🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
222. -- باب: ذكر الروايات في كيفية التيمم عن عمار بن ياسر رضي الله عنه
-- باب: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے تیمم کی کیفیت کے بارے میں مروی روایات کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1013
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ، فِي جُمَادَى الْأُولَى سَنَةَ ثَمَانٍ وَسِتِّينَ وَمِائتَيْنِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّجُلُ يُجْنِبُ فَلَا يَجِدُ الْمَاءَ يُصَلِّي؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ، أَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي أَنَا وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ بِالصَّعِيدِ، فَأَتَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرَنَاهُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا"، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ وَاحِدَةً فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ، قَالَ: قُلْتُ: وَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الْآيَةِ {فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} [النساء: ٤٣] قَالَ: إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذَا كَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا وَجَدَ الْمَاءَ الْبَارِدَ يَمْسَحُ بِالصَّعِيدِ". قَالَ الْأَعْمَشُ: فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ: فَمَا كَرِهَهُ إِلَّا لِهَذَا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ أوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ وَأَشَارَ الْبُخَارِيُّ إِلَى رِوَايَةِ يَعْلَى بْنِ عُبَيْدٍ وَهُوَ أَثْبَتُهُمْ سِيَاقَةً لِلْحَدِيثِ.
شقیق کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کوئی شخص جنبی ہو جائے اور پانی نہ ملے تو کیا وہ نماز پڑھے گا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے پوچھا: تو کیا آپ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی بات جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق تھی نہیں سنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور آپ کو بھیجا، میں جنبی ہو گیا، میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں بس اتنا ہی کافی تھا“ اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا ایک مرتبہ مسح کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے نہیں دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر قناعت کی جو انہوں نے کہا۔ میں نے کہا: تم آیت ﴿فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ [سورة النساء: 43] پر کس طرح عمل کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: اگر ہم ان کو اس میں رخصت دے دیں تو ان میں سے کوئی جب پانی ٹھنڈا پائے گا تو مٹی سے مسح کر لے گا۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے شقیق سے کہا: تو کیا انہوں نے اسے صرف اسی وجہ سے ناپسند کیا تھا؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1013]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1013 in Urdu