السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2151. -- باب: نحر الإبل قياما غير معقولة أو معقولة اليسرى
-- باب: اونٹوں کو کھڑے کر کے نحر کرنے کا بیان اس حال میں کہ ان کے پاؤں نہ باندھے گئے ہوں یا صرف بایاں پاؤں باندھا گیا ہو۔
حدیث نمبر: Q10213
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا} [الحج: 36] قَالَ مُجَاهِدٌ يَقُولُ: إِذَا سَقَطَتْ إِلَى الْأَرْضِ.
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا﴾ ”پھر جب وہ (ذبح ہو کر) اپنے پہلوؤں کے بل گر پڑیں۔“ [سورة الحج: 36]
امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”(اس کا مطلب ہے) جب وہ زمین پر گر جائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q10213]
امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”(اس کا مطلب ہے) جب وہ زمین پر گر جائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q10213]
حدیث نمبر: 10213
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحَنِينِ، ثنا التَّبُوذَكِيُّ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَنَحْنُ مَعَهُ وَصَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ بَاتَ بِهَا حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ حَتَّى إِذَا عَلَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ كَبَّرَ وَسَبَّحَ وَحَمَّدَ ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ أَهَلَّ بِهِمَا النَّاسُ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا أَمَرَهُمْ فَجَعَلُوهَا عُمْرَةً ثُمَّ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَنَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا وَذَبَحَ بِالْمَدِينَةِ كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھائی اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی۔ پھر یہاں رات گزاری اور صبح کے وقت اپنی سواری پر سوار ہوئے۔ جب سواری بیداء پر چڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“، «سُبْحَانَ اللهِ» ”اللہ پاک ہے“ اور «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہا، پھر حج و عمرہ کا تلبیہ کہا۔ پھر لوگوں نے بھی حج و عمرہ کا تلبیہ کہا۔ جب ہم (مکہ) آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا: ”اس کو عمرہ میں تبدیل کر دو“، پھر انہوں نے 8 ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات اونٹ کھڑے کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں سینگوں والے دو چتکبرے مینڈھے ذبح کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10213]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 1765»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10213 in Urdu