🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2. بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بقیہ حالات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2662
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الْمَكِّيِّ الْهِلَالِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَكَاتِهِ الَّتِي قُبِضَ فِيهَا، فَإِذَا فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عِنْدَ رَأْسِهِ. قَالَ: فَبَكَتْ حَتَّى ارْتَفَعَ صَوْتُهَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرْفَهُ إِلَيْهَا، فَقَالَ: «حَبِيبَتِي فَاطِمَةُ مَا الَّذِي يُبْكِيكِ؟» فَقَالَتْ: أَخْشَى الضَّيْعَةَ مِنْ بَعْدِكَ. فَقَالَ:" يَا حَبِيبَتِي، أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ اطَّلَعَ إِلَى الْأَرْضِ اطِّلَاعَةً فَاخْتَارَ مِنْهَا أَبَاكِ فَبُعِثَ بِرِسَالَتِهِ، ثُمَّ اطَّلَعَ اطِّلَاعَةً فَاخْتَارَ مِنْهَا بَعْلَكِ وَأَوْحَى إِلَيَّ أَنْ أُنْكِحَكِ إِيَّاهُ، يَا فَاطِمَةُ وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ أَعْطَانَا اللهُ سَبْعَ خِصَالٍ لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ قَبْلِنَا، وَلَا يُعْطَى أَحَدٌ بَعْدَنَا: أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَأَكْرَمُ النَّبِيِّينَ عَلَى اللهِ، وَأَحَبُّ الْمَخْلُوقِينَ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَنَا أَبُوكِ، وَوَصِيِّي خَيْرُ الْأَوْصِيَاءِ وَأَحَبُّهُمُ إِلَى اللهِ، وَهُوَ بَعْلُكِ، وشَهِيدُنا خَيْرُ الشُّهَدَاءِ وَأَحَبُّهُمْ إِلَى اللهِ، وَهُوَ عَمُّكِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَهُوَ عَمُّ أَبِيكِ، وَعَمُّ بَعْلِكِ، وَمِنَّا مَنْ لَهُ جَنَاحَانِ أَخْضَرَانِ يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ مَعَ الْمَلَائِكَةِ حَيْثُ يَشَاءُ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِيكِ وَأَخُو بَعْلِكِ، وَمِنَّا سِبْطَا هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَهُمَا ابْنَاكِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، وَهُمَا سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ خَيْرٌ مِنْهُمَا، يَا فَاطِمَةُ وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ إِنَّ مِنْهُمَا مَهْدِيَّ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِذَا صَارَتِ الدُّنْيَا هَرْجًا وَمَرْجًا، وَتَظَاهَرَتِ الْفِتَنُ، وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ، وَأَغَارَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَلَا كَبِيرَ يَرْحَمُ صَغِيرًا، وَلَا صَغِيرَ يُوَقِّرُ كَبِيرًا، فَيَبْعَثُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ ذَلِكَ مِنْهُمَا مَنْ يَفْتَتِحُ حُصُونَ الضَّلَالَةِ، وَقُلُوبًا غُلْفًا، يَقُومُ بِالدِّينِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ كَمَا قُمْتُ بِهِ فِي أَوَّلِ الزَّمَانِ، وَيَمْلَأُ الدُّنْيَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا، يَا فَاطِمَةُ لَا تَحْزَني وَلَا تَبْكِي؛ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْحَمُ بِكِ وَأَرْأَفُ عَلَيْكِ مِنِّي، وَذَلِكَ لِمَكَانِكِ مِنِّي، ومَوْضِعِكِ مِنْ قَلْبِي، وزَوَّجَكِ اللهُ زَوْجَكِ وَهُوَ أَشْرَفُ أَهْلِ بَيْتِكِ حَسَبًا، وَأَكْرَمُهُمْ مَنْصِبًا، وأَرْحَمُهُمْ بِالرَّعِيَّةِ، وَأَعْدَلُهُمْ بِالسَّوِيَّةِ، وأَبْصَرُهمْ بِالْقَضِيَّةِ، وَقَدْ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَكُونِي أَوَّلَ مَنْ يَلْحَقُنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِي". قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «فَلَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَبْقَ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بَعْدَهُ إِلَّا خَمْسَةً وَسَبْعِينَ يَوْمًا حَتَّى أَلْحَقَهَا اللهُ بِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
علی بن علی الہلالی کے والد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس بیماری کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو دیکھا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے تھیں۔ وہ رونے لگیں یہاں تک کہ ان کی آواز بلند ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ ان کی طرف اٹھائی اور فرمایا: ”میری پیاری فاطمہ! تمہیں کیا چیز رلا رہی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: مجھے آپ کے بعد بےکسی کا ڈر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے میری پیاری بیٹی! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ عزوجل نے زمین پر ایک نظر ڈالی تو اس میں سے تمہارے والد کو چن لیا اور اپنی رسالت کے ساتھ بھیجا، پھر دوبارہ نظر ڈالی تو اس میں سے تمہارے شوہر کو چن لیا اور مجھے وحی کی کہ میں تمہارا نکاح اس سے کر دوں۔ اے فاطمہ! ہم ایک ایسا گھرانہ ہیں جسے اللہ نے سات خصلتیں عطا کی ہیں جو ہم سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں اور نہ ہمارے بعد کسی کو دی جائیں گی: میں خاتم النبیین ہوں، اور اللہ کے ہاں سب سے معزز نبی ہوں، اور مخلوقات میں اللہ عزوجل کو سب سے زیادہ محبوب ہوں، اور میں تمہارا باپ ہوں؛ اور میرا وصی، اوصیاء میں سب سے بہتر اور اللہ کے ہاں ان میں سب سے زیادہ محبوب ہے، اور وہ تمہارا شوہر ہے؛ اور ہمارا شہید، شہداء میں سب سے بہتر اور اللہ کے ہاں ان میں سب سے زیادہ محبوب ہے، اور وہ تمہارا چچا حمزہ بن عبدالمطلب ہے، جو تمہارے والد کا چچا اور تمہارے شوہر کا چچا ہے؛ اور ہم میں سے ایک ایسا شخص ہے جس کے دو سبز پر ہیں، وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ جہاں چاہے اڑتا ہے، اور وہ تمہارے والد کا چچا زاد اور تمہارے شوہر کا بھائی ہے؛ اور ہم میں سے اس امت کے دو نواسے ہیں، اور وہ تمہارے دونوں بیٹے حسن اور حسین ہیں، وہ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان کا باپ - اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا - ان دونوں سے بہتر ہے۔ اے فاطمہ! اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا، انہی دونوں میں سے اس امت کا مہدی ہو گا، جب دنیا میں انتشار اور افراتفری ہو گی، فتنے ظاہر ہوں گے، راستے کٹ جائیں گے، اور لوگ ایک دوسرے پر حملہ کریں گے، تو نہ کوئی بڑا کسی چھوٹے پر رحم کرے گا اور نہ کوئی چھوٹا کسی بڑے کی عزت کرے گا، تو اللہ عزوجل اس وقت انہی میں سے کسی کو اٹھائے گا جو گمراہی کے قلعے اور بند دل کھولے گا، وہ آخری زمانے میں دین کو ویسے ہی قائم کرے گا جیسے میں نے زمانے کے آغاز میں قائم کیا، اور دنیا کو انصاف سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم سے بھری ہو گی۔ اے فاطمہ! غم نہ کرو اور نہ روؤ، کیونکہ اللہ عزوجل مجھ سے زیادہ تم پر مہربان اور رحم کرنے والا ہے، اور یہ اس لیے ہے کہ تمہارا مجھ سے کیا مقام ہے اور میرے دل میں تمہاری کیا جگہ ہے۔ اور اللہ نے تمہارا نکاح تمہارے شوہر سے کیا ہے، جو تمہارے گھرانے میں نسب کے اعتبار سے سب سے شریف، منصب میں سب سے معزز، رعایا پر سب سے زیادہ مہربان، برابری میں سب سے زیادہ عادل، اور فیصلے میں سب سے زیادہ بصیرت رکھنے والا ہے۔ اور میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا ہے کہ تم میرے اہل بیت میں سے سب سے پہلے مجھ سے آ ملو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے بعد صرف پچھتر دن زندہ رہیں یہاں تک کہ اللہ نے انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا دیا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2662]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 57، حدیث 2675»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2663
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ، وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا، فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا} [النصر: ٢] ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جِبْرِيلُ نَفْسِي قَدْ نُعِيَتْ» . قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: الْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأُولَى، ولَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى. فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا أَنْ يُنَادِيَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً، فَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ خَطَبَ خُطْبَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ وَبَكَتِ الْعُيُونُ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ نَبِيٍّ كُنْتُ لَكُمْ؟» فَقَالُوا: جَزَاكَ اللهُ مِنْ نَبِيٍّ خَيْرًا؛ فَلَقَدْ كُنْتَ بِنَا كَالْأَبِ الرَّحِيمِ، وَكَالْأَخِ النَّاصِحِ الْمُشْفِقِ، أَدَّيْتَ رِسَالَاتِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وأَبْلَغْتَنَا وَحَيَهُ، وَدَعَوْتَ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكِ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، فَجَزَاكَ اللهُ عَنَّا أَفْضَلَ مَا جَازَى نَبِيًّا عَنْ أُمَّتِهِ. فَقَالَ لَهُمْ:" مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ، أَنَا أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ وبِحَقِّي عَلَيْكُمْ، مَنْ كَانَتْ لَهُ قِبَلِي مَظْلَمَةٌ فَلْيَقُمْ فَلْيَقْتَصَّ مِنِّي. فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ، فَنَاشَدَهُمُ الثَّانِيَةَ، فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ، فَنَاشَدَهُمُ الثَّالِثَةَ: مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ وبِحَقِّي عَلَيْكُمْ مَنْ كَانَتْ لَهُ قِبَلِي مَظْلَمَةٌ فَلْيَقُمْ فَلْيَقْتَصَّ مِنِّي قَبْلَ الْقِصَاصِ فِي الْقِيَامَةِ". فَقَامَ مِنْ بَيْنِ الْمُسْلِمِينَ شَيْخٌ كَبِيرٌ يُقَالُ لَهُ عُكَّاشَةُ، فَتَخَطَّى الْمُسْلِمِينَ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، لَوْلَا أَنَّكَ ناشَدْتَنَا مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَى مَا كُنْتُ بِالَّذِي يُقْدِمُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ هَذَا، كُنْتُ مَعَكَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْنَا وَنَصَرَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وكُنَّا فِي الِانْصِرَافِ حَاذَتْ نَاقَتِي نَاقَتَكَ فَنَزَلْتُ عَنِ النَّاقَةِ، وَدَنَوْتُ مِنْكَ لِأُقَبِّلَ فَخِذَكَ، فَرَفَعْتَ الْقَضِيبَ فَضَرَبْتَ خَاصِرَتِي، وَلَا أَدْرِي أَكَانَ عَمْدًا مِنْكَ، أَمْ أَرَدْتَ ضَرْبَ النَّاقَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُعِيذُكَ بِجِلَالِ اللهِ أَنْ يَتَعَمَّدَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالضَّرْبِ، يَا بِلَالُ انْطَلِقْ إِلَى مَنْزِلِ فَاطِمَةَ وَائْتِنِي بِالْقَضِيبِ الْمَمْشُوقِ» . فَخَرَجَ بِلَالٌ مِنَ الْمَسْجِدِ وَيَدُهُ عَلَى أُمِّ رَأْسِهِ، وَهُوَ يُنَادِي: هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْقِصَاصَ مِنْ نَفْسِهِ. فَقَرَعَ الْبَابَ عَلَى فَاطِمَةَ، فَقَالَ: يَا بِنْتَ رَسُولِ اللهِ نَاوِلِينِي الْقَضِيبَ الْمَمْشُوقَ. فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: يَا بِلَالُ وَمَا يَصْنَعُ أَبِي بِالْقَضِيبِ وَلَيْسَ هَذَا يَوْمَ حَجٍّ وَلَا يَوْمَ غَزَاةٍ؟ فَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ مَا أَغْفَلَكِ عَمَّا فِيهِ أَبُوكِ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَدِّعُ الدِّينَ وَيُفَارِقُ الدُّنْيَا، وَيُعْطِي الْقِصَاصَ مِنْ نَفْسِهِ. فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا بِلَالُ وَمَنْ ذَا الَّذِي تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَقْتَصَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ يَا بِلَالُ فَقُلْ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ يَقُومَانِ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَيَقْتَصُّ مِنْهُمَا، وَلَا يَدَعانِهِ يَقْتَصُّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَدَخَلَ بِلَالٌ الْمَسْجِدَ، وَدَفَعَ الْقَضِيبَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَضِيبَ إِلَى عُكَّاشَةَ، فَلَمَّا نَظَرَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَى ذَلِكَ، قَامَا فَقَالَا: يَا عُكَّاشَةُ هَذَانِ نَحْنُ بَيْنَ يَدَيْكَ فَاقْتَصَّ مِنَّا، وَلَا تَقْتَصَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «امْضِ يَا أَبَا بَكْرٍ وَأَنْتَ يَا عُمَرُ، فَامْضِ فَقَدْ عَرَفَ اللهُ مَكَانَكُمَا ومَقامَكُمَا» . فَقَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: يَا عُكَّاشَةُ أَنَا فِي الْحَيَاةِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تَطِيبُ نَفْسِي أَنْ يُضْرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَذَا ظَهْرِي وَبَطْنِي، اقْتَصَّ مِنِّي بِيَدِكَ وَاجْلِدْني مِئَةً، وَلَا تَقْتَصَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ اقْعُدْ فَقَدْ عَرَفَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مَقَامَكَ ونِيَّتَكَ» . وَقَامَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَا: يَا عُكَّاشَةُ أَلَيْسَ تَعْلَمُ أَنَا سِبْطَا رَسُولِ اللهِ؟ فَالْقِصَاصُ مِنَّا كَالْقِصَاصِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ لَهُمَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْعُدَا يَا قُرَّةَ عَيْنِي، لَا نَسِيَ اللهُ لَكُمَا هَذَا الْمُقَامَ» . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عُكَّاشَةُ اضْرِبْ إِنْ كُنْتَ ضارِبًا» . فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ضَرَبْتَني وَأَنَا حاسِرٌ عَنْ بَطْنِي. فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَاحَ الْمُسْلِمُونَ بِالْبُكَاءِ، وَقَالُوا: أَتُرَى عُكَّاشَةُ ضَارِبٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَلَمَّا نَظَرَ عُكَّاشَةُ إِلَى بَيَاضِ بَطْنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ الْقَبَاطِيُّ، لَمْ يَمْلِكْ أَنْ كَبَّ عَلَيْهِ وَقَبَّلَ بَطْنَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: فِدَاءٌ لَكَ أَبِي وَأُمِّي، وَمَنْ تُطِيقُ نَفْسُهُ أَنْ يَقْتَصَّ مِنْكَ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِمَّا أَنْ تَضْرِبَ، وَإِمَّا أَنْ تَعْفُوَ» . فَقَالَ: قَدْ عَفَوْتُ عَنْكَ رَجَاءَ أَنْ يَعْفُوَ اللهُ عَنِّي فِي الْقِيَامَةِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا الشَّيْخِ» . فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ، فَجَعَلُوا يُقَبِّلُونَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْ عُكَّاشَةَ، وَيَقُولُونَ: طُوبَاكَ طُوباكَ، نِلْتَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى وَمُرَافَقَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَمَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ، فَكَانَ مَرِيضًا ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا يَعُودُهُ النَّاسُ، وَكَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُلِدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَبُعِثَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَقُبِضَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، فَلَمَّا كَانَ فِي يَوْمِ الْأَحَدِ ثَقُلَ فِي مَرَضِهِ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ، ثُمَّ وَقَفَ بِالْبَابِ فَنَادَى: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَرَحْمَةُ اللهِ، الصَّلَاةَ رَحِمَكَ اللهُ. فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ بِلَالٍ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا بِلَالُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ. فَدَخَلَ بِلَالٌ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا أَسْفَرَ الصُّبْحُ، قَالَ: وَاللهِ لَا أُقِيمُهَا أَوْ أَسْتَأْذِنَ سَيِّدِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَرَجَعَ فَقَامَ بِالْبَابِ وَنَادَى: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، الصَّلَاةَ يَرْحَمُكَ اللهُ. فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ بِلَالٍ، فَقَالَ: «ادْخُلْ يَا بِلَالُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ، مُرْ أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّ بِالنَّاسِ» . فَخَرَجَ وَيَدُهُ عَلَى أُمِّ رَأْسِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاغَوْثَا بِاللهِ، وَانْقِطَاعَ رَجَائِهِ، وَانْقِطَاعَ رَجَائِهِ، وَانْقِصامَ ظَهْرِي، لَيْتَنِي لَمْ تَلِدْنِي أُمِّي، وَإِذْ وَلَدَتْنِي لَمْ أَشْهَدْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْيَوْمَ. ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَا إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ. فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ، وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى خَلْوَةِ الْمَكَانِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَمَالَكْ أَنْ خَرَّ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ، وَصَاحَ الْمُسْلِمُونَ بِالْبُكَاءِ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَجِيجَ النَّاسِ، فَقَالَ: «مَا هَذِهِ الضَّجَّةُ؟» ، قَالُوا: ضَجَّةُ الْمُسْلِمِينَ لِفَقْدِكَ يَا رَسُولَ اللهِ. فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَاتَّكَأَ عَلَيْهِمَا، فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الْمَلِيحِ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، أَسْتَوْدِعُكمُ اللهَ، أَنْتُمْ فِي رَجَاءِ اللهِ وَأَمَانِهِ، وَاللهُ خِلْفَتِي عَلَيْكُمْ، مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ، عَلَيْكُمْ بِاتِّقَاءِ اللهِ وَحِفْظِ طَاعَتِهِ مِنْ بَعْدِي، فَإِنِّي مُفَارِقٌ الدُّنْيَا، هَذَا أَوَّلُ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَةِ، وَآخِرُ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا» . فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ اشْتَدَّ بِهِ الْأَمْرُ، وَأَوْحَى الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مَلَكِ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اهْبِطْ إِلَى حَبِيبِي وَصَفِيِّي مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، وارْفُقْ بِهِ فِي قَبْضِ رُوحِهِ، فَهَبَطَ مَلَكُ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَقَفَ بِالْبَابِ شِبْهَ أَعْرَابِيٍّ، ثُمَّ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ بَيْتِ النُّبُوَّةِ، وَمَعْدِنَ الرِّسَالَةِ، وَمُخْتَلَفَ الْمَلَائِكَةِ، أَدْخُلُ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لِفَاطِمَةَ: أَجِيبِي الرَّجُلَ. فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: آجَرَكَ اللهُ فِي مَمْشَاكَ يَا عَبْدَ اللهِ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ. فَدَعَا الثَّانِيَةَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا فَاطِمَةُ أَجِيبِي الرَّجُلَ. فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: آجَرَكَ اللهُ فِي مَمْشَاكَ يَا عَبْدَ اللهِ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ. ثُمَّ دَعَا الثَّالِثَةَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ بيت النُّبُوَّةِ، وَمَعْدِنَ الرِّسَالَةِ، وَمُخْتَلَفَ الْمَلَائِكَةِ، أَأَدْخُلُ؟ فَلَابُدَّ مِنَ الدُّخُولِ. فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ مَلَكِ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ مَنْ بِالْبَابِ؟» فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ رَجُلًا بِالْبَابِ يَسْتَأْذِنُ فِي الدُّخُولِ، فَأَجَبْناهُ مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَى، فَنَادَى فِي الثَّالِثَةِ صَوْتًا اقْشَعَرَّ مِنْهُ جِلْدِي، وارْتَعَدَتْ فَرَائِصِي. فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا فَاطِمَةُ، أَتَدْرِينَ مَنْ بِالْبَابِ؟ هَذَا هَادِمُ اللَّذَّاتِ، ومُفَرِّقُ الْجَمَاعَاتِ، هَذَا مُرَمِّلُ الْأَزْوَاجِ، ومُوتِمُ الْأَوْلَادِ، هَذَا مُخَرِّبُ الدُّورِ، وَعَامِرُ الْقُبُورِ، هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ادْخُلْ رَحِمَكَ اللهُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ» . فَدَخَلَ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَلَكَ الْمَوْتِ، جِئْتَنِي زَائِرًا أَمْ قَابِضًا؟» قَالَ: جِئْتُكَ زَائِرًا وَقَابِضًا، وَأَمَرَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا أَدْخُلَ عَلَيْكَ إِلَّا بِإِذْنِكَ، وَلَا أَقْبِضَ رُوحُكَ إِلَّا بِإِذْنِكَ، فَإِنْ أَذِنْتَ وَإِلَّا رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَلَكَ الْمَوْتِ، أَيْنَ خَلَّفْتَ حَبِيبِي جِبْرِيلَ؟» قَالَ: خَلَّفْتُهُ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَالْمَلَائِكَةُ يُعَزُّونَهُ فِيكَ، فَمَا كَانَ بِأَسْرَعِ أَنْ أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جِبْرِيلُ، هَذَا الرَّحِيلُ مِنَ الدُّنْيَا، فَبَشِّرْنِي مَا لِي عِنْدَ اللهِ» ؟ قَالَ: أُبَشِّرُكَ يَا حَبِيبَ اللهِ أَنِّي قَدْ تَرَكْتُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ قَدْ فُتِحَتْ، وَالْمَلَائِكَةَ قَدْ قَامُوا صُفُوفًا صُفُوفًا بِالتَّحِيَّةِ وَالرَّيْحَانِ يُحَيُّونَ رُوحَكَ يَا مُحَمَّدُ. فَقَالَ: «لِوَجْهِ رَبِّيَ الْحَمْدُ، وَبَشِّرْنِي يَا جِبْرِيلُ» . قَالَ: أُبَشِّرُكَ أَنَّ أَبْوَابَ الْجِنَانِ قَدْ فُتِحَتْ، وَأَنْهَارَهَا قَدِ اطَّرَدَتْ، وأَشْجَارَهَا قَدْ تَدَلَّتْ، وحُورَهَا قَدْ تَزَيَّنَتْ لِقُدُومِ رُوحِكِ يَا مُحَمَّدُ. قَالَ: «لِوَجْهِ رَبِّي الْحَمْدُ، فَبَشِّرْنِي يَا جِبْرِيلُ» . قَالَ: أَنْتَ أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ فِي الْقِيَامَةِ. قَالَ: «لِوَجْهِ رَبِّيَ الْحَمْدُ» . قَالَ جِبْرِيلُ: يَا حَبِيبِي، عَمَّ تَسْأَلُنِي؟ قَالَ: «أَسْأَلُكَ عَنْ غَمِّي وَهَمِّي، مَنْ لِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ مِنْ بَعْدِي؟ مَنْ لِصَومِ شَهْرِ رَمَضَانَ مِنْ بَعْدِي؟ مَنْ لحَاجِّ بَيْتِ اللهِ الْحَرَامِ مِنْ بَعْدِي؟ مَنْ لِأُمَّتِي الْمُصْفَاةِ مِنْ بَعْدِي؟» قَالَ: أَبْشِرْ يَا حَبِيبَ اللهِ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: قَدْ حُرِّمَتِ الْجَنَّةُ عَلَى جَمِيعِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْأُمَمِ حَتَّى تُدَاخِلَهَا أَنْتَ وَأُمَّتُكَ يَا مُحَمَّدُ. قَالَ: «الْآنَ طَابَتْ نَفْسِي، إِذَنْ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ فَانْتَهِ إِلَى مَا أُمِرْتَ» . فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِذَا أَنْتَ قُبِضْتَ فَمَنْ يُغَسِّلُكَ؟ وَفِيمَ نُكَفِّنُكَ؟ وَمَنْ يُصَلَّى عَلَيْكَ؟ وَمَنْ يَدْخُلُ الْقَبْرَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ أَمَّا الْغُسْلُ فاغْسِلْنِي أَنْتَ، وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ يَصُبُّ عَلَيْكَ الْمَاءَ، وَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ثَالِثُكُمَا، فَإِذَا أَنْتُمْ فَرَغْتُمْ مِنْ غُسْلِي فَكَفِّنُونِي فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ جُدُدٍ، وَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَأْتِينِي بِحَنُوطٍ مِنَ الْجَنَّةِ، فَإِذَا أَنْتُمْ وَضَعْتُمُونِي عَلَى السَّرِيرِ فَضَعُونِي فِي الْمَسْجِدِ وَاخْرُجُوا عَنِّي، فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُصَلِّي عَلَيَّ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ، ثُمَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ مِيكَائِيلُ، ثُمَّ إِسْرَافِيلُ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، ثُمَّ الْمَلَائِكَةُ زُمَرًا زُمَرًا، ثُمَّ ادْخُلُوا، فَقُومُوا صُفُوفًا لَا يَتَقَدَّمُ عَلَيَّ أَحَدٌ» . فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا: يَا بِلَالُ وَمَنْ ذَا الَّذِي تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَقْتَصَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ يَا بِلَالُ فَقُلْ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ يَقُومَانِ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَيَقْتَصُّ مِنْهُمَا، وَلَا يَدَعانِهِ يَقْتَصُّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَدَخَلَ بِلَالٌ الْمَسْجِدَ، وَدَفَعَ الْقَضِيبَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَضِيبَ إِلَى عُكَّاشَةَ، فَلَمَّا نَظَرَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا إِلَى ذَلِكَ، قَامَا فَقَالَا: يَا عُكَّاشَةُ هَذَانِ نَحْنُ بَيْنَ يَدَيْكَ فَاقْتَصَّ مِنَّا، وَلَا تَقْتَصَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «امْضِ يَا أَبَا بَكْرٍ وَأَنْتَ يَا عُمَرُ، فَامْضِ فَقَدْ عَرَفَ اللهُ مَكَانَكُمَا ومَقامَكُمَا» . فَقَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: يَا عُكَّاشَةُ أَنَا فِي الْحَيَاةِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تَطِيبُ نَفْسِي أَنْ يُضْرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَذَا ظَهْرِي وَبَطْنِي، اقْتَصَّ مِنِّي بِيَدِكَ وَاجْلِدْني مِائَةً، وَلَا تَقْتَصَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ اقْعُدْ فَقَدْ عَرَفَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مَقَامَكَ ونِيَّتَكَ» . وَقَامَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا فَقَالَا: يَا عُكَّاشَةُ أَلَيْسَ تَعْلَمُ أَنَا سِبْطَا رَسُولِ اللهِ؟ فَالْقِصَاصُ مِنَّا كَالْقِصَاصِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ لَهُمَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْعُدَا يَا قُرَّةَ عَيْنِي، لَا نَسِيَ اللهُ لَكُمَا هَذَا الْمُقَامَ» . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عُكَّاشَةُ اضْرِبْ إِنْ كُنْتَ ضارِبًا» . فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ضَرَبْتَني وَأَنَا حاسِرٌ عَنْ بَطْنِي. فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَاحَ الْمُسْلِمُونَ بِالْبُكَاءِ، وَقَالُوا: أَتُرَى عُكَّاشَةُ ضَارِبٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَلَمَّا نَظَرَ عُكَّاشَةُ إِلَى بَيَاضِ بَطْنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ الْقَبَاطِيُّ، لَمْ يَمْلِكْ أَنْ كَبَّ عَلَيْهِ وَقَبَّلَ بَطْنَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: فِدَاءٌ لَكَ أَبِي وَأُمِّي، وَمَنْ تُطِيقُ نَفْسُهُ أَنْ يَقْتَصَّ مِنْكَ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِمَّا أَنْ تَضْرِبَ، وَإِمَّا أَنْ تَعْفُوَ» . فَقَالَ: قَدْ عَفَوْتُ عَنْكَ رَجَاءَ أَنْ يَعْفُوَ اللهُ عَنِّي فِي الْقِيَامَةِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا الشَّيْخِ» . فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ، فَجَعَلُوا يُقَبِّلُونَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْ عُكَّاشَةَ، وَيَقُولُونَ: طُوبَاكَ طُوباكَ، نِلْتَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى وَمُرَافَقَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَمَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ، فَكَانَ مَرِيضًا ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا يَعُودُهُ النَّاسُ، وَكَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُلِدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَبُعِثَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَقُبِضَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، فَلَمَّا كَانَ فِي يَوْمِ الْأَحَدِ ثَقُلَ فِي مَرَضِهِ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ، ثُمَّ وَقَفَ بِالْبَابِ فَنَادَى: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَرَحْمَةُ اللهِ، الصَّلَاةَ رَحِمَكَ اللهُ. فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ بِلَالٍ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا: يَا بِلَالُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ. فَدَخَلَ بِلَالٌ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا أَسْفَرَ الصُّبْحُ، قَالَ: وَاللهِ لَا أُقِيمُهَا أَوْ أَسْتَأْذِنَ سَيِّدِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَرَجَعَ فَقَامَ بِالْبَابِ وَنَادَى: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، الصَّلَاةَ يَرْحَمُكَ اللهُ. فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ بِلَالٍ، فَقَالَ: «ادْخُلْ يَا بِلَالُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ، مُرْ أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّ بِالنَّاسِ» . فَخَرَجَ وَيَدُهُ عَلَى أُمِّ رَأْسِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاغَوْثَا بِاللهِ، وَانْقِطَاعَ رَجَائِهِ، وَانْقِطَاعَ رَجَائِهِ، وَانْقِصامَ ظَهْرِي، لَيْتَنِي لَمْ تَلِدْنِي أُمِّي، وَإِذْ وَلَدَتْنِي لَمْ أَشْهَدْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْيَوْمَ. ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَا إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ. فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ لِلنَّاسِ، وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى خَلْوَةِ الْمَكَانِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَمَالَكْ أَنْ خَرَّ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ، وَصَاحَ الْمُسْلِمُونَ بِالْبُكَاءِ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَجِيجَ النَّاسِ، فَقَالَ: «مَا هَذِهِ الضَّجَّةُ؟» ، قَالُوا: ضَجَّةُ الْمُسْلِمِينَ لِفَقْدِكَ يَا رَسُولَ اللهِ. فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، فَاتَّكَأَ عَلَيْهِمَا، فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الْمَلِيحِ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، أَسْتَوْدِعُكمُ اللهَ، أَنْتُمْ فِي رَجَاءِ اللهِ وَأَمَانِهِ، وَاللهُ خِلْفَتِي عَلَيْكُمْ، مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ، عَلَيْكُمْ بِاتِّقَاءِ اللهِ وَحِفْظِ طَاعَتِهِ مِنْ بَعْدِي، فَإِنِّي مُفَارِقٌ الدُّنْيَا، هَذَا أَوَّلُ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَةِ، وَآخِرُ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا» . فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ اشْتَدَّ بِهِ الْأَمْرُ، وَأَوْحَى الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مَلَكِ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اهْبِطْ إِلَى حَبِيبِي وَصَفِيِّي مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، وارْفُقْ بِهِ فِي قَبْضِ رُوحِهِ، فَهَبَطَ مَلَكُ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَقَفَ بِالْبَابِ شِبْهَ أَعْرَابِيٍّ، ثُمَّ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ بَيْتِ النُّبُوَّةِ، وَمَعْدِنَ الرِّسَالَةِ، وَمُخْتَلَفَ الْمَلَائِكَةِ، أَدْخُلُ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا لِفَاطِمَةَ: أَجِيبِي الرَّجُلَ. فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: آجَرَكَ اللهُ فِي مَمْشَاكَ يَا عَبْدَ اللهِ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ. فَدَعَا الثَّانِيَةَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا فَاطِمَةُ أَجِيبِي الرَّجُلَ. فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: آجَرَكَ اللهُ فِي مَمْشَاكَ يَا عَبْدَ اللهِ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ. ثُمَّ دَعَا الثَّالِثَةَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ النُّبُوَّةِ، وَمَعْدِنَ الرِّسَالَةِ، وَمُخْتَلَفَ الْمَلَائِكَةِ، أَأَدْخُلُ؟ فَلَا بُدَّ مِنَ الدُّخُولِ. فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ مَلَكِ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ مَنْ بِالْبَابِ؟» فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ رَجُلًا بِالْبَابِ يَسْتَأْذِنُ فِي الدُّخُولِ، فَأَجَبْناهُ مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَى، فَنَادَى فِي الثَّالِثَةِ صَوْتًا اقْشَعَرَّ مِنْهُ جِلْدِي، وارْتَعَدَتْ فَرَائِصِي. فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا فَاطِمَةُ، أَتَدْرِينَ مَنْ بِالْبَابِ؟ هَذَا هَادِمُ اللَّذَّاتِ، ومُفَرِّقُ الْجَمَاعَاتِ، هَذَا مُرَمِّلُ الْأَزْوَاجِ، ومُوتِمُ الْأَوْلَادِ، هَذَا مُخَرِّبُ الدُّورِ، وَعَامِرُ الْقُبُورِ، هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ادْخُلْ رَحِمَكَ اللهُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ» . فَدَخَلَ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَلَكَ الْمَوْتِ، جِئْتَنِي زَائِرًا أَمْ قَابِضًا؟» قَالَ: جِئْتُكَ زَائِرًا وَقَابِضًا، وَأَمَرَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا أَدْخُلَ عَلَيْكَ إِلَّا بِإِذْنِكَ، وَلَا أَقْبِضَ رُوحُكَ إِلَّا بِإِذْنِكَ، فَإِنْ أَذِنْتَ وَإِلَّا رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَلَكَ الْمَوْتِ، أَيْنَ خَلَّفْتَ حَبِيبِي جِبْرِيلَ؟» قَالَ: خَلَّفْتُهُ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَالْمَلَائِكَةُ يُعَزُّونَهُ فِيكَ، فَمَا كَانَ بِأَسْرَعِ أَنْ أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جِبْرِيلُ، هَذَا الرَّحِيلُ مِنَ الدُّنْيَا، فَبَشِّرْنِي مَا لِي عِنْدَ اللهِ» ؟ قَالَ: أُبَشِّرُكَ يَا حَبِيبَ اللهِ أَنِّي قَدْ تَرَكْتُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ قَدْ فُتِحَتْ، وَالْمَلَائِكَةَ قَدْ قَامُوا صُفُوفًا صُفُوفًا بِالتَّحِيَّةِ وَالرَّيْحَانِ يُحَيُّونَ رُوحَكَ يَا مُحَمَّدُ. فَقَالَ: «لِوَجْهِ رَبِّيَ الْحَمْدُ، وَبَشِّرْنِي يَا جِبْرِيلُ» . قَالَ: أُبَشِّرُكَ أَنَّ أَبْوَابَ الْجِنَانِ قَدْ فُتِحَتْ، وَأَنْهَارَهَا قَدِ اطَّرَدَتْ، وأَشْجَارَهَا قَدْ تَدَلَّتْ، وحُورَهَا قَدْ تَزَيَّنَتْ لِقُدُومِ رُوحِكِ يَا مُحَمَّدُ. قَالَ: «لِوَجْهِ رَبِّي الْحَمْدُ، فَبَشِّرْنِي يَا جِبْرِيلُ» . قَالَ: أَنْتَ أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ فِي الْقِيَامَةِ. قَالَ: «لِوَجْهِ رَبِّيَ الْحَمْدُ» . قَالَ جِبْرِيلُ: يَا حَبِيبِي، عَمَّ تَسْأَلُنِي؟ قَالَ: «أَسْأَلُكَ عَنْ غَمِّي وَهَمِّي، مَنْ لِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ مِنْ بَعْدِي؟ مَنْ لِصَومِ شَهْرِ رَمَضَانَ مِنْ بَعْدِي؟ مَنْ لحَاجِّ بَيْتِ اللهِ الْحَرَامِ مِنْ بَعْدِي؟ مَنْ لِأُمَّتِي الْمُصْفَاةِ مِنْ بَعْدِي؟» قَالَ: أَبْشِرْ يَا حَبِيبَ اللهِ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: قَدْ حُرِّمَتِ الْجَنَّةُ عَلَى جَمِيعِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْأُمَمِ حَتَّى تُدَاخِلَهَا أَنْتَ وَأُمَّتُكَ يَا مُحَمَّدُ. قَالَ: «الْآنَ طَابَتْ نَفْسِي، إِذَنْ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ فَانْتَهِ إِلَى مَا أُمِرْتَ» . فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِذَا أَنْتَ قُبِضْتَ فَمَنْ يُغَسِّلُكَ؟ وَفِيمَ نُكَفِّنُكَ؟ وَمَنْ يُصَلَّى عَلَيْكَ؟ وَمَنْ يَدْخُلُ الْقَبْرَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ أَمَّا الْغُسْلُ فاغْسِلْنِي أَنْتَ، وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ يَصُبُّ عَلَيْكَ الْمَاءَ، وَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ثَالِثُكُمَا، فَإِذَا أَنْتُمْ فَرَغْتُمْ مِنْ غُسْلِي فَكَفِّنُونِي فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ جُدُدٍ، وَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَأْتِينِي بِحَنُوطٍ مِنَ الْجَنَّةِ، فَإِذَا أَنْتُمْ وَضَعْتُمُونِي عَلَى السَّرِيرِ فَضَعُونِي فِي الْمَسْجِدِ وَاخْرُجُوا عَنِّي، فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُصَلِّي عَلَيَّ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ، ثُمَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ مِيكَائِيلُ، ثُمَّ إِسْرَافِيلُ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، ثُمَّ الْمَلَائِكَةُ زُمَرًا زُمَرًا، ثُمَّ ادْخُلُوا، فَقُومُوا صُفُوفًا لَا يَتَقَدَّمُ عَلَيَّ أَحَدٌ» . فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا: الْيَوْمَ الْفِرَاقُ، فَمَتَى أَلْقَاكَ؟ فَقَالَ لَهَا: «يَا بُنَيَّةُ، تَلْقَيْنَنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ الْحَوْضِ وَأَنَا أَسْقِي مَنْ يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ مِنْ أُمَّتِي» . قَالَتْ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «تَلْقَيْنَنِي عِنْدَ الْمِيزَانِ وَأَنَا أَشْفَعُ لِأُمَّتِي» . قَالَتْ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «تَلْقَيْنَنِي عِنْدَ الصِّرَاطِ وَأَنَا أُنَادِي رَبِّي سَلِّمْ أُمَّتِي مِنَ النَّارِ» . فَدَنَا مَلَكُ الْمَوْتِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ قَبْضَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا بَلَغَ الرُّوحُ الرُّكْبَتَيْنِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْهِ» . فَلَمَّا بَلَغَ الرُّوحُ السُّرَّةَ نَادَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاكَرْبَاهُ» . فَقَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَامُ: كَرْبِي يَا أَبَتَاهُ. فَلَمَّا بَلَغَ الرُّوحُ إِلَى الثُّنْدُؤَةِ نَادَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جِبْرِيلُ، مَا أَشَدَّ مَرَارَةَ الْمَوْتِ» . فَوَلَّى جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَجْهَهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جِبْرِيلُ، كَرِهْتَ النَّظَرَ إِلَيَّ؟» فَقَالَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا حَبِيبِي، وَمَنْ تُطِيقُ نَفْسُهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْكَ وَأَنْتَ تُعَالِجُ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ؟ فَقُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَسَّلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنُ عَبَّاسٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ، وَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَعَهُمَا، وَكُفِّنَ بِثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ جُدُدٍ، وَحُمِلَ عَلَى سَرِيرٍ، ثُمَّ أَدْخَلُوهُ الْمَسْجِدَ، وَوَضَعُوهُ فِي الْمَسْجِدِ، وَخَرَجَ النَّاسُ عَنْهُ، فَأَوَّلُ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ الرَّبُّ تَعَالَى مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ، ثُمَّ جِبْرِيلُ، ثُمَّ مِيكَائِيلُ، ثُمَّ إِسْرَافِيلُ، ثُمَّ الْمَلَائِكَةُ زُمَرًا زُمَرًا. قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: لَقَدْ سَمِعْنَا فِي الْمَسْجِدِ هَمْهَمَةً، وَلَمْ نَرَ لَهُمْ شَخْصًا، فَسَمِعْنَا هاتِفًا يَهْتِفُ وَيَقُولُ: ادْخُلُوا رَحِمَكُمُ اللهُ فَصَلُّوا عَلَى نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَدَخَلْنَا، وَقُمْنَا صُفُوفًا صُفُوفًا كَمَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرْنَا بِتَكْبِيرِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَصَلَّيْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَلَاةِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، مَا تَقَدَّمَ مِنَّا أَحَدٌ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَخَلَ الْقَبْرَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ، وَدُفِنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّاسُ قَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: يَا أَبَا الْحَسَنِ، دَفَنْتُمْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا: كَيْفَ طَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا التُّرَابَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَمَا كَانَ فِي صُدُورِكُمْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّحْمَةُ، أَمَا كَانَ مُعَلِّمَ الْخَيْرِ؟ قَالَ: بَلَى يَا فَاطِمَةُ، وَلَكِنْ أَمْرُ اللهِ الَّذِي لَا مَرَدَّ لَهُ. فَجَعَلَتْ تَبْكِي وتَنْدُبُ، وَهِيَ تَقُولُ: يَا أَبَتَاهُ، الْآنَ انْقَطَعَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَكَانَ جِبْرِيلُ يَأْتِينَا بِالْوَحْيِ مِنَ السَّمَاءِ
سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ”جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے، اور آپ دیکھیں کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں، تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کریں اور اس سے بخشش مانگیں، بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے“ [سورۃ النصر: 1-2] کے بارے میں بیان کرتے ہیں، فرماتے ہیں: جب یہ سورت نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جبریل! میری وفات کی خبر آ گئی ہے۔“ جبریل علیہ السلام نے کہا: آخرت آپ کے لیے دنیا سے بہتر ہے، اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا عطا کرے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”الصلاۃ جامعہ“ کی منادی کریں، چنانچہ مہاجرین و انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں جمع ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، اللہ عزوجل کی حمد و ثنا بیان کی، پھر ایسا خطبہ دیا جس سے دل کانپ اٹھے اور آنکھیں رو پڑیں، پھر فرمایا: ”اے لوگو! میں تمہارے لیے کیسا نبی رہا؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ آپ کو نبوت کی بہترین جزا دے، آپ ہمارے لیے مہربان باپ کی طرح اور خیرخواہ، شفیق بھائی کی طرح رہے، آپ نے اللہ عزوجل کے پیغامات ہم تک پہنچائے اور اس کی وحی ہمیں پہنچائی، اور حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے رب کے راستے کی طرف بلایا؛ تو اللہ آپ کو ہماری طرف سے وہ بہترین جزا دے جو کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے دی گئی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے مسلمانو کی جماعت! میں تمہیں اللہ کی اور اپنے اس حق کی قسم دیتا ہوں جو تم پر ہے: جس کسی پر میری طرف سے کوئی ظلم ہوا ہو وہ کھڑا ہو جائے اور مجھ سے بدلہ لے۔“ کوئی شخص کھڑا نہ ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ قسم دی، پھر بھی کوئی کھڑا نہ ہوا، تو تیسری بار قسم دی: ”اے مسلمانو کی جماعت! میں تمہیں اللہ کی اور اپنے اس حق کی قسم دیتا ہوں جو تم پر ہے: جس کسی پر میری طرف سے کوئی ظلم ہوا ہو وہ کھڑا ہو جائے اور قیامت کے دن بدلہ لیے جانے سے پہلے مجھ سے بدلہ لے لے۔“ تو مسلمانوں میں سے ایک بوڑھے شخص، جن کا نام عکاشہ تھا، کھڑے ہوئے اور لوگوں کو پھلانگتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اگر آپ بار بار قسم نہ دیتے تو میں کبھی اس کام پر آگے نہ بڑھتا۔ میں ایک غزوے میں آپ کے ساتھ تھا، جب اللہ عزوجل نے ہمیں فتح دی اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی اور ہم واپسی میں تھے تو میری اونٹنی آپ کی اونٹنی کے برابر آ گئی، میں اونٹنی سے اترا اور آپ کی ران چومنے کے لیے قریب ہوا تو آپ نے چھڑی اٹھائی اور میری کوکھ پر ماری، اور مجھے معلوم نہیں کہ یہ آپ نے جان بوجھ کر کیا یا اونٹنی کو مارنا چاہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کی عظمت کی پناہ مانگتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جان بوجھ کر تمہیں مارا ہو۔ اے بلال! فاطمہ کے گھر جاؤ اور میرے لیے وہ چھڑی لے آؤ جو چھلی ہوئی (پتلی، چکنی) ہے۔“ بلال رضی اللہ عنہ مسجد سے نکلے، ان کا ہاتھ سر پر تھا، اور وہ پکار رہے تھے: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو اپنی ذات سے بدلہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے سیدہ فاطمہ کے دروازے پر دستک دی اور کہا: اے رسول اللہ کی بیٹی! مجھے وہ چھڑی دے دیں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بلال! میرے والد کو چھڑی کا کیا کام؟ نہ یہ حج کا دن ہے نہ غزوے کا۔ بلال نے کہا: اے فاطمہ! آپ کو کیا خبر کہ آپ کے والد کس حال میں ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین کو الوداع کہہ رہے ہیں اور دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں، اور اپنی ذات سے بدلہ دے رہے ہیں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بلال! ایسا کون ہے جس کا دل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ لینے پر راضی ہو؟ اے بلال! حسن اور حسین سے کہو کہ وہ اس شخص کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور وہ ان سے بدلہ لے لے، اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ لینے نہ دیں۔ بلال مسجد میں داخل ہوئے اور چھڑی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چھڑی عکاشہ کو دے دی۔ جب ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے یہ دیکھا تو کھڑے ہو کر کہا: اے عکاشہ! یہ ہم دونوں تمہارے سامنے حاضر ہیں، ہم سے بدلہ لے لو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ نہ لو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”جاؤ اے ابوبکر، اور تم بھی جاؤ اے عمر، اللہ نے تمہارا مقام اور مرتبہ جان لیا ہے۔“ پھر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے عکاشہ! میں زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ہوں، میرا دل اس بات پر راضی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا جائے، یہ رہی میری پیٹھ اور میرا پیٹ، اپنے ہاتھ سے مجھ سے بدلہ لے لو اور مجھے سو کوڑے لگاؤ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ نہ لو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے علی! بیٹھ جاؤ، اللہ عزوجل نے تمہارا مقام اور تمہاری نیت جان لی ہے۔“ پھر حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور کہا: اے عکاشہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں نواسے ہیں؟ تو ہم سے بدلہ لینا ایسے ہی ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ لینا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ، اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک! اللہ تمہارا یہ مقام کبھی نہ بھلائے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عکاشہ! اگر مارنا ہے تو مار لو۔“ عکاشہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے مارا تھا جب میرا پیٹ کھلا ہوا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیٹ کھول دیا، اور مسلمان روتے ہوئے چیخ اٹھے اور کہنے لگے: کیا تم دیکھتے ہو کہ عکاشہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارے گا؟ جب عکاشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی سفیدی دیکھی، گویا وہ باریک مصری کپڑے کی طرح تھی، تو وہ اپنے آپ کو روک نہ سکا اور جھک کر آپ کا پیٹ چومنے لگا اور کہنے لگا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ایسا کون ہے جس میں یہ طاقت ہو کہ آپ سے بدلہ لے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا تو مارو یا معاف کر دو۔“ عکاشہ نے کہا: میں نے آپ کو معاف کر دیا، اس امید پر کہ اللہ قیامت کے دن مجھے معاف فرما دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنت میں میرے ساتھی کو دیکھنا چاہے وہ اس بزرگ کو دیکھ لے۔“ تو مسلمان کھڑے ہو گئے اور عکاشہ کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دینے لگے اور کہنے لگے: تمہیں مبارک ہو، تمہیں مبارک ہو، تم نے بلند درجات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت پا لی۔ اس دن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے، اور اٹھارہ دن تک بیمار رہے، لوگ آپ کی عیادت کے لیے آتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے دن پیدا ہوئے، پیر کے دن نبوت ملی، اور پیر کے دن وفات پائی۔ جب اتوار کا دن آیا تو بیماری شدت اختیار کر گئی، بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر دروازے پر کھڑے ہو کر پکارا: السلام علیک یا رسول اللہ ورحمۃ اللہ، نماز کے لیے تشریف لائیں، اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کی آواز سنی، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بلال! آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حالت میں مصروف ہیں۔ بلال مسجد میں داخل ہو گئے۔ جب صبح روشن ہوئی تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنے آقا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیے بغیر نماز کھڑی نہیں کروں گا۔ چنانچہ وہ واپس دروازے پر آئے اور پکارا: السلام علیک یا رسول اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، نماز کے لیے تشریف لائیں، اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کی آواز سنی تو فرمایا: ”اندر آ جاؤ اے بلال، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حالت میں مصروف ہیں، ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ بلال اپنا ہاتھ سر پر رکھے باہر نکلے، کہہ رہے تھے: ہائے اللہ کی فریاد! ہائے امید کا ٹوٹ جانا! ہائے میری کمر کا ٹوٹنا! کاش میری ماں نے مجھے جنم ہی نہ دیا ہوتا، اور اگر جنم دیا بھی تھا تو کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ دن نہ دیکھتا۔ پھر کہا: اے ابوبکر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کے لیے آگے بڑھے، وہ نرم دل انسان تھے، جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کو خالی دیکھا تو بے ہوش ہو کر گر پڑے، اور مسلمان روتے ہوئے چیخ اٹھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کا شور سنا تو فرمایا: ”یہ کیسا شور ہے؟“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! یہ مسلمانوں کا شور ہے، آپ سے محرومی کے ڈر سے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بلایا، ان دونوں پر ٹیک لگا کر مسجد کی طرف نکلے، اور لوگوں کو دو ہلکی رکعتیں پڑھائیں، پھر اپنا حسین چہرہ ان کی طرف کیا اور فرمایا: ”اے مسلمانو کی جماعت! میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں، تم اللہ کی امید اور امان میں ہو، اور اللہ میرے بعد تمہارا نگہبان ہے۔ اے مسلمانو کی جماعت! میرے بعد اللہ سے ڈرتے رہنا اور اس کی اطاعت کی حفاظت کرنا، کیونکہ میں دنیا سے رخصت ہونے والا ہوں، یہ آخرت کا پہلا دن اور دنیا کے دنوں کا آخری دن ہے۔“ پھر جب پیر کا دن آیا تو بیماری کی شدت بڑھ گئی، اور اللہ عزوجل نے ملک الموت کی طرف وحی کی کہ میرے محبوب اور برگزیدہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہترین صورت میں اترو، اور ان کی روح قبض کرتے وقت نرمی برتو۔ چنانچہ ملک الموت اترے اور ایک بدوی کی شکل میں دروازے پر کھڑے ہو کر کہا: السلام علیکم اے نبوت کے گھر والو، رسالت کے معدن اور فرشتوں کی آمد و رفت کی جگہ! کیا اندر آ سکتا ہوں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ سے کہا: اس آدمی کو جواب دو۔ فاطمہ نے کہا: اللہ آپ کو اس آمد کا اجر دے، اے اللہ کے بندے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حالت میں مصروف ہیں۔ انہوں نے دوبارہ پکارا، عائشہ نے کہا: اے فاطمہ! اس آدمی کو جواب دو۔ فاطمہ نے پھر وہی کہا: اللہ آپ کو اس آمد کا اجر دے، اے اللہ کے بندے! رسول اللہ اپنی حالت میں مصروف ہیں۔ پھر تیسری بار پکارا: السلام علیکم اے نبوت کے گھر والو، رسالت کے معدن اور فرشتوں کی آمد و رفت کی جگہ! کیا اندر آ سکتا ہوں؟ اندر آنا ضروری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک الموت کی آواز سنی تو فرمایا: ”اے فاطمہ! دروازے پر کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دروازے پر ایک شخص اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے، ہم نے بار بار جواب دیا ہے، تیسری بار اس نے ایسی آواز سے پکارا کہ میرا رونگٹا کھڑا ہو گیا اور میرا جسم کانپ اٹھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے فاطمہ! کیا تمہیں معلوم ہے دروازے پر کون ہے؟ یہ لذتوں کو توڑنے والا، جماعتوں کو جدا کرنے والا ہے، یہ بیویوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم کرنے والا ہے، یہ گھروں کو ویران اور قبروں کو آباد کرنے والا ہے، یہ ملک الموت ہے، اندر آ جاؤ، اللہ تم پر رحم فرمائے، اے ملک الموت۔“ ملک الموت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس داخل ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ملک الموت! تم میرے پاس زیارت کے لیے آئے ہو یا روح قبض کرنے کے لیے؟“ انہوں نے کہا: میں زیارت اور قبض دونوں کے لیے آیا ہوں، اور اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ آپ کی اجازت کے بغیر آپ کے پاس داخل نہ ہوں اور آپ کی اجازت کے بغیر آپ کی روح قبض نہ کروں؛ اگر آپ اجازت دیں تو ٹھیک، ورنہ میں اپنے رب عزوجل کی طرف لوٹ جاؤں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ملک الموت! تم نے میرے محبوب جبریل کو کہاں چھوڑا؟“ انہوں نے کہا: میں نے انہیں آسمانِ دنیا میں چھوڑا ہے، اور فرشتے آپ کے بارے میں ان کی تعزیت کر رہے ہیں۔ ابھی یہ بات ہوئی ہی تھی کہ جبریل علیہ السلام تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے بیٹھ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جبریل! یہ دنیا سے کوچ ہے، مجھے بتاؤ اللہ کے ہاں میرے لیے کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے محبوب! میں آپ کو خوشخبری دیتا ہوں کہ میں نے آسمان کے دروازے کھلے چھوڑے ہیں، اور فرشتے صفیں باندھے سلام اور ریحان کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ آپ کی روح کا استقبال کر رہے ہیں، اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام تعریفیں میرے رب کے لیے ہیں، اے جبریل! اور خوشخبری دو۔“ انہوں نے کہا: میں آپ کو خوشخبری دیتا ہوں کہ جنتوں کے دروازے کھول دیے گئے ہیں، اس کی نہریں بہنے لگی ہیں، اس کے درخت جھک آئے ہیں، اور اس کی حوریں آپ کی روح کی آمد کے لیے سج گئی ہیں، اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام تعریفیں میرے رب کے لیے ہیں، اور خوشخبری دو اے جبریل۔“ انہوں نے کہا: آپ قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کرنے والے اور سب سے پہلے جن کی شفاعت قبول ہو گی، وہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام تعریفیں میرے رب کے لیے ہیں۔“ جبریل علیہ السلام نے کہا: اے میرے محبوب! آپ مجھ سے اور کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم سے اپنے غم اور فکر کے بارے میں پوچھتا ہوں: میرے بعد قرآن پڑھنے والوں کا خیال کون رکھے گا؟ میرے بعد رمضان کے روزے کا خیال کون رکھے گا؟ میرے بعد اللہ کے حرمت والے گھر کے حج کرنے والوں کا خیال کون رکھے گا؟ میرے بعد میری پاکیزہ امت کا خیال کون رکھے گا؟“ انہوں نے کہا: خوش ہو جائیں اے اللہ کے محبوب! اللہ عزوجل فرماتا ہے: تمام انبیاء اور امتوں پر جنت حرام کر دی گئی ہے یہاں تک کہ آپ اور آپ کی امت اس میں داخل ہو جائیں، اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب میرا دل مطمئن ہو گیا، اے ملک الموت! تو اب اس کام کو پورا کرو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔“ علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب آپ کی وفات ہو جائے تو آپ کو غسل کون دے گا؟ کس چیز میں آپ کو کفن دیا جائے گا؟ آپ پر نماز جنازہ کون پڑھائے گا؟ اور قبر میں کون اترے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے علی! غسل تم دو گے، اور فضل بن عباس تم پر پانی ڈالیں گے، اور جبریل علیہ السلام تم دونوں کے ساتھ تیسرے ہوں گے۔ جب تم میرے غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے تین نئے کپڑوں میں کفن دینا، اور جبریل علیہ السلام میرے لیے جنت سے خوشبو لائیں گے۔ جب تم مجھے تخت پر رکھ لو تو مجھے مسجد میں رکھ کر باہر نکل جانا، کیونکہ سب سے پہلے مجھ پر نماز پڑھنے والا میرا رب عزوجل ہو گا، اپنے عرش کے اوپر سے، پھر جبریل علیہ السلام، پھر میکائیل، پھر اسرافیل علیہما السلام، پھر فرشتے گروہ در گروہ؛ پھر تم لوگ اندر آنا اور صفیں باندھ کر کھڑے ہو جانا، کوئی بھی مجھ سے آگے نہ بڑھے۔“ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آج جدائی کا دن ہے، تو میں آپ سے کب ملوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بیٹی! تم مجھ سے قیامت کے دن حوض پر ملو گی، اور میں اپنی امت میں سے حوض پر آنے والوں کو پانی پلا رہا ہوں گا۔“ انہوں نے عرض کیا: اور اگر میں آپ کو وہاں نہ پاؤں، یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے میزان کے پاس پاؤ گی، میں اپنی امت کی شفاعت کر رہا ہوں گا۔“ انہوں نے عرض کیا: اور اگر میں آپ کو وہاں نہ پاؤں، یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے پل صراط کے پاس پاؤ گی، میں اپنے رب کو پکار رہا ہوں گا: میری امت کو آگ سے بچا لے۔“ پھر ملک الموت قریب ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض کرنے میں مشغول ہو گئے۔ جب روح گھٹنوں تک پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اوہ۔“ جب روح ناف تک پہنچی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا: ”ہائے تکلیف!“ فاطمہ علیہا السلام نے کہا: میرے والد! آپ کی تکلیف پر میں بھی تکلیف میں ہوں۔ جب روح سینے تک پہنچی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا: ”اے جبریل! موت کتنی تلخ ہے۔“ جبریل علیہ السلام نے اپنا چہرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھیر لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جبریل! کیا تمہیں میری طرف دیکھنا ناگوار ہے؟“ جبریل علیہ السلام نے کہا: اے میرے محبوب! ایسا کون ہے جس میں یہ طاقت ہو کہ آپ کو موت کی سختیوں میں دیکھ سکے؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما پانی ڈالتے رہے، اور جبریل علیہ السلام ان کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین نئے کپڑوں میں کفن دیا گیا، تخت پر اٹھایا گیا، پھر مسجد میں لے جا کر رکھا گیا، اور لوگ آپ کے پاس سے نکل گئے۔ سب سے پہلے آپ پر نماز پڑھنے والے آپ کا رب تعالیٰ تھا، اپنے عرش کے اوپر سے، پھر جبریل، پھر میکائیل، پھر اسرافیل، پھر فرشتے گروہ در گروہ۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے مسجد میں ایک ہلکی آواز سنی مگر کسی کو دیکھا نہیں، پھر ہم نے ایک پکارنے والے کو یہ پکارتے سنا: اندر آ جاؤ، اللہ تم پر رحم فرمائے، اور اپنے نبی پر نماز پڑھو۔ چنانچہ ہم اندر گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق صفیں باندھ کر کھڑے ہو گئے، ہم نے جبریل علیہ السلام کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہی اور جبریل علیہ السلام کی نماز کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز پڑھی، ہم میں سے کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نہ بڑھا۔ ابوبکر صدیق، علی بن ابی طالب اور ابن عباس رضی اللہ عنہم قبر میں اترے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کر دیا گیا۔ جب لوگ واپس چلے گئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوالحسن! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کر دیا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تمہارے دل کیسے راضی ہوئے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو؟ کیا تمہارے سینوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رحم نہ تھا؟ کیا وہ خیر کے معلم نہ تھے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں اے فاطمہ، لیکن یہ اللہ کا حکم ہے جسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ تو وہ رونے اور نوحہ کرنے لگیں اور کہنے لگیں: اے میرے والد! اب جبریل علیہ السلام کا سلسلہ منقطع ہو گیا، جبریل ہمارے پاس آسمان سے وحی لاتے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2663]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 58، حدیث 2676»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2664
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَنَّاطُ الرَّامَهُرْمُزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ رُشْدِ بْنِ خَيْثَمٍ الْهِلَالِيُّ، ثنا عَمِّي سَعِيدُ بْنُ خَيْثَمٍ، ثنا مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ، عَنْ حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ وَأَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: كُنَّا حَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ ضَلَّ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ. قَالَ: وَذَلِكَ رَادَّ النَّهَارِ، يَقُولُ: ارْتِفَاعَ النَّهَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا فَاطْلُبُوا ابْنَيَّ» . قَالَ: وَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ تُجَاهَ وَجْهِهِ، وَأَخَذْتُ نَحْوَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى أَتَى سَفْحَ جَبَلٍ، وَإِذَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مُلْتَزِقٌ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ، وَإِذَا شُجَاعٌ قَائِمٌ عَلَى ذَنَبِهِ، يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ شِبْهُ النَّارِ، فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَالْتَفَتَ مُخاطِبًا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ انْسَابَ فَدَخَلَ بَعْضَ الْأَحْجِرَةِ، ثُمَّ أَتَاهُمَا فَأَفْرَقَ بَيْنَهُمَا وَمَسَحَ وَجْهَهُمَا، وَقَالَ: «بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتُمَا مَا أَكَرَمَكُمَا عَلَى اللهِ» . ثُمَّ حَمَلَ أَحَدَهُمَا عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ، وَالْآخَرَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، فَقُلْتُ: طُوبَاكُمَا، نِعْمَ الْمَطِيَّةُ مَطِيَّتُكُمَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَنِعْمَ الرَّاكِبانِ هُمَا، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا»
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھے تھے کہ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! حسن اور حسین گم ہو گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: اور یہ دن چڑھے کا وقت تھا، یعنی سورج بلند ہونے کا وقت۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھو اور میرے دونوں بیٹوں کو تلاش کرو۔“ راوی کہتے ہیں: ہر شخص اپنی ایک سمت نکل گیا، اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے یہاں تک کہ ایک پہاڑ کے دامن میں پہنچے، تو دیکھا کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے ہیں، اور ایک سانپ اپنی دم پر کھڑا ہے، اس کے منہ سے آگ جیسی چیز نکل رہی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے اس کی طرف بڑھے، تو وہ مڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گویا بات کرنے لگا، پھر رینگتا ہوا کسی چٹان کی دراڑ میں داخل ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے پاس آئے، انہیں ایک دوسرے سے الگ کیا اور ان کے چہرے صاف کیے، اور فرمایا: ”میرے ماں باپ تم پر قربان، تم دونوں اللہ کے ہاں کتنے معزز ہو۔“ پھر ایک کو اپنے دائیں کندھے پر اور دوسرے کو بائیں کندھے پر اٹھا لیا۔ میں نے عرض کیا: تم دونوں کو مبارک ہو، تمہاری سواری کیا خوب سواری ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور سوار بھی کیا خوب ہیں، اور ان کا باپ ان دونوں سے بہتر ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2664]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 65، حدیث 2677»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2665
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي أَمْرَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ: كِتَابَ اللهِ، حَبَلٌ مَمْدُودٌ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! میں تم میں دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں، اگر تم انہیں تھامے رکھو گے تو میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہو گے، ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے: اللہ کی کتاب، جو آسمان اور زمین کے درمیان پھیلی ہوئی رسی ہے، اور میری عترت، میرے اہل بیت، اور یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے آ ملیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2665]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 65، حدیث 2678»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2666
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، رَفَعَهُ، قَالَ:" كَأَنِّي قَدْ دُعِيتُ فَأَجَبْتُ فَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّ‍قَلَيْنِ: كِتَابَ اللهِ، حَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: ”گویا مجھے بلایا گیا ہے اور میں نے جواب دے دیا ہے، اور میں تم میں دو وزنی چیزیں چھوڑ رہا ہوں: اللہ کی کتاب، جو آسمان اور زمین کے درمیان پھیلی ہوئی رسی ہے، اور میری عترت، میرے اہل بیت، اور یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے آ ملیں، تو دیکھو میرے بعد ان دونوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2666]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 65، حدیث 2679»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2667
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَشَّاءُ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَنْمَاطِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ، فَخَطَبَ، فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ:" أَيُّهَا النَّاسُ، قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا: كِتَابَ اللهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حج کے موقع پر عرفہ کے دن دیکھا، آپ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار تھے، تو آپ نے خطبہ دیا، میں نے آپ کو فرماتے سنا: ”اے لوگو! میں نے تم میں وہ چیز چھوڑی ہے کہ اگر تم اسے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری عترت، میرے اہل بیت۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2667]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 66، حدیث 2680»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2668
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُكَيْرٍ الْغَنَوِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ، وَإِنَّكُمْ وَارِدُونَ عَلَيَّ الْحَوْضَ، عَرْضُهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ إِلَى بُصْرَى، فِيهِ عَدَدُ الْكَوَاكِبِ مِنْ قِدْحَانِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِي الثَّقَلَيْنِ؟» فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا الثَّقَلَانِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَكْبَرُ كِتَابُ اللهِ، سَبَبٌ طَرَفُهُ بِيَدِ اللهِ، وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ، فَتَمَسَّكُوا بِهِ لَنْ تَزَالُوا، وَلَنْ تَضِلُّوا، وَالْأَصْغَرُ عِتْرَتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَسَأَلْتُ لَهُمَا ذَاكَ رَبِّي، فَلَا تَقْدُمُوهُمَا فَتَهْلِكُوا، وَلَا تُعَلِّمُوهُمَا؛ فَإِنَّهُمَا أَعْلَمُ مِنْكُمْ»
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم سے پہلے (حوض پر) پہنچنے والا ہوں، اور تم حوض پر مجھ سے آ ملو گے، اس کی چوڑائی صنعاء سے بصریٰ تک ہے، اس میں ستاروں کی تعداد کے برابر سونے اور چاندی کے پیالے ہیں، تو دیکھو میرے بعد ثقلین کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو؟“ ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، ثقلین کیا ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑی چیز اللہ کی کتاب ہے، ایک رسی جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے، تو اسے تھامے رکھو، نہ تم بھٹکو گے اور نہ گمراہ ہو گے، اور چھوٹی چیز میری عترت ہے، اور یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے آ ملیں، اور میں نے اپنے رب سے یہی دعا مانگی ہے، تو ان سے آگے نہ بڑھو ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے، اور انہیں کچھ سکھانے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ وہ تم سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2668]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 66، حدیث 2681»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2669
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْسٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَلَمَّا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ حَتَّى رَكِبَا عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَلَّمَ وَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَقْبَلَ الْحُسَيْنُ، فَحَمَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ، وَالْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ جَدًّا وَجَدَّةً؟ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ عَمَّا وَعَمَّةً؟ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ خَالًا وَخَالَةً؟ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ أَبًا وَأَمَّا؟ هُمَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، جَدُّهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَدَّتُهُمَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَأُمُّهُمَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُوهُمَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعَمُّهُمَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَمَّتُهُمَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، وَخَالُهُمَا الْقَاسِمُ بْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَالَاتُهُمَا زَيْنَبُ، وَرُقَيَّةُ، وَأُمُّ كُلْثُومٍ بَنَاتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَدُّهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَعَمُّهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَعَمَّتُهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَخَالَاتُهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ أَحَبَّهُمَا فِي الْجَنَّةِ»
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی، جب چوتھی رکعت میں تھے تو حسن اور حسین آگے آئے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر سوار ہو گئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو انہیں اپنے سامنے بٹھایا، اور سیدنا حسین آگے بڑھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن کو اپنے دائیں کندھے پر اور سیدنا حسین کو اپنے بائیں کندھے پر اٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اے لوگو! کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ نانا اور نانی کے اعتبار سے سب سے بہتر لوگ کون ہیں؟ کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ چچا اور پھوپھی کے اعتبار سے سب سے بہتر لوگ کون ہیں؟ کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ ماموں اور خالہ کے اعتبار سے سب سے بہتر لوگ کون ہیں؟ کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ باپ اور ماں کے اعتبار سے سب سے بہتر لوگ کون ہیں؟ وہ حسن اور حسین ہیں: ان کے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور ان کی نانی خدیجہ بنت خویلد ہیں، اور ان کی ماں فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور ان کے والد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں، اور ان کے چچا جعفر بن ابی طالب ہیں، اور ان کی پھوپھی ام ہانی بنت ابی طالب ہیں، اور ان کے ماموں قاسم بن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور ان کی خالائیں زینب، رقیہ اور ام کلثوم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں ہیں۔ ان کے نانا جنت میں ہیں، ان کے والد جنت میں ہیں، ان کے چچا جنت میں ہیں، ان کی پھوپھی جنت میں ہیں، ان کی خالائیں جنت میں ہیں، اور یہ دونوں جنت میں ہیں، اور جو ان سے محبت رکھے وہ بھی جنت میں ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2669]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 66، حدیث 2682»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2670
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَا: ثنا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَشَّاءُ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا مَعْرُوفُ بْنُ خَرَّبُوذَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ، وَارِدُونَ عَلَيَّ الْحَوْضَ، حَوْضٌ أَعْرَضُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَبُصْرَى، فِيهِ عَدَدُ النُّجُومِ قِدْحانٌ مِنْ فِضَّةٍ، وَإِنِّي سَائِلُكُمْ حِينَ تَرِدُونَ عَلَيَّ عَنِ الثَّقَلَيْنِ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا؟ السَّبَبُ الْأَكْبَرُ كِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، سَبَبٌ طَرَفُهُ بِيَدِ اللهِ، وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ، فاسْتَمْسِكُوا بِهِ، وَلَا تَضِلُّوا وَلَا تُبَدِّلُوا، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، فَإِنَّهُ قَدْ نَبَّأَنِيَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ أَنَّهُمَا لَنْ يَنْقَضِيَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ»
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! میں تم سے پہلے (حوض پر) پہنچنے والا ہوں، اور تم حوض پر مجھ سے آ ملو گے، ایک ایسا حوض جو صنعاء اور بصریٰ کے درمیانی فاصلے سے زیادہ چوڑا ہے، اس میں ستاروں کی تعداد کے برابر چاندی کے پیالے ہیں، اور جب تم مجھ سے آ ملو گے تو میں تم سے ثقلین کے بارے میں پوچھوں گا، تو دیکھو میرے بعد ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو؟ بڑی رسی اللہ عزوجل کی کتاب ہے، جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے، تو اسے تھامے رکھو، اور نہ گمراہ ہو اور نہ اسے بدلو، اور میری عترت، میرے اہل بیت، کیونکہ باریک بین اور باخبر (اللہ) نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں کبھی ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے آ ملیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2670]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 67، حدیث 2683»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2671
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ الضُّبَعِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: «رُفِعَ الْكِتَابُ، وَجَفَّ الْقَلَمُ، وَأُمُورٌ يُقْضَى فِي كِتَابٍ قَدْ خَلَا»
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کتاب (تقدیر) اٹھا لی گئی، قلم خشک ہو گیا، اور معاملات ایک ایسی تحریر میں طے ہو چکے جو گزر چکی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2671]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 67، حدیث 2684»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں