🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

233. -- باب: غسل الجنب ووضوء المحدث إذا وجد الماء بعد التيمم
-- باب: تیمم کے بعد پانی مل جانے پر جنبی کے غسل کرنے اور بے وضو شخص کے وضو کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1046
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا سِرْنَا لَيْلَةً حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا فِي تِلْكَ الْوَقْعَةِ وَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا، قَالَ: فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، وَكَانَ أوْلُ مَنِ اسْتَيْقِظَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ - يُسَمِّيهِمْ عَوْفٌ - ثُمَّ كَانَ الرَّابِعُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ يُوقِظْهُ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الْمُسْتَيْقِظُ لِأَنَّا لَا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ، قَالَ: فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ وَكَانَ رَجُلًا أَجْوَفَ جَلِيدًا كَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ، قَالَ: فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ لِصَوْتِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ شَكَوْنَا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَنَا فَقَالَ:" لَا ضَيْرَ" - أَوْ" لَا ضَرَرَ" شَكَّ عَوْفٌ - فَقَالَ:" ارْتَحِلُوا فَارْتَحَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَنَزَلَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وَنَادَى بِالصَّلَاةِ وَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ إِذَا رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ فَقَالَ:" مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءٌ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ" قَالَ: فَسَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَا إِلَيْهِ النَّاسُ الْعَطَشَ، قَالَ: فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا يُسَمِّيهِ عَوْفٌ وَدَعَا عَلِيًّا، وَقَالَ:" اذْهَبَا فَابْتَغِيَا لَنَا الْمَاءَ فَانْطَلَقَا فَإِذَا هُمَا بِامْرَأَةٍ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ أوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، قَالَ: فَقَالَا لَهَا أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةِ وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: يَعْنِي عِطَاشٌ، قَالَ: فَقَالَا لَهَا انْطَلِقِي إِذًا، فَقَالَتْ: إِلَى أَيْنَ؟ فَقَالَا: إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: هُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِئُ، قَالَ: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ فَانْطَلِقِي، قَالَ: فَجَاءَا بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ فَاسْتَنْزَلَهَا، عَنْ بَعِيرِهَا وَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ فَمَضْمَضَ فِي الْمَاءِ فَأَعَادَهُ فِي أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ وَالسَّطِيحَتَيْنِ، ثُمَّ أوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا وَأَطْلَقَ الْعَزَالِي، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ:" اشْرَبُوا وَاسْتَقُوا" فَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ وَشَرِبَ مَنْ شَاءَ، قَالَ: وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ فَقَالَ:" اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ" وَهِيَ قَائِمَةٌ تُبْصِرُ مَا يَفْعَلُ بِمَائِهَا، قَالَ: وَايْمُ اللهِ مَا أَقْلَعَ عَنْهَا حِينَ أَقْلَعَ وَإِنَّهُ يُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَمْلَأُ مِنْهَا حِينَ ابْتَدَأَ فِيهَا ⦗٣٣٦⦘ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْمَعُوا لَهَا فَجَمَعُوا لَهَا مِنْ بَيْنِ دَقِيقِهِ وَسَوِيقِهِ حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبِهَا فَحَمَلُوهُ وَوَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعْلَمِينَ وَاللهِ أَنَّا مَا رَزَأْنَا مِنْ مَائِكِ شَيْئًا وَلَكِنَّ اللهَ هُوَ الَّذِي سَقَانَا" قَالَ: فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا لَهَا: مَا حَبَسَكِ يَا فُلَانَةُ؟ قَالَتْ: الْعَجَبُ، أَتَانِي رَجُلَانِ فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الصَّابِئِ فَفَعَلَ بِمَائِي كَذَا وَكَذَا الَّذِي كَانَ، فَوَاللهِ إِنَّهُ لَأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ وَهَذِهِ أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللهِ حَقًّا، قَالَ: فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِ فَقَالَتْ يَوْمًا لِقَوْمِهَا: إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ عَمْدًا يَدَعُونَكُمْ هَلْ لَكُمْ فِي الْإِسْلَامِ فَأَطَاعُوهَا فَجَاءُوا جَمِيعًا فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ" مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ عَوْفٍ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں ساری رات چلے، رات کے آخری حصے میں ہم منزل پر پہنچے، ہم پڑاؤ کے لیے ٹھہر گئے اور مسافر کے لیے اس سے میٹھی کوئی چیز نہیں ہوتی، ہمیں سورج کی گرمی نے بیدار کیا، جو سب سے پہلے بیدار ہوا وہ فلاں اور فلاں تھا (عوف رحمہ اللہ نے ان کا نام بھی لیا ہے)، پھر چوتھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بھی بیدار نہیں کرتا تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی بیدار ہوتے تھے، اس لیے کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند میں کیا نئی بات ہوتی تھی، راوی کہتا ہے: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور دیکھا جو لوگوں کو معاملہ پیش آیا تو وہ ایک قوی (مضبوط) آدمی تھے، انہوں نے بلند آواز سے تکبیر کہی، وہ تکبیر کہتے رہے اور اپنی آواز بلند کرتے رہے، یہاں تک کہ ان کی آواز پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کی شکایت کی جو ہمیں پیش آیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نقصان کی بات نہیں“ (عوف رحمہ اللہ کو شک ہے کہ «ضَيْرَ» ”نقصان“ کے الفاظ کہے یا «ضَرَرَ» ”نقصان“ کے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوچ کرو“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کیا اور تھوڑی دیر چلے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، پانی منگوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور نماز کے لیے اذان کہی اور لوگوں کو نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا ایک شخص الگ بیٹھا ہوا تھا جس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! تجھے کس چیز نے روکا تھا کہ تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھتا؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی ہو گیا تھا اور پانی نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مٹی کو لازم پکڑ وہ تجھے کافی ہے“، راوی کہتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، لوگوں نے پیاس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو بلایا (عوف رحمہ اللہ نے ان کا نام بھی لیا ہے) اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”تم دونوں جاؤ ہمارے لیے پانی تلاش کرو“، وہ دونوں چلے تو اچانک ایک ایسی عورت کے پاس پہنچے جو اپنے اونٹ پر دو مٹکوں کے درمیان (سوار) تھی، ان دونوں نے پوچھا: پانی کہاں ہے؟ اس نے کہا: کل اس وقت پانی کے گھاٹ کو میں نے چھوڑا تھا اور ہماری جماعت پیچھے ہے، عبدالوہاب کہتے ہیں: یعنی وہ پیاسے ہیں، ان دونوں نے اس سے کہا: تم ہمارے ساتھ آؤ، اس نے کہا: کہاں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں، اس نے کہا: کیا یہ وہی ہے جس کو صابی کہا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، وہی جو تو مراد لے رہی ہے، وہ دونوں اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے آئے اور انہوں نے اس کی باتیں بیان کیں اور اس کو اونٹ سے اتارا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکوں کے منہ سے پانی ڈالا، پانی میں کلی کی اور دوبارہ اس کو مٹکوں میں لوٹا دیا، پھر ان کے منہ کو بند کر دیا اور اس کے پانی کے نکلنے کے سوراخ کو کھول دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”پیو اور پلاؤ“ تو جس نے چاہا پیا اور جس نے چاہا پلایا اور آخر میں جس شخص کو جنابت تھی اس کو ایک برتن میں پانی دیا اور فرمایا: ”اپنے بدن پر اس پانی کو بہاؤ“، وہ عورت اس کیفیت کو دیکھ رہی تھی اور اپنے پانی کے ساتھ ہونے والی حالت کو بھی دیکھ رہی تھی، راوی کہتا ہے: اللہ کی قسم! جب اس نے ضرورت کے مطابق پانی استعمال کر لیا تو ہمیں یہی دکھائی دیتا تھا کہ وہ مٹکے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کے لیے کچھ کھانے پینے کی اشیاء جمع کرو“ تو انہوں نے اس کے لیے آٹا اور ستو جمع کر کے اس کے لیے کھانے کا سامان تیار کر دیا اور اس کھانے کو کپڑے میں ڈال کر اس کے سامنے رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کو مخاطب کر کے فرمانے لگے: ”اللہ کی قسم! تو جانتی ہے تیرے پانی کو ہم نے کم نہیں کیا لیکن اللہ نے ہم کو پلایا ہے“، یہ عورت اپنے علاقے میں کچھ دیر سے پہنچی تو اہل قبیلہ نے کہا: کس چیز نے تجھے دیر کروائی؟ تو اس عورت نے حیرت زدہ ہو کر کہا: دو آدمی میرے پاس آئے اور مجھے اس صابی (نعوذ باللہ) کے پاس لے گئے، پھر اس عورت نے سارا واقعہ سنایا اور کہنے لگی: اللہ کی قسم! یہ اس علاقے میں سب سے بڑا جادوگر ہے یا سچا رسول ہے، راوی کہتا ہے: بعد میں مسلمان ان کے علاقے کے ارد گرد مشرکین پر حملہ کرتے تھے تو ان کے علاقے کو ہاتھ تک نہ لگاتے تھے، تو اس عورت نے قبیلے والوں سے کہا: یہ قوم جان بوجھ کر تم کو چھوڑتی ہے، کیا تم کو پسند نہیں کہ تم مسلمان ہو جاؤ؟ پس وہ قوم اس کی بات مان کر تمام کے تمام مسلمان ہو گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1046]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1047
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارَزْمِيُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّيْسَابُورِيُّ وَهُوَ أَخُو أَبِي عَمْرِو بْنِ حَمْدَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا سَلْمُ بْنُ زُرَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ يَقُولُ: ثنا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَأَدْلَجُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانُوا فِي وَجْهِ الصُّبْحِ عَرَّسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَلَبَتْهُمْ أَعْيُنُهُمْ حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ لَا يُوقِظُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَنَامِهِ أَحَدٌ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَيْقَظَ عُمَرُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ وَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَأَى الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ، قَالَ:" ارْتَحِلُوا" فَسَارَ بِنَا حَتَّى ابْيَضَّتِ الشَّمْسُ فَنَزَلَ فَصَلَّى فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَلَمْ يُصَلِّ مَعَنْا فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" يَا فُلَانُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّي مَعَنْا؟" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ، ثُمَّ صَلَّى وَعَجَّلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُكُوبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ لِطَلَبِ الْمَاءِ وَكُنَّا قَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ فَقُلْنَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ فَقَالَتْ: أَيْهَاتَ أَيْهَاتَ لَا مَاءَ، فَقُلْنَا: كَمْ بَيْنَ أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ؟ قَالَتْ: يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، قُلْنَا: انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: وَمَا رَسُولُ اللهِ؟ فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِنْ أَمْرِهَا شَيْئًا حَتَّى اسْتَقْبَلَنَا بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَتْهُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَتْنَا غَيْرَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا مُؤْتِمَةٌ فَأَمَرَ بِمَزَادَتَيْهَا فَمَجَّ فِي الْعَزْلَاوَيْنِ الْعُلْيَاوَيْنِ فَشَرِبْنَا عِطَاشًا أَرْبَعِينَ رَجُلًا حَتَّى رَوِينَا وَمَلَأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ وَغَسَّلْنَا صَاحِبَنَا غَيْرَ أَنَّا لَمْ نَسْقِ بَعِيرًا وَهِيَ تَكَادُ تَبِضُّ مِنَ الْمَلْأِ، ثُمَّ، قَالَ:" لَنَا هَاتُوا مَا عِنْدَكُمْ" فَجَعَلْنَا لَهَا مِنَ الْكِسَرِ وَالتَّمْرِ حَتَّى صَرَّ لَهَا صُرَّةً فَقَالَ ⦗٣٣٧⦘ لَهَا:" اذْهَبِي فَأَطْعِمِي هَذَا عِيَالَكَ وَاعْلَمِي أَنَّا لَمْ نَزْرَأْ مِنْ مَائِكِ شَيْئًا" فَلَمَّا أَتَتْ أَهْلَهَا، قَالَتْ: لَقِيتُ أَسْحَرَ النَّاسِ أَوْ هُوَ نَبِيٌّ كَمَا زَعَمُوا فَهَدَى اللهُ ذَلِكَ الصِّرْمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ فَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ سَلْمِ بْنِ زُرَيْرٍ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ جب صبح ہونے کے قریب تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈالا۔ تمام لوگ سو گئے یہاں تک کہ سورج بلند ہونے لگا، سب سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھ کھلی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بیدار نہ کرتا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود جاگتے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے قریب بیٹھ کر اونچی آواز سے تکبیر کہنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ سورج چمک رہا ہے تو فرمایا: ”یہاں سے کوچ کرو۔“ صحابہ کرام نے وہاں سے کوچ کیا یہاں تک کہ سورج سفید ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈالا اور نماز پڑھی، اسی دوران ایک شخص نے ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے نماز کیوں نہیں پڑھی؟“ تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”تم تیمم کر کے نماز پڑھو۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند شہسواروں کے ساتھ پانی ڈھونڈنے کے لیے بھیجا، اس حال میں کہ ہم شدید پیاسے تھے۔ ابھی ہم پانی کی تلاش میں تھے کہ ایک عورت پر نظر پڑی، جو دو مشکیزوں کے درمیان اپنے پاؤں لٹکائے بیٹھی تھی۔ ہم نے اس سے پوچھا: پانی کہاں ہے؟ اس نے کہا: اوہ یہاں پانی کہاں سے آیا۔ ہم نے کہا: تمہارے علاقے اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ تو اس نے کہا: ایک دن اور ایک رات۔ صحابہ نے کہا: تو ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چل۔ اس نے کہا: کیا رسول اللہ کے پاس؟ ہم نے اس سے کچھ گفتگو نہ کی اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے، اس نے پھر وہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرائی اور یہ بھی کہا کہ اس کے یتیم بچے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دونوں مشکیزوں کو اتروایا اور ان کا منہ کھول کر اس میں لعاب ڈالا تو ہم چالیس پیاسے لوگوں نے اس قدر پیا کہ ہم سیر ہو گئے اور تمام برتن بھر لیے اور اس جنبی کو بھی غسل کروا دیا، لیکن ہم نے کسی بھی جانور کو پانی نہ پلایا اور مشکیزے پانی کی کثرت کی وجہ سے چھلکنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کہا: ”جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ!“ تو ہم نے روٹی کے ٹکڑے اور کھجور جمع کر کے ایک تھیلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے کہا: ”یہ لے جاؤ اور اہل خانہ کو کھلاؤ، اور جان لو کہ ہم نے تمہارے پانی میں سے کچھ کم نہیں کیا۔“
جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس پہنچی تو کہنے لگی: میں لوگوں میں سب سے بڑے جادوگر سے ملی ہوں، یا پھر وہ نبی ہیں جیسا کہ لوگ کہتے ہیں۔ پھر اللہ نے اس عورت کے ذریعے اس بستی کو ہدایت دی، چنانچہ وہ بھی مسلمان ہو گئی اور وہ لوگ بھی مسلمان ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1047]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1048
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ وَهُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ النَّاجِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلرَّجُلِ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ؟" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، قَالَ:" فَتَيَمَّمْ بِالصَّعِيدِ، فَإِذَا فَرَغْتَ فَصَلِّ، فَإِذَا أَدْرَكْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ" وَذَكَرُوا الْحَدِيثَ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”تجھے نماز پڑھنے سے کس چیز نے منع کیا تھا؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مٹی سے تیمم کر، جب فارغ ہوجائے تو نماز پڑھ اور پانی مل جائے تو غسل کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1048]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1049
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ بْنِ خَالِدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: تَمَارَى ابْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارٌ فِي الرَّجُلِ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ وَلَا يَجِدُ الْمَاءَ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَا يُصَلِّي حَتَّى يَجِدَ الْمَاءَ وَقَالَ عَمَّارٌ: كُنْتُ فِي الْإِبِلِ فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَى الْمَاءِ فَتَمَعَّكْتُ كَمَا تَتَمَعَّكُ يَعْنِي الدَّوَابَّ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ التَّيَمُّمُ بِالصَّعِيدِ، فَإِذَا قَدَرْتَ عَلَى الْمَاءِ اغْتَسَلْتَ".
ناجیہ بن کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہما نے اس شخص کے متعلق بحث و تکرار کی جو جنبی ہو گیا تھا اور اسے پانی نہیں ملا تھا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ نماز نہیں پڑھے گا جب تک اسے پانی نہ ملے، اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اونٹوں (کے باڑے) میں تھا، میں جنبی ہو گیا، میرے پاس پانی نہیں تھا، میں (مٹی میں) لوٹ پوٹ ہوا جیسے چوپایہ کرتا ہے، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ واقعہ) ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاک مٹی سے تیمم کافی تھا، جب تجھے پانی مل جائے تو غسل کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1049]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1050
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: اجْتَمَعَتْ غَنِيمَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ أَبَدِ فِيهَا" فَبَدَوْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ فَكَانَتْ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأَمْكُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَبُو ذَرٍّ:" فَسَكَتُّ فَقَالَ:" ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا أَبَا ذَرٍّ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ" فَدَعَا بِجَارِيَةٍ فَجَاءَتْ بِعُسٍّ مِنْ مَاءٍ فَسَتَرَنِي بِثَوْبِي وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ فَاغْتَسَلْتُ فَكَأَنِّي أَلْقَيْتُ عَنِّي جَبَلًا فَقَالَ:" الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وُضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمْسِسْهُ جِلْدَكَ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مالِ غنیمت جمع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! انہیں لے کر جنگل میں چلے جاؤ۔“ چنانچہ میں ربذہ کی طرف جنگل میں چلا گیا، میں جنبی ہو جاتا تو پانچ یا چھ دن ٹھہرا رہتا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر!“ میں خاموش ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تیری ماں تجھے گم پائے، تیری ماں کے لیے ہلاکت ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لونڈی کو بلایا وہ پانی کا ایک برتن لے کر آئی، اس نے مجھے اپنے کپڑے کے ساتھ پردہ کیا اور میں نے پالان سے پردہ کیا، پھر میں نے غسل کیا گویا مجھ سے پہاڑ ہٹ گیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے، اگرچہ دس سال نہ ملے اور جب تجھے پانی مل جائے اپنے جسم پر بہا، یہ بہتر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1050]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1051
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ ⦗٣٣٨⦘ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: اجْتَمَعَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمٌ مِنْ غَنَمِ الصَّدَقَةِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْإِبِلَ وَالْوَيْلَ وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ.
خالد حذاء نے اسی طرح بیان کیا ہے، فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کی بکریاں اکٹھی ہوئیں۔ راوی نے «إِبِل» اور «وَيْل» کا ذکر نہیں کیا۔ باقی اسی کے معنی میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1051]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں