السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. -- باب المنع من الشرب في آنية الذهب والفضة
-- باب: سونے اور چاندی کے برتنوں میں پینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 102
حَدَّثَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، إِمْلَاءً، أنا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ بْنِ سَهْلٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا أَبُو فَرْوَةَ الْجُهَنِيُّ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُكَيْمٍ يُحَدِّثُ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، أَنَّهُ اسْتَسْقَى بِالْمَدَائِنِ فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَحَذَفَهُ قَالَ. وَكَانَ حُذَيْفَةُ رَجُلًا فِيهِ حِدَّةٌ فَقَالَ: إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكُمْ مِنْ هَذَا، إِنِّي كُنْتُ قَدْ تَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا فَنَهَانَا أَنْ نَشْرَبَ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَأَنْ نَلْبَسَ الْحَرِيرَ وَالدِّيبَاجَ. وَقَالَ:" هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَهُوَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ". ⦗٤٤⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے مدائن میں پانی مانگا تو ان کے پاس ایک کسان چاندی کا برتن لے کر آیا، انہوں نے اسے ایک طرف پھینک دیا۔ راوی کہتا ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما سخت طبیعت کے مالک تھے۔ آپ نے فرمایا: میں تم سے اس (کے استعمال) سے معذرت خواہ ہوں، میں اسے پہلے ہی (منع) کر چکا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور ہمیں سونے چاندی کے برتنوں میں پینے سے منع کیا اور ہمیں ریشم پہننے سے، خواہ موٹا ہو یا باریک، منع کیا اور فرمایا: ”وہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے لیے آخرت میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 102]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري110 و مسلم 2067»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 102 in Urdu