صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4245. في الأصابع عشر عشر
انگلیوں میں ہر ایک کی دیت دس دس اونٹ ہے۔
حدیث نمبر: 4238
«في الأصابع عشر عشر»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”انگلیوں میں ہر ایک کی دیت دس دس اونٹ ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4238]
”انگلیوں میں ہر ایک کی دیت دس دس اونٹ ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4238]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم د ن] عن ابن عمرو. الإرواء 2271.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
4246. في الإنسان ستون وثلاثمائة مفصل فعليه أن يتصدق عن كل ....
انسان میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں، پس اس پر ....
حدیث نمبر: 4239
«في الإنسان ستون وثلاثمائة مفصل فعليه أن يتصدق عن كل مفصل منها صدقة: النخاعة في المسجد تدفنها والشيء تنحيه عن الطريق فإن لم تقدر فركعتا الضحى تجزي عنك»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”انسان میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں، پس اس پر لازم ہے کہ ہر جوڑ کی طرف سے ایک صدقہ کرے: مسجد میں تھوک دفن کرنا، اور راستے سے کوئی چیز ہٹانا بھی صدقہ ہے، پس اگر تم اتنی طاقت نہ رکھو تو چاشت کی دو رکعتیں تمہاری طرف سے کافی ہو جائیں گی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4239]
”انسان میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں، پس اس پر لازم ہے کہ ہر جوڑ کی طرف سے ایک صدقہ کرے: مسجد میں تھوک دفن کرنا، اور راستے سے کوئی چیز ہٹانا بھی صدقہ ہے، پس اگر تم اتنی طاقت نہ رکھو تو چاشت کی دو رکعتیں تمہاری طرف سے کافی ہو جائیں گی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4239]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم د حب] عن بريدة. المشكاة 1315، الإرواء 461، صحيح الترغيب 664.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
4247. في الأنف الدية إذا استوفى جدعه مائة من الإبل وفي ....
ناک میں، اگر وہ مکمل کاٹ دی جائے تو پوری ....
حدیث نمبر: 4240
«في الأنف الدية إذا استوفى جدعه مائة من الإبل وفي اليد خمسون وفي الرجل خمسون وفي العين خمسون وفي الآمة ثلث النفس وفي الجائفة ثلث النفس وفي المنقلة خمس عشرة وفي الموضحة خمس وفي السن خمس وفي كل إصبع من هنالك عشر»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”ناک میں، اگر وہ مکمل کاٹ دی جائے تو پوری دیت ہے، سو اونٹ، اور ہاتھ میں پچاس، اور پاؤں میں پچاس، اور آنکھ میں پچاس، اور آمہ میں پوری دیت کا تہائی، اور جائفہ میں پوری دیت کا تہائی، اور منقلہ میں پندرہ اونٹ، اور موضحہ میں پانچ اونٹ، اور دانت میں پانچ اونٹ، اور ہر انگلی میں دس اونٹ ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4240]
”ناک میں، اگر وہ مکمل کاٹ دی جائے تو پوری دیت ہے، سو اونٹ، اور ہاتھ میں پچاس، اور پاؤں میں پچاس، اور آنکھ میں پچاس، اور آمہ میں پوری دیت کا تہائی، اور جائفہ میں پوری دیت کا تہائی، اور منقلہ میں پندرہ اونٹ، اور موضحہ میں پانچ اونٹ، اور دانت میں پانچ اونٹ، اور ہر انگلی میں دس اونٹ ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4240]
تخریج الحدیث: «(حسن) [هق] عن عمر. الصحيحة 1997: البراز.»
قال الشيخ الألباني: حسن
4248. في الجنة باب يدعى الريان يدعى له الصائمون فمن كان ....
جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، ....
حدیث نمبر: 4241
«في الجنة باب يدعى الريان يدعى له الصائمون فمن كان من الصائمين دخله ومن دخله لا يظمأ أبدا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، روزہ داروں کو اسی کے ذریعے بلایا جائے گا، پس جو روزہ داروں میں سے ہو گا وہ اس میں داخل ہو گا، اور جو اس میں داخل ہو گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4241]
”جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، روزہ داروں کو اسی کے ذریعے بلایا جائے گا، پس جو روزہ داروں میں سے ہو گا وہ اس میں داخل ہو گا، اور جو اس میں داخل ہو گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4241]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ت هـ] عن سهل بن سعد. صحيح الترغيب 969: ن.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
4249. في الجنة ثمانية أبواب فيها باب يسمى الريان لا يدخله ....
جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں ایک دروازہ ریان ....
حدیث نمبر: 4242
«في الجنة ثمانية أبواب فيها باب يسمى الريان لا يدخله إلا الصائمون»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں ایک دروازہ ریان کہلاتا ہے، اس میں روزہ داروں کے سوا کوئی داخل نہیں ہو گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4242]
”جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں ایک دروازہ ریان کہلاتا ہے، اس میں روزہ داروں کے سوا کوئی داخل نہیں ہو گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4242]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [خ] عن سهل بن سعد. م/3158 - 159.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
4250. في الجنة خيمة من لؤلؤة مجوفة عرضها ستون ميلا في ....
جنت میں ایک کھوکھلے موتی کا خیمہ ہے جس کی ....
حدیث نمبر: 4243
" في الجنة خيمة من لؤلؤة مجوفة عرضها ستون ميلا في كل زاوية منها أهل ما يرون الآخرين يطوف عليهم المؤمن"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”جنت میں ایک کھوکھلے موتی کا خیمہ ہے جس کی چوڑائی ساٹھ میل ہے، اس کے ہر کونے میں گھر والے ہوں گے، وہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکیں گے، مومن ان سب کے پاس باری باری جائے گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4243]
”جنت میں ایک کھوکھلے موتی کا خیمہ ہے جس کی چوڑائی ساٹھ میل ہے، اس کے ہر کونے میں گھر والے ہوں گے، وہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکیں گے، مومن ان سب کے پاس باری باری جائے گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4243]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم م ت] عن أبي موسى.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
4251. في الجنة مائة درجة ما بين كل درجتين كما بين ....
جنت میں سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان ....
حدیث نمبر: 4244
«في الجنة مائة درجة ما بين كل درجتين كما بين السماء والأرض والفردوس أعلاها درجة ومنها تفجر أنهار الجنة الأربعة ومن فوقها يكون العرش فإذا سألتم الله فسلوه الفردوس»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”جنت میں سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے، اور فردوس ان میں سب سے بلند درجہ ہے، اسی سے جنت کی چاروں نہریں پھوٹتی ہیں، اور اس کے اوپر عرش ہے، پس جب تم اللہ سے مانگو تو فردوس مانگو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4244]
”جنت میں سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے، اور فردوس ان میں سب سے بلند درجہ ہے، اسی سے جنت کی چاروں نہریں پھوٹتی ہیں، اور اس کے اوپر عرش ہے، پس جب تم اللہ سے مانگو تو فردوس مانگو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4244]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ش حم ت ك] عن عبادة بن الصامت. المشكاة 5617، الصحيحة 922.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
4252. في الجنة مائة درجة ما بين كل درجتين مائة عام
جنت میں سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان ....
حدیث نمبر: 4245
«في الجنة مائة درجة ما بين كل درجتين مائة عام»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”جنت میں سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4245]
”جنت میں سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4245]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ت] عن أبي هريرة. الصحيحة 922.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
4253. في الجنة ما لا عين رأت ولا أذن سمعت ولا ....
جنت میں وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے ....
حدیث نمبر: 4246
«في الجنة ما لا عين رأت ولا أذن سمعت ولا خطر على قلب بشر»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”جنت میں وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں خیال آیا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4246]
”جنت میں وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں خیال آیا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4246]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [البزار طس] عن أبي سعيد. الترغيب 4/227 و276 و260 - 261: حم، م - سهل بن سعد. م - أبي هريرة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
4254. في الحبة السوداء شفاء من كل داء إلا السام
کلونجی میں ہر بیماری کی شفا ہے سوائے سام کے۔
حدیث نمبر: 4247
«في الحبة السوداء شفاء من كل داء إلا السام»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”کلونجی میں ہر بیماری کی شفا ہے سوائے سام کے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4247]
”کلونجی میں ہر بیماری کی شفا ہے سوائے سام کے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الفاء./حدیث: 4247]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ق هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة 859.»
قال الشيخ الألباني: صحيح