السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2129. -- باب: الاستثناء في الحج
-- باب: حج (کی نیت) میں استثناء (ان شاء اللہ وغیرہ کہنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10121
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" هَلْ تَسْتَثْنِي إِذَا حَجَجْتَ؟" فَقُلْتُ لَهَا: مَاذَا أَقُولُ؟ فَقَالَتْ:" قُلِ اللهُمَّ الْحَجَّ أَرَدْتُ وَلَهُ عَمَدْتُ فَإِنْ يَسَّرْتَهُ فَهُوَ الْحَجُّ، وَإِنْ حَبَسَنِي حَابِسٌ فَهُوَ عُمْرَةٌ".
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: کیا آپ استثنا کرتے ہیں، جب حج کرتے ہیں؟ میں نے ان سے کہا: میں کیا کہوں؟ فرماتی ہیں: تم کہو: «اللَّهُمَّ الْحَجَّ أَرَدْتُ وَلَهُ عَمَدْتُ، فَإِنْ يَسَّرْتَهُ فَهُوَ الْحَجُّ، وَإِنْ حَبَسَنِي حَابِسٌ فَهُوَ عُمْرَةٌ» ”اے اللہ! میں نے حج کا ارادہ اور اس کا قصد کیا ہے، اگر تو اس کو آسان بنا دے تو یہ حج ہے، اگر کسی روکنے والے نے روک لیا تو پھر عمرہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10121]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه البخاري في تاريخه 1/176»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10121 in Urdu