السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2128. -- باب: من رأى الإحلال بالإحصار بالمرض
-- باب: ان کا بیان جو بیماری کی وجہ سے روکے جانے پر حلال ہونے کے قائل ہیں۔
حدیث نمبر: 10100
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، فَذَكَرَهُ. ⦗٣٦١⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ حَمَلَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنْ صَحَّ عَلَى أَنَّهُ يَحِلُّ بَعْدَ فَوَاتِهِ بِمَا يَحِلُّ بِمَنْ يَفُوتُهُ الْحَجُّ بِغَيْرِ مَرَضٍ، فَقَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ثَابِتًا عَنْهُ، قَالَ: لَا حَصْرَ إِلَّا حَصْرَ عَدُوٍّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ایضاً۔
شیخ فرماتے ہیں: بعض اہل علم نے اس حدیث کو، اگر یہ صحیح ہو، اس پر محمول کیا ہے کہ حج فوت ہو جانے کے بعد وہ اسی طریقے سے حلال ہوگا جس طریقے سے وہ شخص حلال ہوتا ہے جس کا حج بیماری کے بغیر فوت ہو جائے، کیونکہ ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: رکاوٹ تو صرف دشمن کی رکاوٹ ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10100]
شیخ فرماتے ہیں: بعض اہل علم نے اس حدیث کو، اگر یہ صحیح ہو، اس پر محمول کیا ہے کہ حج فوت ہو جانے کے بعد وہ اسی طریقے سے حلال ہوگا جس طریقے سے وہ شخص حلال ہوتا ہے جس کا حج بیماری کے بغیر فوت ہو جائے، کیونکہ ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: رکاوٹ تو صرف دشمن کی رکاوٹ ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10100]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10100 in Urdu