صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7821. يا آل محمد! من حج منكم فليهل بعمرة في حجته
اے آلِ محمد! تم میں سے جو حج کرے وہ ....
حدیث نمبر: 7811
«يا آل محمد! من حج منكم فليهل بعمرة في حجته»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے آلِ محمد! تم میں سے جو حج کرے وہ اپنے حج میں عمرہ کا بھی احرام باندھے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7811]
”اے آلِ محمد! تم میں سے جو حج کرے وہ اپنے حج میں عمرہ کا بھی احرام باندھے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7811]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حب] عن أم سلمة. الصحيحة 2469: حم، الطحاوي.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7822. يا أبا بكر! إن لكل قوم عيدا وهذا عيدنا
اے ابوبکر! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور ....
حدیث نمبر: 7812
«يا أبا بكر! إن لكل قوم عيدا وهذا عيدنا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے ابوبکر! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7812]
”اے ابوبکر! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7812]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ق ن هـ] عن عائشة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7823. يا أبا بكر! قل: اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب ....
اے ابوبکر! کہو: اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا ....
حدیث نمبر: 7813
«يا أبا بكر! قل: اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة لا إله إلا أنت رب كل شيء ومليكه أعوذ بك من شر نفسي ومن شر الشيطان وشركه وأن أقترف على نفسي سوءا أو أجره إلى مسلم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے ابوبکر! کہو: اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کے جاننے والے، ہر چیز کے رب اور مالک، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے، اور اس بات سے کہ میں اپنی جان پر کوئی برائی کروں یا اسے کسی مسلمان تک پہنچاؤں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7813]
”اے ابوبکر! کہو: اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کے جاننے والے، ہر چیز کے رب اور مالک، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے، اور اس بات سے کہ میں اپنی جان پر کوئی برائی کروں یا اسے کسی مسلمان تک پہنچاؤں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7813]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ت] عن ابن عمرو. الكلم الطيب رقم التعليق 9: خد.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7824. يا أبا بكر! ما ظنك باثنين الله ثالثهما
اے ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ....
حدیث نمبر: 7814
«يا أبا بكر! ما ظنك باثنين الله ثالثهما»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہو؟“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7814]
”اے ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہو؟“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7814]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ق ت] عن أبي بكر. مختصر مسلم 1621، فقه السيرة 173.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7825. يا أبا ثعلبة: كل ما ردت عليك قوسك وكلبك المعلم ....
اے ابوثعلبہ! جو (شکار) تمہارا تیر کمان، تمہارا سدھایا ہوا ....
حدیث نمبر: 7815
«يا أبا ثعلبة: كل ما ردت عليك قوسك وكلبك المعلم ويدك ذكي وغير ذكي»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے ابوثعلبہ! جو (شکار) تمہارا تیر کمان، تمہارا سدھایا ہوا کتا اور تمہارا ہاتھ تمہاری طرف واپس لائے وہ کھا لو، خواہ وہ ذبح شدہ ہو یا نہ ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7815]
”اے ابوثعلبہ! جو (شکار) تمہارا تیر کمان، تمہارا سدھایا ہوا کتا اور تمہارا ہاتھ تمہاری طرف واپس لائے وہ کھا لو، خواہ وہ ذبح شدہ ہو یا نہ ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7815]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [د] عن أبي ثعلبة. الصحيحة 2028.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7826. يا أبا ذر! أترى أن كثرة المال هوالغنى؟ إنما الغنى ....
اے ابوذر! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مال کی ....
حدیث نمبر: 7816
"يا أبا ذر! أترى أن كثرة المال هوالغنى؟ إنما الغنى غنى القلب والفقر فقر القلب من كان الغنى في قلبه فلا يضره ما لقي من الدنيا ومن كان الفقر في قلبه فلا يغنيه ما أكثر له في الدنيا وإنما يضر نفسه شحها"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے ابوذر! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مال کی کثرت ہی غنا (بے نیازی) ہے؟ اصل غنا تو دل کی بے نیازی ہے اور اصل فقر دل کی محتاجی ہے۔ جس کے دل میں بے نیازی ہو اسے دنیا کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی، اور جس کے دل میں محتاجی ہو اسے دنیا کی کثرت بھی بے نیاز نہیں کرتی، اور اسے صرف اس کے نفس کی حرص نقصان پہنچاتی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7816]
”اے ابوذر! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مال کی کثرت ہی غنا (بے نیازی) ہے؟ اصل غنا تو دل کی بے نیازی ہے اور اصل فقر دل کی محتاجی ہے۔ جس کے دل میں بے نیازی ہو اسے دنیا کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی، اور جس کے دل میں محتاجی ہو اسے دنیا کی کثرت بھی بے نیاز نہیں کرتی، اور اسے صرف اس کے نفس کی حرص نقصان پہنچاتی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7816]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ن حب] عن أبي ذر. صحيح الترغيب 820، 4/92 - 93: ك.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7827. يا أبا ذر! إذا صمت من الشهر ثلاثة أيام فصم ....
اے ابوذر! جب تم مہینے میں تین دن کے روزے ....
حدیث نمبر: 7817
«يا أبا ذر! إذا صمت من الشهر ثلاثة أيام فصم ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے ابوذر! جب تم مہینے میں تین دن کے روزے رکھو تو تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7817]
”اے ابوذر! جب تم مہینے میں تین دن کے روزے رکھو تو تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7817]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ت ن] عن أبي ذر. المشكاة 2057، الإرواء 947.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7828. يا أبا ذر! إذا طبخت فأكثر المرق وتعاهد جيرانك
اے ابوذر! جب تم سالن پکاؤ تو اس کا شوربا ....
حدیث نمبر: 7818
«يا أبا ذر! إذا طبخت فأكثر المرق وتعاهد جيرانك»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے ابوذر! جب تم سالن پکاؤ تو اس کا شوربا زیادہ رکھو اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7818]
”اے ابوذر! جب تم سالن پکاؤ تو اس کا شوربا زیادہ رکھو اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7818]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم خد م ت ن] عن أبي ذر.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7829. يا أبا ذر! أرأيت إن أصاب الناس جوع شديد لا ....
اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے اگر لوگوں کو شدید ....
حدیث نمبر: 7819
«يا أبا ذر! أرأيت إن أصاب الناس جوع شديد لا تستطيع أن تقوم من فراشك إلى مسجدك كيف تصنع؟ تعفف ; يا أبا ذر؟ أرأيت إن أصاب الناس موت شديد يكون البيت فيه بالعبد - يعني القبر - كيف تصنع؟ اصبر ; يا أبا ذر: أرأيت إن قتل الناس بعضهم بعضا حتى تغرق حجارة الزيت من الدماء كيف تصنع؟ اقعد في بيتك وأغلق عليك بابك قال: فإن لم أترك؟ قال: فأت من كنت معه فكن فيهم قال: فآخذ سلاحي؟ قال: إذن تشاركهم فيما هم فيه ولكن إن خشيت أن يردعك شعاع السيف فألق من طرف ردائك على وجهك كي يبوء بإثمه وإثمك ويكون من أصحاب النار»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے اگر لوگوں کو شدید بھوک لاحق ہو جائے، یہاں تک کہ تم اپنے بستر سے اٹھ کر اپنی مسجد تک بھی نہ جا سکو تو تم کیا کرو گے؟ (فرمایا) سوال کرنے سے بچو۔ اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے اگر لوگوں میں شدید موت واقع ہو جائے یہاں تک کہ ایک گھر (قبر) ایک غلام (کی قیمت) میں ملے تو تم کیا کرو گے؟ (فرمایا) صبر کرو۔ اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے اگر لوگ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں یہاں تک کہ حرہ کے پتھر خون سے ڈوب جائیں تو تم کیا کرو گے؟ (فرمایا) اپنے گھر میں بیٹھ جاؤ اور اپنا دروازہ بند کر لو۔ ابوذر نے عرض کیا: اگر مجھے چھوڑا نہ جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو جس کے ساتھ ہو اس کے پاس چلے جاؤ اور انہی میں شامل ہو جاؤ۔ عرض کیا: تو کیا میں اپنا ہتھیار اٹھا لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو تم بھی اس (فتنے) میں ان کے شریک بن جاؤ گے، لیکن اگر تمہیں خدشہ ہو کہ تلوار کی چمک تمہیں (لڑنے پر مجبور کر دے گی) تو اپنی چادر کا کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لو تاکہ وہ (قاتل) اپنے گناہ اور تمہارے قتل کے گناہ کے ساتھ لوٹے اور جہنمیوں میں سے ہو جائے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7819]
”اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے اگر لوگوں کو شدید بھوک لاحق ہو جائے، یہاں تک کہ تم اپنے بستر سے اٹھ کر اپنی مسجد تک بھی نہ جا سکو تو تم کیا کرو گے؟ (فرمایا) سوال کرنے سے بچو۔ اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے اگر لوگوں میں شدید موت واقع ہو جائے یہاں تک کہ ایک گھر (قبر) ایک غلام (کی قیمت) میں ملے تو تم کیا کرو گے؟ (فرمایا) صبر کرو۔ اے ابوذر! تمہارا کیا خیال ہے اگر لوگ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں یہاں تک کہ حرہ کے پتھر خون سے ڈوب جائیں تو تم کیا کرو گے؟ (فرمایا) اپنے گھر میں بیٹھ جاؤ اور اپنا دروازہ بند کر لو۔ ابوذر نے عرض کیا: اگر مجھے چھوڑا نہ جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو جس کے ساتھ ہو اس کے پاس چلے جاؤ اور انہی میں شامل ہو جاؤ۔ عرض کیا: تو کیا میں اپنا ہتھیار اٹھا لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو تم بھی اس (فتنے) میں ان کے شریک بن جاؤ گے، لیکن اگر تمہیں خدشہ ہو کہ تلوار کی چمک تمہیں (لڑنے پر مجبور کر دے گی) تو اپنی چادر کا کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لو تاکہ وہ (قاتل) اپنے گناہ اور تمہارے قتل کے گناہ کے ساتھ لوٹے اور جہنمیوں میں سے ہو جائے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7819]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم د هـ حب ك] عن أبي ذر. الإرواء 2451.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7830. يا أبا ذر! ألا أدلك على كنز من كنوز الجنة؟: ....
اے ابوذر! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ....
حدیث نمبر: 7820
«يا أبا ذر! ألا أدلك على كنز من كنوز الجنة؟: لا حول ولا قوة إلا بالله»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اے ابوذر! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ وہ ہے: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کی توفیق صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7820]
”اے ابوذر! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ وہ ہے: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کی توفیق صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الياء/حدیث: 7820]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ن هـ حب] عن أبي ذر. الترغيب 2/256.»
قال الشيخ الألباني: صحيح