السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2151. -- باب: نحر الإبل قياما غير معقولة أو معقولة اليسرى
-- باب: اونٹوں کو کھڑے کر کے نحر کرنے کا بیان اس حال میں کہ ان کے پاؤں نہ باندھے گئے ہوں یا صرف بایاں پاؤں باندھا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 10218
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ:" مَنْ قَرَأَهَا (صَوَافِنَ) قَالَ: مَعْقُولَةً وَمَنْ قَرَأَهَا (صَوَافَّ) تُصَفُّ بَيْنَ يَدَيْهِ".
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے «صَوَافِنَ» پڑھا، فرماتے ہیں کہ ”وہ بندھا ہوا ہو“ اور جس نے «صَوَافَّ» پڑھا ہے، ”مراد سامنے صف باندھے ہوئے“ ہیں۔ [صحیح۔ اخرجہ الطبری فی تفسیرہ: 9/ 152] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10218]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 1767»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10218 in Urdu