الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
5732. 2- باب قوله: كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى (6) أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى (7) إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى (8) أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى (9) عَبْدًا إِذَا صَلَّى (10) أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى (11) أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى (12) أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى (13) أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى (14) كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ (15) نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ (16) فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ (17) سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ (18) كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ (19)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں کہ ”ہرگز نہیں، بلاشبہ انسان یقیناً سرکشی کرتا ہے، اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو غنی اور بے نیاز دیکھتا ہے، یقیناً تیرے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو ایک بندے کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے؟ بھلا یہ تو بتائیے کہ اگر وہ (بندہ) ہدایت پر ہو، یا تقویٰ کا حکم دیتا ہو؟ بھلا یہ تو بتائیے کہ اگر اس (منکر) نے حق کو جھٹلایا اور روگردانی کی؟ کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ یقیناً دیکھ رہا ہے؟ ہرگز نہیں، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر اسے ضرور گھسیٹیں گے، ایسی پیشانی جو جھوٹی اور خطا کار ہے، پس اسے چاہیے کہ وہ اپنی مجلس والوں کو پکار لے، ہم بھی عنقریب عذاب کے فرشتوں کو بلا لیں گے، ہرگز نہیں، آپ اس کا کہا ہرگز نہ مانیے اور سجدہ کیجیے اور (اپنے رب کا) قرب حاصل کیجیے۔“
حدیث نمبر: 13753
13753- عن ابن عباس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي، فجاء أبو جهل فقال: ألم أنهك عن هذا؟ ألم أنهك عن هذا؟ ألم أنهك عن هذا؟ فانصرف النبي صلى الله عليه وسلم، فزبره. فقال أبو جهل: إنك لتعلم ما بها ناد أكثر مني، فأنزل الله: فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ (17) سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ (18) فقال ابن عباس: والله لو دعا ناديه لأخذته زبانية الله.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه الترمذي (3349) عن أبي سعيد الأشج، قال: حدثنا أبو خالد الأحمر، عن داود بن أبي هند، عن عكرمة، عن ابن عباس، فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 13753 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح: رواه الترمذي (3349) عن أبي سعيد الأشج، قال: حدثنا أبو خالد الأحمر، عن داود بن أبي هند، عن عكرمة، عن ابن عباس، فذكره.
0
قال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح غريب، وفيه عن أبي هريرة.
0
قوله: نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ يعني ناصية أبي جهل، كاذبة في مقالها، خاطئة في فعالها.
0
وقوله: فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ أي: قومه وعشيرته.
0
وقوله: سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ جمع زِبْنى، مأخوذ من الزبن، وهو الدفع، وهم الملائكة الغلاظ الشداد يدفعونه إلى العذاب.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 13753 in Urdu