🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2. بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بقیہ حالات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2672
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَعْزِلُ عَنْهَا، وَكَانَتْ سَرِيَّتَهُ"
راوی کی دادی سے روایت ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ ان سے عزل کیا کرتے تھے، اور وہ ان کی باندی (سریہ) تھیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2672]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 68، حدیث 2685»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2673
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَحْشٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْجُبْنِ، فَقَالَ: «ضَعِ السِّكِّينَ، وَسَمِّ وَكُلْ»
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے پنیر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”چھری رکھو، بسم اللہ پڑھو اور کھاؤ۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2673]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 68، حدیث 2686»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2674
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو النُّعَيْمِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي شُعْبَةَ، قَالَ: «رَأَيْتُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا طَافَا بَعْدَ الْعَصْرِ وَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ»
ابوشعبہ کہتے ہیں: ”میں نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو عصر کے بعد طواف کرتے اور دو رکعتیں پڑھتے دیکھا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2674]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 68، حدیث 2687»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2675
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الطَّرِيقِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الزَّيَّاتُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو رَجَاءٍ الْحَبَطِيُّ التُّسْتَرِيُّ، ثنا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَ ابْنَهُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْمُرُوءَةِ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، مَا السَّدَادُ؟ قَالَ: يَا أَبَهْ، السَّدَادُ دَفْعُ الْمُنْكَرِ بِالْمَعْرُوفِ. قَالَ: فَمَا الشَّرَفُ؟ قَالَ: اصْطِناعُ الْعَشِيرَةِ، وَحَمْلُ الْجَرِيرَةِ، ومُوافَقَةُ الْإِخْوانِ، وَحِفْظُ الْجِيرَانِ. قَالَ: فَمَا الْمُرُوءَةُ؟ قَالَ: الْعَفَافُ، وَإِصْلَاحُ الْمَالِ. قَالَ: فَمَا الدِّقَّةُ؟ قَالَ: النَّظَرُ فِي الْيَسِيرِ، وَمَنْعُ الْحَقِيرِ. قَالَ: فَمَا اللَّومُ؟ قَالَ: إِحْرَازُ الْمَرْءِ نَفْسَهُ، وبَذْلُهُ عُرْسَهُ. قَالَ: فَمَا السَّمَاحَةُ؟ قَالَ: الْبَذْلُ مِنَ الْعَسِيرِ وَالْيَسِيرِ. قَالَ: فَمَا الشُّحُّ؟ قَالَ: أَنْ تَرَى مَا أَنْفَقْتَهُ تَلَفًا. قَالَ: فَمَا الْإِخَاءُ؟ قَالَ: الْمُوَاسَاةُ فِي الشِّدَّةِ وَالرَّخَاءِ. قَالَ: فَمَا الْجُبْنُ؟ قَالَ: الْجُرْأَةُ عَلَى الصَّدِيقِ، وَالنُّكُولُ عَنِ الْعَدُوِّ. قَالَ: فَمَا الْغَنِيمَةُ؟ قَالَ: الرَّغْبَةُ فِي التَّقْوَى، وَالزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا هِيَ الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ. قَالَ: فَمَا الْحِلْمُ؟ قَالَ: كَظْمُ الْغَيْظِ، وَمِلْكُ النَّفْسِ. قَالَ: فَمَا الْغِنَى؟ قَالَ: رِضَى النَّفْسِ بِمَا قَسَمَ اللهُ تَعَالَى لَهَا وَإِنْ قَلَّ، وَإِنَّمَا الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ. قَالَ: فَمَا الْفَقْرُ؟ قَالَ: شَرَهُ النَّفْسِ فِي كُلِّ شَيْءٍ. قَالَ: فَمَا الْمَنَعَةُ؟ قَالَ: شِدَّةُ الْبَأْسِ، ومُنازَعَةُ أَعِزَّاءِ النَّاسِ. قَالَ: فَمَا الذُّلُّ؟ قَالَ: الْفَزَعُ عِنْدَ الْمَصْدُوقَةِ. قَالَ: فَمَا الْعِيُّ؟ قَالَ: الْعَبَثُ بِاللِّحْيَةِ، وَكَثْرَةُ الْبَزْقِ عِنْدَ الْمُخاطَبَةِ. قَالَ: فَمَا الْجُرْأَةُ؟ قَالَ: مُوَافَقَةُ الْأَقْرَانِ. قَالَ: فَمَا الْكُلْفَةُ؟ قَالَ: كَلَامُكُ فِيمَا لَا يَعْنِيكَ. قَالَ: فَمَا الْمَجْدُ؟ قَالَ: أَنْ تُعْطِيَ فِي الْغُرْمِ، وَتَعْفُوَ عَنِ الْجُرْمِ. قَالَ: فَمَا الْعَقْلُ؟ قَالَ: حِفْظُ الْقَلْبِ كُلَّمَا اسْتَوْعَيْتَهُ. قَالَ: فَمَا الْخُرْقُ؟ قَالَ: مُعَازَتُكَ إِمَامَكَ، ورَفْعُكَ عَلَيْهِ كَلَامَكَ. قَالَ: فَمَا حُسْنُ الثَّنَاءِ؟ قَالَ: إِتْيَانُ الْجَمِيلِ وَتَرْكُ الْقَبِيحِ. قَالَ: فَمَا الْحَزْمُ؟ قَالَ: طُولُ الْأَنَاةِ، وَالرِّفْقُ بِالْوُلَاةِ. قَالَ: فَمَا السَّفَهُ؟ قَالَ: اتِّبَاعُ الدَّناءَةِ، وَمُصاحَبَةُ الْغُوَاةِ. قَالَ: فَمَا الْغَفْلَةُ؟ قَالَ: تَرْكُكَ الْمَسْجِدَ، وَطَاعَتُكَ الْمُفْسِدَ. قَالَ: فَمَا الْحِرْمَانُ؟ قَالَ: تَرْكُكَ حَظَّكَ وَقَدْ عُرِضَ عَلَيْكَ. قَالَ: فَمَا الْمُفْسِدُ؟ قَالَ: الْأَحْمَقُ فِي مَالِهِ، الْمُتَهَاوِنُ فِي عِرْضِهِ. ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا فَقْرَ أَشَدُّ مِنَ الْجَهْلِ، وَلَا مَالَ أَعْوَدُ مِنَ الْعَقْلِ، وَلَا وَحْدَةَ أَوْحَشُ مِنَ الْعُجْبِ، وَلَا اسْتِظْهارَ أَوْفَقُ مِنَ الْمُشَاوَرَةِ، وَلَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ، وَلَا حَسَبَ كَحُسْنِ الْخَلْقِ، وَلَا وَرَعَ كَالْكَفِّ، وَلَا عِبَادَةَ كالتَّفَكُّرِ، وَلَا إِيمَانَ كَالْحَيَاءِ وَالصَّبْرِ، وَآفَةُ الْحَدِيثِ الْكَذِبُ، وَآفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ، وَآفَةُ الْحِلْمِ السَّفَهُ، وَآفَةُ الْعِبَادَةِ الْفَتْرَةُ، وَآفَةُ الظَّرْفِ الصَّلَفُ، وَآفَةُ الشَّجَاعَةِ الْبَغْيُ، وَآفَةُ السَّمَاحَةِ الْمَنُّ، وَآفَةُ الْجَمَالِ الْخُيَلَاءُ، وَآفَةُ الْحَسَبِ الْفَخْرُ» . يَا بُنَيَّ، لَا تَسْتَخِفَّنَّ بِرَجُلٍ تَرَاهُ أَبَدًا، فَإِنْ كَانَ خَيْرًا مِنْكَ فَاحْسَبْ أَنَّهُ أَبُوكَ، وَإِنْ كَانَ مِثْلَكَ فَهُوَ أَخُوكَ، وَإِنْ كَانَ أَصْغَرَ مِنْكَ فَاحْسَبْ أَنَّهُ ابْنُكَ. قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شُعْبَةَ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو رَجَاءٍ الْحَبَطِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الزَّيَّاتُ، وَلَا يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ
حارث رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے مروت کے بعض امور کے بارے میں سوال کیا۔ فرمایا: بیٹا! سَداد (درستی) کیا ہے؟ عرض کیا: ابا جان! سَداد یہ ہے کہ نیکی کے ذریعے برائی کو دور کیا جائے۔ فرمایا: شرف کیا ہے؟ عرض کیا: رشتہ داروں کے ساتھ بھلائی کرنا، ان کے جرم کا بوجھ اٹھانا، بھائیوں کی موافقت کرنا اور پڑوسیوں کی حفاظت کرنا۔ فرمایا: مروت کیا ہے؟ عرض کیا: پاکدامنی اور مال کی درستی۔ فرمایا: کمینگی (دِقّت) کیا ہے؟ عرض کیا: معمولی معمولی باتوں پر نظر رکھنا اور حقیر چیز کو بھی روک لینا۔ فرمایا: کمینہ پن (لُؤم) کیا ہے؟ عرض کیا: آدمی کا اپنے آپ کو بچانا اور اپنی بیوی کو قربان کر دینا۔ فرمایا: سخاوت (سماحت) کیا ہے؟ عرض کیا: تنگی اور آسانی دونوں حالتوں میں خرچ کرنا۔ فرمایا: بخل (شح) کیا ہے؟ عرض کیا: یہ کہ تم اپنے خرچ کیے ہوئے مال کو نقصان سمجھو۔ فرمایا: بھائی چارہ (اخاء) کیا ہے؟ عرض کیا: تنگی اور خوشحالی دونوں میں ساتھ دینا۔ فرمایا: بزدلی (جبن) کیا ہے؟ عرض کیا: دوست پر دلیری دکھانا اور دشمن سے پیچھے ہٹنا۔ فرمایا: غنیمت کیا ہے؟ عرض کیا: تقویٰ کی رغبت اور دنیا سے بے رغبتی، یہی وہ بے مشقت نفع ہے۔ فرمایا: بردباری (حلم) کیا ہے؟ عرض کیا: غصہ پی جانا اور نفس پر قابو رکھنا۔ فرمایا: غنا (بے نیازی) کیا ہے؟ عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تقسیم کیا ہے اس پر دل کا راضی ہو جانا، خواہ وہ کم ہو؛ اصل غنا دل کا غنا ہے۔ فرمایا: فقر کیا ہے؟ عرض کیا: ہر چیز میں نفس کی حرص۔ فرمایا: سطوت (منعت) کیا ہے؟ عرض کیا: سخت قوت اور معزز لوگوں کا مقابلہ کرنا۔ فرمایا: ذلت کیا ہے؟ عرض کیا: حقیقی موقع پر خوف کھا جانا۔ فرمایا: لکنت (عِی) کیا ہے؟ عرض کیا: بات کرتے وقت داڑھی سے کھیلنا اور بار بار تھوکنا۔ فرمایا: دلیری (جرأت) کیا ہے؟ عرض کیا: اپنے ہمسروں کا مقابلہ کرنا۔ فرمایا: تکلف کیا ہے؟ عرض کیا: ایسی بات کرنا جو تم سے متعلق نہ ہو۔ فرمایا: بزرگی (مجد) کیا ہے؟ عرض کیا: نقصان (تاوان) میں دینا اور جرم سے درگزر کرنا۔ فرمایا: عقل کیا ہے؟ عرض کیا: جو کچھ دل میں جمع کرو اسے محفوظ رکھنا۔ فرمایا: بدسلیقگی (خرق) کیا ہے؟ عرض کیا: اپنے امام سے ضد کرنا اور اس کے سامنے اونچی آواز میں بات کرنا۔ فرمایا: اچھی تعریف کیا ہے؟ عرض کیا: اچھا کام کرنا اور برائی چھوڑ دینا۔ فرمایا: حزم (دور اندیشی) کیا ہے؟ عرض کیا: بردباری کو طول دینا اور حاکموں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا۔ فرمایا: بے وقوفی (سفہ) کیا ہے؟ عرض کیا: پستی کی پیروی کرنا اور گمراہوں کی صحبت اختیار کرنا۔ فرمایا: غفلت کیا ہے؟ عرض کیا: مسجد چھوڑ دینا اور فسادی کی اطاعت کرنا۔ فرمایا: محرومی کیا ہے؟ عرض کیا: اپنا حصہ چھوڑ دینا جبکہ وہ تمہیں پیش کیا گیا ہو۔ فرمایا: بگاڑنے والا کون ہے؟ عرض کیا: وہ جو اپنے مال میں بےوقوف ہو، اور اپنی عزت کے معاملے میں سست ہو۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جہالت سے بڑھ کر کوئی فقر نہیں، عقل سے بڑھ کر کوئی مال فائدہ مند نہیں، خود پسندی سے بڑھ کر کوئی تنہائی ویران نہیں، مشورے سے بڑھ کر کوئی سہارا موزوں نہیں، دور اندیشی جیسی کوئی عقل نہیں، اچھے اخلاق جیسا کوئی نسب نہیں، ضبطِ نفس جیسا کوئی تقویٰ نہیں، غور و فکر جیسی کوئی عبادت نہیں، حیا اور صبر جیسا کوئی ایمان نہیں۔ بات کی آفت جھوٹ ہے، علم کی آفت بھول جانا ہے، بردباری کی آفت بےوقوفی ہے، عبادت کی آفت سستی ہے، ظرافت کی آفت شیخی بگھارنا ہے، بہادری کی آفت زیادتی ہے، فیاضی کی آفت احسان جتانا ہے، خوبصورتی کی آفت تکبر ہے، اور نسب کی آفت فخر کرنا ہے۔“ اے میرے بیٹے! کبھی کسی ایسے شخص کو حقیر نہ سمجھنا جسے تم دیکھو، اگر وہ تم سے بہتر ہے تو اسے اپنا باپ سمجھو، اگر وہ تمہارے برابر ہے تو وہ تمہارا بھائی ہے، اور اگر وہ تم سے چھوٹا ہے تو اسے اپنا بیٹا سمجھو۔ امام ابوالقاسم طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث شعبہ سے صرف محمد بن عبداللہ ابورجاء حبطی نے روایت کی ہے، اور اسے صرف عثمان بن سعید زیات نے روایت کیا ہے، اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے صرف اسی سند سے مروی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2675]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 68، حدیث 2688»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2676
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عِيَاضٍ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَكْعَتَيِ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: «هُمَا قَاضِيَتَانِ عَمَّا سِوَاهُمَا»
مسلم بن عیاض کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے جمعہ کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ”یہ دونوں (رکعتیں) اپنے علاوہ (ظہر کی باقی رکعتوں) کی جگہ کافی ہو جاتی ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2676]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 70، حدیث 2689»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2677
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: كَانَ زِيَادٌ يَتَتَبَّعُ شِيعَةَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَيَقْتَلُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: «اللهُمَّ تَفَرَّدْ بِمَوْتِهِ؛ فَإِنَّ الْقَتْلَ كَفَّارَةٌ»
حسن (بصری) کہتے ہیں: زیاد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیروکاروں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کیا کرتا تھا، تو یہ بات سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی، تو انہوں نے فرمایا: ”اے اللہ! تو خود اکیلا اس کی موت کا انتظام فرما، کیونکہ قتل ہونا (گناہوں کا) کفارہ ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2677]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 70، حدیث 2690»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2678
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ الْحَسَنِ، وَجَارِيَةٌ تَحُتُّ شَيْئًا مِنَ الْحِنَّاءِ عَنْ أَظْفَارِهِ، فَجَاءَتْهُ إِضْبارَةٌ مِنْ كُتُبٍ، فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ هَاتِ الْمِخْضَبَ. فَصَبَّ فِيهِ مَاءً، وَأَلْقَى الْكُتُبَ فِي الْمَاءِ، فَلَمْ يَفْتَحْ مِنْهَا شَيْئًا، وَلَمْ يَنْظُرْ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، مِمَّنْ هَذِهِ الْكُتُبُ؟ قَالَ: «مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، مِنْ قَوْمٍ لَا يَرْجِعُونَ إِلَى حَقٍّ، وَلَا يُقْصِرُونَ عَنْ بَاطِلٍ، أَمَا إِنِّي لَسْتُ أَخْشَاهُمْ عَلَى نَفْسِي، ولَكِنِّي أَخْشَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ. وَأَشَارَ إِلَى الْحُسَيْنِ»
یزید بن اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا، اور ایک باندی ان کے ناخنوں سے مہندی کچھ کھرچ رہی تھی، اتنے میں ان کے پاس خطوط کا ایک پلندہ آیا، تو انہوں نے فرمایا: اے باندی! لگن لے آؤ۔ تو اس میں پانی ڈالا اور خطوط اس پانی میں ڈال دیے، ان میں سے کوئی خط کھولا نہیں اور نہ ہی انہیں دیکھا۔ تو میں نے عرض کیا: اے ابومحمد! یہ خطوط کن کی طرف سے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”عراق والوں کی طرف سے، ایک ایسی قوم جو نہ حق کی طرف لوٹتی ہے اور نہ باطل سے رکتی ہے۔ سن لو، مجھے ان کا خوف اپنی جان کے لیے نہیں، بلکہ اس کے لیے ہے“ اور آپ نے سیدنا حسین کی طرف اشارہ کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2678]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 70، حدیث 2691»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2679
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ، قَالَ: لَمَّا حُضِرَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَخْرِجُونِي إِلَى الصَّحْرَاءِ لَعَلِيِّ أَنْظُرُ فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ. يَعْنِي الْآيَاتِ، فَلَمَّا أُخْرِجَ بِهِ قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَحْتَسِبُ نَفْسِي عِنْدَكَ، فَإِنَّهَا أَعَزُّ الْأَنْفُسِ عَلَيَّ. وَكَانَ مِمَّا صَنَعَ اللهُ لَهُ أَنَّهُ احْتَسَبَ نَفْسَهُ»
رقبہ بن مصقلہ کہتے ہیں: جب سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا: مجھے کھلے صحرا میں لے جاؤ، شاید میں آسمانوں کی بادشاہت میں غور کروں - یعنی (کائناتی) نشانیوں میں۔ تو جب انہیں باہر لے جایا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”اے اللہ! میں اپنی جان تیرے سپرد کرتا ہوں اور اس کا ثواب تجھ سے چاہتا ہوں، کیونکہ یہ مجھے سب سے زیادہ عزیز جان ہے۔“ اور اللہ نے ان کے لیے جو کچھ کیا اس میں یہ بھی تھا کہ انہوں نے اپنی جان (اللہ کے سپرد کرنے) کا ثواب طلب کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2679]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 70، حدیث 2692»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2680
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ يَقُولُ: «تُوُفِّيَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ سَبْعٍ وَأَرْبَعِينَ»
محمد بن عبداللہ بن نمیر کہتے ہیں: ”سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سینتالیس برس کی عمر میں وفات پا گئے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2680]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 71، حدیث 2693»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2681
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ أَنَّ سَعْدًا وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَاتَا فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَيَرَوْنَ أَنَّهُ سَمَّهُ"
ابوبکر بن حفص کہتے ہیں: سیدنا سعد اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں وفات پا گئے، تو لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ اس نے انہیں زہر دیا تھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2681]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 71، حدیث 2694»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں