مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ ذِكْرِ أَبِينَا آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ہمارے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کا تذکرہ، جو ابوالبشر ہیں
حدیث نمبر: 13747
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ جَعَلَهُ طِينًا، ثُمَّ تَرَكَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ حَمَأً مَسْنُونًا خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ، ثُمَّ تَرَكَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ صَلْصَالًا كَالْفَخَّارِ - قَالَ: فَكَانَ إِبْلِيسُ يَمُرُّ بِهِ فَيَقُولُ: لَقَدْ خُلِقْتَ لِأَمْرٍ عَظِيمٍ - ثُمَّ نَفَخَ اللَّهُ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ جَرَى فِيهِ الرُّوحُ بَصَرُهُ وَخَيَاشِيمُهُ فَعَطَسَ فَلَقَّاهُ أَنَّهُ حَمِدَ رَبَّهُ فَقَالَ الرَّبُّ: يَرْحَمُكَ رَبُّكَ. ثُمَّ قَالَ: يَا آدَمُ، اذْهَبْ إِلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ فَقُلْ لَهُمْ وَانْظُرْ مَا يَقُولُونَ. فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَجَاءَ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ: مَاذَا قَالُوا لَكَ؟ - وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا قَالُوا لَهُ - قَالَ: يَا رَبِّ، لَمَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ قَالُوا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. قَالَ: يَا آدَمُ، هَذِهِ تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ. قَالَ: يَا رَبِّ، وَمَا ذُرِّيَّتِي؟ قَالَ: اخْتَرْ يَدِي يَا آدَمُ. قَالَ: أَخْتَارُ يَمِينَ رَبِّي، وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ، فَبَسَطَ اللَّهُ كَفَّهُ، فَإِذَا كُلُّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ: ثِقَةٌ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا، پھر انہیں گیلی مٹی بنایا، پھر انہیں چھوڑ دیا، یہاں تک کہ وہ متغیر ہو کر سیاہی مائل ہو جانے والی مٹی بن گئے اور ان کی تخلیق کی، پھر ان کی شکل بنائی، پھر انہیں چھوڑ دیا یہاں تک کہ جب وہ بجنے والی ٹھیکری کی طرح بن گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں: ابلیس کا ان کے پاس سے گزر ہوا، اس نے یہ کہا: تمہیں کسی بڑے معاملے کے لئے پیدا کیا گیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان میں اپنی روح پھونکی، تو وہ روح جس چیز میں سب سے پہلے جاری ہوئی وہ ان کی بصارت تھی اور ان کے نتھنوں میں جاری ہوئی، تو انہیں چھینک آ گئی، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ بات القاء کی کہ وہ اپنے پروردگار کی حمد بیان کریں، تو انہوں نے اپنے پروردگار کی حمد بیان کی، تو پروردگار نے فرمایا: تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے! پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! تم (فرشتوں کے) اس گروہ کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہو، اور پھر یہ دیکھو کہ وہ کیا کہتے ہیں؟ تو وہ آئے انہیں سلام کیا، ان فرشتوں نے کہا: وعلیک السلام ورحمة الله، سیدنا آدم علیہ السلام واپس اپنے پروردگار کے پاس آئے، تو پروردگار نے دریافت کیا: انہوں نے تمہیں کیا کہا:؟ حالانکہ پروردگار ان فرشتوں کے اُن سے کہے ہوئے جواب کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا تھا، سیدنا آدم علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار! جب میں نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے کہا: وعلیک السلام و رحمۃ اللہ، تو پروردگار نے فرمایا: اے آدم! یہ تمہارا اور تمہاری ذریت کا سلام کرنے کا مخصوص طریقہ ہے، سیدنا آدم علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار! میری ذریت سے مراد کیا ہے؟ پروردگار نے فرمایا: اے آدم! دونوں ہاتھوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرو، تو انہوں نے کہا: میں اپنے پروردگار کے دائیں ہاتھ کو اختیار کرتا ہوں، ویسے میرے پروردگار کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی کو پھیلایا، تو ان کی ذریت میں جس نے بھی پیدا ہونا ہے، وہ رحمان کی ہتھیلی میں آ گیا۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔“
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رافع ہے، امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ ثقہ اور مقارب الحدیث ہے، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كتاب فيه ذكر الأنبياء) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين/حدیث: 13747]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رافع ہے، امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ ثقہ اور مقارب الحدیث ہے، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كتاب فيه ذكر الأنبياء) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين/حدیث: 13747]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6580)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13748
وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَفَعَهُ - قَالَ:" لَمَّا أَخْرَجَ اللَّهُ آدَمَ مِنَ الْجَنَّةِ، زَوَّدَهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ وَعَلَّمَهُ صَنْعَةَ كُلِّ شَيْءٍ، فَثِمَارُكُمْ هَذِهِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، غَيْرَ أَنَّ هَذِهِ تَغَيَّرُ وَتِلْكَ لَا تَتَغَيَّرُ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) ”جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالا، تو انہیں زاد راہ کے طور پر جنت کے پھل دیے اور انہیں یہ تعلیم دی کہ انہوں نے ہر کام کیسے کرنا ہے؟ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) تو تمہارے پھل جنت کے پھلوں کا حصہ ہیں، البتہ یہ متغیر (یعنی خراب) ہو جاتے ہیں، اور وہ متغیر نہیں ہوتے۔“
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كتاب فيه ذكر الأنبياء) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين/حدیث: 13748]
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كتاب فيه ذكر الأنبياء) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين/حدیث: 13748]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2344)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 13749
وَعَنْ أَبِي بُرَيْدَةَ - رَفَعَهُ - قَالَ:" لَوْ أَنَّ بُكَاءَ دَاوُدَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبُكَاءَ جَمِيعِ أَهْلِ الْأَرْضِ يُعْدَلُ بِبُكَاءِ آدَمَ مَا عَدَلَهُ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوبریدہ رضی اللہ عنہ ”مرفوع“ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) ”اگر سیدنا داؤد کا رونا اور تمام اہل زمین کا رونا اکٹھا ہو جائے، اور اسے سیدنا آدم علیہ السلام کے رونے کے مقابلے میں رکھا جائے تو بھی وہ اُس کے برابر نہیں ہو سکے گا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كتاب فيه ذكر الأنبياء) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين/حدیث: 13749]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كتاب فيه ذكر الأنبياء) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين/حدیث: 13749]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (143)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 13750
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آدَمُ أَنَبِيٌّ كَانَ؟ قَالَ:" نَعَمْ كَانَ نَبِيًّا رَسُولًا كَلَّمَهُ اللَّهُ قَبْلًا قَالَ لَهُ: (يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ) ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا سیدنا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں! وہ نبی بھی تھے اور رسول بھی تھے، اللہ تعالیٰ نے ان سے براہ راست کلام کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تھا: ”اے آدم! تم اور تمہاری بیوی، جنت میں رہائش اختیار کرو!“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، امام أحمد نے اس کی مانند روایت ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے، جس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے، اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كتاب فيه ذكر الأنبياء) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين/حدیث: 13750]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، امام أحمد نے اس کی مانند روایت ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے، جس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے، اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كتاب فيه ذكر الأنبياء) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين/حدیث: 13750]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13751
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلِ الْمَلَائِكَةِ؟ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَفْضَلُ النَّبِيِّينَ آدَمُ، وَأَفْضَلُ الْأَيَّامِ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، وَأَفْضَلُ الشُّهُورِ شَهْرُ رَمَضَانَ، وَأَفْضَلُ اللَّيَالِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ، وَأَفْضَلُ النِّسَاءِ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ نَافِعُ بْنُ هُرْمُزَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں سب سے زیادہ فضیلت والے فرشتے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ جبرائیل ہے، اور سب سے زیادہ فضیلت والے نبی، سیدنا آدم علیہ السلام ہیں، سب سے زیادہ فضیلت والا دن، جمعہ کا دن ہے، سب سے زیادہ فضیلت والا مہینہ، رمضان کا مہینہ ہے، سب سے زیادہ فضیلت والی رات، شب قدر ہے، اور سب سے زیادہ فضیلت والی خاتون، مریم بنت عمران ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی رافع بن ہرمز ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كتاب فيه ذكر الأنبياء) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين/حدیث: 13751]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی رافع بن ہرمز ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كتاب فيه ذكر الأنبياء) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين/حدیث: 13751]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11361)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 13752
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ". قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا عبدالرحمن بن قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔۔۔۔۔۔۔“۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كتاب فيه ذكر الأنبياء) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين/حدیث: 13752]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كتاب فيه ذكر الأنبياء) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين/حدیث: 13752]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 13753
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ:" إِنَّ آدَمَ لَمَّا طَوْطَى عَنْ كَلَامِ الْمَلَائِكَةِ، وَكَانَ يَسْتَأْنِسُ لِكَلَامِهِمْ، بَكَى عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مِائَةَ سَنَةٍ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: يَا آدَمُ، مَا يُحْزِنُكَ؟ قَالَ: كَيْفَ لَا أَحْزَنُ وَقَدْ أَهْبَطْتَنِي مِنَ الْجَنَّةِ، وَلَا أَدْرِي أَعُودُ إِلَيْهَا أَمْ لَا؟ فَقَالَ اللَّهُ: يَا آدَمُ قُلِ: اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، رَبِّ إِنِّي عَمِلْتُ سُوءًا وَظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ. وَالثَّانِيَةُ: اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، سُبْحَانَكَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ. وَالثَّالِثَةُ: اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، رَبِّ عَمِلْتُ سُوءًا وَظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. فَهَذِهِ الْكَلِمَاتُ الَّتِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ) قَالَ: وَهِيَ لِوَلَدِهِ مِنْ بَعْدِهِ. وَقَالَ آدَمُ لِابْنٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ: هِبَةُ اللَّهِ - وَيُسَمِّيهِ أَهْلُ التَّوْرَاةِ وَأَهْلُ الْإِنْجِيلِ شِيثٌ -: تَعَبَّدْ لِرَبِّكَ وَسَلْهُ: يَرُدُّنِي إِلَى الْجَنَّةِ أَمْ لَا؟ فَتَعَبَّدَ وَسَأَلَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: إِنِّي أَرُدُّهُ إِلَى الْجَنَّةِ. قَالَ: أَيْ رَبِّ إِنِّي لَمْ آمَنْ أَبِي، أَحْسَبُ أَنَّ أَبِي سَيَسْأَلُنِي الْعَلَامَةَ. فَأَلْقَى اللَّهُ إِلَيْهِ سِوَارًا مِنْ أَسْوِرَةِ الْجَنَّةِ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ: مَا وَرَاءَكَ؟ قَالَ: أَبْشِرْ قَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ رَادُّكَ إِلَى الْجَنَّةِ. قَالَ: فَمَا سَأَلْتَهُ الْعَلَامَةَ؟ فَأَخْرَجَ السِّوَارَ فَعَرَفَهُ فَخَرَّ سَاجِدًا، فَبَكَى حَتَّى سَالَ مِنْ عَيْنَيْهِ نَهْرٌ مِنْ دُمُوعٍ، وَآثَارُهُ تُعْرَفُ بِالْهِنْدِ، وَذُكِرَ أَنَّ كَنْزَ الذَّهَبِ بِالْهِنْدِ مِمَّا يَنْبُتُ مِنْ ذَلِكَ السِّوَارِ، ثُمَّ قَالَ: اسْتَطْعِمْ لِي رَبَّكَ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ. فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ مَاتَ آدَمُ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: إِلَى أَيْنَ؟ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي أَرْسَلَنِي أَنْ أَطْلُبَ إِلَى رَبِّي أَنْ يُطْعِمَهُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ. قَالَ: فَإِنَّ رَبَّهُ قَضَى أَنْ لَا يَأْكُلَ مِنْهَا شَيْئًا حَتَّى يُعَادَ إِلَيْهَا، وَإِنَّهُ قَدْ مَاتَ فَارْجِعْ فَوَارِهِ. فَأَخَذَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَغَسَّلَهُ وَكَفَّنَهُ وَحَنَّطَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ جِبْرِيلُ: هَكَذَا فَاصْنَعُوا بِمَوْتَاكُمْ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا آدم علیہ السلام کو فرشتوں کا کلام سننے سے روک دیا گیا، تو وہ پہلے فرشتوں کے کلام سے انسیت حاصل کرتے تھے، وہ جنت کے دروازے پر ایک سو سال تک روتے رہے، اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: اے آدم! تم کس بات پر غمگین ہو؟ انہوں نے عرض کی: میں کیوں غمگین نہ ہوؤں؟ جبکہ تو نے مجھے جنت سے نیچے اتار دیا ہے، اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ کیا میں اس کی طرف واپس جا پاؤں گا یا نہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! تم یہ پڑھو: ”تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو اکیلا ہی معبود ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے، تو ہر عیب سے پاک ہے، اے اللہ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے، اے میرے پروردگار! میں نے برائی کا ارتکاب کیا اور اپنے اوپر ظلم کیا، تو میری مغفرت کر دے! بے شک تو سب سے زیادہ مغفرت کرنے والا ہے۔“ دوسرا یہ پڑھو: ”اے اللہ! تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، صرف تو ہی معبود ہے، تو یکتا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے، تو ہر عیب سے پاک ہے، اے میرے پروردگار! میں نے اپنے اوپر ظلم کیا، تو میری مغفرت کر دے، بے شک تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔“ تیسرا یہ پڑھو: ”اے اللہ! تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو ہر عیب سے پاک ہے، اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے، اے میرے پروردگار! میں نے برائی کا ارتکاب کیا اور اپنے اوپر ظلم کیا، تو میری مغفرت کر دے، بے شک تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔“ تو یہ وہ کلمات ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل کی: ”تو آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھ لیے، تو پروردگار نے اس کی توبہ قبول کی، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔“ تو پروردگار نے فرمایا: یہ (کلمات) اس کے بعد اس کی اولاد کے لئے بھی ہوں گے۔ سیدنا آدم علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے جن کا نام ”ہبۃ اللہ“ تھا، اور اہل تورات اور اہل انجیل انہیں ”شیث“ کہتے ہیں، ان سے یہ فرمایا: تم اپنے پرودگار کی عبادت کرو اور اس سے یہ سوال کرو کہ کیا وہ مجھے جنت کی طرف لوٹائے گا یا نہیں؟ تو انہوں نے عبادت کی اور انہوں نے یہ سوال کیا، تو پروردگار نے ان کی طرف یہ وحی کی: میں اس کو جنت کی طرف لوٹا دوں گا، تو انہوں نے عرض کی: اے میرے پروردگار! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے والد مجھ سے اس بارے میں کوئی نشانی پوچھ سکتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جنت کے کنگنوں میں سے کنگن بھیجے، جب سیدنا شیث علیہ السلام سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئے، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے دریافت کیا: کیا بنا؟ انہوں نے کہا: آپ کے لئے خوشخبری ہے، اس (پروردگار) نے مجھے یہ بتا دیا ہے کہ وہ آپ کو جنت کی طرف لوٹا دے گا، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے کہا: تم نے اس سے (یعنی پروردگار سے) کوئی نشانی نہیں مانگی؟ تو سیدنا شیث علیہ السلام نے کنگن نکال کے دکھائے، سیدنا آدم علیہ السلام اسے پہچان گئنے اور روتے ہوئے سجدے میں چلے گے، یہاں تک کہ ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی نہر جاری ہو گئی، جس کے نشان اب بھی ہندوستان میں معروف ہیں، یہ بات ذکر کی جاتی ہے کہ ہندوستان میں جو سونے کے خزانے ہیں، وہ اس کنگن سے پیدا ہوئے ہیں، پھر سیدنا آدم علیہ السلام نے کہا: تم میرے لئے اپنے پروردگار سے جنت کے پھل مانگو، جب سیدنا شیث علیہ السلام ان کے پاس سے نکلے تو سیدنا آدم علیہ السلام کا انتقال ہو گیا، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے دریافت کیا: آپ کہاں جا رہے ہیں؟ سیدنا شیث علیہ السلام نے جواب دیا: میرے والد نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں اپنے پروردگار سے یہ درخواست کروں کہ وہ انہیں جنت کے پھل کھلائے، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ان کے پروردگار نے یہ طے کیا ہے کہ وہ اس جنت میں سے کچھ بھی اس وقت تک نہیں کھا پائیں گے، جب تک وہ دوبارہ اس کی طرف نہیں چلے جاتے اور اب ان کا انتقال ہو چکا ہے، آپ واپس جائیں اور انہیں دفن کریں، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے، انہوں نے سیدنا آدم علیہ السلام کو غسل دیا، انہیں کفن دیا، انہیں خوشبو لگائی اور ان کی نماز جنازہ پڑھی، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ لوگ اپنے مرحومین کے ساتھ اس طرح کیا کریں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كتاب فيه ذكر الأنبياء) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين/حدیث: 13753]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كتاب فيه ذكر الأنبياء) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين/حدیث: 13753]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 13754
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ آدَمَ غَسَّلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفَّنُوهُ وَأَلْحَدُوا لَهُ وَدَفَنُوهُ، وَقَالُوا: هَذِهِ سُنَّتُكُمْ يَا بَنِي آدَمَ فِي مَوْتَاكُمْ".
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”فرشتوں نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل دیا، انہیں کفن دیا، ان کے لئے لحد بنائی اور انہیں دفن کیا اور یہ کہا: اے اولاد آدم! تمہارے مرحومین کے بارے میں تمہارا یہ مخصوص طریقہ ہو گا۔“ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كتاب فيه ذكر الأنبياء) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين/حدیث: 13754]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 13755
وَفِي رِوَايَةٍ:" لَمَّا تُوُفِّيَ آدَمُ غَسَّلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ بِالْمَاءِ وِتْرًا وَلَحَدَتْ لَهُ وَقَالَتْ: هَذِهِ سُنَّةُ آدَمَ وَوَلَدِهِ". رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَكَذَلِكَ رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ فِي السَّنَدِ الْآخَرِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جب سیدنا آدم علیہ السلام کا انتقال ہو گیا، تو فرشتوں نے پانی کے ذریعے انہیں طاق تعداد میں غسل دیا، ان کے لئے لحد تیار کی اور یہ کہا: یہ سیدنا آدم اور ان کی اولاد کے لئے طریقہ ہے۔“ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں، ان دونوں میں سے ایک میں ایک راوی حسین بن ابوسری ہے، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے، دوسری سند میں موجود روح بن اسلم نامی راوی کا معاملہ بھی اسی طرح ہے، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كتاب فيه ذكر الأنبياء) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين/حدیث: 13755]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13756
وَعَنْ عُتَيٍّ قَالَ: رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْمَدِينَةِ يَتَكَلَّمُ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا: هَذَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ. فَقَالَ:" إِنَّ آدَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَضَرَهُ الْمَوْتُ فَقَالَ لِبَنِيهِ: أَيْ بَنِيَّ، إِنِّي أَشْتَهِي مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ. فَذَهَبُوا يَطْلُبُونَ لَهُ فَاسْتَقْبَلَتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ مَعَهُمْ أَكْفَانُهُ وَحَنُوطُهُ، وَمَعَهُمُ الْفُئُوسُ وَالْمَسَاحِي وَالْمَكَاتِلُ، فَقَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ، مَا تُرِيدُونَ وَمَا تَطْلُبُونَ؟ أَوْ مَا تُرِيدُونَ وَأَيْنَ تَذْهَبُونَ؟ قَالُوا: أَبُونَا مَرِيضٌ فَاشْتَهَى مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ. قَالُوا لَهُمْ: ارْجِعُوا فَقَدْ قُضِيَ أَبُوكُمْ. فَجَاءُوا، فَلَمَّا رَأَتْهُمْ حَوَّاءُ عَرَفَتْهُمْ فَلَاذَتْ بِآدَمَ، فَقَالَ: إِلَيْكِ عَنِّي، فَإِنَّمَا أُتِيتُ مِنْ قِبَلِكَ، خَلِّي بَيْنِي وَبَيْنَ مَلَائِكَةِ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى. فَقَبَضُوهُ وَغَسَّلُوهُ وَكَفَّنُوهُ وَحَنَّطُوهُ، وَحَفَرُوا لَهُ وَلَحَدُوا لَهُ، فَصَلُّوا عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلُوا قَبْرَهُ فَوَضَعُوهُ فِي قَبْرِهِ وَوَضَعُوا عَلَيْهِ اللَّبِنَ، ثُمَّ خَرَجُوا مِنَ الْقَبْرِ ثُمَّ حَثَوْا عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ هَذِهِ سُنَّتُكُمْ". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ.
عتی بیان کرتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں ایک بزرگ کو گفتگو کرتے ہوئے دیکھا تو ان کے بارے میں دریافت کیا، تو لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے یہ بتایا: ”جب سیدنا آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا، تو انہوں نے اپنے صاحبزادوں سے فرمایا: میرے بیٹو! مجھے جنت کے پھلوں کی خواہش ہو رہی ہے، تو وہ لوگ ان کے لئے وہ تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے، ان کا سامنا فرشتوں سے ہوا، جن کے ساتھ سیدنا آدم علیہ السلام کا کفن تھا اور انہیں لگانے والی خوشبو تھی، ان فرشتوں کے ساتھ پھاؤڑے، بیلچے اور کدالیں تھیں، انہوں نے کہا: اے اولاد آدم! تم کہاں جا رہے ہو؟ کیا تلاش کر رہے ہو؟ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) تم کیا چاہتے ہو؟ اور تم کہاں جا رہے ہو؟ تو نہوں نے بتایا: ہمارے والد بیمار ہیں، انہیں جنت کے پھلوں کی طلب ہو رہی ہے، تو ان فرشتوں نے ان بیٹوں سے کہا: تم لوگ واپس چلے جاؤ! کیونکہ تمہارے والد کا آخری وقت آ گیا ہے، وہ لوگ واپس آئے، جب سیدہ حواء رضی اللہ عنہا نے ان فرشتوں کو دیکھا تو انہیں پہچان لیا، وہ سیدنا آدم علیہ السلام نام سے لپٹ گئیں، سیدنا آدم علیہ السلام نے فرمایا: تم مجھ سے الگ ہو جاؤ! کیونکہ تم سے پہلے میری وفات کا وقت آ گیا ہے، تم میرے اور میرے پروردگار کے فرشتوں کے درمیان جگہ چھوڑ دو! فرشتوں نے سیدنا آدم علیہ السلام کی روح قبض کر لی، انہیں غسل دیا، انہیں کفن دیا، انہیں خوشبو لگائی ان کے لئے قبر کھودی، ان کے لئے لحد تیار کی، ان کی نماز جنازہ ادا کی، پھر وہ فرشتے ان کی قبر میں اترے اور انہیں قبر میں رکھا اور ان پر اینٹیں لگائیں، پھر وہ قبر سے باہر آئے اور ان پر مٹی ڈالی اور پھر یہ بات بیان کی: اے اولاد آدم! یہ تمہارے لئے مخصوص طریقہ ہو گا۔“
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، صرف عتی بن ضمرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كتاب فيه ذكر الأنبياء) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين/حدیث: 13756]
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، صرف عتی بن ضمرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كتاب فيه ذكر الأنبياء) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين/حدیث: 13756]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔