السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
233. -- باب: غسل الجنب ووضوء المحدث إذا وجد الماء بعد التيمم
-- باب: تیمم کے بعد پانی مل جانے پر جنبی کے غسل کرنے اور بے وضو شخص کے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1046
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا سِرْنَا لَيْلَةً حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا فِي تِلْكَ الْوَقْعَةِ وَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا، قَالَ: فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، وَكَانَ أوْلُ مَنِ اسْتَيْقِظَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ - يُسَمِّيهِمْ عَوْفٌ - ثُمَّ كَانَ الرَّابِعُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ يُوقِظْهُ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الْمُسْتَيْقِظُ لِأَنَّا لَا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ، قَالَ: فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ وَكَانَ رَجُلًا أَجْوَفَ جَلِيدًا كَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ، قَالَ: فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ لِصَوْتِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ شَكَوْنَا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَنَا فَقَالَ:" لَا ضَيْرَ" - أَوْ" لَا ضَرَرَ" شَكَّ عَوْفٌ - فَقَالَ:" ارْتَحِلُوا فَارْتَحَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَنَزَلَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وَنَادَى بِالصَّلَاةِ وَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ إِذَا رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ فَقَالَ:" مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءٌ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ" قَالَ: فَسَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَا إِلَيْهِ النَّاسُ الْعَطَشَ، قَالَ: فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا يُسَمِّيهِ عَوْفٌ وَدَعَا عَلِيًّا، وَقَالَ:" اذْهَبَا فَابْتَغِيَا لَنَا الْمَاءَ فَانْطَلَقَا فَإِذَا هُمَا بِامْرَأَةٍ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ أوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، قَالَ: فَقَالَا لَهَا أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةِ وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: يَعْنِي عِطَاشٌ، قَالَ: فَقَالَا لَهَا انْطَلِقِي إِذًا، فَقَالَتْ: إِلَى أَيْنَ؟ فَقَالَا: إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: هُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِئُ، قَالَ: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ فَانْطَلِقِي، قَالَ: فَجَاءَا بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ فَاسْتَنْزَلَهَا، عَنْ بَعِيرِهَا وَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ فَمَضْمَضَ فِي الْمَاءِ فَأَعَادَهُ فِي أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ وَالسَّطِيحَتَيْنِ، ثُمَّ أوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا وَأَطْلَقَ الْعَزَالِي، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ:" اشْرَبُوا وَاسْتَقُوا" فَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ وَشَرِبَ مَنْ شَاءَ، قَالَ: وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ فَقَالَ:" اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ" وَهِيَ قَائِمَةٌ تُبْصِرُ مَا يَفْعَلُ بِمَائِهَا، قَالَ: وَايْمُ اللهِ مَا أَقْلَعَ عَنْهَا حِينَ أَقْلَعَ وَإِنَّهُ يُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَمْلَأُ مِنْهَا حِينَ ابْتَدَأَ فِيهَا ⦗٣٣٦⦘ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْمَعُوا لَهَا فَجَمَعُوا لَهَا مِنْ بَيْنِ دَقِيقِهِ وَسَوِيقِهِ حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبِهَا فَحَمَلُوهُ وَوَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعْلَمِينَ وَاللهِ أَنَّا مَا رَزَأْنَا مِنْ مَائِكِ شَيْئًا وَلَكِنَّ اللهَ هُوَ الَّذِي سَقَانَا" قَالَ: فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا لَهَا: مَا حَبَسَكِ يَا فُلَانَةُ؟ قَالَتْ: الْعَجَبُ، أَتَانِي رَجُلَانِ فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الصَّابِئِ فَفَعَلَ بِمَائِي كَذَا وَكَذَا الَّذِي كَانَ، فَوَاللهِ إِنَّهُ لَأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ وَهَذِهِ أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللهِ حَقًّا، قَالَ: فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِ فَقَالَتْ يَوْمًا لِقَوْمِهَا: إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ عَمْدًا يَدَعُونَكُمْ هَلْ لَكُمْ فِي الْإِسْلَامِ فَأَطَاعُوهَا فَجَاءُوا جَمِيعًا فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ" مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ عَوْفٍ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں ساری رات چلے، رات کے آخری حصے میں ہم منزل پر پہنچے، ہم پڑاؤ کے لیے ٹھہر گئے اور مسافر کے لیے اس سے میٹھی کوئی چیز نہیں ہوتی، ہمیں سورج کی گرمی نے بیدار کیا، جو سب سے پہلے بیدار ہوا وہ فلاں اور فلاں تھا (عوف رحمہ اللہ نے ان کا نام بھی لیا ہے)، پھر چوتھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بھی بیدار نہیں کرتا تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی بیدار ہوتے تھے، اس لیے کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند میں کیا نئی بات ہوتی تھی، راوی کہتا ہے: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور دیکھا جو لوگوں کو معاملہ پیش آیا تو وہ ایک قوی (مضبوط) آدمی تھے، انہوں نے بلند آواز سے تکبیر کہی، وہ تکبیر کہتے رہے اور اپنی آواز بلند کرتے رہے، یہاں تک کہ ان کی آواز پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کی شکایت کی جو ہمیں پیش آیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نقصان کی بات نہیں“ (عوف رحمہ اللہ کو شک ہے کہ «ضَيْرَ» ”نقصان“ کے الفاظ کہے یا «ضَرَرَ» ”نقصان“ کے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوچ کرو“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کیا اور تھوڑی دیر چلے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، پانی منگوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور نماز کے لیے اذان کہی اور لوگوں کو نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا ایک شخص الگ بیٹھا ہوا تھا جس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! تجھے کس چیز نے روکا تھا کہ تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھتا؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی ہو گیا تھا اور پانی نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مٹی کو لازم پکڑ وہ تجھے کافی ہے“، راوی کہتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، لوگوں نے پیاس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو بلایا (عوف رحمہ اللہ نے ان کا نام بھی لیا ہے) اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”تم دونوں جاؤ ہمارے لیے پانی تلاش کرو“، وہ دونوں چلے تو اچانک ایک ایسی عورت کے پاس پہنچے جو اپنے اونٹ پر دو مٹکوں کے درمیان (سوار) تھی، ان دونوں نے پوچھا: پانی کہاں ہے؟ اس نے کہا: کل اس وقت پانی کے گھاٹ کو میں نے چھوڑا تھا اور ہماری جماعت پیچھے ہے، عبدالوہاب کہتے ہیں: یعنی وہ پیاسے ہیں، ان دونوں نے اس سے کہا: تم ہمارے ساتھ آؤ، اس نے کہا: کہاں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں، اس نے کہا: کیا یہ وہی ہے جس کو صابی کہا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، وہی جو تو مراد لے رہی ہے، وہ دونوں اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے آئے اور انہوں نے اس کی باتیں بیان کیں اور اس کو اونٹ سے اتارا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکوں کے منہ سے پانی ڈالا، پانی میں کلی کی اور دوبارہ اس کو مٹکوں میں لوٹا دیا، پھر ان کے منہ کو بند کر دیا اور اس کے پانی کے نکلنے کے سوراخ کو کھول دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”پیو اور پلاؤ“ تو جس نے چاہا پیا اور جس نے چاہا پلایا اور آخر میں جس شخص کو جنابت تھی اس کو ایک برتن میں پانی دیا اور فرمایا: ”اپنے بدن پر اس پانی کو بہاؤ“، وہ عورت اس کیفیت کو دیکھ رہی تھی اور اپنے پانی کے ساتھ ہونے والی حالت کو بھی دیکھ رہی تھی، راوی کہتا ہے: اللہ کی قسم! جب اس نے ضرورت کے مطابق پانی استعمال کر لیا تو ہمیں یہی دکھائی دیتا تھا کہ وہ مٹکے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کے لیے کچھ کھانے پینے کی اشیاء جمع کرو“ تو انہوں نے اس کے لیے آٹا اور ستو جمع کر کے اس کے لیے کھانے کا سامان تیار کر دیا اور اس کھانے کو کپڑے میں ڈال کر اس کے سامنے رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کو مخاطب کر کے فرمانے لگے: ”اللہ کی قسم! تو جانتی ہے تیرے پانی کو ہم نے کم نہیں کیا لیکن اللہ نے ہم کو پلایا ہے“، یہ عورت اپنے علاقے میں کچھ دیر سے پہنچی تو اہل قبیلہ نے کہا: کس چیز نے تجھے دیر کروائی؟ تو اس عورت نے حیرت زدہ ہو کر کہا: دو آدمی میرے پاس آئے اور مجھے اس صابی (نعوذ باللہ) کے پاس لے گئے، پھر اس عورت نے سارا واقعہ سنایا اور کہنے لگی: اللہ کی قسم! یہ اس علاقے میں سب سے بڑا جادوگر ہے یا سچا رسول ہے، راوی کہتا ہے: بعد میں مسلمان ان کے علاقے کے ارد گرد مشرکین پر حملہ کرتے تھے تو ان کے علاقے کو ہاتھ تک نہ لگاتے تھے، تو اس عورت نے قبیلے والوں سے کہا: یہ قوم جان بوجھ کر تم کو چھوڑتی ہے، کیا تم کو پسند نہیں کہ تم مسلمان ہو جاؤ؟ پس وہ قوم اس کی بات مان کر تمام کے تمام مسلمان ہو گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1046]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1046 in Urdu