السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2122. -- باب: قتل القمل
-- باب: جوئیں مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10063
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَجَلَسَ إِلَيْهِ رَجُلٌ لَمْ أَرَ رَجُلًا أَطْوَلَ شَعْرًا مِنْهُ، فَقَالَ: أَحْرَمْتُ وَعَلَيَّ هَذَا الشَّعْرُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" اشْتَمِلْ عَنْ مَا دُونَ الْأُذُنَيْنِ مِنْهُ"، قَالَ: قَبَّلْتُ امْرَأَةً لَيْسَ بِامْرَأَتِي، قَالَ:" زَنَى فُوكَ"، قَالَ: رَأَيْتُ قَمْلَةً فَطَرَحْتُهَا، قَالَ:" تِلْكَ الضَّالَّةُ لَا تُبْتَغَى".
میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک آدمی آ کر بیٹھا، میں نے اس سے لمبے بال کسی کے نہ دیکھے تھے۔ اس نے کہا: میں نے احرام باندھا ہے اور یہ بال میرے اوپر ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ان میں سے کانوں کے نیچے والے حصے کو لپیٹ لو۔ اس نے کہا: میں نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے جو میری بیوی نہ تھی۔ فرمایا: تیرے منہ نے زنا کیا ہے۔ اس نے کہا: میں نے ایک جوں دیکھی تو اسے اتار پھینکا۔ فرمانے لگے: یہ ایسی گم شدہ چیز ہے جسے تلاش نہیں کیا جاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10063]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبه 14950»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10063 in Urdu