السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2129. -- باب: الاستثناء في الحج
-- باب: حج (کی نیت) میں استثناء (ان شاء اللہ وغیرہ کہنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10102
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ:" أَمَا تُرِيدِينَ الْحَجَّ؟" فَقَالَتْ: إِنِّي شَاكِيَةٌ، فَقَالَ لَهَا:" حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي" قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ: لَوْ ثَبَتَ حَدِيثُ عُرْوَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِثْنَاءِ لَمْ أَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِ؛ لِأَنَّهُ لَا يَحِلُّ عِنْدِي خِلَافُ مَا ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ ثَبَتَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ فَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا.
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعۃ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو حج کا ارادہ نہیں رکھتی؟“ اس نے کہا: میں بیمار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج کر اور شرط لگا کہ میرے حلال ہونے کی وہ جگہ ہوگی جہاں تو نے مجھے روک دیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب المناسک میں فرمایا: اگر استثنا کے بارے میں عروہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث ثابت ہو تو میں اس سے ہٹ کر کسی اور بات کی طرف نہ جاؤں گا، کیونکہ میرے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ بات کی مخالفت جائز نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سندوں سے ثابت ہے، رہی ابن عیینہ کی ہشام سے روایت تو وہ موصول بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10102]
امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب المناسک میں فرمایا: اگر استثنا کے بارے میں عروہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث ثابت ہو تو میں اس سے ہٹ کر کسی اور بات کی طرف نہ جاؤں گا، کیونکہ میرے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ بات کی مخالفت جائز نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سندوں سے ثابت ہے، رہی ابن عیینہ کی ہشام سے روایت تو وہ موصول بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10102]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الدارقطني 2/ 219»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10102 in Urdu