السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2128. -- باب: من رأى الإحلال بالإحصار بالمرض
-- باب: ان کا بیان جو بیماری کی وجہ سے روکے جانے پر حلال ہونے کے قائل ہیں۔
حدیث نمبر: 10101
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الَّذِي لُدِغَ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِالْعُمْرَةِ فَأُحِصَرَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ:" ابْعَثُوا بِالْهَدْيِ، وَاجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ يَوْمَ أَمَارٍ فَإِذَا ذَبَحَ الْهَدْيَ بِمَكَّةَ حَلَّ هَذَا" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ قَالَ الْكِسَائِيُّ: الْأَمَارُ: الْعَلَامَةُ الَّتِي يُعْرَفُ بِهَا الشَّيْءُ، يَقُولُ: اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ يَوْمًا تَعْرِفُونَهُ لِكَيْلَا تَخْتَلِفُوا.
عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ شخص جس کو ڈس لیا گیا اور اس نے عمرہ کا احرام باندھ رکھا تھا، پھر وہ روک دیا گیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اس کی قربانی مکہ روانہ کرو اور اپنے اور اس کے درمیان ایک دن علامت کے طور پر مقرر کرو، جب قربانی مکہ میں ذبح کر دی جائے تو وہ حلال ہو جائے۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کسائی نے کہا: «الْأَمَارُ» کا معنی ”علامت“ ہے، جس کے ذریعہ کسی چیز کو پہچانا جائے؛ ایک معروف دن مقرر کر لو تاکہ تمہارے درمیان اختلاف نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10101]
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کسائی نے کہا: «الْأَمَارُ» کا معنی ”علامت“ ہے، جس کے ذریعہ کسی چیز کو پہچانا جائے؛ ایک معروف دن مقرر کر لو تاکہ تمہارے درمیان اختلاف نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10101]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي575»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10101 in Urdu