المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بقیہ حالات
حدیث نمبر: 2642
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُسْتُمَ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ: «مَنْ أَحَبَّهُمَا أَحْبَبْتُهُ، وَمَنْ أَحْبَبْتُهُ أَحَبَّهُ اللهُ، وَمَنْ أَحَبَّهُ اللهُ أَدْخَلَهُ جَنَّاتِ النَّعِيمِ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا أَوْ بَغَى عَلَيْهِمَا أَبْغَضْتُهُ، وَمَنْ أَبْغَضْتُهُ أَبْغَضَهُ اللهُ، وَمَنْ أَبْغَضَهُ اللهُ أَدْخَلَهُ عَذَابَ جَهَنَّمَ وَلَهُ عَذَابٌ مُقِيمٌ»
سیدنا سلمان (فارسی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین کے بارے میں فرمایا: ”جو ان دونوں سے محبت رکھے، میں اس سے محبت رکھتا ہوں، اور جس سے میں محبت رکھوں اس سے اللہ محبت رکھتا ہے، اور جس سے اللہ محبت رکھے اسے وہ نعمتوں والی جنتوں میں داخل کرے گا، اور جو ان دونوں سے بغض رکھے یا ان پر ظلم کرے، میں اس سے بغض رکھتا ہوں، اور جس سے میں بغض رکھوں اس سے اللہ بغض رکھتا ہے، اور جس سے اللہ بغض رکھے وہ اسے جہنم کے عذاب میں داخل کرے گا، اور اس کے لیے دائمی عذاب ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2642]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 50، حدیث 2655»
حدیث نمبر: 2643
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَلْمَانَ الْمَازِنِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ أَتَى أَبَا هُرَيْرَةَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ مَرْوَانُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: مَا وَجَدْتُ عَلَيْكَ فِي شَيْءٍ مُنْذُ اصْطَحَبْنَا إِلَّا فِي حُبِّكَ اِلْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ. قَالَ: فَتَحَفَّزَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَجَلَسَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ لَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ وَهُمَا يَبْكِيَانِ وَهُمَا مَعَ أُمِّهِمَا، فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى أَتَاهُمَا، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهَا: «مَا شَأْنُ ابْنَيَّ؟» فَقَالَتِ: الْعَطَشُ. قَالَ: فَأَخْلَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَنَّةٍ يَبْتَغِي فِيهَا مَاءً، وَكَانَ الْمَاءُ يَوْمَئِذٍ أَغْدَارًا، وَالنَّاسُ يُرِيدُونَ الْمَاءَ، فَنَادَى:: «هَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَهُ مَاءٌ؟» فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ إِلَّا أَخْلَفَ بِيَدِهِ إِلَى كُلَّابِهِ يَبْتَغِي الْمَاءَ فِي شَنَّةٍ، فَلَمْ يَجِدْ أَحَدٌ مِنْهُمْ قَطْرَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَاوِلِينِي أَحَدَهُمَا» فَنَاوَلَتْهُ إِيَّاهُ مِنْ تَحْتِ الْخِدْرِ، فَرَأَيْتُ بَيَاضَ ذِرَاعَيْهَا حِينَ نَاوَلَتْهُ، فَأَخَذَهُ فَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ وَهُوَ يَطْغُو مَا يَسْكُتُ، فَأَدْلَعَ لَهُ لِسَانَهُ فَجَعَلَ يَمُصُّهُ حَتَّى هَدَأَ أَوْ سَكَنَ، فَلَمْ أَسْمَعْ لَهُ بُكَاءً، وَالْآخَرُ يَبْكِي كَمَا هُوَ مَا يَسْكُتُ، فَقَالَ: «نَاوِلِينِي الْآخَرَ» ، فَنَاوَلَتْهُ إِيَّاهُ فَفَعَلَ بِهِ كَذَلِكَ، فَسَكَتَا فَمَا أَسْمَعُ لَهُمَا صَوْتًا، ثُمَّ قَالَ: «سِيرُوا» ، فَصَدَعْنا يَمِينًا وَشِمَالًا عَنِ الظَّعائِنِ حَتَّى لَقِينَاهُ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ، فَأَنَا لَا أُحِبُّ هَذَيْنِ وَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مروان بن حکم ان کی اس بیماری میں جس میں وہ فوت ہوئے، ان کے پاس آیا، تو مروان نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: جب سے ہم ساتھ رہے ہیں، مجھے آپ سے کسی بات پر ناراضی نہیں ہوئی سوائے حسن اور حسین سے آپ کی محبت کے۔ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سنبھل کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب ہم راستے کے کسی حصے میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین کے رونے کی آواز سنی، وہ اپنی والدہ کے ساتھ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے چل کر ان تک پہنچے، تو میں نے آپ کو ان (کی والدہ) سے فرماتے سنا: ”میرے دونوں بیٹوں کو کیا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: پیاس۔ راوی کہتے ہیں: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مشکیزے کی طرف بڑھے تاکہ اس میں پانی تلاش کریں، اور اس دن پانی جگہ جگہ تھوڑا تھوڑا تھا، اور لوگ پانی چاہتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا: ”کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے؟“ کوئی شخص ایسا نہ بچا جس نے اپنے کجاوے کی طرف ہاتھ بڑھا کر مشکیزے میں پانی تلاش نہ کیا ہو، مگر کسی کو ایک قطرہ بھی نہ ملا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے ایک کو میرے حوالے کرو۔“ تو انہوں (والدہ) نے پردے کے نیچے سے آپ کو دے دیا، میں نے دیتے وقت ان کے بازوؤں کی سفیدی دیکھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر اپنے سینے سے لگا لیا، اور وہ زور سے رو رہا تھا، خاموش نہیں ہو رہا تھا، تو آپ نے اس کے لیے اپنی زبان نکالی، تو وہ اسے چوسنے لگا یہاں تک کہ خاموش ہو گیا یا پرسکون ہو گیا، تو میں نے اس کا رونا نہ سنا، جبکہ دوسرا ویسے ہی رو رہا تھا، خاموش نہیں ہو رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوسرے کو میرے حوالے کرو۔“ تو انہوں نے اسے بھی دے دیا، تو آپ نے اس کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا، تو دونوں خاموش ہو گئے، اور میں نے ان کی کوئی آواز نہ سنی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو۔“ تو ہم کجاووں سے دائیں بائیں ہٹ گئے یہاں تک کہ ہم آپ سے راستے کے کھلے حصے میں ملے۔ تو میں ان دونوں سے محبت کیوں نہ رکھوں جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ منظر دیکھا ہے؟ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2643]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 50، حدیث 2656»
حدیث نمبر: 2644
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: «جَاءَ الْحُسَيْنُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَالْتَزَمَ عُنُقَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ بِهِ وَأَخَذَ بِيَدِهِ، فَلَمْ يَزَلْ مُمْسِكَهَا حَتَّى رَكَعَ»
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا حسین آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن سے لپٹ گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں لیے ہوئے کھڑے ہو گئے اور ان کا ہاتھ پکڑ لیا، اور رکوع تک انہیں پکڑے رہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2644]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 51، حدیث 2657»
حدیث نمبر: 2645
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَسَوِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُرَنِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَّجَ مَا بَيْنَ فَخِذَيِ الْحُسَيْنِ وَقَبَّلَ زَبِيبَتَهُ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے (ننھے) سیدنا حسین کی دونوں رانیں الگ کیں اور ان کے عضوِ مخصوص کو بوسہ دیا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2645]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 51، حدیث 2658»
حدیث نمبر: 2646
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَلَى ظَهْرِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخَذَهُمَا بِيَدِهِ أَخْذًا رَقِيقًا حَتَّى يَضَعَهُمَا عَلَى الْأَرْضِ، فَإِذَا عَادَ عَادَا، حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ وَانْصَرَفَ وَوَضَعَهُمَا عَلَى فَخِذَيْهِ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَذْهَبُ بِهِمَا؟ قَالَ: «لَا» . فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ، فَقَالَ: «الْحَقَا بِأُمِّكُمَا» . فَلَمْ يَزَالَا فِي ضَوْئِهَا حَتَّى دَخَلَا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما آپ کی پیٹھ پر چڑھ جاتے، تو جب آپ رکوع کرنے کا ارادہ فرماتے تو انہیں نرمی سے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر زمین پر رکھ دیتے، تو جب آپ (سجدے میں) لوٹتے تو وہ دونوں بھی لوٹ آتے، یہاں تک کہ آپ نے اپنی نماز مکمل کی اور فارغ ہو کر انہیں اپنی رانوں پر بٹھا لیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں آپ کی طرف کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا میں انہیں لے جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ اتنے میں بجلی چمکی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ۔“ تو وہ اس کی روشنی میں چلتے رہے یہاں تک کہ اندر داخل ہو گئے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2646]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 51، حدیث 2659»
حدیث نمبر: 2647
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ حُمَيْدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عُثْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كَانَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا، فَقَالَ: أَذْهَبُ إِلَى أُمِّي. فَقُلْتُ: أَذْهَبُ مَعَهُ. فَجَاءَتْ بَرْقَةٌ مِنَ السَّمَاءِ فَمَشَى فِي ضَوْئِهَا حَتَّى بَلَغَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، اور آپ ان سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے، تو انہوں نے کہا: میں اپنی ماں کے پاس جاتا ہوں۔ تو میں نے کہا: میں بھی ان کے ساتھ جاتا ہوں۔ تو آسمان سے بجلی چمکی، تو وہ اس کی روشنی میں چلتے رہے یہاں تک کہ (گھر) پہنچ گئے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2647]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 52، حدیث 2660»
حدیث نمبر: 2648
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا مَسْرُوحٌ أَبُو شِهَابٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمْشِي عَلَى أَرْبَعَةٍ وَعَلَى ظَهْرِهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَهُوَ يَقُولُ: «نِعْمَ الْجَمَلُ جَمَلُكُمَا، وَنِعْمَ الْعِدْلَانِ أَنْتُمَا»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپ ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چل رہے تھے، اور آپ کی پیٹھ پر سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما سوار تھے، اور آپ فرما رہے تھے: ”تمہارا اونٹ کیا خوب اونٹ ہے، اور تم دونوں کیا خوب کجاوے ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2648]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 52، حدیث 2661»
حدیث نمبر: 2649
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي بَيْتِي: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] ، وَهِيَ جَالِسَةٌ عَلَى الْبَابِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَسْتُ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ؟ قَالَ: «أَنْتِ إِلَى خَيْرٍ»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: یہ آیت میرے گھر میں نازل ہوئی: ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر قسم کی گندگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ [سورۃ الاحزاب: 33] ، اور وہ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) دروازے پر بیٹھی تھیں، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم خیر کی طرف ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2649]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 52، حدیث 2662»
حدیث نمبر: 2650
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ فَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ثُمَّ أَدْخَلَهُمْ تَحْتَ ثَوْبِهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي» . قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَدْخِلْنِي مَعَهُمْ. قَالَ: «إِنَّكِ مِنْ أَهْلِي»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کو جمع کیا، پھر انہیں اپنی چادر کے نیچے کر لیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! یہی میرے اہل بیت ہیں۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، مجھے بھی ان کے ساتھ داخل کر لیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھی میرے اہل میں سے ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2650]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 53، حدیث 2663»
حدیث نمبر: 2651
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ: «ائْتِينِي بِزَوْجِكِ وَابْنَيْهِ» . فَجَاءَتْ بِهِمْ، فَأَلْقَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِسَاءً فَدَكِيًّا، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ إِنَّ هَؤُلَاءِ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ فَإِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» . قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَرَفَعْتُ الْكِسَاءَ لِأَدْخُلَ مَعَهُمْ، فَجَذَبَهُ مِنْ يَدِي، وَقَالَ: «إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ سے فرمایا: ”اپنے شوہر اور اپنے دونوں بیٹوں کو میرے پاس لاؤ۔“ تو وہ انہیں لے آئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فدکی چادر ان پر ڈالی، پھر اپنا ہاتھ ان پر رکھا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! یہ آل محمد ہیں، تو اپنی رحمتیں اور برکتیں آل محمد پر نازل فرما، بے شک تو قابلِ تعریف اور بزرگی والا ہے۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے چادر اٹھائی تاکہ ان کے ساتھ داخل ہو جاؤں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ میرے ہاتھ سے کھینچ لی اور فرمایا: ”تم خیر پر ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2651]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 53، حدیث 2664»