السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4249. -- باب:: الرجل يطأ أمته بالملك فتلد له
-- باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
حدیث نمبر: 21769
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ ⦗٥٧٦⦘ يَعْنِي ابْنَ مَرْوَانَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَذْكُرُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَ بِأُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ أَنْ يُقَوَّمْنَ فِي أَمْوَالِ أَبْنَائِهِنَّ بِقِيمَةِ عَدْلٍ، ثُمَّ يُعْتَقْنَ، فَمَكَثَ بِذَلِكَ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ، ثُمَّ تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ كَانَ لَهُ ابْنُ أُمِّ وَلَدٍ، قَدْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْجَبُ بِذَلِكَ الْغُلَامِ، فَمَرَّ ذَلِكَ الْغُلَامُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ وَفَاةِ أَبِيهِ بِلَيَالٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" مَا فَعَلْتَ يَا ابْنَ أَخِي فِي أُمِّكَ؟"، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، حِينَ خَيَّرَنِي إِخْوَتِي فِي أَنْ يَسْتَرِقُّوا أُمِّيَ، أَوْ يُخْرِجُونِيَ مِنْ مِيرَاثِي مِنْ أَبِي، فَكَانَ مِيرَاثِي مِنْ أَبِي أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ أَنْ تُسْتَرَقَّ أُمِّي، قَالَ عُمَرُ:" أَوَلَسْتُ إِنَّمَا أَمَرْتُ فِي ذَلِكَ بِقِيمَةِ عَدْلٍ؟ مَا أَتَرَاءَى رَأْيًا أَوْ آمُرُ بِشَيْءٍ إِلَّا قُلْتُمْ فِيهِ؟"، ثُمَّ قَامَ فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ حَتَّى إِذَا رَضِيَ جَمَاعَتَهُمْ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَمَرْتُ فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ بِأَمْرٍ قَدْ عَلِمْتُمُوهُ، ثُمَّ قَدْ حَدَثَ لِي رَأْيٌ غَيْرُ ذَلِكَ، فَأَيُّمَا امْرِئٍ كَانَتْ عِنْدَهُ أُمُّ وَلَدٍ فَمَلَكَهَا بِيَمِينِهِ مَا عَاشَ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ لَا سَبِيلَ عَلَيْهَا".
(٢١٧٦٩) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ امہات الاولاد کی عدل والی قیمت لگائی جائے پھر آزاد کردی جائیں، یہ ان کی خلافت کے ابتدا میں تھا، پھر ایک قریشی مرد فوت ہوگیا، اس کی ام ولد تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس غلام سے تعجب کرتے تھے، یہ بچہ اپنے باپ کی وفات کے چند راتوں بعدحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے مسجد میں گزرا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے بچے! تو نے اپنی والدہ کے بارے میں کیا کیا؟ وہ کہنے لگا: اے امیرالمومنین! جب میرے بھائیوں نے مجھے اختیار دیا کہ وہ میری والدہ کو لونڈی رکھیں یا مجھے میرے والد کی وراثت سے نکال دیں، مجھے میرے والد کی میراث سے نکال دیں یہ زیادہ آسان ہے کہ میری والدہ کو غلام رکھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں نے عدل کی قیمت مقرر کرنے کا حکم نہیں دیا تو آپ میری رائے یا میرے حکم کے بارے میں کیا خیال کرتے ہیں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما ہوئے، لوگ جمع ہوئے تو انھوں نے اس جماعت کو راضی کرلیا، فرمانے لگے: امہات الاولاد کے بارے تم میرے حکم کو جانتے ہو، پھر مجھے دوسرا خیال آیا، جس کے پاس ام ولد ہو وہ اپنی زندگی تک اس کا مالک ہے جب فوت ہوجائے تو آزاد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21769]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21770
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ الزَّاهِدُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ الْمَالِكِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَدِمْتُ دِمَشْقَ وَعَبْدُ الْمَلِكِ يَوْمَئِذٍ مَشْغُولٌ بِشَأْنِهِ، فَجَلَسْتُ فِي مَجْلِسٍ لَا أَعْرِفُهُمْ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَوْسَعُوا لَهُ، قَالَ: كَيْفَ تَرَوْنَ فِي شَيْءٍ ذَكَرَهُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ آنِفًا، أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ الْمَدِينَةِ فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ أَيُرَّقَّقْنَ أَوْ يُعْتَقْنَ؟ قُلْتُ: إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ذَكَرَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانَ يُعْجِبُهُ عَقْلُهُ وَلِسَانُهُ، ثُمَّ مَاتَ أَبُوهُ، وَتَرَكَ مَالًا، وَأُمُّهُ أُمُّ وَلَدٍ، فَأَقَامُوا أُمَّهُ، فَزَايَدُوهُ فِي أُمِّهِ حَتَّى أَخْرَجُوهُ مِنْ مِيرَاثِهِ، فَمَرَّ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَعَاهُ، فَسَأَلَهُ: مَا صَارَ لَهُ مِنْ مِيرَاثِ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْتُ بِأُمِّي مِنْ مِيرَاثِ أَبِي، فَقَالَ:" أَمَا وَاللهِ لَأَقُولَنَّ فِي ذَلِكَ مَقَالًا أَذُبُّ النَّاسَ عَنْهُ"، فَقَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّمَا رَجُلٍ حُرٍّ تَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ وَلَدَتْ مِنْهُ فَهِيَ حُرَّةٌ"، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي، فَإِذَا هُوَ قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ حَتَّى أَدْخَلَنِي عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، وَإِذَا عَبْدُ الْمَلِكِ ذَكَرَ لِقَبِيصَةَ أَنَّهُ كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَلَمْ يُثْبِتْهُ، فَأُدْخِلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ هَذَا الْحَدِيثَ الَّذِي أَخْبَرْتُهُ، فَبَدَأَ فَسَأَلَنِي: مَا نَسَبِي؟ فَلَمَّا بَلَغْتُ أَبِي، قَالَ: إِنْ كَانَ أَبُوكَ لَنَعَّارًا فِي الْفِتْنَةِ، مَا حَدِيثُ سَعِيدٍ الَّذِي أَخْبَرَنِي عَنْكَ قَبِيصَةُ؟ فَأَخْبَرْتُهُ بِمِثْلِ مَا أَخْبَرْتُ قَبِيصَةَ، فَأَمَرَ بِذَلِكَ فَأُمْضِيَ، فَقَالَ: مَا مَاتَ رَجُلٌ تَرَكَ مِثْلَكَ..
(٢١٧٧٠) ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں دمشق آیا تو عبدالملک کسی کام میں مصروف تھے۔ میں ان کی مجلس میں بیٹھ گیا کسی کو جانتا نہ تھا۔ ایک آدمی نے متوجہ ہو کہ جگہ میں وسعت کردی۔ کہنے لگا: تمہارا کیا خیال ہے جو ابھی امیر المومنین نے ذکر کیا جو مدینہ سے حکم آیا کہ امہات الاولاد کو آزاد کیا جائے یا غلام رکھا جائے؟ جس نے کہا کہ سعید بن مسیب نے ایک قریشی مرد کا تذکرہ کیا۔ اس کی عقل اور زبان بڑی اچھی تھی۔ اس کا باپ فوت ہوگیا۔ اس نے مال اور امِ ولد چھوڑی تو آخر کار انھوں نے اس کو وراثت سے نکال دیا۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا تو انھیں نے بلایا اور پوچھا: اس کے باپ کی واثت کا کیا بنا؟ کہنے لگا: میں نے اپنی والدہ کو اپنے باپ کی وراثت سے نکال دیا ہے۔ فرمانے لگے کہ میں بھی لوگوں کو ایسی بات کہنے والا ہوں کہ لوگ اس سے بچیں۔ پھر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا کہ جو آزاد آدمی ہو اس کے پاس ام ولد لونڈی ہو تو اس کی موت کے بعد وہ آزاد ہے۔ کہتے ہیں کہ اس نے میرا ہاتھ پکڑا، وہ قبیصہ بن ذویب اور عبد الملک بن مروان کے پاس لے گئے۔ اچانک عبدالملک نے قبیصہ کے سامنے سعید بن مسیب کا تذکرہ کردیا کہ وہ ثابت نہیں ہیں۔ جس حدیث کی خبر میں نے دی تو اس نے میرا نسب پوچھنا شروع کردیا۔ جب میں اپنے باپ کے نام پر پہنچا تو کہنے لگے کہ وہ فتنہ میں آگ لگانے والے تھے۔ وہ کونسی حدیث ہے جو آپ نے قبیصہ کو بیان کی ہے تو میں نے ان کو بھی خبر دی۔ کہنے لگے: اس طرح کا کوئی آدمی فوت ہی نہیں ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21770]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21771
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِتْقِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، وَلَا ⦗٥٧٧⦘ يُجْعَلْنَ فِي الثُّلُثِ، وَأَمَرَ أَنْ لَا يُبَعْنَ فِي الدَّيْنِ.. قَالَ جَعْفَرٌ: لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُهُ.
(٢١٧٧١) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ امہات الاولاد کو آزاد کردیا جائے، ان کو ثلث میں نہ رکھا جائے اور قرض میں فروخت نہ کیا جائے۔
(ب) سعید بن مسیب امہات الاولاد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پہلا حکم امہات الاولاد کے بارے میں تھا کہ آزاد کی جائیں، لیکن ایسا نہ تھا۔ سب سے پہلے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آزاد کیا، ثلث میں ان کو نہ رکھا اور قرض میں فروخت بھی نہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21771]
(ب) سعید بن مسیب امہات الاولاد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پہلا حکم امہات الاولاد کے بارے میں تھا کہ آزاد کی جائیں، لیکن ایسا نہ تھا۔ سب سے پہلے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آزاد کیا، ثلث میں ان کو نہ رکھا اور قرض میں فروخت بھی نہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21771]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21772
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ..
(٢١٧٧٢) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے امہات الاولاد کو آزاد کیا۔ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی آزاد کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21772]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21773
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ، ثنا أَبِي، ثنا غَيْلَانُ بْنُ جَامِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذْ سَمِعَ صَائِحَةً، فَقَالَ:" يَا يَرْفَأُ، انْظُرْ مَا هَذَا الصَّوْتُ؟ فَانْطَلَقَ فَنَظَرَ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: جَارِيَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ تُبَاعُ أُمُّهَا، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ:" ادْعُ"، أَوْ قَالَ: عَلَيَّ بِالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، قَالَ: فَلَمْ يَمْكُثْ إِلَّا سَاعَةً حَتَّى امْتَلَأَتِ الدَّارُ وَالْحُجْرَةُ، قَالَ: فَحَمِدَ اللهَ عُمَرُ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَهَلْ تَعْلَمُونَهُ كَانَ مِمَّا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَطِيعَةُ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَإِنَّهَا قَدْ أَصْبَحَتْ فِيكُمْ فَاشِيَةً، ثُمَّ قَرَأَ: {هَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ}، ثُمَّ قَالَ:" وَأِيُّ قَطِيعَةٍ أَفْظَعُ مِنْ أَنْ تُبَاعَ أُمُّ امْرِئٍ مِنْكُمْ؟ وَقَدْ أَوْسَعَ اللهُ لَكُمْ"، قَالُوا: فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ، أَوْ مَا شِئْتَ، قَالَ:" فَكَتَبَ فِي الْآفَاقِ:" أَنْ لَا تُبَاعَ أُمُّ حُرٍّ، فَإِنَّهُ قَطِيعَةٌ، وَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ".
(٢١٧٧٣) عبداللہ بن بریرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اچانک اس نے ایک چیخ سنی، کہنے لگے: اے یرفئا! دیکھو یہ آواز کیسی ہے؟ وہ دیکھ کر آئے اور کہنے لگے کہ ایک لونڈی کی والدہ کو فروخت کیا جا رہا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بلاؤیا فرمایا: مہاجرین و انصار کو بلاؤ، تھوڑی دیر میں گھر اور حجرہ بھر گیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمدوثنا بیان کی، پھر فرمایا: کیا تم جانتے جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قطع رحمی کے متعلق لائے ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ حالانکہ وہ تمہارے معاشرہ میں عام ہوچکی ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت کی: { فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْا اَرْحَامَکُمْ } [محمد ٢٢] ”عنقریب اگر تم پھرگئے کہ تم زمین میں فساد کرو اور اپنی رشتہ داریوں کو کاٹو۔“
پھر فرمایا: اس سے بڑی قطع رحمی کیا ہے کہ تم ام ولد کو فروخت کرنا شروع کر دو۔ حالانکہ اللہ نے تمہارے اوپر وسعت کی ہے، لوگوں نے کہا: جو چاہو فیصلہ کرو تو انھوں نے خط لکھوا دیے کہ ام ولد کو فروخت نہ کیا جائے۔ یہ قطع رحمی ہے اور جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21773]
پھر فرمایا: اس سے بڑی قطع رحمی کیا ہے کہ تم ام ولد کو فروخت کرنا شروع کر دو۔ حالانکہ اللہ نے تمہارے اوپر وسعت کی ہے، لوگوں نے کہا: جو چاہو فیصلہ کرو تو انھوں نے خط لکھوا دیے کہ ام ولد کو فروخت نہ کیا جائے۔ یہ قطع رحمی ہے اور جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21773]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21774
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، إِنَّ اللهَ قَدْ أَفَاءَ عَلَيْكُمْ مِنْ بِلَادِ الْأَعَاجِمِ مِنْ نِسَائِهِمْ وَأَوْلَادِهِمْ مَا لَمْ يُفِيءْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ رِجَالًا سَيَلُمُّونَ بِالنِّسَاءِ، فَأَيُّمَا رَجُلٍ وَلَدَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ الْعَجَمِ فَلَا تَبِيعُوا ⦗٥٧٨⦘ أُمَّهَاتِ أَوْلَادِكُمْ فَإِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَنْ يَطَأَ حَرِيمَهُ وَهُوَ لَا يَشْعُرُ"..
(٢١٧٧٤) عبداللہ بن سعید اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عورتیں اور ان کی اولادیں تمہارے قبضہ میں دی ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں نہ ہوا۔ میں جانتا ہوں کہ لوگ عورتوں سے مجامعت کرتے ہیں، جس مرد کے ہاں عجمی عورت جنم دے تو تم امہات الاولاد کو فروخت نہ کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا، آدمی کو شک تھا کہ اس سے مجامعت کرنا حرام ہے کہ اس کو شعور بھی نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21774]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21775
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: كَانَتْ جَدَّتِي أُمَّ وَلَدٍ لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، فَأَرَادَ ابْنٌ لِعُثْمَانَ أَنْ يَبِيعَهَا بَعْدَ مَوْتِ أَبِيهِ، وَإِنَّهَا أَتَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ ابْنَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ أَرَادَ أَنْ يَبِيعَنِي، وَقَدْ كُنْتُ وَلَدْتُ لِأَبِيهِ، فَلَوْ كَلَّمْتِيهِ فَوَضَعَنِي مَوْضِعًا صَالِحًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَوَلَدْتِ لِأَبِيهِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَأْتِي أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْتِقُكِ، فَأَتَتْ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهَا وَلَدَتْ مِنْ عُثْمَانَ وَأَنَّ ابْنَهُ يُرِيدُ بَيْعَهَا، فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى ابْنِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، فَقَالَ:" أَرَدْتَ ذَلِكَ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" لَيْسَ ذَاكَ لَكَ"، أَظُنُّهُ قَالَ: فَهِيَ حُرَّةٌ، قَالَتْ جَدَّتِي: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا أَعْتَقَنِي، قَالَ:" وَلَدُكِ مِنْ عُثْمَانَ"، قَالَتْ فَإِنَّهُ قَدْ جَرَحَنِي هَذِهِ الْجِرَاحَ بَعْدَ مَوْتِ أَبِيهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَعْطِهَا أَرْشَ مَا صَنَعْتَ بِهَا".
(٢١٧٧٥) محمد بن زیاد فرماتے ہیں کہ میری دادی عثمان بن مظعون کی ام ولد تھی تو عثمان بن مظعون کی وفات کے بعد اس کے بیٹے نے فروخت کرنا چاہا۔ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں کہ عثمان بن مظعون کا بیٹا مجھے فروخت کرنا چاہتا ہے حالانکہ اس کے باپ کی اولاد مجھ سے ہے، اگر آپ ان سے بات کریں تو وہ مجھے درست جگہ رکھیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو نے اس کے باپ کی اولاد کو جنم دیا ہے؟ کہتی ہیں: ہاں۔ کہنے لگی: آپ امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ وہ تمہیں آزاد کردیں گے۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور خبر دی کہ عثمان کی اولاد مجھ سے ہے اور اس کا بیٹا مجھے فروخت کرنا چاہتا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عثمان بن مظعون کے بیٹے کو پیغام دیا: کیا آپ کا یہی ارادہ ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے لیے یہ جائز نہیں۔ یہ آزاد ہے، میری دادی نے پوچھا: مجھے کس نے آزاد کیا؟ فرمایا: تیری اولاد نے جو عثمان سے ہے، کہنے لگی: اس نے اپنے باپ کی وفات کے بعد میرے اوپر جرح کی ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کا تاوان دو جو آپ نے اس کے ساتھ سلوک کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21775]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21776
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ عُمَرَ، وَعُمَرَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ: أَعْتَقَا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ وَمَنْ بَيْنَهُمَا مِنَ الْخُلَفَاءِ" وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ أَخْبَارٌ..
(٢١٧٧٦) قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز کے درمیان جتنے خلیفہ تھے وہ امہات الاولاد کو آزاد کردیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21776]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21777
مِنْهَا: مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ، خَتَنُ سَلَمَةَ بْنِ الْفَضْلِ، ثنا سَلَمَةُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْخَطَّابِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي سَلَّامَةُ بِنْتُ مَعْقِلٍ، قَالَتْ: كُنْتُ لِلْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو، فَمَاتَ وَلِي مِنْهُ غُلَامٌ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: الْآنَ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِهِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَاحِبُ تَرِكَةِ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو"؟ فَقَالُوا: أَخُوهُ أَبُو الْيَسَرِ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا تَبِيعُوهَا، وَأَعْتِقُوهَا، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَقِيقٍ قَدْ جَاءَنِي فَائْتُونِي أُعَوِّضْكُمْ مِنْهَا"، فَفَعَلُوا، وَاخْتَلَفُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قَوْمٌ: إِنَّ أُمَّ الْوَلَدِ مَمْلُوكَةٌ، لَوْلَا ذَلِكَ لَمْ يُعَوِّضْهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ هِيَ حُرَّةٌ، قَدْ أَعْتَقَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفِي ذَا كَانَ الِاخْتِلَافُ. أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنِ النُّفَيْلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بِمَعْنَاهُ دُونَ مَا فِي آخِرِهِ مِنَ الِاخْتِلَافِ..
(٢١٧٧٧) سلامۃ بنت معقل فرماتی ہیں کہ میں حباب بن عمرو کی لونڈی تھی، وہ فوت ہوگئے، اس کا ایک بچہ بھی تھا۔ اس کی بیوی نے کہا: اس کے قرض میں تجھے فروخت کیا جائے گا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حباب بن عمرو کے ترکہ کا وارث کون ہے؟ انھوں نے کہا: اس کا بھائی ابو الیسر کعب بن عمرو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلایا اور فرمایا: اس کو آزاد کر دو، فروخت نہ کرنا۔ جب تم غلام کے بارے میں سنو تو میرے پاس لاؤ۔ میں تمہیں معاوضہ دوں گا۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد اختلاف کیا۔ کہتے ہیں کہ ام ولد لونڈی ہے، اس کا معاوضہ کون دے گا، بعض نے کہا: یہ آزاد ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو آزاد کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21777]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21778
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ⦗٥٧٩⦘ سُفْيَانَ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سَلَّامٍ قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْصَى إِلَيْهِ، وَكَانَ فِيمَا تَرَكَ أُمُّ وَلَدٍ لَهُ، وَامْرَأَةٌ حُرَّةٌ، فَكَانَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَبَيْنَ أُمِّ الْوَلَدِ بَعْضُ الشَّيْءِ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهَا الْحَرَّةُ: لَتُبَاعَنَّ رَقَبَتُكِ يَا لَكَاعِ، فَرَجَعَ خَوَّاتٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُبَاعُ"، وَأَمَرَ بِهَا فَأُعْتِقَتْ..
(٢١٧٧٨) بسر بن سعید خوات ابن جبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک انصاری نے وصیت کی اس کی ایک ام ولد اور ایک آزاد عورت تھی۔ آزاد عورت اور ام ولد کے درمیان کچھ معاملہ تھا تو آزاد عورت نے کہا: اے کمینی! تجھے فروخت کیا جائے گا تو خوات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فروخت نہ کیا جائے گا، اس کی آزادی کا حکم دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب عتق أمهات الأولاد/حدیث: 21778]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف