السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2129. -- باب: الاستثناء في الحج
-- باب: حج (کی نیت) میں استثناء (ان شاء اللہ وغیرہ کہنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10103
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِضُبَاعَةَ وَهِيَ شَاكِيَةٌ، فَقَالَ:" أَتُرِيدِينَ الْحَجَّ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" فَحُجِّي وَاشْتَرِطِي وَقُولِي: اللهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي" ⦗٣٦٢⦘ وَصَلَهُ عَبْدُ الْجَبَّارِ وَهُوَ ثِقَةٌ، عَنْ سُفْيَانَ وَأَرْسَلَهُ غَيْرُهُ، وَقَدْ وَصَلَهُ أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، وَمَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ. وَمَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے اور وہ بیمار تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا آپ حج کا ارادہ رکھتی ہیں؟“ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو حج کر اور شرط لگا اور کہہ: «اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» ”اے اللہ! میرے حلال ہونے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے۔““
عبدالجبار نے، جو ثقہ ہیں، اسے سفیان سے موصول بیان کیا ہے جبکہ دوسروں نے اسے مرسل بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10103]
عبدالجبار نے، جو ثقہ ہیں، اسے سفیان سے موصول بیان کیا ہے جبکہ دوسروں نے اسے مرسل بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10103]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 4801»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10103 in Urdu