السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4249. -- باب: : الرجل يطأ أمته بالملك فتلد له
-- باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
حدیث نمبر: 21771
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِتْقِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، وَلَا ⦗٥٧٧⦘ يُجْعَلْنَ فِي الثُّلُثِ، وَأَمَرَ أَنْ لَا يُبَعْنَ فِي الدَّيْنِ.. قَالَ جَعْفَرٌ: لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُهُ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ: ”امہات الاولاد کو آزاد کر دیا جائے، ان کو ثلث میں نہ رکھا جائے اور قرض میں فروخت نہ کیا جائے۔“
جعفر کہتے ہیں: اس حدیث کو ان (عبدالرحمن بن زیاد) کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ امہات الاولاد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا پہلا حکم امہات الاولاد کے بارے میں تھا کہ آزاد کی جائیں، لیکن ایسا نہ تھا۔ سب سے پہلے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کیا، ثلث میں ان کو نہ رکھا اور قرض میں فروخت بھی نہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21771]
جعفر کہتے ہیں: اس حدیث کو ان (عبدالرحمن بن زیاد) کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ امہات الاولاد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا پہلا حکم امہات الاولاد کے بارے میں تھا کہ آزاد کی جائیں، لیکن ایسا نہ تھا۔ سب سے پہلے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کیا، ثلث میں ان کو نہ رکھا اور قرض میں فروخت بھی نہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21771]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21771 in Urdu