پھر وہ اس میں کثرت کرے اور اس پر جھوٹا دعویٰ (یا تہمت) باندھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q21139
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" رُدَّتْ شَهَادَتُهُ".
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس کی گواہی رد کر دی جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q21139]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21139
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، وَالْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ، فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، أَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا"، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ شُعْبَةُ فِي حَدِيثِهِ:" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ"، وَقَالَ الْمَسْعُودِيُّ:" أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ"، فَقَامَ ذَلِكَ، أَوْ غَيْرُهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ"، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ: هِجْرَةُ الْحَاضِرِ، وَهِجْرَةُ الْبَادِي، فَأَمَّا الْبَادِي فَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ، وَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ، وَأَمَّا الْحَاضِرُ فَهُوَ أَعْظَمُهُمَا بَلِيَّةً، وَأَفْضَلُهُمَا أَجْرًا". وَقَالَ الْمَسْعُودِيُّ: وَنَادَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَنْ يُعْقَرَ جَوَادُكَ، وَيُهْرَاقَ دَمُكَ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت والے دن اندھیروں کی شکل میں ہوگا اور فحش گوئی سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ فحش گوئی کو پسند نہیں فرماتا اور بخل سے بچو کیونکہ اس نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر دیا، اس نے ان کو قطع رحمی، بخل اور گناہ کا حکم دیا تو انہوں نے یہ کام کیے۔“ ایک آدمی کھڑا ہوا، اس نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا اسلام افضل ہے؟“ امام شعبہ رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔“ امام مسعودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔“ پھر وہی شخص یا اس کے علاوہ دوسرا شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سی ہجرت افضل ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو تیرا رب ناپسند کرے اس کو چھوڑ دے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت کی دو قسمیں ہیں: 1 شہری آدمی کا ہجرت کرنا، 2 دیہاتی کا ہجرت کرنا۔“
”دیہاتی دعوت کو قبول کرے گا جب اس کو بلایا جائے گا اور حکم کی تعمیل کرے گا جب اس کو حکم دیا جائے گا، اور شہری کی آزمائش بڑی ہوتی ہے اور اس کا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔“
امام مسعودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! افضل شہید کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے گھوڑے کی کونچیں پھاڑ دی جائیں اور خون بہا دیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21139]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الطيالسي 2386»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21140
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ الْبَذِئِ".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن لعن طعن کرنے والا اور فحش گوئی کرنے والا نہیں ہوتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21140]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21141
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ ⦗٤١٢⦘ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْمُجَالِدِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كُنَّا نَتَنَاشَدُ الْأَشْعَارَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَأَقْبَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْنَا، فَقَالَ: أَفِي حَرَمِ اللهِ، وَعِنْدَ كَعْبَةِ اللهِ تَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ؟ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ مَعَنَا، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ، إِنَّهُ لَيْسَ بِكَ بَأْسٌ إِنْ لَمْ تَفْسَدْ نَفْسُكَ، إِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا نَهَى عَنِ الشِّعْرِ إِذَا أُبِّنَتْ فِيهِ النِّسَاءُ، وَبُذِّرَ فِيهِ الْأَمْوَالُ.
امام شعبی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ہم بیت اللہ کے پاس اشعار پڑھ رہے تھے۔ ہمارے پاس ابن زبیر رضی اللہ عنہما آئے اور فرمانے لگے: کیا اللہ کے حرم اور بیت اللہ کے پاس تم اشعار پڑھ رہے ہو؟ تو ایک انصاری صحابی جو ہمارے ساتھ موجود تھے، کہنے لگے کہ اے ابن زبیر! کوئی حرج نہیں اگر آپ اپنے آپ کو خراب نہ کریں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ”ان اشعار سے منع کرتے تھے، جن کا موضوع عورتیں ہوں اور اس میں مال خرچ کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21141]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4141. -- باب:: من شبب فلم يسم أحدا، لم ترد شهادته
-- باب: جس نے عشقیہ اشعار کہے مگر کسی کا نام نہیں لیا تو اس کی گواہی رد نہیں کی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q21142
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّهُ يُمْكِنُ أَنْ يُشَبِّبَ بِامْرَأَتِهِ وَجَارِيَتِهِ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ (اپنے اشعار میں) اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے لیے عشقیہ اشعار کہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q21142]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21142
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ ذِي الرُّقَيْبَةِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: خَرَجَ كَعْبٌ وَبُجَيْرٌ ابْنَا زُهَيْرٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي إِسْلَامِ بُجَيْرٍ، وَمَا كَانَ مِنْ شِعْرِ كَعْبٍ فِيهِ، ثُمَّ قُدُومَ كَعْبٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِسْلَامَهُ، وَإِنْشَادَهُ قَصِيدَتَهُ الَّتِي أَوَّلُهَا:.
کعب بن زہیر بن ابی سلمیٰ مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کعب اور بجیر رضی اللہ عنہما، جو زہیر کے بیٹے تھے، نکلے۔ پھر لمبی حدیث ذکر کی، جس میں بجیر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا قصہ ہے اور اس میں کعب رضی اللہ عنہ کے اشعار کا تذکرہ ہے۔ پھر کعب رضی اللہ عنہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنا، اسلام قبول کرنا اور اس قصیدے کے اشعار پڑھنا جو سب سے پہلے انہوں نے لکھے تھے۔
1 سعاد جدا ہوئی تو میرا دل آج بہت اداس ہے
وہ اس کے پاس قید ہے اور اس کی قید سے نکلتا نہیں ہے
2 سعاد صبح کے وقت جدا ہوئی جب وہ (قافلے والے) روانہ ہوئے
تو میں اس وقت ناک میں گنگنا رہا تھا اور سرمگیں آنکھوں کے پپوٹے جھکے ہوئے تھے
3 جب وہ تبسم فرماتی تو دانتوں کی چمک ظاہر ہو جاتی
گویا کہ وہ میٹھے پانی کا چشمہ ہے جو شیشے سے ڈھکا ہوا ہے
پھر انہوں نے ایک لمبا قصیدہ کہا جس میں اڑتالیس اشعار تھے اور اس میں یہ اشعار بھی تھے۔
1 مجھے بتایا گیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ کیا ہے
اور معافی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہے جس کی امید کی جاتی ہے
2 اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہرو جس نے تجھے ایسی چیز عطا کی ہے
جس میں وعظ نصیحت اور مکمل بیان ہے
3 تو چغل خور کی باتوں کو قبول نہ کر اور
نہ ہی میں نے کوئی جرم کیا ہے اگرچہ من گھڑت باتیں مجھ سے کثرت سے سرزد ہوئی ہیں
4 یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نور (ہدایت) ہیں جن سے روشنی حاصل کی جاتی ہے
اور وہ اللہ کی تلواروں میں سے سونتی ہوئی ایک تلوار ہیں
5 قریش کے نوجوانوں میں سے کہنے والے نے کہا
جب سے انہوں نے اسلام قبول کیا اس وقت سے مکہ کی وادی لرز رہی ہے۔
موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سعاد والے اشعار مسجد نبوی میں پڑھے، جب ان اشعار پر پہنچے:
1 بیشک رسول صلی اللہ علیہ وسلم نور (ہدایت) ہیں جن سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور اللہ کی تلواروں میں سے ننگی تلوار ہیں۔
2 قریش کے نوجوانوں میں سے کسی نے کہا، جب سے وہ مسلمان ہوئے ہیں (یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم) تب سے مکہ کی وادی لرز رہی ہے۔
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ آئیں اور اس سے (اشعار) سنیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21142]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4142. -- باب:: ما يكره أن يكون الغالب على الإنسان الشعر حتى يصده عن ذكر الله والعلم والقرآن
-- باب: انسان پر شاعری کے اس قدر غالب ہونے کی کراہت کہ وہ اسے اللہ کے ذکر، علم اور قرآن سے غافل کر دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21143
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيُّ الْمَكِّيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی ایک کا پیٹ پیپ سے بھر جائے یہ بہتر ہے کہ اشعار سے بھرا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21143]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6154»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21144
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحً، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا يَرِيَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَشَجِّ، عَنْ وَكِيعٍ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا پیٹ پیپ سے بھرا ہو، یہ اس سے بہتر ہے کہ اس میں اشعار ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21144]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21145
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ يُحَنِّسَ مَوْلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا الشَّيْطَانَ"، أَوْ" أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ، لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرج مقام پر چل رہے تھے، اچانک ایک شاعر سامنے آگیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان کو پکڑو کیونکہ آدمی کے پیٹ کا پیپ سے بھرا ہونا بہتر ہے کہ وہ اشعار سے بھرا ہوا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21145]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21146
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: قَوْلُهُ:" حَتَّى يَرِيَهُ هُوَ مِنَ الْوَرْيِ، وَهُوِ أَنْ يَدْوَى جَوْفُهُ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَسَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ يُحَدِّثُ عَنِ الشَّرْقِيِّ بْنِ الْقَطَّامِيِّ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا" يَعْنِي: مِنَ الشِّعْرِ الَّذِي هُجِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ⦗٤١٤⦘ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ:" وَالَّذِي عِنْدِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرُ هَذَا الْقَوْلِ، لِأَنَّ الَّذِي هُجِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ شَطْرَ بَيْتٍ لَكَانَ كُفْرًا، وَلَكِنَّ وَجْهَهُ عِنْدِي أَنْ يَمْتَلِئَ قَلْبُهُ حَتَّى يَغْلِبَ عَلَيْهِ، فَيَشْغَلَهُ عَنِ الْقُرْآنِ، وَعَنْ ذِكْرِ اللهِ، فَيَكُونَ الْغَالِبَ عَلَيْهِ، مِنْ أِيِّ الشِّعْرِ كَانَ".
شعبی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ایک کا پیٹ پیپ سے بھر جائے یہاں تک کہ اسے خراب کر دے، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ اشعار سے بھرا ہوا ہو۔“ یعنی ایسے اشعار جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مذمت بیان کی گئی ہو۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک اس حدیث کا مطلب اس قول کے علاوہ ہے، کیونکہ اگر نصف شعر بھی ہو جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مذمت بیان کی گئی ہو تو وہ کفر ہے، لیکن میرے نزدیک یہ ہے کہ انسان کے دل پر اشعار غالب آ جائیں جس کی بنا پر وہ اللہ کے ذکر اور قرآن کی تلاوت سے دور رہے، خواہ وہ کسی بھی قسم کے اشعار ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21146]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں