🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
23. -- باب المنع من الأكل في صحاف الذهب والفضة
-- باب: سونے اور چاندی کے پیالوں میں کھانے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 103
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سَيْفٌ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَاسْتَسْقَى فَسَقَاهُ مَجُوسِيٌّ بِقَدَحِ فِضَّةٍ، فَلَمَّا وَضَعَ الْقَدَحَ فِي يَدِهِ رَمَاهُ بِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي نَهَيْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ. يَقُولُ أَبُو نُعَيْمٍ: كَأَنَّهُ يَقُولُ: لَمْ أَصْنَعْ هَذَا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ، وَلَا الدِّيبَاجَ، وَلَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا، فَإِنْهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَيْفِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ.
سیدنا عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے پانی مانگا تو ایک مجوسی نے انہیں چاندی کے پیالے میں پانی پلانا چاہا، جب اس نے پیالہ آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر رکھا تو انہوں نے وہ پیالہ پھینک دیا، پھر فرمایا: اگر میں نے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ اس کو منع نہ کیا ہوتا (ابو نعیم کہتے ہیں: گویا کہ وہ کہہ رہے تھے) تو میں اس طرح نہ کرتا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم سلک اور باریک ریشم نہ پہنو اور نہ تم سونے چاندی کے برتنوں میں پیو اور نہ تم سونے چاندی کی پلیٹوں میں کھاؤ۔ یہ برتن ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 103]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 5110، مسلم 2067»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 103 in Urdu