🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2122. -- باب: قتل القمل
-- باب: جوئیں مارنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10064
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ جَوْشَنٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَحُكُّ رَأْسِي وَأَنَا مُحْرِمٌ؟، قَالَ: فَأَدْخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَدَهُ فِي شَعْرِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَحَكَّ رَأْسَهُ بِهَا حَكًّا شَدِيدًا، قَالَ:" أَمَّا أَنَا فَأَصْنَعُ هَكَذَا"، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُ قَمْلَةً؟، قَالَ:" بَعُدْتَ مَا لِلْقَمْلَةِ؟، مَا يُغْنِي مِنْ حَكِّ رَأْسِكَ وَمَا إِيَّاهَا أَرَدْتَ وَمَا نُهِيتُمْ إِلَّا عَنْ قَتْلِ الصَّيْدِ".
عیینہ بن عبدالرحمن بن جوشن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا میں حالتِ احرام میں اپنے سر میں خارش کر سکتا ہوں؟ وہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنا ہاتھ اپنے بالوں میں داخل کیا اور شدید قسم کی خارش کی حالانکہ وہ محرم تھے، اور کہنے لگے: میں تو اس طرح کر لیتا ہوں۔ اس نے کہا: اگر میں جوں مار دوں تو آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا: تم دور چلے گئے، جوں کی کیا حیثیت ہے؟ تمہارے سر کھجانے میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، تم نے اس کا ارادہ تو نہیں کیا تھا، اور تمہیں صرف شکار کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10064]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10064 in Urdu